Home PageAs i was Thinking....suraaZIt Seems to me like YesterdayUrdu Writings
   
 

دسمبر ٢٧،٢٠١١ سموار، لاہور 

ابن ماجہ ٣٣٩٤ 

 تصویر بنانے والے کو اس میں جان ڈالنی پڑے گی، مگر کہ درخت وغیرہ کی بنائی جا سکتی ہیں.




عربی نہ جاننا ہمارا المیہ ہے. مگر ہر کوئی زبان سیکھ بھی نہیں سکتا، اب کافی لوگ تو خود کی زبان بھی نہیں جانتے اور پچھتر فی صد لوگ تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہمارے ہاں بھی اور اسلام کی دنیا میں بھی اور کہیں اور بھی. باقی مذاہب کی کوئی بات اس لئے نہیں ہے کہ ان کی کتب نہ ہی اصل زبان میں ہے اور نہ ہی کلام کا ہم کچھ کہہ سکتے ہیں کہ کتنی ملاوٹ ہے، روز کوئی نئی بات لکھ دی یا مٹا دی جاتی ہے. الله کو پتا.. 

ہم کو کسی کے بارہ میں کوئی بات نہیں کرنی. ہم سب کتابوں اور سب پیغمبروں کو ماننے والے ہیں سو ماننے کے مقام پر کھڑے بات کرتے ہیں. بدلاؤ کیسے آتا ہے کسی بھی حکم میں.

الله کے کلام میں بہت ہی وسعت ہے کہ وسعت کا لفظ چھوٹا پڑ جاے. ہر پڑھنے والا اور لکھنے والا خود کی سوچ، خود کے ادراک کے مطابق کلام سے مطالب اخذ کرتا ہے. اور ہر جاننے ماننے اور سمجھنے والا اگر الہامی کلام ساتھ ساتھ نہ رکھے تو الله کا کہا کہیں اور رہ جاے گا اور انسان کا اخذ کیا معنی زندہ رہ جاے گا. اور صرف وہی رہ جاے گا رہتی دنیا تک. ہر ایک کی خود کی سمجھی ہوئی تفسیر اور مطلب زندہ رہے گا.اور جیسے جیسے مفسر خود کے خیالات میں تبدیلی لاے گا ویسے ویسے ہی پھیلاۓ گا اور اس کو القران کہے گا. ہم سب بھی اس سے ہی واقف رہ جائیں گے. یہ آسان بھی ہے.  یہی ہوا الله کے کلام کے ساتھ ، القران سے پہلے. تو اب کیا حشر ہوا کھڑا ہے انجیلوں کا. اور ہر سال نیا نسخہ آ جاتا ہے. کسی ملک میں کوئی، کسی ملک میں کیسا.  اور کہتے ہیں الله کا حکم ہے. اگر دیکھا جاے تو اس کا مطلب ہوا کہ اب تک وحی آ رہی ہے اور احکامات میں ترمیم ہو رہی ہے. جبکہ القران کے مکمل هونے کے اعلان کے بعد تو القران میں بھی کچھ جمع تفریق نہیں ہوئی.  ہمارے ہاں ممانعت ہے قرآن کو چھاپنے کی بغیر عربی کے بھلے کوئی دو لفظوں کی ہی آیت ہو. یہ بہترین طریقہ ہے الله کے کلام کو ویسے ہی محفوظ کرنے کا جیسے کہ حضورص  کا طریقہ تھا، اسی وقت بتا سمجھا دیتے تھے،الله کی زبان میں . حضورص  سے تو لوگ سنتے تھے کہ کیا مطلب ہے اور زبان بھی جانتے تھے تو آسانی تھی. اصل کلام ساتھ ہو تو سمجھا بھی جا سکتا ہے بار بار. جیسے جیسے عقل آتی جاتی ہے بات بھی بہتر طریقہ سے سمجھ آتی جاتی ہے. کبھی ایسا ہوتا ہے کے کیا کہا جا رہا ہے وہ تو آپ ادا کر لیتے ہو مگر گہرائی میں کیا سمجھنا چاہئے یہ دیر سے سمجھ آتی ہے. کبھی آتی ہے کبھی نہیں. کبھی بستر مرگ سے پہلے آ جاتی ہے. سمجھ آنے کے لئے انسان کہاں جاے، اگر اصل کلام نہ ہو گا تو جس کے ہتھے چڑھو گے اس کا ترجمہ ہی سمجھو گے کہ ٹھیک ہے. کبھی تو موقع ہی نہیں ملتا کہ اس کی تردید اور تصدیق کی جا سکے. بہت سے مسائل ہیں اصل متن کے نہ هونے سے.

   یہ سب تمہید اس لئے باندھنی پڑی کہ اگر قرآن کے حوالے سے سمجھ آ جاے تو حدیث بھی سمجھ آ جاے گی جو کہ ہمارے پاس اصل الفاظ رسول الله کے تو ہیں ہی نہیں مگر کہ مستند صحابہ اور آگے سے علماء کے. کہیں پہ ہوا کہ کسی ایک کو بات کی جا رہی ہے اس کے ہی حوالے سے اور مقرر مدت کے لئے،اور عام اصول تو یہ ہے ہی نہیں. حضورص  کے ہوتے بھی ایک مستند حکم کو ہر شخص خود کے ادراک اور عقل کے مطابق ہی سمجھتا تھا. پھر یوں ہوا کہ لوگوں کی سہولت کے لئے عربی کے الفاظ بھی متبادل استعمال ہونے لگے. اس میں سمجھنے والے عالم کے لئے تو شائد اتنی مشکل نہ ہی ہو. اس کا ایک پاؤں تاریخ میں رکھا ہے مضبوط ہے. مگر یہاں پھر مشکل ہے، ہر عالم نے خود کی سمجھ کے مطابق عربی ڈالی . سو مطلب کہیں سخت ہو گیا کہیں ڈھیلا.یہاں پر اس حدیث کی ہم بات کریں گے. پہلے یہ دیکھا جاے کہ حضورص کے زمانے میں تصویر کا کیا مقام یا مطلب تھا. ان سے کیا کیا، کیا جاتا تھا. کیسی تصویرین بنتی تھیں اور کہاں رکھی جاتی تھیں. یہ بھی سوال ہے کہ کیا درختوں میں جان نہیں ہوتی یا پھلوں پھولوں میں. کیا ہر انسان کی تصویر بنانا منع ہے یہ کسی مخصوص شخص یا اشخاص کی؟ القران کہتا ہے کہ جھنم کا ایندھن ہوں گے جنوں میں سے انسانوں میں سے اور پتھروں میں سے. پتھروں کا مطلب جو جان سمجھ سکتا ہے وہ تصویر کا بھی جان سمجھ سکتا ہے. جن تصویروں اور پتھروں کو پوجا جاتا تھا ان میں جان بھی ڈالنی پڑے گی.  بھلا جس کام کا الله نے انسان کو اختیار ہی نہیں دیا،وہ نہ ہی اس سے تقاضا کرے گا نہ ہی اس حدیث کا مطلب ہے. 

کچھ باتیں جس طرح کہی جاتی ہیں آج بھی، [ اور یہ تو ہے الله کے رسول کا قول] وہ موقع کی مناسبت اور سامنے کے لوگوں کے مطابق کی جاتی ہیں اور ویسے ہی سمجھی بھی جاتی ہے نہ کہ خود کے مطلب نکال نکال کر. ہاں اگر زماں اور مکاں بات میں سے نکال دیے جائیں تو بات عام بات ہو جاتی ہے بغیر کسی بندش کے. اس میں سے کئی کئی مطلب اور اشارے اور استعارے نکالے جا سکتے ہیں جاتے بھی ہیں. قرآن حدیث کے بھی نکالے جاتے ہیں. قرآن کی اکثر بچت ہو جاتی ہے مستند کلام، کلام الله ہونے کی وجہ سے اور زبان کی قید کی وجہ سے. پھر بھی کئی لڑائیاں اور کئی قصہ ،کہانیاں. حدیث کی اس حوالے سے مشکلات ہیں. حضورص کے خود کے الفاظ نہ ہونے کی وجہ سے. بات تو تقریباِ وہی ہوتی ہے. عوام کو دیکھتے اور حالات کو دیکھتے اور جہالت کو بھی، کبھی اور طریقہ سے بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور گڑ بڑ ہو جاتی ہے. 

   <<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>

دسمبر ٢٦ ،٢٠١١ ، سموار .لاہور 

الفاظ وقت میں قید نہیں ہوتے

الله نے زبان دی ہے بولنے کے لئے، مگر یہ نہیں کہا کہ اس کی دی ہر شے کو ہر وقت زیر استعمال رکھا جائے . کان بھی دیے ہیں سننے کو مگر کچھ وقت ہم خود ہی کانوں کو بند کر دیتے ہیں جان بوجھ کر کہ پاس سے آتی جاتی آوازیں کان میں نہ پڑیں. آنکھ کا جوڑا بھی دیا ہے جو بہت مرتبہ صرف مطلب کی شے ہی دیکھتا ہے اور بہت مرتبہ سامنے جاتا بھی نہیں دیکھتا، بھلے طوفان ہی ہو . اس کا مطلب ہوا کہ انسان کو سمجھ بوجھ تو ہے ہی کہ کیا کب اور کیسے وقوع پزیر ہونا چاہئے یا میرے حواس کے حوالے سے ہونے دینا چاہئے. ہے تو بہت پتے کی بات مگر اس کے لئے تو بہت ہی......لوگوں کی زبان میں عقلمند اور ہوشیار ہونا ہے اور میری زبان میں شاطر. 

شاطر ہونے کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ، ہاں وقت کو محسوس کرنا آنا چاہئے. معلوم پڑ ہی جاتا ہے کہ میرا مطلب کہاں کیسے نکلتا ہے. توجہ طلب بات یہ ہے کہ کیا زندگی صرف مطلب نکالنے کا ہی نام ہے. اگر ایسا ہے پھر تو آپ صحیح جا رہے ہو. ہر جگہ بس خود کی فکر اور کچھ بھی نہیں. مگر سوچو تو ایسے کیسے چلے گا. کوئی بھی عمل یا بات بلکہ میں تو کہتا ہوں سوچ بھی وقت میں قید نہیں ہوتی. ہر کیا دنیا میں رہ ہی جاتا ہے اور اس کی ایک کاپی اوپر چلی جاتی ہے. ایسا کہاں ہے کہ میرا کیا بھلا دیا جاے بھلے اچھا ہو یا برا.

وہ کہنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کو یاد نہیں رکھتا. وقت کے ساتھ ، ہر بات کا ملاقات کا بھید کھلتا جاتا ہے. کھلنے، کھولنے کے، دیکھنے کے مالک کے خود کے ہی انداز ہیں. ہم کو معلوم ہی نہیں پڑتا کہ کب کیسے اور کہاں رکارڈنگ ہو رہی ہے. ہم چوری چوری کس کے دھیان میں بیٹھ رہے اور کس کے دل سے اتر رہے ہیں. ہاں یہ ضرور جانا ہے کہ کچھ کیا یا نہ ہی کیا کہیں نہیں جاتا. یہیں معلق رہتا ہے. جب جس پر جسے وہ چاہتا ہے کھول دیتا ہے. کبھی وقت سے پہلے ہی، کبھی میرے وقت کے بعد کے بھی بہت بعد. 

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے کچھ بھی کئے کا کوئی فائدہ نہیں. لوگ کتنے بڑے بڑے کام کر گئے اور بھلا دیے گئے. ایسا نہیں ہے. کام کرنے کا ہر کا خود کا طریقہ ہوتا ہے اور خود کا ہی مقام. اور خود کے ہی سننے والے سمجھنے والے.یہی الله تعالی کا سلسلہ ہے. ہم کو یہ نہیں سوچنا کہ میری کوئی نہیں سنتا.مجھ اکیلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا. یہ میرا سوچنا نہیں بنتا.مجھ اکیلے سے ہی تو پڑتا ہے. میں اکیلا میں اکیلا کر کے ہی اگر ہر، خود کی ذمہ داری نبھاۓ تو معاشرے حسین اور انسانیت جمیل ہو جاے. بنتا تو ہے بس سیدھی راہ کا تعین. الله مجھ کو راہ ہدایت کی دکھاۓ اور اس پر رہنے کی استقامت دے اور استقامت پر ہی موت.اس سوچ پہ کھڑے کا ہر لفظ ہو نہیں سکتا کہ سنانے والے نہ بناے.

