Home PageAs i was Thinking....suraaZIt Seems to me like YesterdayUrdu Writings
   
 

سموار٢٠   ستمبر ٢٠١٠ ملتان
                                              
سورہ زِلزالِ
الله  پاک بار بار یاد دہانی کراتا ہے، ذہن میں رکھنے کو بھی کہتا ہے، کہ ہوشیار رہو وہ دن آنے ہی والا ہے! القران اس سے بھرا پڑا ہے کہ ہوش کے ناخن لو اور خود کے کرتوت پہ نظر رکھو. دن رات خود  کی طرف  دیکھنے میں گزارو کیونکہ تمہارا حساب ہونا ہے ظاہر اعمال کا اور باطنی کاوشوں کا. یہ تو وہ حساب ہے جو ہم کو معلوم ہے. کچھ ایسے بھی اعمال ہیں جو ہم نے کر کے خود سے بھی چھپاۓ ہویے ہیں. کچھ تو انجانے میں ہوئے ہوں شائد اور کچھ ہم نے کئے ہوتے ہیں کہ کہاں کوئی دیکھ رہا ہے. یعنی کہ ہم دیکھنے والا صرف انسانوں کو گردانتے ہیں دراں حالانکہ جن بھی ایسی مخلوق  ہے جو نہ نظر آتی ہے اور نہ ہی محسوس ہوتی ہے کہ ہے. فرشتے جو ساتھ ساتھ ہیں اور ہمارا ہر کرتوت  لکھ بھی رہے ہیں. ان کی موجودگی بھی ہم کو یاد نہیں رہتی تو جو ہر جگہ ہر لمحہ خود کے کسی الگ رنگ میں موجود ہے نظرانداز ہوا رہتا ہے.
                                              الله کہہ  رہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب سب ڈھکا چھپا سامنے آ جاے گا. نہ ہی کوئی شے خود سے چھپی رہے گی نہ ہی اوروں سے. آج تو ہم خود کے راز اور کردار بند کمروں میں تالے لگا کے بھول جاتے ہیں کہ کچھ ھوا بھی تھا. اور معصوم بن کے کنگھی پٹی کر کے لوگوں پہ خود کی معصومیت کی دھاک بٹھاتے ہیں. کیا ہو اگر ہمارے سامنے اسی وقت ہمارے کئے زندہ هونے لگ جائیں اور ہم ویسے ہی نظر آنے لگ جائیں جیسے کہ اصل میں ہیں سیاہ کے سیاہ، سفید کے سفید، ویسے ہی ہوا جیسا الله فرما رہا ہے. تو کیا تماشہ ہو؟ تماشا تو ہونا ہے بس ذرا سا وقت ہے اور ہم سمجھے ہیں کے زمانے ملے ہیں، ہم کو ہماری سوچوں کو اور ایسا ہوتا ہی رہے گا اور پیدا کرنے والے کو معلوم بھی نہیں پڑے گا، اور ابھی بھی وہ سویا ہے دیکھ نہیں رہا. یہ بارہا ہم پڑھ ، لکھ ، سن اور مشاہدہ کر چکے ہیں کہ چپکے سے اور زوردار طریقہ سے پکڑ آ ہی جاتی ہے اور سب چٹھہ کھل جاتا ہے .برسوں سے سمبھالا شیرازہ ساعتوں میں ہمارے سامنے بکھیر دیا جاتا ہے اور ہم بُت کے بُت رہ جاتے ہیں.
  ڈرانے کو یا باز رکھنے کو کہا جا رہا ہے بارہا ، زمین ہلا دی جائے گی. ہلاے جانا کوئی معمولی بات نہیں، غور کرو  معمولی نہ سمجھو، دھیان میں لو جب زلزلہ آتا ہے، وہ کسی شدت کا بھی ہو ، زیادہ سے زیادہ ، کم سے کم، کیسی حل چل مچا جاتا ہے، سب اوپر نیچے ہو جاتا ہے. یہ ذرا سی جنبش ہی ہوتی ہے، ابھی سامنے زندگی تو اکھاڑ پھینکنا الله نے نہیں سوچا تو کیا کا کیا ہو جاتا ہے، مگر وہ ہونا جان کا مال کا زمین کا گھروں اور کاروبار کا ہی ہوتا ہے نہ کہ اعمال کا. سامان ڈھیر ہوا نظر آتا ہے ہم پھر انت پر اینٹ رکھنے کھڑے ہو جاتے ہیں، خود کے بچے لوگوں کو مرہم رکھنے لگتے ہیں اور زندگی پھر چلنے لگ جاتی ہے. کسی کو میرے نیک بد هونے کا معلوم نہیں پڑتا نہ ہی ایسے پڑے گا مگر کہ جب زمین ہلا دی جاے ہی، وہ  کن کہے گا اور یہ اگلنے لگ جاے گی میرے بھی تیرے بھی اس کے بھی ان کے بھی. استغفراللہ.
الله نے جو بتانا تھا بتا دیا اب میرا کام ڈرنا نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ کرنا ہے جو نہیں کیا اور شانت رہتے معافی مانگنی ہے خالق سے. خود کے دل و جان سے، اس سے پہلے کہ زمین ہلا دی جاے اور ہمارا دل دماغ اور سچ جھوٹ سامنے آنے لگے، معافی کا وقت ختم ہو جاے اور الله خود کا دربار لگا لے. منہ دکھانے کے قابل هونے کی کچھ تو تیاری ہو. الله نے فرما دیا ہے کہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہو گا

***********************************************


١٥ ستمبر ٢٠١٠ بدھ, ملتان


سورہ جن
الله تعالی فرماتا ہے کہ اس نے ہر نوع کے لئے نبی بھیجے، مطلب ہوا کہ جن و اِنس کے لئے. ہم نے یہ نتیجہ اس لئے نکالا کہ الله نے خود کی تمام خلق میں سے ہمارے علم کے مطابق جن و اِنس، فرشتے با شعور تخلیق ہیں. جن کے کرتوت زیادہ ہی پتہ ہیں الله کو جیسے وہ خود راندہ درگاہ ہوا اور کیسے انسان کو جنت سے نکلوایا. الله نے انسان کے بھولنے کے بعد اور نافرمان ہو جانے کے بعد صحیفے بھیجے اور نبی اور رسول بھیجے. تو ویسے ہی جنوں کی قوم میں بھی صحائف، نبی اور رسول بھیجے ہوں گے.
انسان شرارتی اور نافرمان ہوتا ہے، سرکش بھی. جنات بھی یقینا شرارتی نافرمان اور سرکش ہوتے ہیں. سو ان کےلئے بھی الله تعالی نے صحائف اور نبی، پیغمبر بھیجے ہوں گے. اس لئے کہ الله نے جن کو ہدایت دینی ہوتی ہے ان پر ان میں ہی سے ہدایت دینے والا بھیجتا ہے. ان کے علاقہ کا ان کی زبان جاننے والا ان کے طور طریقہ والا، ان میں عمر گزارنے والا. یہ اس لئے کہ وہ ان کے اچھے اطوار اور برے ہتھکنڈے سب سے واقف ہوتا ہے.اور تصحیح کے لئے یہ جاننا سمجھنا بہت ضروری ہے، کہ نص کو پکڑا جاے کہ ٹیڑھ کہاں ہے.
سو جنات کا القران سننا اور غور کرنا اور بیٹھ جانا یہ بتاتا ہے کے وہ بھی سنتے سمجھتے تھے اور پسند کرتے تھے جن کے لئے یہ کلام نہیں تھے اور کچھ وہ تھے جو اسے پیٹھ پیچھے ڈالے ہے تھے جب کے یا سراسر ان کے ہی لئے تھا. اس سے معلوم یہ پڑتا ہے کہ جو نیکی کے رستے پہ کھڑا ہے یا جو نیکی کا طالب ہے اسے ہر اچھی بات کھینچ لیتی ہے، مقناطیس کی طرح. اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کون ہے. کان آنکھ بند نہ کئے ہوں اور دل پر قفل نہ ہی لگا ہو. شیطان سے کم کم ہاتھ ملاؤ تو الله یاد آتا رہتا ہے. سرکش ہو جاؤ تو وہ خود دلوں کو تالے لگا دیتا ہے جو پھر نہ ہی استغفار سے کھلتے ہیں نہ ہی رحم مانگنے سے. جب الله کا فیصلہ آ جاتا ہے تو آ ہی جاتا ہے پھر ٹلتا نہیں.
                                        الله یہ بتا رہا ہے کہ جو نہیں مانتا اور نہ ماننے پہ لگا ہے دراں حالانکہ وہ ہی اس کلام کا مخاطب ہے. تو یہ اس کا نقصان ہے. وہ بد بخت اس کلام کی کشش کو محسوس کرنے سے ہی قاصر ہے. حِس بھی الله نے کیا کمال شے انسان میں رکھ دی ہے.خود کے مطلب کی طلب کو خوب پہچانتی ہے اور کھینچ ہی لیتی ہے. نافرمانوں کی ماننے کی حس ان کو پہچان کی طرف کھینچتی ہے مگر شیطان اس حس کے راستے میں دیوار کی مانند ہو جاتا ہے اور اور انسان الله کی بات سے محروم ہو کر سرکش کے لیبل کا حقدار بن جاتا ہے.
سورہ یہ بھی کہتی ہے کہ غائب کا علم صرف اور صرف الله تعالی کو ہے نہ کہ نبیوں کو بھی. اب عقل یہاں کرنی ہے کہ نبیوں سے الله خود ہم کلام ہوتا ہے. نبیوں سے فرشتے ملاقات کرتے ہیں. الله کا پیغام بھی ان تک لاتے ہیں. الله خود بھی نبیوں کو احکامات دیتا ہے بغیر وسیلہ کے. الله کہتا ہے کسی کے پاس غیب کا علم نہیں نبیوں فرشتوں کو بھی. ہم کہتے ہیں کہ جن ہمیں بتا جاتے ہیں آنے والے وقت کی بات. یہاں فہم کی ضرورت ہے. اس بات کے لئے بھی اس سورہ پر غور کرو. یہ سورہ کسی جن کو پانے یا بھگانے کے لئے نہیں ہے. علم سارا الله کے پاس ہے. وہ جس پہ چاہتا ہے جو چاہتا ہے عیاں کر دیتا ہے. جب چاہتا ہے سدہ بدھ چھین لیتا ہے. کوئی کسی حوالے سے کسی چلہ سے وہ حاصل نہیں کر سکتا جو الله نے کسی کو دینا نہیں چاہا. قرآن الله نے ہدایت نامہ دیا ہے جادو نامہ نہیں. ایسا نہ ہو کے کہ یہ اٹھا لیا جاے اور میں ادھورا رہ جاوں، اس کو پکڑ لو اس سے پہلے کہ پکڑے جاؤ.