بہت مرتبہ ہوتا ہے کہ ہم کو معلوم نہیں پڑتا کہ فائدہ پہنچ رہا ہے.معلوم پڑنے سے کیا ہوتا ہے. کسی کو نہ ہی صحیح. میں جب کام کرتا ہوں تو خود کی سوچ. خود کا فہم فکر،تدبر خود پر کام تو کرتا ہی ہے. بندہ جب خود بندہ ہو جاے تو جہاں سے گزر جاے، ساتھ سے چھو کہ گزرنے والے بھی فائدہ پا جاتے ہیں. انسان صرف وجود نہیں جو نظر آتا ہے، وہ بھی وجود کا حصہ ہے، بلکہ بہت بڑا حصہ ہے جو ہر وقت کام پر لگا ہے، بھلے بدن سویا ہو. وہ حصہ ہر وقت انسانوں سے متعلق رہتا ہے،ہر وقت لوگوں کو خیال سے باندھے، سوچ میں اٹکاے، جانتے نہ جانتے. ہم سب جگہ جگہ نہیں پہنچ سکتے، ہاں ہمارا کہا سنا ضرور پہنچتا ہے. 

میرا ایمان ہے بھلے بند کمرہ میں سوچو، تقریر کرو، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں. جو میرے بارہ میں سوچے میرے کمرے کے حوالہ سے، میری دیواروں میں آے، مری دیواروں کے پاس سے جاے. پیغام لے کے ہی جاتا ہے. ہوا، میرے ارد گرد کی ہوا میرا پیغام ضرور میرے ہاں سے دوسرے کے ہاں لے جاتی ہے. دوسروں کے پیغامات میرے ہاں بھی تو لاتی ہے نا. سورج کی روشنی جب گھوم کے دوسری طرف جاتی ہے تو میری بات ساتھ لے جاتی ہے اور جب کسی اور مقام کو روشن کرتی ہے تو میری بات بھی پرو کے کرنوں کے ساتھ نئی دھرتی تک پھیلا دیتی ہے.نہ ہی ہوا وقت میں قید ہے نہ ہی سورج، میرے وقت میں، اور نہ ہی بات، میری بات ،تیری بات، اور نہ ہی الفاظ. یہ الله کا نظام ہے.

 ہر شے اس کائنات کی اس کائنات میں محفوظ ہے.جب تک وہ چاہے. ہم دیکھ نہ پائیں، اچک بھی نہ پائیں مگر وہ کیسے ہمارے وجود میں سرایت کر جاتی ہے، الله کی الله ہی جانے. ہزاروں جال پہلے کے نسخے، برتن، کانچ کے ٹکڑے، ہڈیاں، جوتے. رکھے نہ جاتے اگر یہ ہم سے کچھ نہ کہتے. کہنا کیا ہے. کہنا، بننا ہی تو ہے وہ جو رہ جاتا ہے ہوا میں فضاء میں، ہماری اشیاء میں. ہمارے سب احوال رہ ہی جاتے ہیں. کہے ان کہے. 

<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

١٩ دسمبر ، ٢٠١١ سوموار لاہور

 "پیار بھی ہے بھوک کی پیچیدہ شکل، دیکھ کر نفرت کرو گے دیکھ لینا "
دیکھنے میں تو ماں باپ اس کو بہت پیار کرتے تھے، ویسے بھی کرتے ہی ہوں گے، بچے ہمیشہ ہی کہتے ہیں کہ ان کو میری پروہ کہاں. کبھی یہاں سے آواز آتی پارو، پارو. نام پروین تھا مگر یہ تو پارو کہتے یا پری. پروین تھی ہی اس قدر حسین. مگر کیا ہر حسین کو ماں باپ پری کہتے ہیں. یا ہر پروین کو پارو. ہم نے تو پینو ہی سنا ہے یا رانو . مگر پارو تھی کہ اس کو کسی جذبہ سے تسلی ہی نہ ہوتی تھی. ہر وقت، کوئی میری نہیں سنتا، کوئی میری بات پہ دھیان نہیں دیتا. کسی کو میری پروہ نہ ہے کے کلمات، جو وہ اونچا سا بولتی تو نہ مگر دل میں یہ ہی کہتی رہتی صبح شام. پیار کوئی گوشت کی ڈھیری تھوڑا ہی نہ ہے کہ تولی جا سکے. یا کپڑے کا تھان کہ ناپا جا سکے. پیار تو پیار ہے. جس کو مل جاے، جس کو ہو جاے، جس سے ہو جاے. مگر پیار کے کئی رنگ اور کئی انگ ہیں . ماں بنو تو مل جاتا ہے، اولاد بنو تو ہو جاتا ہے. انسان کے دائرے میں نہ رہو تو کھو جاتا ہے. انسان کے دائرے میں نہ رہنے کے معنی صرف یہ نہیں کہ انسان حیوان ہو جائے اور بھی کونے ہیں جہاں انسان نے نہ ہونا اور انسان ہی نہ ہونا چھپا رکھا ہے. چُپ رہنے والے شخص کا تو معلوم ہی نہیں پڑتا کہ وہ ہے کیا. الله کی پناہ میں میں تو آ ہی جاوں.اگر ہم ماں باپ کے پیار کو نہیں سمجھ پاتے اور ان سے فرار کے لئے اور لوگوں کا کندھا ڈھونڈتے ہیں. تو کیا کہیں سے بے لوث محبت کا امکان ہے؟ سوال تو ہے. جواب ہے کہ ہے بھی اور نہیں بھی. بہت پر امید بھی نہیں ہونا اور ںا امید بھی نہیں. والدین بہت مرتبہ ہم کو
سمجھ نہیں پاتے مگر ہمارا برا بھی نہیں چاہتے. چاہ ہی نہیں سکتے. ہاں چند حالات ہوتے ہیں کہ یہ رشتہ بھی "دلالی" کرتا ہے، الله معاف
 فرمایے. وہ ہی کراتے ہیں قرآن سے شادی. وہ ہی مجبور کرتے ہیں کہ وراثت بھائی سے مت مانگو،شرم نہیں آتی. میں کہتی ہوں یہ حق تو 
مجھ کو میرے الله نے دیا ہے. والدین اور میں تو نظر آتے ہیں مگر الله نظر نہیں آتا.
بھائی  خود کے فائدہ کے لئے کسی بد کماش کے ساتھ نکاح بھی کر دیتے ہیں بہن کا. پیار تو کرتے ہیں مگر کیا کریں مجبوری ہوتی ہے. 
وقت پڑنے پر نیک بخت بہنوئی کو قتل بھی کروا دیتے ہیں. سگے بھائی کو بھی اور باپ کو بھی ُاپر پہنچا دیتے ہیں.اس کی کیا مجبوری ہے کچھ معلوم نہیں پڑا کبھی. بھابی ہی غلط وڈیو بنا کر بھی سے طلاق کروا دی. دوسری خود کی پسند کی لڑکی لے آے. اس لڑکی سے بچے چھین کر اس کو گھر سے نکل دیا کہ ہم کو دھوکا ہوا اب ہم بھائی کے بچوں پر اس ماں کا برا اثر نہیں پڑنے دیں گے. یہ بظاہر ہے بھائی کی محبت. اس بھائی کی ہی ساری جائداد پر ُخد ہی دستخت کر کے اس کا کاروبار سمبھال لیا. اب ماں اور بیٹی رہ گئے اور تین معصوم بھتیجے. اچھی چل رہی تھی. ماں کو بیٹی کا معلوم تھا اس نے باقی جائداد پر قبضہ رکھا. چند روز بعد ماں بھی الله کو پیاری ہو گئی. اس مری ماں کے انگوٹھے لگاے سادہ کاغذوں پر یہ سب میرے سامنے ہوا. اور یہی پیار ہے بھوک کی وہ شکل جو انسان ہی اختیار کرتا ہے.جانے انجانے میں. یہی لمحہ فکریہ ہے.ایسا بھی نہیں ہے کہ یہی ہے اور کچھ نہیں ہے اور سب ہی خراب ہیں. سب انسانیت ہی خراب ہو جاے تو دنیا کا نظام چل نہیں سکتا. چل رہا ہے تو کچھ تو ہے جو ٹھیک ہے. ہمارے ہاں بھی سب ہی خراب نہیں ہے. ہاں خرابی کی جانب رجحان زیادہ ہی ہے اس لئے تشویش ہبی ہے. مجھے بھائی بھی کہتے ہیں کہ سب کی فکر ںا کرو. کیسے ممکن ہے کہ فقر کرنے والا سب کی فکر نہ کرے. فکر تو انسان کے دل و ذہن کا مقدر ہے ہاں ایسا ضرور ہے فکر مثبت بھی ہوتی ہے اور منفی بھی. اجالا مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی یعنی قدرتی بھی اور مصنوعی بھی. اندھیرا مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی یعنی رات الله نے آرام کے لئے بنائی ہے تو رات مثبت ہوئی . اندھیرے میں غلط کام کیا جاے تو میں تو اس کو منفی اندھیرا کہوں گی. ایسے ہی جذبات ہیں. مثبت بھی منفی بھی . ہر جذبہ کا منفی رخ بھی ہے اور مثبت بھی.ایسے ہی محبت کا منفی رخ ہے کسی سے کچھ پانے کے لئے محبت کرنا. اس مطلبی محبت کو میں نے بھوک کہا ہے. پیار بھوک کی شکل تب بنتی ہے جب مطلب پسے پردہ ہو. ایسا نہیں ہوتا کہ محبت نہ ہو مگر اس میں بھی مفاد مد نظر ہو. یہ محبت ہم ماں باپ سے کرتے ہیں اور بچوں سے بھی. پہلے محبت ہوتی ہے اور بعد میں مفادات نظر آنے لگ جاتے ہیں. اس میں محبت مرتی نہیں ہے مگر پیچھے ہو جاتی ہے اور بھوک آگے آ جاتی ہے. ہاں ایک بات ہے آخر کار بھوک جیت جاتی ہے اگر خوف خدا نہ ہو جاے،اور محبت خود ہی موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے. ایسا شخص جو انسان سے محبت نہیں کر سکتا، نہیں نبھا سکتا وہ الله سے بھی مقابلہ لگا کر محبت کرتا ہے. جب تک مرادیں پوری ہوتی رہتی ہیں احکامات مانتا رہتا ہے اور جب کوئی دعا اس کے طریقہ کے مطابق نتیجہ نہ لاۓ  تو عبادات ختم. الله الله کرنے کی چھٹی.ہر کوئی خود کے جذبات کا خود ہی جائزہ کر سکتا ہے کہ کسی قسم کا مفاد اس کو کسی کے قریب رکھے ہے یا خیرخواہی ......................

>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<

٢٠ نومبر ٢٠١١ ،لاہور

 ردی کے بھاؤ بیچنے نکلے ہویے ہیں لوگ
دانی کو اس گهر میں اٹھارہ سال ہو گئے ہیں اور اب تو وہ اس گهر کا حصہ ہے.

مجھے یاد ہے جس ایک دن گیٹ پہ گھنٹی بجی. سب آدمی ملازم جمعه پڑھنے گئے تھے. بھاگاں رمشا کے ساتھ سکول گئی تھی. تاج بی بی اماں کے ساتھ ان کی سہیلی کے گهر گئی تھی. گاراں ورشا کے بیٹے کو لئے بیٹھی تھی جو زور زور سے رو رہا تھا. قصہ مختصر مجھے ہی گیٹ کو جانا پڑا دیکھنے کہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے. میں چلتی ہوئی گیٹ کی طرف جا رہی تھی اور غصہ بھی تھا کہ مجھے جانا پڑا اس دھوپ میں. سب ہر وقت ہی کہاں ہوتے ہیں، مجھے جانا پڑ رہا ہے. خیر گیٹ پہ جا کہ معلوم پڑا کہ ایک لڑکی ہے، کہنے لگی مجھے کچھ نہیں چاہئے  بس میری بات سن لیں. اگر نہ سمجھ ائی تو میں رکوں گی نہیں. میں جو گیٹ پر آ ہی گئی تھی سوچا سنُ ہی لوں کہ کیا کہتی ہے. مجھے کونسا یقین کرنا ہے. میں نے کہا جلدی بولو بہت گرمی ہے. خیر اس نے بہت لمبی داستان تو نہ سنائی. ہاں یہ ضرور کہا مجھے بس رہنے کو جگہ دے دیں اگر تو میں باہر گرمی میں بغیر چارپائی پر کپڑے کے بغیر ہی سو لوں گی. اور اس سونے کے بدلے جو کام کہیں گے کروں گی. جس دن کام پسند آ جاے کھانا دے دینا، جس دن نہ پسند آے یا کوئی نقصان ہو جاے تو مت دینا. آپ سوچ لیں، میں یہاں انتظار کروں گی، بھلے بہت دن لگ جائیں. خدا حافظ. اور وہ گیٹ کے پاس ہی ذرا دور کر کے بیٹھ گئی. میں حیران بھی ہوئی اور مجھے غصہ بھی آیا. فراڈ کے بہانے دیکھو، نت نیے طریقے دیکھو. اور میں نے ٹھا کر کے گیٹ بند کیا اور بڑبڑاتی ہوئی اندر کو آ گئی.

 کوئی دو دن بعد جو میں باہر نکلی تو اس کو وہیں دیکھا جہاں میں نے دو دن پہلے چھوڑا تھا. دل تو کیا کہ پوچھوں کہ یہاں کیوں بیٹھی ہو. مگر آج ڈر بھی لگتا ہے کسی سے کوئی بات کرتے. جہاں جانا تھا میں وہاں چلی گئی . واپس ائی تو اس کو وہیں دیکھا. اب مجھے کھٹکا لگا کہ کیا بات ہے. کسی نے کوئی پلان تو نہیں کیا ہمارے گھر کے خلاف. پھر بھی میں نے رک کہ پوچھا، یہاں کیوں بیٹھی ہو. اس نے کہا کہ میں اس محلے کے ہر گھر میں ہو ائی ہوں. آپ ہی آ جا کے میرے دل کو بھاتی ہو اس لئے یہاں آ کہ بیٹھ جاتی ہوں. چھپ کہ یہاں آپ کے چوکیدار کے کمرے میں سو جاتی ہوں. وہ مجھ کو دور دراز سے جانتا ہے. میں نے کہا کہ میں خود ہی جگہ بنا سکوں تو اچھا ہے. اس لئے وہ چُپ رہا. آپ مجھے موقع دیں ایک مرتبہ. آپ کے گھر ماشاالله گارڈ ہیں اور بھی حفاظت ہے. میرا کوئی نہیں ہے. مجھ پر شک نہ کریں. میں اسے اندر لے ائی. اور کام سمجھایا. ہوشیار عورت تھی، بلکہ لڑکی تھی. جلد ہی سمجھ گئی سب کام. اور ہمارا دل بھی جیت لیا. ہر کام میں ہاتھ اور سب ہی کمال کا. وہ سب کی اور ہم سب اسکے گرویدہ ہو گیے. زندگی آسان تھی ہی، اور ہو گئی. سال کیسے گزرتے گئے معلوم ہی نہیں پڑا. دس سال گزر گئے، گیارہ، بارہ اور پندرہ. وہ اب گھر کا فرد ہو چکی تھی. نہ ہی کبھی کوئی اس کو ملنے آیا نہ ہی کوئی فون. نہ اس نے کبھی کوئی ذکر کیا. کسی کا کسی قسم کا.

 ہم سب کو سب بہت اچھا لگ رہا تھا. وہ گھر کا فرد تھی. سب بہت خوش تھے اور وہ بھی. آج صبح نہ ہی چاۓ ملی نہ کسی کا کوئی کام ہوا. نہ دانی نظر ائی. اب  کیا ہو، دانی سے پرانے ملازم بھی اب اس سے ہی کام میں مدد لیتے تھے. سب آج بھونتر گیے تھے. کیا ہو گیا کدھر گئی. کہیں طبیعت زیادہ ہی خراب تو نہیں جو ائی نہیں. خیر ہو. سب ہی گھبرا گئے اور ہر طرف سے اس کو آوازیں دینے لگے. اماں بھی گھبرا گئیں اور میں بھی. ِادھر ُادھر سب دیکھنے لگے. میں نے سوچا جا کے اس کے کمرے میں جا کے دیکھوں.

 دیکھا تو کمرہ بند تھا. میں نے کہا دیر سے اٹھی ہو گی اور نہانے دھونے گئی ہو گی. ہم ایسے ہی گھبرا گیے. میں واپس آ گئی اور دانی کے آنے کا انتظار کرنے لگی. وہ آخر نہ ائی. اب میں پریشان ہونے لگی. جا کے دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر زور زور سے پیٹا بھی. کوئی جواب نہیں. جلدی جلدی میں اندر گئی اور کافی سارے لوگوں کو ُبلا لائی. آخرکار سب نے مل کر دروازہ توڑا. دیکھا اندر کچھ نہ تھا. اب تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی. کیا ہو. کیا کریں. کیا ہوگا. کہاں جائیں. کس سے بات کریں، کہاں ڈھونڈیں کس سے فریاد کریں. میرے پاس کوئی بات نہ تھی.   رونا پیٹنا پڑ گیا. وہ خاندان کا حصہ تھی. کیا ہوا، کوئی اس کو کہاں لے گیا، کیا بنا، کیا نہیں بنا. میرا اور اماں کا رو رو کر حال بے حال ہو گیا مگر کوئی فائدہ نہیں. کچھ پتہ نہ چلنا تھا نہ ہی چلا. آج اس بات کو بیس دن ہو گے ہیں، مجھے یہ سب گزرا وقت یاد آ رہا ہے. کیسے وہ سڑک پر کھڑی ملی تھی اور کیسے ہمارا حصہ ہو گئی. سب ہی کام اس کے ذمہ دے کر ہم فارغ ہو گے تھے. وہ چلی گئی ہے تو پھر سے ہم فارغ ہو گیے ہیں آزادی سے. کس کس کونے پہ نظر ڈالیں اور کیا کیا کریں. بلکہ کیا کیا سوچیں.

>>>>>>>>>>>>>>><.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.

٢٥ اکتوبر ٢٠١١، منگل 
جارج اور ٹینا 
جب دروازے کی گھنٹی پہ میں نے دروازہ کھولا تو ایک نوجوان لڑکا کھڑا پایا.روشن: میں پاس میں ہی رہتا ہوں. آپ کے میاں کو تو روز باہر جاتے دیکھتا ہوں اور آپ کی بیٹی کو بھی. مگر جب سے میں آیا ہوں آپ کو نہیں دیکھا کبھی باہر. بچی اتنی اچھے سے تیار ہوئی ہوتی ہے کہ معلوم پڑتا ہے کسی عورت نے کی ہے مرد نے نہیں. میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ گھر میں کون ہے جو اس کو تیار کرتا ہے، گهر کا خیال رکھتا ہے. نظر کیوں نہیں آتا. تو معاف کرنا میں چلا آیا دیکھنے کہیں کوئی اپاہج یہ بیمار تو نہیں.سب بات دروازے میں کھڑے ہی ہو گئیں.میں نے اس کو اندر آنے کو کہا اور پانی کا گلاس دیا. میرے چھوٹے سے گھر میں وہ اندر آ گیا.روشن: میرا نام روسومن ہے لوگ مجھے روشن کہتے ہیں.مجھ سے کوئی سات آٹھ سال چھوٹا لگتا تھا. اس کو پانی دے کر میں خود کے کام کرنے لگی. آج رشا کی سالگرہ تھی  اور میں کمرے کو سجا رہی تھی جہاں شام دوستوں کو آنا تھا. رمشا آج پانچ سال کی ہو رہی تھی.میں اس کو پیار سے رشا، رشے، رشی، کچھ بھی کہتی تھی.روشن: آپ کیا کرتی ہو.ٹینا: گهر کے کام.روشن: کیا پڑھا کیا شوق تھے وغیرہ.ٹینا: مجھے لکھنے کا شوق تھا. میں اچھا بھی لکھتی تھی. سکول، کالج میں انعام بھی لئے. مگر اب فرصت نہیں اور میں نے سوچا بھی نہیں. روشن: میں بھی لکھتا تھا. لکھتا ہوں. بہت خوش ہوں. فرصت تو نکالنی ہو گی اگر................ٹینا: {بڑبڑاتے ہویے} خود تو چلا گیا مجھے پھنسا گیا. میں نے کمرہ کیا سجانا ہے.{ بھناتی ہوئی پھرتی رہی}جارج: {واپس آیا  تو مجھے پریشان پایا} اس کے پوچھنے سے پہلے ہی. ٹینا: {بات شروع کی} آج ہمسایہ آیا تھا. اجنبی تھا مگر مجھ کو اچھا لگا اور ہم بات کرتے رہے. اس نے میری تعریف کی. مجھے بہت اچھا لگا.جورج: {حیران ہو کہ}تم کو اچھا لگا! تم نے کسی کو بھی اندر آنے دیا، اچھا نہیں کیا. خیرٹینا: اس نے کہا میں اچھی دکھتی ہوں. جورج: کیا تم کو خود نہیں معلوم کہ تم اچھی دکھتی ہو ٹینا: تم نے مجھ کو آخری مرتبہ کب کہا کہ میں اچھی دکھتی ہوں.جارج: صحیح کہتی ہو ، میری غلطی ہے.ٹینا: تم کو یاد ہے تم اور میں مقابلے میں لکھا کرتے تھے جب ہم کالج میں تھے. کبھی تم کو انعام ملتا تھا. اکثر مجھے ہی ملتا تھا.جورج: خوب یاد ہے میں کیسے بھول سکتا ہوں، میں کبھی اس بات پہ جلتا بھی تھا، جب ہماری دوستی نہ ہوئی تھی، اور پھر تمہاری جیت بھی مجھ کو خود کی جیت لگنے لگی، مگر ہاں، تم بہت اچھا لکھتی تھی، بہت ہی.ٹینا: مگر اب کیا؟ اب تو میری زندگی تمہاری جرابیں سیدھی کرتے، رشا کے کھلونے سمیٹتے، کپڑے دھوتے گزر رہی ہے، میرے ہاتھ دیکھو، جن میں قلم ہوا کرتا تھا، اب جھاڑو، صابن ہے. میرے ہاتھ دیکھو کتنے بھدے اور  پھٹے  ہوے ہو گئے ہیں. اب تو شائد رشا کو پڑھانے بیٹھوں گی تو قلم پکڑنا بھی نہیں اے گا.جارج: {سوچتے ہویے ٹینا کے قریب آ کر} کیا تمیں روشن بھا گیا ہے. کیا تم نے مجھے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے؟ بولو ٹینا: نہیں. ایسا کچھ نہیں ہے. ہاں میں سوچنے لگی ہوں. میں ایک پڑھی لکھی ماں ہوں. میری زندگی کا کیا مصرف ہے. یہی گندے کپڑے رگڑنا، برتن مانجنا. اور وقت ملے تو لیٹ کے گانے سننا. مجھے ایسے اچھا نہیں لگا خود کا وجود آج.جارج: پیار سے: مجھے سمجھ آ رہی ہے. مگر تم  کو معلوم ہے نہ کہ میں تم کو بہت پیار کرتا ہوں.ٹینا: میں بھی تم سے بہت پیار کرتی ہوں.بہت سے بچے آگئے خوب خوب سالگرہ کا ہنگامہ رہا. دن گزرتے گئے. میں بھی سوچ رہی تھی. جارج بھی.وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا تھا. آج رشا سو گئی ہم دونوں چھت پر کھڑے تھےجارج: میری ڈاک ائی تھی تم نے کھولی نہیں.ٹینا: وہ تمھارے نام تھی جارج: {ٹینا کی طرف لفافہ بڑھاتے ہویے}: دیکھو ٹینا: {لفافہ کھولتے ہویے} کیا ہے، یہ تو چیک ہے ایک لاکھ کا. یہ کیا ؟جارج: {قریب سے ٹینا کو پکڑ کے بٹھاتے ہویے} یاد ہے میرے پاس سکول کے زمانے میں ایک گھڑی ہوتی تھی جو میں نے بتایا تھا کہ میرے ابا کے پاس ان کے دادا کی تھی وہ ان نے مجھے دی تھی. پرانی اشیاء کی سیل ہو رہی تھی. سالگرہ سے اگلے دن میں اسے وہاں لے گیا ان لوگ نے اس کا یہ دام لگایا تو میں نے بیچ دی.ٹینا: مگر تم کو تو وہ بہت پسند تھی، تھی نا؟جارج: تھی، مگر یہ تمھارے لئے ہے. تم ایک کمپیوٹر لو اور ایک کپڑے دھونے کی مشین. جب کپڑے مشین میں دھولیں گے تو تم کمپیوٹر پہ لکھا کرو گی ، تمہارے پیارے ہاتھوں میں پھر سے قلم ہو گا. اب کتاب چھپے گی تمہاری. اور ایک اور بات. کبھی نہیں بھولنا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں. ہاں پچھلے دنوں میں نے تمہاری طرف کم دیکھا. تم  بہت پیاری ہو. میری پیاری. ٹینا: میں آج اچھا کھانا بناؤں گی تمہاری پسند کا.وقت گزرتا گیا ٹینا نے کپڑے دھونے کی مشین بھی لے لی کمپیوٹر بھی.اب ایسی مصروفیت نہ رہی تھی. ٹینا اکثر لکھا کرتی تھی. وہ بہت خوش تھی. بہت ہی خوش. چہچہاتی، گنگناتی پھرتی تھی.....................
ٹینا سٹیج پر کھڑی مسکرا رہی تھی. جب دیر تک مسکراتی رہی تو لوگ بھی چپکے چپکے مسکرانے لگے. مجھے معلوم ہی نہیں کہ میں کتنی دیر ان خیالوں میں چلتی رہی.  اچانک میرے کندھے پر کسی کا ہاتھ پڑا اور میں واپس آ گئی، میں سٹیج پر کھڑی تھی، میری پہلی کتاب کی رونمائی تھی آج.روشن کون تھا معلوم نہیں. کہاں سے آیا تھا معلوم نہیں. میں معلوم کرنا بھی نہیں چاہتی. مگر میرے لئے کیا کر گیا. میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی. کیا وہ انسان ہی تھا مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم. ہم نے کبھی اس کو آتے جاتے نہیں دیکھا. کبھی دوبارہ گهر بھی نہیں آیا . کام جو کرنے والا تھا وہ کر گیا. میں اس کو کبھی نہیں بھول سکتا. وہ میری ہر دوا کا حصہ ہے. شکریہ روشن. ہم سب میں کسی کے لئے روشن موجود ہے. وہ کسی نہ کسی. میں بھی ہو سکتا ہوں، میرا کوئی پیارا بھی، انجانا بھی.