*****************************************************


ملتان
١٤ ستمبر ٢٠١٠ ،منگل

  سورہ فاتحہ

اے الله تیرا شکر ہے کہ تو ہے، میں تو اس سے ہی باہر نہیں نکل پاتی. اس ہی میں رہ کے خود سے باہر جو نظر ڈالو تو ہر شےالگ لگے گی. کل کی آپ کی خود کی نظر سے. ہر شے میں خود ہی اللہ کی شان نظر آے گی. وہ ہے اس کا پہلے فیصلہ کرو. وہ فیصلہ کیسے ہو گا؟ آپ کو خود سے فیصلہ کرنا ہو گا کہ اگر دنیا میں کسی کو بتانا ہو کہ ان کا مقام ہے آپ کی دنیا میں تو کیسے کرو گے. اس کی پسند کا خیال رکھو گے، اس کی ہر بات کا خیال کرو گے، اس کا کہا مانو گے. اس کے رنگ میں رنگ جانے کی کوشش کرو گے، اور بہت بہت کچھ. یہ بات ہو رہی ہے دنیا میں میرے محبوب کی. اور جب محبوب ہو دنیا کا مالک، آپ کے جان و مال کا، آخرت کا، اعمال کا مالک.
یا الله تیرا شکر ہے، تو پالنے والا ہے سب دنیاؤں کا، آسمانوں کا، زمینوں کا. سمندروں کا. اب شکر کی نوعیت جو ہے وہ کیسی ہونی چاہئے خود سے پوچھو، دنیاوی محبوب کے سامنے اس کے رنگ میں بات کرتے ہیں بلکہ اس کے ہی رنگ میں رنگ جاتے ہیں. اس کی پسند کے کپڑے ہوں اس کی پسند کا رنگ پہنتے ہیں،اس کی پسند کا کھانا اس کی پسند کی خبریں بھی اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس سے بات ہو اور زیادہ ہی ہو اور، اور قربت ہو. یہ ہے دنیا میں میرا محبوب، میں بھی عارضی، دنیا بھی محبوب بھی. کس قدر خیال دھیان ہے عارضی محبوب کا اور جب محبوب ہو محبوبوں کا محبوب، مالکوں کا مالک، خالقوں کا خالق. اس کے ساتھ میرا دل دماغ، دھیان، رنگ کیسا ہونا چاہئے. الگ ہونا چاہئے نہ. معلوم کرو کہ الگ ہونا، الگ رنگ اختیار کرنا کیا ہے؟
                                                      الله جی تیرا شکر ہے . اس بات کا شکر ہے کہ تو ہے اتنا رحمان کہ میں کیا کیا گنوں تو اتنا رحیم ہے کہ کیا کیا بتاوں. میری چھوٹی سی عارضی زندگی میں اتنی نافرمانیاں اور تیری اتنی ساری رحمتیں، میں کیسے انکار کروں. میں کیسے شکر ادا کروں یہ سمجھ نہیں آتی. پورا شکر ادا تو نہیں کر سکتا جیتے کرم ہیں مگر کچھ کوشش تو کر سکتا ہوں . الله کی راہ میں تو کوشش آسان ہے، اس نے عبادت، اطاعت، شکر استغفار سب کلمات  خود ہی بتا رکھے ہیں. اچھا سا نرم سا دل بھی دے رکھا ہے، بس اس کو اسی طریقہ پہ استعمال کرنا سیکھنا ہے جیسے کہ چاہا گیا. اس کی چاہت بھی آسان ہے، دل صاف ہو بھلے عبادت کم ہو، سرکشی نہ ہو بھلے اطاعت زیادہ نہ ہو سکے. حاضری شفاف ہو بھلے کم کم ہو، حضوری پوری کی پوری ہو بھلے زیادہ نہ ہو سکے.
                                                    الله، رب تعالی تیرا شکر ہے کہ تو ہی آخرت کا بھی مالک ہے. دنیا میں ہماری بہت سے ضرورتوں کے بہت سے مالک ہیں. ہم ان کے غلام، ماتحت ہیں اور کچھ زیادہ خوش تو نہیں ہیں مگر مجبوری ہے. روز کام کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے اور ضرورتوں کی بھی. ہر کی روز نئی غلامی، نئے احکامات. روز الگ طریقہ کی خوشامد بھی الگ الگ حکم بھی. ایک وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا. وہ ہی دنیا اور آخرت کا مالک ہے. اس کے لئے ہی ہے ہر دن ہر رات، اس کے حوالے ہی دنیا بھی ہے، آخرت بھی. تو وہ ہی ہوا نہ حساب کتاب کا بھی مالک. جس نے امتحان دیا ہے وہ ہی نجات بھی دے گا. جو نجات دے سکتا ہے وہ ہی بادشاہ ہے. بادشاہ کو ہی جائز اور واجب ہے کہ بس اس ہی کی مانی جاے.
الله میاں، میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں، تو ہی مدد کر سکتا ہے اس لئے تیری ہی بارگاہ میں مدد کی عرضی دیتا ہوں. تو ہی مجھ پہ نظر رکھے ہے. تو ہی کارساز ہے ، مددگار ہے پالنے والاہے، سننے والا گلے لگانے والا کندھا دینے والا ہے. کوئی دنیا میں میرا جو بھی کرے، چاہے ماں باپ، بچے یا دوست احباب، کوئی انعام دے یا خیرات سب ترا دیا ہے. لاٹری نکلے یا دبا خزانہ ملے سب ہی اس کی دین ہے. وہ ہی نظام چلا رہا ہے، وہ ہی خدا ہے جس سے مدد کے لئے رجوع کرنا ہے اور ہدایت کے لئے بھی. ہدایت کی دعا کا کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے کہ مجھ میں جو اچھے برے، صحیح غلط، نیک بد، کی تمیز رکھ دی گئی ہے. مجھے وہ تمیز دکھا اور دیکھنے کی توفیق عطا فرما. اور صحیح چننے کے بعد اس پہ ثابت قدم رہوں یہ طاقت دے.
 ہر کام کی طاقت تو نے دی ہے، میں اس طاقت کو جائز استمال کر پاوں. مجھے اس طاقت کو جاننے ماننے اور عمل کرنے کی سمجھ دے. میں تاریخ بھی جانتا ہوں خود کا کردار بھی، کبھی تو عقل کام ہی نہیں کرتی کبھی میں خود ہی بیکار ہو جاتا ہوں. کبھی کسی کی شبیہ لگتا ہوں کبھی کسی کی مورت. مجھے معاف فرما بس اپنی امان میں رکھ نہ اِدھر جاوں نہ اُدھر بس ناک کی سیدہ میں تیری طرف ہوں اور تیرے پاس آ جاوں. آمین 