<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>>>


٢٣ اکتوبر ٢٠١١ ،اتوار ،لاہور

 میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا

جلدی جلدی میں بھی کتابیں سمیٹ کر باہر کی طرف چل دیتا. کہنے کو تو اسے دروازہ ہی کہتے تھے مگر وہ جگہ جگہ سے پھٹا ایک کپڑے کا ٹکرا تھا جو ایک طرف کیل کے ساتھ اور ایک طرف اینٹ کے کونے سے اٹکایا گیا تھا. میں بھاگتا ہوا باہر نکلتا اور ادھر ادھر دیکھنے لگتا. کبھی تو ساتھی انتظار کرتے مل جاتے اور کبھی دور جاتے نظر آتے. میں بھاگ کر ان میں شامل ہو جاتا. کب تک کوئی انتظار کرتا ہے اور جب آگے ڈنڈا انتظار کر رہا ہو لیٹ آنے پر. ویسے بھی جو وقت پر تیار ہوا ہے وہ دیر سے آنے والے کا انتظار کیوں کرے. دیر سے آنے والے کا تو تقدیر بھی انتظار نہیں کرتی. سکول کی طرف جانا ایسے ہی تھا جیسے کانٹوں میں سے چادر چھڑانی ہو، ایک جگہ سے نکالو تو دوسری جگہ اٹک جاے.صبح کا مسلہ بڑا گھمبیر ہوتا تھا. رات کو سونے کی نہ ستھری جگہ نہ ہی کوئی مناسب جگہ. سات فٹ لمبے چوڑے کمرے  میں چھ لوگ کہاں کوئی سوے اور کہاں مرے. صبح تازہ دم ہو کر اٹھنا کس سہانے خواب کا تجربہ ہے کس کو معلوم. اٹھ کے منہ دھونا. کپڑے نیے نہ ہوں خود کے ماپ کے بھی نہ ہوں مگر ایسے تو ہوں کہ کسی کے ساتھ چلا یا بٹھا جا سکے. ایسا بھی نہ تھا. ناشتہ صبح کے کھانے کو کہتے ہیں جو ہر انسان صبح کھاے تو دن کو بھگتنے کے لئے تیار ہوتا ہے. مگر گھر میں کچھ کھانے کو ہو تو. اس لئے میں بھی اٹھ کر آنکھیں ملتا ہوا چل دیتا تھا، خود کے شوق سے جب سب سوے ہوتے تھے. کوئی کہنے والا نہ تھا.

سکول آ گیا نہ چھت نہ دروازہ. کرسی نہ کتاب. گھنے درخت کے نیچے سب بچے بیٹھ گئے. الف بے شروع ہو گئی. پتھریلی زمین پہ ادھر سے پتھر چبھے تو ادھر ہو گئے. گھنا درخت پت جھڑ میں ننگا ہو گیا تو ایسے ہی سہی. آندھی ہو یا بارش ، دھوپ ہو یا بادل یہ سکول ہے. شکر  ہے کہ ہے. دن گزرتے گئے ایسے ہی چلتے چلتے آٹھ جماعتیں ہو گئیں. آگے نہ کسی اور ہم جماعتی نے پڑھنا چاہا اور نہ ہی استاذ صاحب کو پڑھانا آتا تھا. کہا گیا کافی ہے اب کرو مزدوری اور گھر والوں کا پیٹ پالو. جانا ہے تو شہر جاؤ اور جو جی میں آے کرو. یہ آخری دن سکول سے گھر آنا بوجھ لگا. قدم اٹھتےنہ تھے. سامنے اندھیرا جو تھا. کسی سے بات کروں تو کیا. میں نے شہر جا کے نوکری کا سوچ لیا. مگر کس کے ساتھ کس کے پاس. اس سوالیہ نشان کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا.

گھر آ کے خود کا فیصلہ سنا دیا کہ چند بچے شہر پڑھنے جا رہے ہیں. میں بھی جاوں گا. ہنگامہ ہو گیا. رونا پٹنا ہوا. قصہ مختصر میں چلا گیا. آگے کچھ فلمی کہانی ہے. پہلے ہی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پناہ مل گئی. جذبہ تھا. دل لگا کہ جو سمجھایا جاتا میں کرتا. کام بھی کچھ سخت نہ تھا. کوئی تین مہینے گزرے تو مالکن جن کو میں بھی امی جی کہنے لگا تھا میں نے بولا کہ میں پڑھنا چاہتا ہوں. آٹھ پڑھا ہوں، اس لئے شہر آیا تھا. ان نے اجازت دے دی. میں صبح سکول جاتا جو بازو ہی میں تھا. شام میں گھر کا کام بھی کرتا اور پڑھتا بھی. کب دس ہو گئیں معلوم ہی نہیں پڑا. نہ گھر کی یاد ائی نہ ان نے ہی یاد کیا.میں پیسے ان کو بھیج دیتا تھا سو وہ خوش تھے. مجھے اس شہر کے لوگ بہت ہی اچھے ملے. میری پڑھائی کا مجھ پہ کوئی مالی بوجھ نہ تھا. الله کی مرضی.

امی جی مجھے کالج جانا ہے. میں نے کہ ہی دیا. وہ مان گئیں. میں روز کالج جانے لگا. چُپ کے سے جاتا اور واپس آ کے گھر کا کام بھی کرتا اور پڑھائی بھی. میں سائکل پہ جاتے روز یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتا اور خود کو اس کے دروازے سے اندر جاتا تصور کرتا. ایسے ہی سال گزر گیا. نیا سال چڑھا. ابھی تک سب اچھے سے تھا. ہمیشہ کی طرح مہمان آتے جاتے. سب مجھ سے خوش تھے. یہ دن اتوار کا ہی زیادہ ہوتا اور میں بھی فارغ ہوتا تھا. ذکر کرتے میری آنکھ میں آج بھی وہ منظر ہے جس نے میری زندگی زمین کی زمین پر ہی رہنے دی. امی جی کا بھانجہ آیا مہمان. میرے لئے قہر بن کر.

وہ  کچھ سودے وغیرہ لینے آیا تھا فیصل آباد سے. پہلے بھی آتا جاتا رہتا تھا. کچھ بہت سیدھا شخص نہ تھا. مگر جی گھر کا فرد تھا. مجھے بھی یہاں چار سال ہو چلے تھے. میں خود کو گھر کا فرد ہی گردانتا تھا. سبھا میں اندر آیا، کالج جانے اور جلدی سے کام نبٹانے. اندر تو طوفان کھڑا تھا. بیس لاکھ روپیہ غائب تھا. گھر میں امی جی کامی بھائی اور میرے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں. دونو بھائی اور ابا کراچی کام سے گئے تھے. باجی اور آپی کالج سے ہی ممانی کی طرف رات رہنے چلی گئی تھیں ان کی بیٹی کے ساتھ. گھر میں ہم تین تھے. مجھے آج ذرا در ہو گئی اندر آتے.اب تک میرے ہی وارنٹ نکالے جا چکے تھے. مجھ پہ شک کیا جا رہا تھا. کمی بھائی کہ رہا تھا دیکھا خالہ آپ گھسا لیا کرو ہر کو. ابھی تک نہیں آیا نہ آپ کا لاڈلا. لے گیا میرے بیس لاکھ.

میں اندر داخل ہوا تو آج گھر کا نقشہ ہی کچھ اور کا اور تھا. کیا دیکھتا ہوں کہ امی جی کی بھی نظریں بدلی ہیں. میرا حوصلہ ہی نہ ہوا کے پوچھوں کہ کیا ہوا. میں آتے آتے سن ہی چکا تھا. کہاں کا ناشتہ اور کہاں کا کالج. میں تو کٹہرے میں کھڑا تھا. کمی بھائی تو خیر آگ پھینک رہے تھے ہی. امی جی بھی تیوری چڑھائی بیٹھی تھیں. حق پر ہی تھیں. گھر میں کوئی اور نہ تھا. میں رات ہی کام کاج سمیٹتے کہ رہا تھا کامی بھائی میں یونیورسٹی  جاوں گا اور آپ کی طرح  بڑا آدمی بنوں گا. خود کے خاندان کو بھی شہر لے آؤں گا. ہنسی مذاق کرتے کرتے کام مکمل ہوا اور میں سونے چلا گیا. آج پڑھائی نہ ہوئی تھی سو پڑھتے دیر ہو گئی تھی،اس لئے آنکھ  دیر سے کھلی آج.

قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا. تیور بدلے دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا. میرا خیال تھا کم از کم امی جی مجھ کو پہچانتی تھیں. مگر میں ان کے گھر کا فرد نہ تھا. رقم بھی بہت زیادہ تھی. امی جی حوصلہ دے رہی تھیں. کمی بھائی مطمئن تھا. معلوم نہیں اس نے یہ کیا کھیل کھیلا تھا. میرا کسی نے ساتھ نہ دیا. مارا پیتا گیا. مجھے دس سال جیل ہو گئی. زندگی فنا ہو گئی. سب دہرا کا دہرا رہ گیا. خواب خواب بھی نہ رہے. ہاں یونیورسٹی کا گیٹ میری قسمت میں ضرور تھا. آج میں اس گیٹ کے بلکل سامنے ایک کتابوں کی دکان میں ملازم ہوں. میری پانچ سال سزا معاف ہو گئی تھی. میں نے جیل میں لوگوں کو پڑھایا بھی. جیل کے لوگ میرے سے خوش تھے. پہلے پہل پوچھتے تھے کہ پیسے کہاں ہیں. اب ان کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ سب ڈرامہ تھا الزام ہی تھا. وہ بڑے لوگ تھے. میرا کیا تھا.

معلوم  نہیں ان پانچ سال میں میرے گھر والوں کا کیا ہوا. میں باہر آیا اور پھر نوکری پہ کھڑا ہو کے ان کو پیسے بھیجنے لگا. کتابوں کی دکان میں، کاغذ کو ہاتھ لگا کہ بچوں کو پنسلیں بیچ کے ٹھرک پوری کر لیتا ہوں کیونکہ غریب آدمی کو کتابوں سے زیادہ آٹے کی ضرورت ہوتی ہے.