**************************************************************************



 ٢ستمبر ٢٠١٠،جمعرات ،رمضان ٢٢

سورہ کوثر



الله تعالی نے حضورص سے فرمایا کہ ہم  نے تم کو کوثرعطا کی.
 یہ خوش خبری دنیا میں بھی پوری ہوئی اور آخرت میں بھی پوری ہو گی ۔ پہلے دنیا کے حوالے سے دیکھ لیتے ہیں. آخرت کا تو ہم کو معلوم ہے حضورص کے لئے ڈھیروں برکتیں اور خوش خبریاں ہیں جو آپ کے خود کے حوالے سے اور آپص کے صحابہ کے حوالے سے ہیں. ہم سن کے پڑھ کے روشن ہو جاتے ہیں. کیا ہی کمال شخصیات ہوں گی. آپص  کے زیر سايه، زیر نگرانی، پلنے، بڑھنے والے. آپص سے براہ راست مستفید هونے والے.
وہ سب آپص کے ہر حکم کے گواہ، تابعدار، ساتھی، پیار کرنے والے اور پیار کروانے والے. ان سب کا ساتھ حضورص کی خوش خبروں میں شامل تھا.آپص  جس جس اونچ نیچ سے گزرتے سب دل و جان مال سب نچھاور کر دیتے. آپ کے صحابہ واقعی ستاروں کی مانند تھے. الله نے بشارتوں کے ساتھ ساتھ اکثر جگہوں پر نماز کی حمد و ثنا کا فرمایا ہے. سورہ کوثر میں ارشاد ہوا نماز اور قربانی کا.
ایسے ہی ہے حضورص کے وقت مشرکوں کا خیال تو تھا ہی کہ ہم دین ابراہیمی کی ہی پیروی کر رہے ہیں مگر دین کا احکامات کی شکل اتنی مسخ کر دی تھی کہ پہچاننا ناممکن. ایسے میں حضور کو نیے سرے ہے الله کے کہے کے مطابق نماز بتانی پڑی اور ایسے ہی ان کے ہاں قربانی تو تھی ہی مگر غیر الله کے نام کے لئے،خود کے بناے بتوں کے نام. یہ بھی بتانا پڑا کہ سب قربانی جس کا سورہ میں ذکر ہے، اور دل و جان و مال و وقت، اور سب کچھ،  کی قربانی صرف اور صرف الله کے ہی لئے ہے.
القران میں الله اور حضورص کے درمیان کی سب گفتگو خواہ شریعت ہو یا حکمت سب قلمبند ہے، مگر وہ صرف اس ہی لئے ہے کہ وقتا فوقتا ہم کو اس کو کھولنا ہے اور مستفید بھی ہونا ہے. ہم یقینًا بھول جاتے ہیں، یا بھولنے لگ جاتے ہیں، اہمیت احکامات کی ہماری زندگی میں کب ہونا شروع ہو جاتی ہے. اب تو خود سے ہی عقل سمجھ استعمال کرنی ہے. الله نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجنا اور نہ ہی کوئی صحیفہ. ہم کو یہ قرآن سمبھال کر رکھنا ہے،یعنی اس کے احکامات ادا کرتے رہنا ہے نا کہ القران بطورِ کتاب.
حضورص کی مشرکین مکہ چڑ بناتے تھے کہ آپ کے بعد آپ کا نام لیوا کون ہوگا، آپ کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں سو آپص  کا پھیلایا کام منقطع ہو جاے گا. آپص کے بعد کے ہم سب ہیں. میرا قیاس ہے کہ الله پاک نے جو کہا کہ تیراص دشمن ہی منقطع کیا جاے گا، سو وہ آپص کے زمانہ میں تو ہوا. آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم تک آپص کا پھیلایا الله کا کلام، آپص کی کاوشوں کا پهل، ہم تک پہنچا ایسے ہی، جیسا کہ الله تعالی نے چاہا. اب ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ یہ آج ہم سب کا انفرادی سوال ہے خود کا ہر مسلمان کہلاۓ جانے والے شخص سے.
میں کہتا ہوں آج کا اسلام، آج کی نوید آج کا مسلمان بھی ہے. حضور سے لے کے آج تک، ہر وقت کا مسلمان خوش خبری تھا، ہم کو کیا ہو گیا؟ مسلمان حضورص کے لئے خوشخبری ہے، خوش خبری بن جاؤ خدارا. جو دشمن نے کہا کہ آپص کی جڑ کٹ کے رہے گی الله نے ان کو ہی کاٹ دیا. وہ خود کو تباہ و برباد کرنے والے بنے. نہ ہی ان کا مال ان کی پشت چلانے کے کام آیا نہ ہی ان کے کئی کئی بیٹے. الله نے خود کا وعدہ پورا کر دکھایا. حضورص سے الله سے ہم نے بھی وعدہ کیا تھا، کیا ھوا وہ وعدہ؟ ہم خوشخبری بن کے کیوں نہیں کھڑے نظر آتے. اب بھی وقت ہے. آج کل تو بہت ہی وقت ہے معافی کا، لوٹ جانے کا، اس کی طرف جو رحمت کے دروازے اور مغفرت کے دروازے کھولے کھڑا. اٹھو اس سے پہلے کے دیر ہو جاے............!