>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<<


٢١ اکتوبر ٢٠١١ ،لاہور 

کیکڑے ہی کیکڑے

ہم پنجاب میں رہتے تھے. کراچی جانا نہ ہونے کے برابر تھا. کوئی رہتا جو نہ تھا وہاں. کتابوں میں سمندر کے متعلق پڑھتے تھے تو ایک تصویر سی بن جاتی تھی اور پھر روندی صورت میں آ کر یہ تصویر بکھر جاتی تھی. بابا کو ایک تو چھٹی نہ ملتی تھی اور پھر اگر رہنے کی جگہ بھی نہ ہو تو اتنے ڈھیر سارے بچوں کو لے کر اتنی دور کون جاے.اتنے پیسے کہاں سے آئیں. ابا تو شائد ہماری باتوں میں آ جاتے مگر امان، ان کو تو منانے کا ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا. ان سے سب کو ہی ڈر لگتا تھا. شائد ابا کو بھی.........دن گزرتے گئے اور کراچی جانے کا شوق بھی بڑھتا گیا. ہم سب بہن بھائی جب بھی رات سونے کے لئے خود کے کمرے میں بستروں پر لیٹ کر بات شروع کرتے. دن بھر کی باتیں. دن بھر کے واقعات. بات آخر کار  یہاں آ کر ٹھہر جاتی کہ کراچی کب اور کیسے جایا جاے. یہ ذہن میں نہ تھا کہ وہاں کرنا کیا ہے. سمندر پہ جانا اور جا کر سمندر دیکھنا، بس یہی. اور کچھ نہیں. نہ تو پتا کہ کیسے جانا ہے،اور جا کہ کرنا کیا ہے. پانی کے سوا اور کیا دیکھنا ہے. معلوم نہیں تھا. مگر دھن سوار کہ سفر کیسے ہو. آگے الله کو معلوم کہ میرے لئے کیا رکھا ہے. آج تو مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے کچھ رکھا تھا. خیر.وقت کب رکتا ہے. اور کئی سال گزر گئے. سمندر کا عشق ہم بچوں کے ساتھ جوان ہو گیا. ایک صبح ہم کالج کے لئے تیار ہو رہے تھے. خالہ کا امریکہ سے فون آیا کہہ رہی تھیں خالو جان کا کراچی تبادلہ ہو گیا ہے. وہ اگلے ایک ماہ میں کراچی ہوں گے. کمپنی کی طرف سے بڑا گھر ملا ہے. ہم سب کو اب کے گرمیوں کی چھٹیوں میں آنا ہو گا. امی ان کے پاکستان تبادلہ پہ بہت خوش ہو رہی تھیں. کئی سال ہو گئے تھے دونوں بہنوں کو ملے. وہ پاکستان نہ آ سکتی تھیں.امی ان کے پاس جا نہ سکتی تھیں. خالہ شادی کے بعد ایک مرتبہ ائی تھیں جب ان کے بچے چھوٹے تھے. وہ ہمارے پاس رکے تھے. ہم سب اچھے دوست بن گئے تھے. مگر ان کے جاتے ہی سب دوستی پیار کہاں گیا معلوم نہیں. ہم یہاں،وہ وہاں مصروف ہو گے. گویا ہم بس خوابوں میں ایک دوجے کو جانتے ہیں.آج  تو گویا عید کا دن ھوا. ہم تو خوشی سے ناچنے لگے. خالہ کے آنے میں ایک مہینہ. گرمی کی چھٹیوں میں چار مہینے. کیسے گزریں گے. ہم یہ سوچنے گے. نہ امی نے کہا چلیں گے نہ ہی ابا نے. معلوم ہے کوئی سفر آسان تھوڑا ہی نا ہے. آج یہ سوچنے کو دل نہ تھا. آج تو خوابوں کو تعبیر ملنے چلی تھی. صبح اچھی چڑھی. ہر کوئی خود کے کالج چلا گیا. اور پھر ہم بھول بھال گئے ایک ماہ گزر گیا. خالہ آ گئیں کراچی. بہت سے دن تو گھر ٹھیک ٹھاک کرنے، بچوں کے کالج کے داخلے میں لگ گئے. امی کی ان سے روز بات ہو جاتی تھی. امی لگیں ابا سے کہنے کہ چھٹیوں میں جانا ہے بہن کے پاس. چھٹی کا اور کچھ پیسوں کا بندوبست ہو. کبھی سے ابو ٹال رہے تھے، مگر کب تک.دن آ گیا معلوم پڑا کہ ٹکٹیں آ گئی ہیں. چھٹیاں شروع هونے سے پہلے ہی. الله الله کر کے سفر کا دن بھی آ گیا. کیا حسین نظارہ تھا. سامان بندھا پڑا تھا. ہم تیار کھڑے تھے. ابو کے دوست کی کار نے ہارن دیا تو دل بلیوں اچھلنے لگا. جلدی جلدی گھر بند کیا. سامان کار میں رکھا اور سٹیشن کی طرف بڑھنے لگے. میں نے تو خود کو چٹکی لگائی کہ کیا خواب ہے؟ معلوم پڑا نہیں. جلد ہی سٹیشن آ گیا یا خیالات کی دنیا میں جا کے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا. سامان اتارا خود کو سمیٹا اور ٹرین کی جانب بڑھے. شکر ہے اور امتحان نہیں ہوا. یقین تو نہیں آے گا آپ کو مگر ٹرین وقت پر چل دی معلوم مقام کی جانب. رات کافی ہو چلی تھی. نیند آنکھوں سے گھنٹوں دور تھی. کچھ اور وقت گزرا. اتنے جھولے ملے کہ خواب ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو ہی گئے. معلوم نہیں کتنی دیر سوتے رہے، راستے میں کئی سٹیشن  اے کئی گئے ہوں گے. ہم تو آرام ہی فرماتے رہے. اب خوش خوش اٹھے اور کراچی سٹیشن آنے کا انتظار کرنے لگے. بھوک بھی لگ چکی تھی. مگر اب سوچا کہ چُپ ہی رہا جاے، باقی سب گھر جا کے. چلو جی ٹرین رکی. کراچی کی ہوا ہی الگ لگی. ہم اترے سامان اتارا. ٹانگیں سیدھی کیں. اور سامان گھسیٹتے ہے باہر لے آے. خالہ خالو کو نظریں ڈھونڈنیں لگیں. دور سے خالہ کی آواز ائی. باجی باجی، ہم سب کے چہرے ِکھل گئے. خالہ لوگ کے تو کھلے ہویے ہی تھے. ان نے ہم کو پہلے جو دیکھ لیا تھا. سب خوب ایک دوجے کے گلے ملے. امی اور خالہ تو رونے لگیں. لڑکوں نے سامان جیپ میں رکھا اور گھر کو چل دیے.ہم سب بہت خوش تھے. لگا خواب پورا ہوا. گھر میں سیٹ ہویے. نہا دھو کر کھانا کھایا اور پورے ہفتہ کا سیر کے پلان کاغذ پنسل لے کر لکھنے بیٹھے سب مل کر. بڑے بیٹھے ہماری باتوں سے محظوظ ہوتے رہے. پھرنے کا خوب خوب پلان بنا اور بہت خوشی ہوئی. یہ دن جو جیسے معلوم ہی نہیں پڑا گزر گیا رات ہو گئی. خوب گپیں لگائیں کھانا کھایا اور بیٹھ گئے. پرانی باتیں کچھ نئی باتیں، سکول کے قصے. کب آدھی رات ہو گئی معلوم ہی نہیں پڑا. چلو جی سب سونے اٹھے صبح سمندر جانا تھا. بہت خوشی ہو رہی تھی، جیسے کوئی ان ہونی ہونے والی ہو. خوشی کے مارے نیند نہ جانے کہاں تھی.
جہاں بھی تھی گھوم پھر کے آ ہی گئی. صبح اٹھایا گیا کہ سمندر جانا ہے. بالٹیاں یا کوئی ٹوکریاں ساتھ لے لو جس جس کو کیکڑے پکڑنے ہیں. پکائیں گے اور کھائیں گے. پنجاب میں ہم کو تو معلوم نہیں کیکڑا کیا ہوتا ہے. کیسے پکتا ہے اور کیسا لگتا ہے پک کر . بہرحال ہم نے ناشتہ کیا. چاے پانی بسکٹ، نمکو سب ساتھ رکھا. بالٹیاں ٹوکریاں بھی جس کو چاہئیں تھیں لے لیں. جیپ میں بھرے اور نکل کھڑے ہے. گھنٹہ بھر گاتے بجاتے، راستے میں رکتے، چیزیں لیتے سمندر کے قریب پہنچ گئے. یہاں ہوا ہی الگ تھی. نظارہ ایسا کہ سانس تھم جاے. لہروں کا آنا جانا اس کمال کا کہ لفظوں میں نہ سماے. کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہو گیا. ہمیں یہ کیسے نصیب ہو گیا. الله کا شکر ہے. لہروں کو آتا جاتا دیکھا، دیکھتا ہی رہ گیا. کیا خوبصورتی ہے، پنجاب کو تو اس کا معلوم ہی نہیں ہے. اب آئی کیکڑے پکڑنے کی باری. مجھے کیا معلوم سب کیسے کرنا ہے. ہمارا خیال تھا پانی میں جا کے سب ہو گا. مگر وہاں تو لوگ تھے کیکڑے پکڑ کے دے رہے تھے. مجھے بھی ایک بندے نے دو بیچے. مجھے اور چاہئے تھے. آگے اور لوگ پکڑ کے بیچ رہے تھے. میں آگے چلتا گیا. دو ایک اور لڑکے سے لئے. زدہ دور جا کے پانی کے قریب بیٹھ گیا اور خود کو ٹوکری میں کیکروں کو دیکھنے لگا. میں نے کیا غور کیا کہ اگر کوئی کیکڑا ٹوکری میں سے نکلنا چاہتا ہے تو ٹوکری کی دیوار سے اوپر چڑھنے لگتا تو دوسرا کیکڑا اس کو کھینچ کر نیچے گرا دیتا. بار بار یہی تماشا ہوتا رہا. میں سوچتا ہوں کہ یہ سب کیا ہے.ہم  انسان ان کیکڑوں کی طرح ہی تو ہیں.ہر وقت کسی نہ کسی کی ٹانگ کھینچ کر خود کا رستہ بناتے ہیں. ہم بد تر ہیں ہم تو کسی کی لاش پر چڑھ کر بھی راستہ بناتے ہیں. اس پار اترنے کے لئے ہم کسی بڑے سے بڑے گناہ سے بھی گریز نہیں کرتے. ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے کیکڑے بنیں کہ ٹوکری میں قید کیکڑوں کو چھڑا لیں. باہر کھڑے ہوں سیڑھی لگا کر. کمند ڈالیں ٹوکری میں اور ایک ایک کر کے سب بھائی کیکڑوں کو بچا لیں. نہیں وہ نہیں بچا پاتے، کیکڑے جو ہیں، وہ تو کمند نہیں ڈال سکتے. ان سے میں نے کیا سیکھا؟ کسی ابھرتے کے راستے میں  نہیں آنا. کوئی ترقی یا آزادی کے راستے میں کوسش کر رہا ہو تو اس کی راہ آسان کرنی ہے.ٹانگ نہیں کھینچنی. راستہ نہیں کھوٹا کرنا، راستے میں کانٹے نہیں اٹکانے.ہر کو اس کی قسمت کا ہی ملتا ہے. کسی کا راستہ کھوٹا کیا تو ہمارا بنا کام بھی ایک دن بگڑ جاے گا یقین کرو.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<

١ اکتوبر ٢٠١١، ہفتہ لاہور
کچھ کمی سی ہےایک مرتبہ کا ذکر ہے...........................

 کوئی زیادہ دور کی بات تو نہیں ہے مگر جتنی تبدیلی آ گئی ہے. مجھے آج بات کرتے ایسے ہی لگ رہا ہے کہ پریوں کی وہ کہانی جو نانیاں دادیاں سنایا کرتی تھیں میرے زمانے کی بات ہی نہیں. کسی ایسے زمانے کی بات ہے جو ہم سے بہت پہلے کا تھا. ہمارے تو کوئی نانی دادی تھی نہیں، ہاں  جب کہ میں چھوٹا تھا اور آتش جوان.ہماری اماں ہم کو خود کے قصے سناتی تھی. انڈیا سے وہ لوگ کیسے آے اور راستے میں کیا کیا ان کو بھگتنا پڑا. ہم صبح سے ہی رات کا انتظار کرتے کہ آگے کیا ہوا ہو گا. اب پتا پڑتا ہے کہ جہاں وہ جو بھی بتاتی ہم یقین کر لیتے. سبق بھی ہوتا اس میں اور آفاقی باتیں بھی. تصور کرتے کرتے ہم خوابوں کی دنیا میں چلے جاتے.آج میرا دل بھی کرتا ہے کوئی میرے قریب بیٹھے اور کہے سنائیں نہ، پھر کیا ہوا؟ رات کب آے گی. آپ کب فارغ ہو گے مجھے آج کی کہانی کب سناؤ گے. فون کر کے کوئی تو کہے آپ ابھی تک گهر کیوں نہیں آے، مجھے نیند آ رہی ہے، میری کہانی کا کیا ہو گا؟ ہمسایے میں بھی انتظار ہو رات کی بیٹھک کا اور قصہ کہانی کا. یہ سب. اور بہت کچھ اب قصہ کہانی ہوا چاہتا ہے. آپ کسی سے اب نہیں کہتے" اچھا بھائی ،ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ .............". ہماری ساری خوشیاں گویا کہ برباد ہو گئیں. کچھ ٹیلی وزن نے چھین لیں باقی کی کمپوٹر نے. بچی کچهی موبائل فون نے. میں ایسے تنہا ہو گیا جیسے میرا کوئی تھا ہی نہیں. سب تو ہیں. بس خود میں خود ہی مصروف. سلام کا بھی فون پہ پیغام آتا ہے.