**************************************************



١  ستمبر ٢٠١٠ ،  بدھ ٢١ رمضان  
 


سورت  نصر



الله کی طرف سے یا الله کی، کامیابی جب سنا دی جاے! یہ تب ہی ممکن ہے جب الله اور آپ کا اجینڈا ، مقصد، مطلب ایک ہو. انسان کی سوچ کے مقاصد اور بھی ہو سکتے ہیں اور عمل کے اور. انسان دنیا میں نام، عھدہ، مقام، ترقی شہرت پانے کے لئے بھی وہی کام سر انجام دے سکتا ہے اور ہو بہو وہی کام الله کی رضا کے لئے بھی ہو سکتا ہے.
یہاں الله پاک حضورص  سے مخاطب ہیں بلکہ مدد اور فتح کی نوید سے کلام کا آغاز ہو رہا ہے کہ، ابھی جب آپ کے سامنے الله مددگار ہوگا اور آپ کو کامیابی نصیب ہو گی. یہاں یہ خاص مدد اور فتح کا اسلوب بیان ہوا ہے، جو خاص پیغمبروں کے لئے ہے. پیغمبر جب اپنی سی ہر کوشش کر بیٹھتے ہیں، مگر دشمن خود کی دشمنی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو الله کو خصوصی مدد فرمانی پڑتی ہے اور فتح پہ دعوت کا اختتام ہوتا ہے. ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ الله کا نمائندہ دل شکستہ نہ ہو جاے اور خود کی کوتاہی نہ جاننے لگے.
رسول جب کہہ، کہہ، تھک جانے کے قریب ہوتا ہے اور ناماننے والے اڑ ہی جاتے ہیں الله کے رسول کی تکذیب کرنے اور دشمنی نبھانے پہ تو رب تعالی اب خود کی دعوت اور اس کی کامیابی خود کے ہاتھ میں لے لیتے ہیں. کیونکہ قوم کی حالت اب کھل کے سامنے آ چکی ہوتی ہے کہ یہ الله کے راستے میں رسول کو ہلاک کر چھوڑیں گے یا رسول خود ہی دل برداشتہ نہ ہو جاے.
الله بشارت دے رہا ہے کہ اس کی مدد جب آے گی تو کیا ہو گا ؟ لوگ کثیر تعداد میں ایمان لے آئیں گے اور پیغمبر کا دستہ مضبوط ہو جاے گا اور اس کی وجہ سے فتح نصیب ہو گی، یعنی کہ فتح مکہ . یہاں الله خوشیاں ماننے کو نہیں کہہ رہا، نہ ہی حکومت جمانے کو یا حکم چلانے کو، اب الله نے ہر کام صرف خود کے ہاتھ میں لے لیا ہے. تدبیر بھی خود ہی کرے گا، مقدر تو وہ ہی کرتا ہے.
الله نصرت پانے والے کو یعنی حضور پاک کو کہہ رہا ہے کہ آپص الله کو اور زیادہ یاد کرو، ذکر، حمد، انعام پہ شکر، فضل پہ اطمینان اور سکون پہ تسبیح کرو، الله کہہ رہا ہے کہ یہ سب کچھ اس ہی کی طرف سے ہے. بیان ایسے اس لئے ھوا کہ اس کو القران میں آخرت تک کے لئے رہنا تھا. ہمارے خیال میں یہ ہمارے لئے سبق ہے نہ کہ حضورص کے لئے . ہم کامیابی کے بعد اس کو خود کا کارنامہ جاننے لگ جاتے ہیں اور الله کو اس سے فارغ کر دیتے ہیں.       
ہم سے الله ہر وقت چاہ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ  خود کے رب سے مغفرت طلب کرو، اور یہ کہ پکڑ کبھی بھی آ سکتی ہے. الله سے مغفرت کامیابی کے بعد اس لئے ضروری ہو جاتی ہے کہ دل میں خیال آ ہی جاتا ہے یا آ سکتا ہے کہ کہیں تو میں نے ہی سب کچھ کو کامیابی کی منزلیں طے کرائیں. اس فتح کو کمایا. الله ہم سے مخاطب ہے ہر لمہ کہ کبھی نہ ہی بھولو کہ سب کیا الله کا ہے اور بر وقت معافی مانگ لو تو معافی ہو بھی جاتی ہے. وہ اس لئے کہ مدد کرنے والا بھی وہی ،کامیابی دینے والا بھی وہی اور درگزر کرنے والا معاف کرنے والا بھی وہی ہے.
الله نے حضورص کو بشارت دی کامیابی کی اور بھاری نفری کے اسلام قبول کرنے کی. یعنی دین کہ کام مکمل بھی ہوا اور دین اسلام کو غلبہ بھی ھوا کافروں اور مشرکین پر. اور فرمایا کہ بس اب رب کو خوب یاد کرنے میں لگ جاو اور مغفرت مانگو. یہاں لوگوں کہ خیال ہے اور صحیح بھی معلوم پڑتا ہے کہ حضورص کا مشن چونکہ مکمل ہوا اس لئے آپ کی زندگی کہ مشن بھی مکمل ہوا چاہتا ہے. حضور تو ہر وقت رب کی حاضری میں ہی رہتے تھے. ہمارے لئے یہاں کیا سبق ہے؟ ہمکو ہر وقت الله کی تسبیح کرتے رہنا چاہئے. اور مغفرت بھی. ہمیں کوئی بشارت نہیں آنی جانے کی اور نہ ہی کوئی پڑا مشن سامنے ہے. بس خود کی جان ہے اس پہ ہی کام کر لیں اور بچی ماندی زندگی ہے اس کہ قبلہ سیدھا کر لیں. کب بلوا آ جاۓ معلوم نہیں. ہر وقت جانو کے بلوا آیا کہ آیا. پڑھو خود کے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ اور مغفرت طلب کرو. تمہارا رب ہر وقت معاف کرنے والا ہے.   
 


****************************************************





٣١  اگست ٢٠١٠ ،منگل، ٢٠ رمضان



بسم الله



 اگر کہو ، تیرے نام کے ساتھ یا تیرے لئے،کیسا ہی خوبصورت لفظ ہے، جملہ ہے. کسی کے نام کے ساتھ بھی کہو دنیا داری میں تو کیا کمال لگتا ہے. میں نے صبح ہی تجھے یاد کیا،یعنی تیرے نام سے صبح کی. میں نے لکھتے سمے تم کو سوچا ،یاد کیا ،تمہارا نام  لیا، میں نے گھر خریدتے وقت تم کو دھیان میں رکھا. تو گویا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم کو تمہارا کتنا خیال ہے یا محبت ہے یا اداسی ہے.تم ہر وقت دھیان میں ہی رہتے ہو ، یہ ہے ناچیزانسان کی بات، جس کے ساتھ اکثر بھاجی ہی رہتی ہے.مگر یہ سب محبتیں ظاہر کرنے کے مختلف انداز ہیں.
ایک وہ ہے جس کا اب ہم ذکر کرنے والے ہیں اس کا نام اس لئے لیا جاتا ہے،  یا کیا جاے کہ وہ مالک خالق ہے. رازق ہے، ہمارا احاطہ کئے ہے. اس سے بھاگ کہ  نہ ہی کہیں جایا جا سکتا ہے، نہ  ہی اس سے کوئی بات چھپائی جا سکتی ہے. وہ ایک تو سب دیکھ ہی رہا ہے اور ایک ہم کو ہر وقت اس کی ہی محتاجی ہے. اس کے ازن کے بغیر کوئی پتہ نہیں جمبش کر سکتا. اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا. اس کے نام کے ساتھ پہلا قدم اٹھاؤ تو برکت والا ہو گا، بس اتنا سا فرق ہے. اب یہ تو آپ پر ہوا نا کہ برکت چاہئے کہ نہیں!
بسم الله پڑھنا ایسے ہی ہے،جیسے کہ قدم بڑھاتے ہی سامنے ماں کھڑی ہے. الله تو ایسے ہے، کہ آپ کئی ماؤں سے بڑھ کر سامنے کھڑا ہے مالک ہے نا، اس کو سامنے جان لو تو کسی شے کی پروہ نہیں ہے، سب کام اس کے سامنے رکھ دیا ہے، جو کام بنانے والا ہے. سب سے پہلے تو یہ ہے کہ جو کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یا کوئی کام کرنے سے پہلے الله کا نام لے گا، اس کو یاد کرے گا. اس کا مطلب ہے کہ اس نے خود کو اور خود کے کام کو الله کے حوالے کر دیا ہے اور جانتا ہے کہ وہ ہی ہے جو کام بنانے والا ہے. الله کو ماننے والا ہو گا ، الله کا بندہ ہے.
ہم بسم الله پڑھتے ہیں، زبان سے لفظ ادا کرتے ہیں. بسم الله پڑھنا ایسے ہی ہے، قدم بڑھاتے سامنے ماں کھڑی ہے. کسی شے کی پروہ نہیں ہے، سب کام اس کے سامنے رکھ دیا ہے جو کام بنانے والا ہے. سب سے پہلے تو یہ ہے کہ جو کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یا کوئی کام کرنے سے پہلے الله کا نام لے گا، اس کو یاد کرے گا. اس کا مطلب ہے کہ اس نے خود کو اور خود کے کام کو الله کے حوالے کر دیا ہے اور جانتا ہے کہ وہ ہی ہے جو کام بنانے والا ہے. الله کو ماننے والا ہو گا ، الله کا بندہ ہے.  ہم وِرد کرتے ہیں بسم الله کی تسبیح بھی کرتے ہیں، مگر سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، ہم کیا چاہ رہے ہیں.
الله کو منانے والا الله کا بندہ الله کی یاد کے بغیر ہوتا ہی نہیں ہے. اس کی یاد ہر لمحہ اس کے دل میں اسے بسم الله کے مقام پر ہی رکھتی ہے. اس سے سب سے پہلے تو یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ الله سے ڈرتا کوئی غلط کام کرنے کا سوچتا ہی نہیں اور کہیں بھٹک ہی جاے،انسان جو ھوا، تو جلد ہی الله کی یاد،اس کی محبت، اس کا خوف، اسے واپس سیدھی راہ پہ لے آتی ہے .اس کا خود تجربہ کرنا ہوگا وگرنہ صرف یہ پڑھ کے، کہ اس کی تاریخ کیا ہے اور کس کس نے کیسے کیسے اور کہاں کہاں بسم الله پڑھی اور بسم الله کب لکھی گئی؟کیسے استعمال ہوئی؟کیا نتیجہ ہو گا؟ کچھ نہیں، وہی جو اب تک نکلا ہے اور کیا. ایمان کی ضرورت ہے بس. اگر مثالوں سے ہی معلوم پڑنا ہوتا تو ١٤٠٠ سال سے زیادہ ہو گئےہیں معلوم پڑ ہی گیا ہوتا. خود کو مثال بنانا ہے خود کے لئے. کسی کے اسلام کی مضبوطی کسی کو کچھ نہیں سکھاتی آج تو یہی لگ رہا ہے. خود کے گول خود سیٹ کرنے ہوں گے  .
آخری بات ہے کہ بسم الله کو توڑ توڑ کے سامنے رکھو؛ "ب -اسم -الله "اور صدق دل سے غور کرو کہ آپ کیا کہہ رہے ہو یا لکھ رہی ہو ،پڑھ رہے ہو ، اور اس سے کیا سمجھ رہے ہو، کیا چاہ رہی ہو. الله سے خود کے تعلق کے بارے میں تحقیق کرو. صرف یہ دیکھو کہ آپ الله کے ساتھ اور خود کے ساتھ کہاں کھڑے ہو، کھڑی ہو. تب یہ بھی معلوم پڑے گا کہ الله تم سے کیا چاہ رہا ہے. جب تم اس کا نام کسی کام کے ساتھ جوڑ دو ہے. یا تو غلطیوں سے باز آجاؤ گے یا الله کا نام لینا چھوڑ دو گے.  اب فیصلہ کرو،"ب -اسم -الله" کا. کیا سمجھ آیا اس کا مطلب؟؟؟؟؟؟


***************************************************************


٣٠   اگست  ٢٠١٠سوموار ، ١٩ رمضان  
سورہ الھمزہ
ہر زمانے میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ حق کی بات کرنے والے کو ظاہری اور باطنی تنگی دی جاۓ. ایسے طریقہ سے تنگ کیا جاے کہ داعی کا حوصلہ ٹوٹ جاے. اتنی ایک حوصلہ شکنی ہو جاے کہ اس کے لئے اٹھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاے. ظاہر ہے یہ اس کی بد ترین شکل ہے. کرنا یہ ہے کہ اس کا گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہو جاے. کوئی طعنے کسے، کوئی ہاتھ بناۓ، کوئی منہ چڑہاے. اشارہ بازی اور فقرہ بازی کسی کو گرا دینے کے لئے کافی ہے. گھر سے باہر نکلنے کا خوف اور کسی تک خود کی بات ںا پہنچنے کا خوف،کئی مرتبہ داعی سوچے گا کہ گھر سے کب نکلوں کہ کسی کا نشانہ ںا ہی بن پاوں.      
                     الله پاک کہہ رہا ہے کہ جو کسی حق کام کرنے والے پر اشارہ بازی کرے اور عیب لگاے، اس کے لئے اور کچھ نہیں رہ جاتا سواے ہلاکت کے. اور داعی بھی جب حضورص ہوں. ایسی دعوت دے رہے ہوں، جو الله کا کلام پیغام ہو، جسکو رہتی دنیا تک کے لئے دوام ہو اور صرف مکہ کے لوگوں یا عرب کے لوگوں کے ہی لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ہو. ایسے لوگوں کو لوگ بھی نہیں معاف کرتے اور الله بھی نہیں کرتا. وہ فرما رہا ہے شرارتیوں کی شرارتوں کا انت ہونے کو ہے . جو دانستہ یا نادانستہ بات سمجھنے سے  بھی قاصر ہے اور پریشان کر رہا ہے اور مزید کرنے کے طریقے دریافت کر رہا ہے اس کو الله معاف تو نہیں ںا کرنے والا. آج ہم خود کی زندگی میں بھی دیکھیں کا کوئی دور سے بھی اشارہ کرتا لگے، تو کیسے کیسے وسوسے آنے لگ جاتے ہیں کہ کیا بات ہوئی ہو گی . میں پاس سے گزروں اور بھلے کوئی کسی اور کی ہی بات کر رہا ہو، مجھے کہیں بھی میری کسی بات سے مناسبت لگتی ہو تو ایسے ہی لگتا ہے مجھ میں عیب نکالا جا رہا ہے. یا مجھ پہ بات کسی جا رہی ہے. اور اس معاشرے میں تو سب کچھ اصل میں ہو رہا تھا حضورص کو تنگ کیا جا رہا تھا.
شیطان لوگ ایک توحق کے لئے کام کرنے والے کو کام نہیں کرنے دیتے. کسی ںا کسی بہانے رکاوٹ پیدا کرتے ہیں. اور دوجے خود کے مال کو جوڑتا رہا گنتا رہا کہ کہیں کوئی سکہ کم نہ ہو جاے. مال و دولت بڑی طاقت، الله کی رحمت ہے، مال کا بڑا سہارا بھی ہے. مگر گننے والوں کے لئے نہیں جائز طریقہ سے خود پہ اور الله کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لئے. مال الله کا ہے. ہم بھول جاتے ہیں کے اِس میں ضرورت مندوں کا حصہ ہے. اس بھولنے والے کے لئے ہی الله نے فرمایا ہے کہ کیا وہ سمجھ رہا ہے کہ یہ اس کی طاقت ہے اس کا سہارا ہے. گویا کہ یہی ان کی زندگی ہے اور یہ زندگی ہمیشہ ہی رہنے والی ہے. اور یہ بھی کہ یہ مال بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اس کی زندگی کی طرح. اس کو اگر پاتا ہو کہ زندگی فانی ہے اور مال بھی. اور یہ جمع کیا مال کسی کے کبھی بھی کام آنے والا نہیں. اس زندگی میں تو وہ تجوری میں ہی بند رہا اور اگلی دنیا میں اس کا حساب دینا ہو گا کہ مستحقین تک کیوں نہیں پہنچایا. جس مال نے یہاں فایدہ نہیں دیا آگے بھی نہیں دے گا.
آگے اس کے لئے کیا جگہ تیار ہوئی ہے؟ وہ جو چور چور کر دینے والی ہے، یعنی ایسے کر دے گی کہ کوئی اس کی اکٹھا ںا ہی کر سکے گا. شیرازہ بکھر جاے گا اور یہ بکھیرنے والا الله ہے. اب وہ کبھی خود کو اور خود کا کچھ بھی جوڑ پاۓ گا.اور یہ ہونے والا ہے اس آگ میں جو الله پاک نے خاص طور پر اس کام کے لئے بھڑکا رکھی ہے. الله سب سے بڑا ہے اس کا ہر کیا بھی سب پر افضل ہے.اس کی بھڑکائی آگ بھی سب آگوں سے زیادہ دہکتی اور ہولناک ہو گی. یہ خدا کا کام. دلوں سے شروع کرے گی.ان دلوں سے جن کو مال کی محبت نے اندھا کر رکھا تھا اور ان کو حاجتمند نظر نہیں آتے تھے، اور ان کے حقوق کا خیال ںا رکھا جا سکا.
جس آگ میں مال سمبھالنے والے ڈالے جائیں گے مالک نے اس کا خاص اہتمام کیا ہے اس کا مخصوص طریقہ ہو گا کہ وہ ظالم ساہوکار کو اچھے سے لپیٹ لے گی اور پھر اوپر سے ڈھک دیا جاے گا کہ کوئی بھی تپش یہ بھڑک یہ انگارہ ضا‏ئع نہ ہو جاے. پھر ان کو لمبے لمبے ستونوں میں بند کر دیا جاے گا پکڑ جکڑ کے. یہاں یہ نہ ہلنے جلنے کی سکت رکھتے ہوں گے. خود کی کئے کا کیا خوب ہے ان کا انجام، جن کو خود کے سوا رب کی مخلوق  اس مال کے لئے نظر نہیں آتی جو اس کا ہی ہے اس کا ہی دیا ھوا ہے.