گھر میں بیٹھے. بھرے گهر میں، کسی ملازم سے معلوم پڑتا ہے، کوئی کدھر چلا گیا کوئی کدھر سے آ گیا. آسان زندگی ہے، انسان انسان سے اتنا ہی بے پروا ہے 

جتنا وہ اس بات سے ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے. اڑتا پھرتا ہے. نہ کسی کے لئے وقت ہے نہ ہی خود کے لئے. خوش هونے کی اداکاری کر کر کے اب ہی تھکا نہیں مگر وہ آنے کو ہے. آے گا تو کیا ہو گا. جو ہم سے ہمارے چھوٹوں نے نہیں پایا وہ خود کے چھوٹوں کو کیسے دیں گے واپس آے بھی تو دیر ہی ہو جاے گی. ہم ہوں گے جو نہیں، کوئی ہم سا بھی نہ ہو گا. سننے سنانے والا تو کوئی ہے نہیں میں اس لئے کچھ لکھ کے چھوڑ رہا ہوں، شائد کوئی میرے صفحے گردانے تو اسے کچھ مل جاے.

کمپیوٹر کبھی کسی کو میرے کاغذوں کی طرف آنے دے گا کیا. اور اگر کوئی آیا تو یہ جان سکے گا کہ میں کس كرب میں یہ سب لکھتا رہا اور کس کے لئے. یہ سب کس بات کا نتیجہ ہے. اگر میرے پاس کوئی بیٹھتا اور میری بات سنتا تو میں نہ ہی لکھتا. وہ میری ُجھریوں سے بھی سیکھتا اور میری چمکتی لٹوں سے بھی. یہی نہیں اور بھی. لفظوں کا مطلب. جملوں کا. میری حیران آنکھوں میں سپنے پڑھتا، کبھی میرے آنسو پونچھتا. کبھی ہم مل کہ قہقہہ لگاتے، کبھی گلے لگتے. میں ہاتھ پھیلاتا تو کئی میری آغوش میں آ جاتے ٹھنڈ پاتے اور میں سکون. یہ کاغذ کا ٹکرا میرے دل کی دھڑکن بتاتا ہے کیا، گزرا وقت لاتا ہے کیا. کتاب سے کوئی آنسو نہیں پونچھ سکتا. کتاب کسی بے چین کو گلے نہیں لگا سکتی. کسی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھتی کہ تسلی ہو.

ہم کبھی اماں کی گود میں لیٹتے تھے، کبھی اس کے پیر دباتے تھے. کبی سر درد ہوتا وہ کہتی جاؤ سو جاؤ آج کوئی کہانی نہیں. تو کبھی ہم دوا لاتے کبھی سر دباتے. ہر شرارت پہ سننا پڑتا. رات آنے دو ایسے ہی سونا بغیر کچھ کہے سنے. اتنی دھمکی کافی تھی سیدھا ُتک کرنے کے لئے. یہی اماں ایک دودھ کا گلاس  پلانے کے لئے گھنٹہ گھنٹہ بھر ہم کو بہلاتی رہتی. کبھی کہتی تو ریس میں اول کیسے آے گا اگر  دودھ نہ پیا تو، کبھی کہتی دودھ کے بغیر پڑھائی نہیں ہو گی، بڑا آدمی نہیں بننا کیا. ہم  شرارت کر کے امی کے ڈر سے اماں کے پیچھے ہی چھپ جاتے  ہمیشہ. کسی دوست کے گهر جانے کی اجازت اماں ہی لے کے دیتی. یاد ہے، اگر کسی کی سالگرہ سے آ کر اماں کہتی کہ ان کا گھرانہ صحیح نہیں تو بس دوستی ووستی ختم.اب ساتھ نام کی کوئی شے نہیں، اماں نام کی کوئی مخلوق نہیں بنتی الله کے ہاں. ان کی ضرورت جو نہیں رہی. روز دوست بدلتے ہیں بچے بھی بڑے بھی. روز کام کاج بدلتے ہیں والد صاحب اور ماں جی بچوں کے اسکول. گھر کے ملازم تو آے دن، ایک گیا اور دوسرا آیا. کوئی نہ گهر کو خود کا گهر جانتا ہے اور نہ ہی مالکان ملازم کو ہی انسان جانتے ہیں. دونوں طرف ہی ایسا ہے. کہیں کوئی اعتماد بنتا ہی نہیں. نوکر کہہ کر بلایا جاتا ہے.الفاظ ایسے کہ ہمارے کان گرم هونے لگتے ہیں، جب کوئی کہتا ہے "یہ لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں". ہمارا کام کرنے والے، مددگار ہوتے ہیں، انسان ہوتے ہیں ہمارے جیسے کوئی اور مخلوق نہیں ہوتے.

ملازمین کی بات تو الگ ہے آج تو ہمیں معلوم پڑا ہے کہ سب سے پیارے رشتے، یعنی کہ ہم بزرگ کہیں اور کی مخلوق ہیں. نوجوان ہمارے ساتھ نہیں بیٹھتے. ہمارے خود کے بچے. تو پوتے نواسے کہاں بیٹھیں گے. دل چاہتا ہے سب سے کوئی پرانی گزری بات کروں، خود کے بچپن کی بات. مگر کوئی سننے والا نہیں ہے. پرانے زمانے کی کہانیاں اگر کمپٹور میں ہوں تو سب پڑھتے ہیں. ہم بتانا چاہیں تو کوئی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھتا. مشین ہاتھ میں پکڑے پکڑے سب لوہا محسوس کرنے والے ہو گئے ہیں. انسان کے لمس کی کسی کو نہ ہی ضرورت ہے نہ پروا. اور بزرگوں کو تو کوئی خاطر میں نہیں لاتا.

گزرے زمانے میں ایسا تو ہوتا ہی تھا کہ بچے آ جاتے، تیل لگا دیں. گود میں لیٹا لیں. کوئی شے ٹوٹ جاے تو ڈانٹ سے بچا لیں. کوئی کہتا آپ کے ساتھ سو جائیں ڈر لگ رہا ہے. کوئی کہتا کام یاد نہیں ہو رہا آپ سن لیں سمجھا دیں. جب ماں باپ سو جاتے تو بچے بڑوں کے کمرے میں آ جاتے کہ نیند نہیں آ رہی آپ کوئی بات سناؤ. خود کے زمانے کا کوئی قصہ کوئی واقعہ بتاؤ. کیا کرتے تھے. کیا کھاتے تھے. کیسے اسکول جاتے تھے. خرچی کیا ملتی تھی. ٹی وی نہیں تھا تو شام کیسے گزرتے تھے. وغیرہ وغیرہ. اب ایسا کچھ نہیں رہا.

بچے ایسے بنا دیے ہیں کہ ماں باپ گهر ہوں نہ ہوں نہ ان کی کوئی فکر نہ ہی ماں باپ کو کوئی چنتا کہ کھانا کیسے کھائیں گے. کب گهر آئیں گے. کس کے ساتھ گئے ہیں. ہر انسان خود میں مگن ہے، اور وقت گزرتا جا رہا ہے. اگر ہم بول پڑیں تو ہماری شامت کہ آپ کو کیا معلوم آپ جائیں الله کو یاد کریں. ہم تو یاد کر ہی رہیں ہیں، جن کو بھولا ہے ان کو کون یاد دلاۓ گا کہ وہی اُن کا بھی خدا ہے. نہ ہی ان کو اس وقت یاد ہے اور جہاں رلتے پھرتے ہیں وہاں بتانے والا بھی کوئی نہیں. ہمارا تو جیسے وجود ہی نہیں ہے. کوئی ُپرسانِ حال نہیں. کچھ کمی سی ہے مگر ان کو احساس نہیں.

                                  اچھا!تو...............

سنو میں کیا کہ رہا تھا

ایک مرتبہ کا ذکر ہے. دن ڈھلنا شروع ہوا، ڈھلتا ہی گیا. میں چلتا گیا، چلتا ہی گیا..................

>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

اکتوبر ٣  ، ٢٠١١ سنڈے رات ٢٣٠    .لاہور

کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوہِ حیات

قصہ ہی کچھ یوں ہے کہ قصہ یوں ہے ہی نہیں. سب وہیں کا وہیں کھڑا ہے. میں ہی چلتا چلتا آگے چلا گیا. جب پیچھے مڑُ کر دیکھا تو جو چھوڑ آیا تھا. وہ تو وہیں کھڑا تھا بس مجھے وہی سب نیا لگ رہا تھا.  الگ سا. ادھورا سا. کیا کریں کدھر جائیں، سب کچھ ہر کے برابر نہیں ہوتا. کچھ کھونا کچھ پانا. کچھ پانا کچھ کھونا. یہی ہے زندگی.  کوئی کچھ کے پیچھے لگا ہے. کوئی کسی کے پیچھے اور کوئی تو کسی کے آگے. کوئی دولت کے پیچھے اور دولت کسی سے کوسوں دور. ایک ایسی عمر آتی ہے ہر انسان پر کہ وہ جان جاتا ہے، کیا ہو رہا ہے. جینا کہاں جا رہا، زندگی کہاں کھڑی ہے اور صحت کہاں. یہ تو معلوم نہیں پڑا کہ سانس کہاں سے آ رہی ہے.کہاں جا رہی ہے. ہوا کا منبع کیا ہے. کدھر سے آتی جاتی ہے. حضرت سلیمان کے تابع تھی، کبھی ادھر کی ہو جاتی تھی کبھی ادھر کی. اس کا بٹن کہاں ہے؟رب نے ان پر عیاں کیا ہو گا! 

زندگی کی کسی بھی تار کا سرُ کہاں ہے کچھ سجای نہیں دیتا. الله ہے،اس کا تو ہم کو سہارا ہے، وہی تو ہے. سوال اور بھی بہت ہیں. کوئی کہاں سے آتا ہے کہاں جاتا ہے. انسان ہو کہ پتھر. چاند اٹکا کھڑا ہے.سورج لٹکا کھڑا ہے. آسمان تنا ہے زمین بچھی ہے.معلوم ہے، قرآن کہتا ہے اب تو سائنس بھی کہتی ہے، پر میں سائنس کے علاوہ بھی سوچتا ہوں. کہیں متشابہات میں سے بھی شائد . کیا کروں؟ دل الله الله کرتا ہے. دماغ پھر بھی کبھی کوئی سوال کرتا ہے کبھی کوئی . میں دل کا ساتھ نہ ہی دوں تو . دماغ کو بند کر دوں تو . کوئی پرسانِ حال نہیں ہے. میں خود ہی جھنجلا جاتا ہوں. زندگی کیا ہے . جینا کن سوالوں کا جواب ہے. ایک کہتا ہے آزمائش ہے. ایک سزا. ایک کہتا ہے عیاشی ایک کہتا ہے عبادت. ایسے ہی میں کبھی کسی تجربہ سے گزرتا ہوں کبھی کسی سے.

ناچ کر بھی دیکھ لیا نچوا کہ بھی. پی کے بھی بہک لیا. بھوک سے سہک کہ بھی. دل لگا کے بھی خوابوں کی نگری بسا لی. دل اٹھا کہ بھی جنگل میں کٹیا بنا لی. کہیں کوئی چین نام کی شے نہیں. جتنا دنیا میں گھستے جاو، گھسٹتے ہی جاو، وہ آگے آگے بھاگتی ہے تم دمُ ہلاتے کتے کی طرح پیچھے پیچھے. خلقت دھتکارتی جاتی ہے اور تم اور چپکتے جاتے ہو. ایک دن صرف دنیا کے ہو جاتے ہو. باقی سب دھندلا دیکھتا ہے. کپڑے جھار کے اٹھا تو جنگل کا رخ کیا. کچھ دن وہاں ڈیرہ لگایا. درختوں سے باتیں کیں. پتوں کی سرسراہٹ سے دل لگایا. وہاں شیر چیتوں نے اپنا نہ ہی بنایا تو یاد آیا میں جنگل کی مخلوق نہیں ہوں. گرتا پڑتا واپس دنیا کو آیا. اب دنیا ویسی نہ رہی تھی. میں بھی کہاں ویسا رہا.