********************************************************



 رمضان ٢٩   ، ١٨  اگست ٢٠١٠ اتوار 
سورہ التین
الله پاک انسان کی آسانی کے لئے ان جگہوں کو شاہد کہہ  رہا ہے کہ یہ انسانی واقعات کی جگہیں ہیں اور آج کے انسان کو معلوم بھی ہیں یعنی موجود ہیں دیکھی جا سکتی ہیں. یاد بھی ہیں ان کے گرد و نواح پہ گزرنے والی داستانیں.  یہ بار بار دوہرائی جانے والی داستانیں ہیں جو نسل در نسل بتائی گئیں سمجھانے کے لئے سبق سیکھنے کے لئے سکھانے کے لئے. الله کہ رہا ہے کے وہ مقامات جن پہ انسانی واقعات ہوے گواہ ہیں کہ انسان نے کیا کیا اور پھر اس وقت انسان کے ساتھ کیا ہوا.  انسان کی کس بات کا کیا نتیجہ نکلا. اس سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے انسان کس قماش کی چیز ہے، جس کام کی اس کو سزا ملی اس سے معلوم پڑتا ہے کہ وہ غلطی نہ کرنے کا سو فیصد اہل تھا. الله کو تو معلوم ہی تھا، اس کو بھی معلوم تھا مگر خود کی ہڈ دھرمی کی وجہہ سے عذاب نصیب ہوا
                  کوہ تین، یعنی ''کوہ جودی" {کوہ جودی کو کوہ تین اس لئے کہا جاتا تھا کے یہاں تین کی پیداوار زیادہ ہی تھی} جہاں سے طوفان نوح کے بعد بنی آدم، یہاں وہاں نکل گے یہ واقعہ کوہ جودی کے پاس پیش آیا. یہ ایک بڑا واقعہ تھا. زیتون بھی جبل زیتون ہے جہاں مسیح علیھ السلام عبادت کے لئے جایا کرتے تھے. ان دو جگہوں کو الله نے شہادت ہی بنا دیا اور یہاں پیش آنے والے واقعات بھی زندہ رکھے. سینیں یعنی کوہ طور، جہاں حضرت موسیٰ کو خود کی قوم کے لئے شریعت ملی. اور شہر امین، پر امن سر زمین یعنی مکہ جہاں حضرت ابراہیم سے لے کر محمدص تک ہر نے دعوت توحید دی، الله اس کو امن کا شہر کہہ رہا ہے. الله نے حکم دے کے ابراہیم سے خود کا گھر بنوایا، اور اس کو پْر امن بنایا.یہ گویا مِلت ابراہیم کے لئے انعام تھا اور ہمیشہ رہے گا.  
الله نے تو انسان کو بہترین خلق بنایا ہر لحاظ سے، عقل شکل دونوں ہی کمال، دیکھو تو دیکھتے ہی رہ جاؤ، سوچ سمجھ ایسی کے کیا کیا نقطے بتاۓ، الله کے اذن سے کیا کیا غیب اور عجائب ڈھونڈ نکالے. یہ سب الله نے اس کو ہی بخشا جس کو انسان کہا. اور انسان کے لئے دریافت کے بعد، امتحان کے بعد، انعامات رکھ دیے بے بہا.انسان میں الله نے خیر و شہر کی تمیز، نیکی و بدی کا امتیاز، عدل سے محبت اور ظلم سے نفرت رکھ دی ہے، میں کہتا ہوں اس کے خمیر میں گوندھ دی ہے اب اگر وہ کہے کہ مجھے معلوم نہیں پڑتا کہ مجھ سے کیا چاہا جا رہا ہے تو درست نہ ہو گا. یہ انسان آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور جزا اور سزا پر. اور الله کو عادل اور حاکم نہیں مانتا.
الله نے تو بنی نوح انسان کو بہترین خلق کیا. مگر ایسا نہیں کہ اس کو ایک رستے پر ڈال دیا کٹھ پتلی کی طرح کے جدھر دور ہلاؤ بھاگا چلا آے. اس میں تو الله نے شعور رکھ دیا ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اور فیصلہ اس پہ چھوڑ دیا ہے اختیار دے کر. وہ اختیار کو جیسا استمال کرے. جب جب اس نے خود کے اختیار کو غلط استعمال کیا. الله نے اس کے خود کے کرتوت کے بدلے میں اس کی پکڑ کی.جب الله پکڑتا ہے تو وہ کہا ہے کہ الله نے میرا ساتھ خرابی کی دراں حالانکہ یہ سب اس کے ہاتھ میں ہے، سرفرازی لے یا ہر نعمت سے محرومی. جو شخص بھی خود کی احسن تقویم کو جان جاے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا الله اس کو نوازے گا ابدی نعمتوں والی زندگی، یہ اس کی سنت ہے اور ایک وہ ہے جو کہ  نافرمان ہے. حق جان چکا ہے بلکہ مان چکا ہے اور پھر پلٹ رہا ہے کفر کی طرف . اس کا کیا ہو. وہ تو بہت بڑا مجرم ہوا .الله اس کو سزا نہ دے تو وہ سب سے بڑا سب سے حکمت والا حاکم بادشاہ کیسے ہو.


*****************************************************



١٨ اگست ٢٠١٠
٧  رمضان
العصر
الله نے ایک فیصلہ کیا اور اعلان فرما دیا. دربار لگا. کم وبیش سب نے قبول کیا جو الله نے فرمایا. الله نے یہ بھی فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے. سو الله نے،وہ لوگ بھی بتاۓ جو اس کا نام ماننے پہچاننے اور پھیلانے والے تھے.  سو خلیفہ مقرر ہوا. معلوم پڑتا تھا کہ بڑے لوگ ہیں. انسان جہاں گم ہو گا بچا لیا جاے گا. کیونکہ وہ مان جاے گا، اور الله کا قافلہ بڑھتا رہے گا. گھوم پھر کر سب ہی جنت کے حقدار ہوں گے.
یہ تھوڑا دور جا کر معلوم پڑا کہ جو چلا نافرمان جو بڑھا نافرمان. الله نے انسان میں رکھ دیا بلکہ میں کہتا ہوں سب گوندھ کہ ہی مجھ کو بنایا خیر اور شر. سو ہر کے اندر ایک دوراہا کھڑا ہے ١٨٠ ڈگری ادهر یا ادھر. فیصلہ خود کرنا ہے. الله وہاں ہی مدد کرتا ہے جہاں میں خود رضامند ہوں.وہ موقعے پہ موقع دیتا رہتا ہے جب تک انسان خود سے خود ہی تھک ہار نہیں جاتا، یا تو الله کی مان کے الله کا ہو جاتا ہے یا خود کا دنیا کا شیطان کا، زمانے کا.زمانہ انسان خود بھی ہے. زمانہ حد درجہ انسان بھی ہے، انسان کی تخلیق انسانوں کے کرم، انسانوں کے اعمال بھی زمانہ ہیں اور اس کے کرتوت بھی.
اسی زمانے کی الله قسم کھا رہا ہے. کہ گزرا وقت اور گزرتا وقت سب ہی گواہی دے رہا ہے. گواہی ہے کیا؟ گواہی ہے نافرمانی کی تکبر کی سرکشی کی، عمارتوں کے کھنڈر ہیں، سرکشی کی داستانیں ہیں. مشرکوں کی لاشوں کے ڈھیر ہیں مصر میں. یہ سب شواہد ہیں جن پہ ہماری خود تو آگاہی جاتی نہیں. یہی خیال ہوتا ہے کہ وہ پکڑا گیا میں الله کے پیچھے سے گزر جاوں گا. الله کو معلوم ہے نہ کہ میں نہیں دیکھتا تب ہی وہ کہ رہا ہے کہ یہ سب شواہد میں نے ہی منہ بولتی گواہی کو چھوڑے ہیں میں کھنڈر کر سکتا تھا تو یہ نشانی بھی نہ چھوڑتا اگر اس کو شہادت نہ بنانا ہوتا. فرعون غرق ہی رہتا کنارے نہ ہی لگتا. یہ ہیں گواہ، یہی وقت ہے، زمانہ ہے. اللہ کہتا ہے زمانہ میں ہوں. یعنی سب گواہیاں اس سے ہیں اس کے اذن سے ہیں.اس کی نظر میں ہیں اس کے موجود هونے سے ہیں.
ان سب گواہوں پہ یا تو نظر نہیں پڑتی یا ادهر نگاہ جاتے ہی میں آنکھ بھینچ لیتا ہوں. ان گواہوں سے مالک کیا بتا رہا ہے؟ وہ یہ کہ جو نہ ہی مانا وہ خود کے لئے ہی گھاٹا،گھٹہ،دہکتا کھڈ اور اس کھڈ کی ہمیشگی کماتا رہا زور و شور سے، دل و جان سے.برائی کے لئے تو بہت ہی کام کرنا پڑتا ہے، فطرت کی مخالف سمت جو کمر کسنی ہے. محنت بھی کرنی ہے کھڈ میں رہنے کو، جان بھی گھسنی ہے خسارہ کمانے کو وہ بھی دائمی.  
       مفت تو کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا.ہر لمحہ کا ہر سانس کا حساب ہے، میزان لٹک رہی ہے. انسان کو کبھی معلوم ہی نہیں پڑا کہ نیکی کے لئے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی فطرت جو ہے. اور فطرت کی راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ تو جنت وہ بھی ہمیشہ کی. نیکی کرنا کرنے کو کہنا
، کہتے رہنا. منانے والوں کے لئے دعا نہ ماننے والوں کے لئے صبر اور ان کے لئے بھی دعا. ماننا کوئی آسان کام نہیں. یقین کی بہت طاقت ہوتی تو ہے مگر یقین بنتے بنتے بنتا ہے.انتظار صبر سے کمانا پڑتا ہے. انتظار بھی سیکھنے کا کام ہے، حضرت ابراہیم کی طرح دل میں سوال آ ہی جاتا ہے تسکین کو. راه میں سو رکاوٹیں پھر بھی ثابت  قدم اور  استقامت ہمیں حضور سے سیکھنا ہوگی . اس کا ہی انتہا کا درجہ ہے کے  صبر کرو اور کرنے کا کہو الله کی راہ میں.
صبر کیسے آتا ہے؟ یہ جان لو کہ الله سب جانتا ہے، مجھے کچھ نہیں معلوم کہ مجھے کیا چاہئے، کب، کیوں، کیسا، کتنا اور کیا یہ میرے لئے فائدہ مند ہو گا بھی کہ نہیں. میں وہ بھی نہیں دیکھ پاتا جو سامنے ہے اس لئے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا. وقتی بہت کچھ مناسب بھی لگتا ہے مگر اکثر مثبت نتیجہ نہیں دیتا. یہ سب الله کے حوالے کر دو تو خود کی فراغت. بس اس پر بھروسہ ہی سیکھنا ہے. زمانہ شاہد ہے جو حق پر ہے دنیا بھی اسی کی آخرت بھی