واپس وہیں کھڑا ہوں جہاں رہنا میرے اندر لکھ کر ڈالا گیا.میں نے ہر سو دیکھا، ہر ڈگر چھانی، بڑے دھکے کھاے، لکھا پڑھا، بابوں کو ملتے ملتے خود بابا ہو گیا، مگر مجھے کچھ نہ ملا. ملنا بھی کیوں تھا. لوگوں کے پاس جو میرے لئے ہے، وہ اس کے بعد ہے کہ میں نے خود کے ساتھ کیا کیا. خود کو کس مقام پر پہنچایا ہے. الله اسی راستے پہ انسان کی مدد کرتا ہے جس کی انسان نے کوشش کی ہو. میں اگر زندگی کو دنیا جانتا ہوں تو دنیا ملے گی. اگر آخرت رخی زندگی مانگتا ہوں تو دنیا تو ملے گی ہی. اِس لئے کہ الله نے دنیا میرے لئے بنائی ہے. اس فکر پہ مجھے آخرت میں الله کی رضا بھی ملے گی. ہر جلوہِ حیات اس لئے ہی بے ثبات ہے کہ میں ثبات کہاں سے چاہتا ہوں اور کیا چاہتا ہوں. 

ثبات کیا ہے؟ ثبات کے ہجے یا معنی نہیں بتانے پوچھنے. حیات کے حوالے سے ثبات کیا ہے الله کے حوالے سے، رجوع اور آخرت کے حوالے 

معلوم ہے کہ دنیا، کی کائنات کی ہر شے فانی ہے بے ثبات ہے، مگر! اس بے ثبات حیات کو میں کیسے نتیجہ خيز بنا سکتا ہوں یوم الدین کے لئے. تو معلوم پرا کہ قصہ وہ ہے نہیں جو ہم ڈال كر کھڑے ہیں. مظبوط ہڈ قد اور سفید سر کے ساتھ کھڑے سوچتے ہیں کیا کریں کدھر جائیں. یہ سب اس لئے سوچنا پڑتا ہے کہ ہم بہت آ جاتے ہیں. آنکھ کھلتے ہی احکامات کا، اور دنیا کی بے ثباتی کا سبق پڑھا ہو تو متعدد راستوں پر میں نہ ہی کھڑا ہووں. آج بھی وہی حال ہے پندرہ سو سال پہلے والا. اب کیا کروں کیسے عادت چھوڑوں اور کیسے عیاشی. جب زندگی کی آنکھ بند هونے والی ہے تو خیال آیا کہ میں مکڑی کے جالے کو خود کا سب سے مضبوط گهر سمجھ بیٹھا. اب بے ثباتی کے سمندر میں ڈوبا کھڑا کہاں جاوں. اب زندگی مستقبل کا صیغہ ہوا چاہتی ہے.