****************************************************************************

 


١٧ اگست ٢٠١٠                                           ٦رمضا
القارعه
حادثہ قیامت کیا ہے؟  اگر تو لگتا ہے کہ ہے تو فکر کیوں نہیں، اور نہیں تو نہ ہو، نافرمان خود ہی بھگتے.  معلوم پڑتا ہے الله کو ہی زیادہ فکر ہے خود کے نافرمان بندوں کی ماں کی طرح، وہ بھی نافرمان یا اکھڑ اولاد کی روٹی پکا کر بھی بیٹھتی ہے راستہ بھی دیکھتی ہے بھلے وہ شراب پی کر گالیاں بکتا ہی گھر میں داخل ہو، اور سہارا بھی دیتی ہے اس کی کھٹیا تک، یہ تو ایک ماں کا بیان ہوا، وہ ذات پاک تو خالق ہے، مالک ہے، نظر بھی رکھے ہوئے ہے پیار بھی کرتا ہے کئی کئی ماؤں سے بھی زیادہ، رازق بھی ہے بھلے اسے مانو،نہ ہی مانو. القران کا اختتام ہوا چاہتا ہے، یہ "سورہ ١٠١" ہے. نافرمان اڑے کھڑے ہیں اور الله کہ رہا ہے کہ کیا هونے والا ہے، تم جانتے نہیں. زور دے کے کہ رہا ہے کہ وہ آنے والی آفت، وہ هونے والا حادثہ، وہ سخت آواز، وہ  زوردار کڑک، کھڑک ہے کیا ؟
 وہ بنا بتاۓ آ دھمکنے اور ہڑبڑا دینے والا کیا معاملہ ہے.وہ کھٹکا ہے جس کی نہ ہی کسی کو پرواہ ہے نہ ہی فکر نہ انتظار نہ ہی خوف. تب ہی تو نافرمانی عروج کو ہے اور تکبر و غرور بھی. الله اس آنے والے وقت کو عظیم بھی کہتا ہے یعنی بڑا بہت ہی بڑا. جس کو بڑا، بڑا کہہ رہا ہے وہ کتنا بڑا ہو گا بھلے وہ انسان کے حوالے سے ہی کہہ رہا ہو، مگر غیر معمولی تو کہہ ہی رہا ہے. الله سوال بھی کر رہا ہے کہ کیا تم جانتے نہیں ہو؟ معنی کے تم ادراک نہیں رکھتے کے کیا بھگتاوہ ہے آگے. یعنی معصوم ہو اور انجام سے بےخبر ہو مگر معلوم تو پڑنا چاہئے کہ یہ جو سب ہے یہاں بازار لگا اس کا کوئی تو انجام، اختتام ہو گا ہی یا ہونا چاہئے اور نتیجہ نکلے گا ہی. اسی کو حادثہ اور غیر معمولی حادثہ کہ رہا ہے سب کا مالک خالق رازق. بھلے نہ ہی  مانو اس کی بات مگر یہ انکار نہیں کر سکتے کہ  وہ جو کہہ رہا ہے نہیں ہو گا. اس کا تو انتظار ہونا ہی چاہئے.  الله کا سوال یہ ہے کہ انتظار کیوں نہیں ہے یا جان کاری کی پریشانی کیوں نہیں ہے.
                                        اب الله کچھ جان کاری خود سے دے رہا ہے کہ، انسان کی اوقات اس لمحہ کیا ہو گی، جب ہلچل اور بھگدڑ مچی ہوگی. انسان جو آج خود کو ہی دنیا کا بادشاہ جانتا ہے اور دندناتا پھرتا ہے، یہ ہوا سے بھی ہلکا ہو جاے گا ، جس کی زندگی بھی کیا ہے اور موت بھی کیا ہے. پروانے کی زندگی بھی کیا معمولی اور بے حقیقت ہوتی ہے.انسان مردود کو بھی جب  یوم الدین کو معلوم پڑے گی خود کی حقیقت تو لگ پتہ جاے گا. آج تنہائی ،بے سروسامانی، اکیلا پن ، نا امیدی،اب پچھتاوا بھی کیا ،وقت لوٹایا نہیں جا سکتا.اب بس میں اور میرے اعمال. 
                  ایک اور مضبوط شے جس کو یہ انسان سب سے ہی ناقابل تسخیر جانتا ہے اس فانی زندگی میں وہ ہیں پہاڑ .اونچے لمبے ،مضبوط ،میلوں میل پھیلے بے خوف. ان کی اوقات بھی الله بتا رہا ہے کہ روی کی طرح اڑ رہے ہوں گے دھنکی روی کی مانند ان کا ریشہ ریشہ الگ ہو گا اور یہ بھی بے حقیقت ہی ہوں گے. پہاڑ سے مرد ایک تو پہاڑ ہے اور ایک الله بتاتا ہے مضبوط  اور نہ ہلا دینے والی شے جو قائم رہتی ہے زلزلہ ہو طوفان ہو قائم ہے پہاڑ لاوا اگلتے ہیں اڑتے نہیں اور ہمیشہ انسان نے پہاڑ کو طاقتور ہی جانا،  حضرت نوح کے بیٹے نے بھی کہا کہ سیلابی طوفان آے گا تو میں پہاڑ پر چڑھ جاوں گا. یہ ہے اس دن کا حال جس کا ذکر ہم کو خوف نہیں دلاتا.
اس دن بھی الله فرما رہا ہے کہ جو الله کی راہ میں زندگی گزار رہے ہوں گے، اس کی خوشنودی کے لئے خود سے، اوروں سے معاملہ کر رہے ہوں گے، وہ اس بھگدڑ اور نفسا نفسی میں بھی عیش میں ہی ہوں گے.اگر آج اس کی ہی فکر کر لی جاے کہ میرا ہر عمل تولا جا رہا ہے، اور تولا جو جا رہا ہے تو کہیں تو لکھا جا ہی رہا ہو گا حساب. اور ظاہر ہے کہ اسی لئے تو تولا جا رہا ہے. جب لکھا جا رہا ہے تو پیشی بھی ہو گی. پیشی ہو گی تو نتیجہ بھی ہو گا. نتیجہ ہو گا تو علی الاعلان ہو گا. عہدہ ملے گا سب کے سامنے. مرتبہ کی جگہ بھی دکھائی جاے گی بھیجا جاے گا اور دوام ہو گا.  بھاری اعمال والے ہی فلاح پائیں گے.ہلکی میزان والے نامراد ٹھہریں گے. اب تو جان ہی لو !
یہ کمال میزان ہو گی، بتاتی جاے گی اور بھیجتی جاے گی اوپر سے اوپر کے درجات میں الله کے حکم سے، اور پھینکتی جاے گی گڑھوں میں نیچے سے نیچے، آگ اور پتھروں سے بھرے. ان بھاری میزان والوں کی من پسند عیش ہو گی اور ہلکے وزن والوں کی گہرے  گڑھے میں ساری لا فانی زندگی گزرے گی.اس گڑھے کا ابھی تو پتہ نہیں پڑ رہا کہ کیا ہے. دہکتی آگ ہے. دہکتی آگ کیا ہوتی ہے آج کا انسان نہیں جان سکتا.
ہم سو ہزار اشیاء کو روز مرا، کی زندگی میں سمجھ نہیں پاتے مگر ملتے جلتے موقعوں سے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، اور کسی حد تک سمجھ بھی پاتے ہیں اور نہیں بھی مگر کوشش تو کرتے ہی ہیں ںا. مگر نار سے بچنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا، جہاں ساری عمر رہنا پڑے گا اگر الله کی ںا فرمانی کی تو. یہاں سے وہاں جانے کا انتظار ہے. وہاں تو ہمیشہ رہنا ہے، صرف یہ کہہ کر نہیں چلے گا کے وہ غفور الرحیم ہے. آپ کے لئے اگر وہ معاف کرنے والا ہو جاے تو ان کا کیا جو زندگی اس ہی کے نام لگاے کھڑے ہیں؟ خود سے پوچھو اور جانو کے وہ عادل ،منصف،پہلے ہے پھر غفور بھی ہے رحیم بھی. اب بھی اس کے راستے میں اٹھ کھڑے ہو کھڑکھڑانے والی سے پہلے. 
*************************************************************************




١٥ اگست ٢٠١٠                                          ٤ رمضان

سورہ التکاثر
شروع ہے اس کے نام سے جو رحم کرتا ہے اور کرتا رہ رہا ہے. اس پہ  میری نآ اہلی بتا رہا ہے کہ اس کی رحمت کی چھاؤں میں میں کیا کرتا پھرتا ہوں. اسی فکر میں کہ کسی طرح میں لوگوں سے آگے ہی رہوں، بھلے وہ مال ہو، گاڑی، بنگلہ، پیسے، زمین، شہرت، نام مقام سب اس میں آ جاتا ہے، یا میں اس بڑھوتری میں لگا رہا،خود کے لئے اولاد کے لئے، یہ تو رہا میرا پہلے فکر، بات یہیں نہیں ختم ہوئی، اس کو سنبهالنے کے لئے اولاد بھی چاہئے اور وہ بھی بیٹے، بیٹے نام بھی ہیں طاقت بھی، رعب بھی. جتھا بنانے کی تگ و دو میں میں نے اولاد اکھٹی کی کہ رعب ہو میرے دنیا فانى کے ساتھیوں پر، نہ کہ الله کی راہ کے مل کر مسافر ہوں.
اس بےخبری کی اداکاری اورعیاری نے تجھے بس ایک طرف ہی لگاۓ رکھا. نہ ہی ادھر دیکھنے دیا نہ ہی ادھر. بس منہ دھیان نہ ہی کسی کی سنی نہ ہی سنائی خود کی. سننے سنانے سے کبھی دل مُڑ بھی آتا ہے ہدایت کی طرف. مگر جب دنیا کی پڑی ہوتی ہے میں جان بوجھ کے کسی کی طرف نگاہ نہیں ڈالتا کہ کوئی کچھ الگ بتا دے تو کہیں میں اس کی سن ہی نہ لوں. اس سے یہ تو معلوم پڑتا ہے کے مجھ کو باطن میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو میں کر رہا ہوں اصل میں غلط ہے ، مگر چونکہ میں نے کرنے کی ٹھان ہی لی ہے اس لئے کوئی مشورہ نہ دے. سر کی آنکھ اور دل کی آنکھ دونوں بند جو ہیں، خود کا فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا ہے. اس لئے نہ میرا کوئی بڑا ہے نہ ہی دوست اور خیرخواہ.میں ہی سب کی خوب بوجھ رکھتا ہوں.
کمال ہے الله اس بوجھ سمجھ والے کے لئے کہ رہا ہے اس نے خود کا ستیا فنایا کر دیا، کوئی زندگی کا لمحہ اسے میرا پتہ نہ دے سکا، رنگ رنگ کے پھول، دراز نوکیلے خار، بوند بوند کو ترستی زمین اور چنگھاڑتے مچھرتے طوفانی سیلابی ریلے سب کچھ کو آنکھوں کے سامنے نابود کر دینے والے. روز روز کی ولادتیں اور جنازے اس کے من کو نہ ہی چھو سکے. آج کے دن کا سورج اس کے جنازے کو طلوع ہوا چاہتا ہے. اب دیکھیے کے،مال، مویشی اور مرد، جس کے بلبوتے پر یہ دندناتا پھرتا تھا دھرتی ماں میں، پیر پٹختا. سب خود کی موج میں کھڑے بیتاب ہیں اسے کندھے پر اٹھانے منوں مٹی نیچے پٹخ دینے کو، سانپ ہونگے کہ بچھو، کیڑے کہ مکوڑے، رب ہی جانے کون استقبال کو اتاولا ہوا کھڑا ہے.  یہ تھی تیری زندگی اور یہ ہے تیری حاضری کی شروعات.
جو بچے ہو خبردار ہو رہو، جان لو کہ زندگی یہی نہیں ہے جو تمہاری ناقص عقل اور فکر کہہ رہی ہے جو تم کو نظر آ رہی ہے. جس چمک کے پیچھے تم اندھے ہوئے جاتے ہو وہ سراب کے سوا کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہے، کس اندھیرے نے تم کو دیوانہ کر رکھا ہے، اصل کی نہ چنتا ہے نہ خوف. گھر ہمیشگی کا وہی ہے جس سے آنکھ مونڈھے ہے. آخر اس فریب کاری کا ناٹک کب تک چلے گا. وہ گھڑی وہ لمحہ بس اگلے قدم کھڑا ہے جس کو تم جانے تھے کہ آے گا ہی نہیی بلکہ ہے ہی نہیں. کیسے کہتے تھے جب تمہارا اندر کہتا تھا کہ مت دو خود کو چکر. یہ سب فانی ہے اور یہ جان اس کو ہی جانی ہے جو سب کائنات کا بانی ہے.ماننے والے کے لئے سو بہانے،نہ ماننے والے کے لئے دو سو.
اگر کہیں تم خود کی آواز خود کے باطن کی پکار پر کان دھر دیتے تو ایک لمحہ کو ڈر ہی جاتے کہ اتنے وضعدآر هونے اور دیکھنے کا آخر کار کوئی خیر خواہ نتیجہ نہ ہو گا. اگر دل کی گواہی پہ یقین کر ہی لیتے تو آج کی محفل اور ہی رنگ کی ہوتی. مگر تم تو یقین کی طرف آتے ہی نہ تھے. اگر درجہ یقین ہوتا کم ہی ہوتا تو آج کے دن کا انتظار کچھ اور رنگ دے رہا ہوتا. کیونکہ تم وہ نہ ہی کرتے جو کیا بلکہ کرنے کا سوچتے ہی نہ، سوچنے سے خود بھی ڈرتے اور ڈراتے بھی، سب ہی خیر ہو جاتی. مگر یہ تو ماضی کا صیغہ ہوا. اب بس بھگتاوہ ہی حال کا منظر ہے. اور یہ منظر کھلی آنکھ کی قسمت تم نے بڑے ذوق سے بنایا ہے. خوب سینچا یہ پیڑ دن رات، تب ہی بنی یہ ملاقات.
اے جو جا پڑے ہو قبروں میں، جان لو کہ تمہارے ہاتھ اب کوئی محل نہیں رہا، دوہرائی کا خود پہ نظر ثانی کا. اب تو بند کتاب مہر لگی ہے ہاتھ میں اور باری  کا انتظار. نہ کوئی یار نہ ہی پرسان حال. خود کا ساتھ بھی میسر نہیں کیا پر مسرت مقام ہے،ابھی یقین رکھو باز پرس ہوا ہی چاہتی ہے. صرف یہ ہی سوال ہو گا کہ تم کو انسان بنایا اورجس قماش کا انسان بنایا بس اس پہ نظر ڈالی کبھی؟ خود کی صالحیت اور صلاحیت کیسے استعمال کی؟ دل دماغ ہاتھ پیر زبان کس کام کو دیے تھے کہاں استعمال ہوئے. جو مال دیا تھا، تجھے وہ تیرے پاس میری ہی امانت تھا، خود کے علاوہ اس کا کوئی اور والی نظر آیا کیا؟ یہ ایک ہی سوال کے چند حصے ہیں.
کہنا یہ مقصود ہے کہ دنیا جمع کرنے میں نہ ہی لگو آخرت رخی زندگی اختیار کرو دنیا تمہاری ہے، تمھارے لئے ہی بنائی ہے مگر امتحان گاہ ہے، آرام گاہ نہیں. غور کرنے کا مقام ہے گلچھرے اڑانے کا نہیں. اس فانی دنیا کی آبادی ہی نہ بنو وگرنہ برباد ہو رہو گے. نہ گھر کے نہ گھاٹ کے نہ دنیا کے نہ آخرت کے. گھر بھی آخرت ہے گھاٹ بھی. جس کی قبر کشائی نہیں ہوئی اس کو پیغام ہے.

**********************************************