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>

اکتوبر ١٤ ،جمہ ٢٠١١ لاہور 

"جاسن گرزگیے تچلوے"
جازی آج پورے چوبیس برس کا ہے. خود کے سب کام خود ہی کرتا ہے. ہونہار نوجوان ہے. میرا اکلوتا بیٹا. پیدا ہوا تو اس قدر حسین کہ ہسپتال میں دھوم مچ گئی. کوئی شہزادہ آ بیٹھا ہو آسمان سے میری گود میں. گورا چٹا،ایسے جیسے تازہ دودھ ابھی دوہ کے رکھا ہو، گرم اور شفاف. نظر نہ ہٹے. سنہرے گھنگریالے بال، جیسے سورج کی کرنوں کو ہی بل دے ڈالا ہو. بڑی بڑی نیلی آنکھیں، ابھی سے ڈھیروں کہانیاں کہ رہی تھیں. شائد جنت کے قصے اس کو یاد تھے. ابھی جو الله کے ہاں سے آیا تھا. وہاں کے منظر آنکھوں میں عیاں، جھاتیاں مار رہے تھے. ُاس پہ لمبی پلکیں گویا ان سب مناظر کو چھپانے کے لئے الله نے ننھے فرشتے کو لگا دی تھیں.نام تو اس ُحسن کے ٹکڑے کا جاذب نظر رکھنا چاہئے تھا، اس لئے میں اس کو جازی کہنے لگی. نام رکھا جہانزیب. یہ چاند کا ٹکرا الله نے مجھے دیا. میں تو گویا نہال تھی. کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ رہی. آنکھ اس سے ہٹتی نہ تھی. دل ہی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی کہے میں جازی کو اٹھا لوں. میں کبھی بہانہ لگا دوں کہ دودھ کا وقت ہے. کبھی کہ نیند ائی ہے. کبھی نہانے کا وقت ہے. گو کہ میں نے اس کو خود سے چپکا لیا. اتنا اصیل کہ رونا نام کو نہیں. مسکراتا بچہ. دن گزرتے گئے. جازی مجھے میرے بدن کا حصہ لگنے لگا. الگ کیا نہ جاتا تھا. ایسے تو لگتا ہے چوبیس سال کو پر لگ گۓ. کیسے میں نے گزارے پل پل گویا دل جگر میں قید ہے. جازی چھ ماہ کا ہوا. ایسا پیارا کہ کہیں لیجاتے ڈر لگے. ذرا باہر نکلو تو لوگوں کی بھیڑ. ابھی بھی یاد ہے مجھ کو منظر جب میں اس کو پہلی مرتبہ ڈاکٹر  پہ لے کے گئی. چھ ماہ کا بچہ گویا اس کا ہر نقش بولتا تھا. گپوُ پیارا.کمبل میں چھپاے نہ چھپے. الله الله کر کہ ہماری باری ائی. میں تو اٹھلاتی ہوئی اندر گئی. اس حسن کے ٹکڑے کی مالک جو تھی. آرام سے بیٹھی. ڈاکٹر سے کہا جازی کو بخار ہے. اس نے کہا بستر پر لیتا دو. کہنے لگا ماشاالله کیا حسین بچہ ہے الله نظر بد سے بچاۓ. اور جب قریب آیا میں پرے ہٹ کھڑی ہوئی. وہ بچے کے قریب ہوا. اور قریب. اور پھر جلدی سے دور ہٹ کھڑا ہوا.ڈاکٹر کا مسکراتا چہرہ اب سپاٹ تھا. اس کے لاکھ چاہنے پر بھی وہ اطمینان ظاہر نہ کر پا رہا تھا. آرام سے پیچھے آیا اور خود کی کرسی پر بیٹھ گیا. میں نے جازی کو بستر سے اٹھا لیا. ڈاکٹر نے آرام سے بخار کی دوا لکھی اور نسخہ مجھے تھماتے ہوے بولا، آپ کے ساتھ کوئی ہے. میں بولی نہیں میں ہی ہوں اکیلی اس بچے کی ماں. مغرب میں باپ کا تو کوئی پوچھتا نہیں. باہر حال. اس نے پوچھا گهر میں اور کون کون رہتا ہے. میں بولی کوئی نہیں. بچے کی پیدائش پر جو لوگ آے تھے چلے گئے تھے چند دن بعد. میں نے کام سے چھ ماہ کی ُچھٹی لے رکھی ہے. کچھ دن میں مجھے واپس کام پہ جانا ہے اور جازی کے لئے کام والی کا انتظام ہو گیا ہے. میں نے کام ہلکا کر دیا ہے.چار گھنٹے جانا ہو گا اور پانچ دن ہفتہ میں. آسان ہو گا.میں چُپ ہوئی. اب اس کی باری تھی. اس عرصہ میں شائد وہ بات کرنے کے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا. وہ ُاٹھ کر بیٹھا  ُچست ہو کر. بولا، آپ میری بات دھیان سے سنو  ، آپ کا بچہ کوئی عام بچہ نہیں ہے. میں مسکرا کر بولی معلوم ہے. یہ بہت حسین ہے. وہ کچھ دیر نہیں بولا. پھر کہا، کیا یہ کھیلتا ہے، چیختا ہے. ہاتھ پاؤں مارتا ہے، میں بولی نہیں،یہ بہت آرام والا ہے. وہ بولا آپ کو کبھی نہیں لگا کہ زیادہ ہی آرام والا ہے. میں نے کہا، یہ بات تو تعریف کے کابل ہے. سب لوگ یہی کہتے ہیں. میں اس پہ بہت خوش ہوں. ڈاکٹر اب مضبوط اور ذرا سخت لہجہ میں بولا. آپ کو بہت پہلے بچہ ڈاکٹر کے پاس لانا چاہئے تھا. میرے تو گویا پاؤں تلے زمین کھسک گئی. میں گھبرا کہ بولی، کیا ہوا. ڈاکٹر کا غصہ اب تھوڑا کم تھا. لہجہ نرم. وہ بولا آپ کا بچہ اوٹسٹک ہے. مجھے کیا معلوم یہ کیا کہہ رہا ہے.دیر تک وہ کچھ سمجھاتا رہا میں معلوم نہیں کہاں تھی. وہ اب میرے قریب کرسی کر کے بیٹھ گیا. میری طرف دیکھ کر بات کرنا شروع کی. ہر تھوڑی دیر کے بعد قلم سے میز بجاتا تاکہ معلوم پڑے کہ میں اس کی بات سمجھ رہی ہوں. میں سنتی رہی، آنسو پونچھتی رہی. وہ ٹشو نکال نکال کہ دیتا رہا. مجھے ڈاکٹر کے پاس بیٹھے ایک گھنٹہ ہو چلا تھا. وہ بغیر گھبراے کہ باہر لوگ انتظار کر رہے ہیں. مجھے بہلانے اور سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا. میں بار بار کسی گھاٹی میں گم ہو جاتی اور ُسم ہو جاتی. اب میں کچھ سمبھلنے لگی تو اس نے مجھے بچے کے لئے ورزشوں اور دوائیوں کا بتایا. کہا کہ طبیعت ٹھیک ہونے پر یہ سب شروع کرنا ہے ابھی بچے کو پریشان نہیں کرنا. یہ بھی بولا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں جب اپ اسے ورزش اور تھراپی کی جگہہ لے کر جاؤ گی تو دیکھو گی کہ وہاں سینکڑوں بچے آ جا رہے ہیں. باقی آپ کو جب بھی مجھ سے بات کرنی ہو یہ میرا مبائل نمبر ہے. میں جازی کو سینے سے لگاۓ کمرے سے باہر نکلی. راستے میں جو بھی ملتا جازی کو پیار کرتا، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا. میں خود کی کار تک پہنچ گئی. جازی کو کار سیٹ میں ڈالا، وہ آرام سے ڈل گیا. میں نے دیکھا وہ ویسا ہی تھا. چٹا گورا پیارا، بولتی آنکھوں والا. میں وہ نہیں تھی جو گھنٹہ پہلے اٹھلاتی جا رہی تھی. اب میں خاموش اور ویران سی ہو گئی تھی. یہ صرف مجھے معلوم تھا جازی کو نہیں. اب کیا ہو گا، زندی کیسے آگے چلے گی؟ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا. میں کار دھیان سے ہی چلا رہی تھی. بار بار شیشے میں جازی کو دیکھ لیتی تھی. وہ آرام سے بیٹھا تھا. ہمیشہ کی طرح. راستے میں رک کر ہم نے بخار کی دوائی لی اور گھر پہنچ گئے.گاڑی گراج میں کھڑی کی، جازی کو لے کر میں نے گھر کا دروازہ کھولنا چاہا. وہی چابی تھی اس گھر کی تب سے جب میں لندن پڑھنے ائی تھی یعنی بیس سال پہلے. اب یہ گھر میری ملکیت ہو چکا تھا. چابی تھی کہ گھوم ہی نہیں رہی تھی. میں نے خود کو جھٹکا دیا. جازی کے دودھ کا وقت ہو گیا ہے.پورے دھیان اور پورے وجود کو اکھٹا کیا اور آخری مرتبہ چابی لگائی. دروازہ کھل گیا.جلدی سے میں نے فرج میں سے دودھ نکالا، جازی کو بوتل میں ڈال کے پکڑایا، وہ پیتا پیتا سو گیا. اب یہ سارا وقت میرا تھا. میرا نہیں میرے اندر باہر جازی کا. اور یہ وقت نہیں اب تو زندگی جازی کے لئے ہی ہے. کہاں کی اس کے سکول کی پلاننگ اور کہاں کا سہرا. کونسی دلہن اور کونسی اس کی کمائی پہ میری آرام کی زندگی. ایک ڈاکٹر تک آنے اور جانے کے وقت میں سب کچھ ِادھر کا ُادھر ہو گیا تھا. سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی سوچنا کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر رک جاؤں. سوچ سوچ کر دماغ پلپلا ہو گیا تو سوچا کہ شائد ٹھنڈا پانی سر پر ڈالوں. کافی بناوں. جان میں جان اے گی تو کچھ مثبت سوچ بھی دماغ کو سوجھے گی. جو پڑی ہے نبھانا تو ہو گی. میرا کون ہے کہ  دکھ  بانٹے یا کاندھے پر ہاتھ رکھے. میں نے یوں ہی کیا. ٹھنڈے پانی نے اور پھر گرم کافی نے سچ میں فائدہ  کیا ، اور میں سوچنے کے کابل ہو گئی. مجھے آج بھی یاد ہے.بہادر انسان کی طرح میں نے کمر کس لی. جازی کے لئے ایک الگ ماں کا جنم ہوا. دن گزرتے گئے. پانچ سال کی عمر میں رازی کچھ کچھ اشارے سمجھنے لگا. دس سال کی عمر میں وہ چلنے لگا. اسے خود کے کمرے کا راستہ اب یاد ہوا. کوئی کوئی لفظ بول بھی لیتا تھا. اکثر خاموش رہتا. مجھے اب عادت سی ہو گئی تھی اس سب کی. بہت سے ماؤں سے بھی دوستی ہو گئی تھی، روز سنٹر جاتے کتنے سال بیت گئے تھے. جازی بہت عقلمند تھا. اب وہ سائیکل چلاتا تھا سنٹر کے اندر ہی سڑک پہ بھی اور آہستہ آہستہ سنٹر سائیکل پر جانے لگا تھا میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی. یعنی اس کو راستہ یاد تھا. میں یہ بھی دیکھ رہی تھی کہ جازی کو تیز چلنے کا اور دوڑنے کا بہت شوق تھا. بہت تیز دوڑتا تھا. اس کو گھر کے اندر نہیں باہر رہنے کا شوق تھا. جب بھی سنٹر میں دوڑوں کا مقابلہ ہوا جازی اول ہی آیا. وہ بہت خوش ہوتا اور میں بھی. ایک دن اس کے استاذ نے کہا ہم چاہتے ہیں یہ محلہ کے بچوں کے ساتھ دوڑے. میں نہیں مانی کہ اگر اول نہ آیا تو اس کا دل ٹوٹ جاے گا اور اس کو کون سمجھاے گا کہ تم نارمل بچوں جیسے نہ ہو.استاذ نے مجھ سے پوچھے بنا ہی جازی سے دوڑ میں حصہ لینے کی بات کر لی اور منا بھی لیا. جب میں اگلے دن جازی کو سنٹر سے لینے گئی تو وہ مجھے کھینچتا ہوا آفس کی طرف لے گیا. میں اشاروں سے پوچھتی رہی کہ کیا بات ہے؟ مگر وہ مجھے کھینچتا رہا. آفس پہنچے تو اس کے استاذ کھڑے کچھ کاغز دیکھ رہے تھے. ہمیں دروزے پر دیکھ کر مسکراۓ اور کاغز چھوڑ کر ہم کو بیٹھنے کو کہا. جازی تو کھڑا رہا میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی. وہ بہت خوش نظر آ رہا تھا. میں نے پوچھا کیا بات ہے، آپ نے مجھے یاد کیا. وہ بولے، جازی محلہ کی دور میں حصہ لے گا. اس کی تیاری مکمل ہے. میں دونوں کو خوش دیکھ کر کچھ نہ کہہ سکی. مگر بہت فکر لگا. اگلے ہفتہ دوڑ تھی. ہمارا محلہ لندن میں آبادی کے لحاظ  سے سب سے بڑا تھا. بہت لوگ ہوں گے دیکھنے والے، پریشان کرنے والے. میرا بچا در جاے گا زندگی بھر کے لئے. وقت کہاں رکتا ہے، مقابلے کا دن بھی آ گیا. میں دھڑکتے دل کے ساتھ تیار ہوئی اور جا کر تماشایوں میں بیٹھ گئی. ایک سے ایک تندرست بچہ اور نوجوان، مگر سب، پندھراں  اور سولہ سال کے یعنی کہ جازی کے ہم عمر. خیر میری پریشان سوچیں چلتی رہیں اور دوڑ شروع ہوئی. میں تو آنکھیں بند کئے سر نیچے کر کے بیٹھ گی کبوتر کی طرح. دل کہہ رہا تھا کچھ نہیں هونے والا، بس جلدی وقت گزر جاے. بہت شور تھا. سب خود کے بچوں کو حوصلہ دے رہے تھے. جازی سب سے الگ تھا. مقابلے کے بچے اس کو کوئی خاص پسند نہیں کر رہے تھے. مگر جازی  کو یہ بات نہیں ُچھوتی تھی شکر ہے. وہ خوشی میں یہاں وہاں، تھوڑا ہی ںا دیکھ رہا تھا. کوئی بیس منٹ ہویے یا پچیس. شور تھم سا گیا. میں نے سر اٹھایا. حصہ لینے والے بچوں کے پاس بہت بھیڑ لگی تھی. میں بھی رستہ مانگتی نیچے اتری. جازی تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگی جہاں بچوں کے گرد بھیڑ تھی. مجھے فکر ہوئی کہیں جازی کو چوٹ نہ لگ گئی ہو. اتنے میں رش چھٹ گیا. اعلان هونے والا تھا. میں سخت پریشان تھی کہ جازی کتنا دل برداشتہ ہو گا. جلدی سے اس کو جا ملوں اور دھیان بانٹوں. میری نظریں جازی کو ڈھونڈ رہی تھیں. سامنے گراؤنڈ میں نظر گئی تو ماسٹر جازی خود کے استاذ اور بہت سے لوگوں کے درمیان تصویریں اتروا . اتنےرہا تھا. اتنے میں اعلان بھی ہوا. جازی دوڑ جیت چکا تھا. میرے رونگٹے کھڑے هونے لگے. یہ کیسے ہو سکتا ہے. نہیں نہیں میں نے غلط سنا. کہتے کہتے میں جازی تک پھنچنے میں کامیاب ہو گئی. کیا دیکھتی ہوں ،اس کا چہرہ خوشی سے لال ہو رہا تھا. ُادھر کوچ کا قد اونچا اور سینہ تنا ہوا. وہ فخر سے اعلان سن کر تالیاں بجا بجا کہ گویا دیوانہ ہوا جاتا تھا. کبھی جازی کو گلے لگاتا تھا. کبھی لگتا تھا اس کی نظریں مجھے ڈھونڈتی ہیں. میں قریب گئی تو اس نے جوش میں مجھے بھی گلے لگا لیا.میرے آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے. میں نے بھی بڑھ کہ جازی کو خوب پیار کیا. وہ آج کا ہیرو تھا. بہت پر وقار بہت پر امید چہرہ لئے ہویے تھا. اس کی تصویریں اتر رہی تھیں. "رازی ویل ڈن" کی آوازیں تھیں سارے سٹیڈیم میں. یاد گار دن ہے، میں نے خود سے کہا، کب ایسا سوچا تھا. الله بہت بڑا ہے دل نے کئی مرتبہ کہا. میں تو نہال ہی ہو گئی. اگلے دن سنٹر میں بھی تقریب ہوئی. سب بچوں کو کوچ نے خوب ساری باتیں بتائیں اورخود کی دل کی حالت بھی. کوچ نے کہا "میں نے جازی کی ماں سے کہہ تو دیا تھا مقابلے کا. اب میں خود میں ہی تشویشناک تھا کہ کیا ہو گا . ُپر امید بھی تھا، ڈرا ہوا بھی تھا. مگر سب اچھا ہوا. آئندہ بھی اچھا ہو گا."اس بات کو بھی آج نو سال اور ہویے. اس عرصہ میں کئی مقابلے آے اور جازی نے جیتے. اب میں اور بھی ڈرنے لگی تھی. جازی کو ہار کے احساس کا معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہوتا ہے. کیسا محسوس ہوتا ہے اگر کوئی اور جیت جاے. کیا کوئی اور بھی جیت سکتا ہے جازی نے کبھی خود سے سوال نہیں کیا تھا.یہ بہت ڈر کی بات تھی میرے لئے. وقت گزرتا گیا. اب بیتے چار سال سے جازی  کی خود کی الگ کار ہے. وہ اس ہی پہ سنٹر جاتا ہے. مناسب لکھنے پڑھنے لگا ہے. خود کا نام لکھ لیتا ہے. پڑھ لیتا ہے. میں اس کے لئے بہت خوش ہوں. اور بہت کچھ کر لیتا ہے. اس کو دوڑ لگانے کا جنوں ہے. خود کے ٹارگٹ سے آگے جا کربہت خوش ہوتا ہے. گزرے ایک سال سے میں دیکھتی ہوں اس نے پوسٹر بنا کے لگایا ہے خود کے کمرے میں، ایک عدد چھوٹا بنا کر اس نے خود کی کار پہ بھی لگایا ہے."جاسن گرزگیے تچلوے" . یہ کیا ہے آخر میں نے بھی سوچ رکھا تھا کہ ضرور بنا کہ دم لوں گی اس نے کیا لکھا ہے. روز جوڑتی توڑتی مگر پھر ہار کہ چھوڑ دیتی. جازی  جب بھی اس پوسٹر کی طرف دیکھتا اس کا منہ سرخ ہو جاتا. جیسے کوئی راز ہے. کوئی پہیلی. میں بھی لگی رہی. آج جازی " میریتھون " دوڑنے کے لئے قطار میں کھڑا تھا. مجھ سے تو یہ منظر دیکھا نہیں جانا تھا. میں تیز تیز چلی گیٹ سے باہر بھاگی اور جازی کی کر کے پاس ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی. پہلے تو فکر کھاتی رہی کہ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا. کہاں چھوٹی چھوٹی دوڑ اور کہاں میریتھون. سوچتے سوچتے اور فکر کرتے ہوے کار کے پوسٹر پر نظر پڑی. میں جوڑ توڑ کرنے میں گم ہو گئی. گویا بھول گئی کہ کہاں ہوں،وقت کو پر لگ گئے. سوچتی رہی مجھے کیوں سمجھ نہیں آتا. اندر سے شور کی آواز آ رہی تھی برابر، میں ایسے تھی جیسے اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں. میں لفظ بنانے میں یوں گم تھی  جیسے کہ اندر کچھ ہو ہی نہیں رہا. میں تو یہاں ان الفاظ کو ڈھونڈنے ہی ائی ہوں. یہ کیا؟ اچانک میں نے لفظ جوڑ لئے لکھا تھا '" جو چلے تو جان سے گزر گے."'میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی. کہیں جازی دل برداشتہ ہو کر کوئی قدم نہ اٹھا لے. میں نے گراؤنڈ کے گیٹ کی طرف دوڑنا شروع کیا، دیکھے بغیر. اندھا دھن، مجھے کچھ سجائی نہ دے رہا تھا. یا الله خیر کرنا. اب شور دھیما ہوتا جا رہا تھا. یوں لگا دوڑ ختم ہو گئی. اب مجھ سے جازی کو دیکھا نہ جاے گا. دل کہے مجھے کوئی سہارا دے. میں کیسے دیکھوں گی جازی کو! اگر اس نے خود کو کچھ کر لیا ہو. میں رکی، سوچا کوچ خود ہی جازی کو ٹھنڈہ کر کے گهر لے آے گا. مجھ سے اب یہ نہیں سمبھلے گا مگر کوچ کو تو بتانا ہو گا.میں کبھی کچھ کبھی کچھ سوچتی گیٹ کی طرف چلی جا رہی تھی. گیٹ آ گیا میں اندر داخل ہوئی. کئی چہرے ِکھلے، کئی اداس دیکھے. رش کو چیرتی میں گرآؤند تک پہنچی. کوچ کی آنکھوں میں آنسو تھے. میرا تو دل بند هونے لگا. مجھ سے رہا ںا گیا اور میں اونچا اونچا رونے لگی. ذہن میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہو گا؟ مجھے کوچ پر بہت غصہ آ رہا تھا . اس نے میرے بیٹے کو دنیا کے سامنے ذلیل کیا ہے. بھلا کیا ضرورت تھی اس کو نارمل بچوں کے ساتھ کھڑا کر کہ نیچا دکھانے گی. میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ کوچ سمیت سب کا سر پھاڑ دوں.میں پسینہ میں ایسے شرابور تھی جیسے کہ میں نے دوڑ لگائی ہو.ہر قدم من بھر کا ہو گیا تھا. اٹھتا نہ تھا. پھر بھی مجھے تو آگے جانا تھا کہیں جازی کو کچھ ہو نہ جاۓ. لوگوں کو پرے ہٹاتی میں آگے بڑھ رہی تھی. رش تھا کہ الله کی پناہ. میں ُانچا ہو ہو کر جازی کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی تھی کہ کہیں کھڑا بیٹھا نظر آ جاے. ایک عورت اچانک آگے سے ہٹی تو میں نے دیکھا. میرا شہزادہ مسکرا رہا تھا، ایک ہاتھ میں کپ ایک میں میڈل.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

١٢ اکتوبر،٢٠١١. منگل، لاہور

 یہ صبح تمھاری ہے

ہم جو ایسے ہی انگڑائی لیتے لیتے بستر پر اٹھ بیٹھتے ہیں. کچھ انگڑائیاں لیتے ہیں اور پھر بستر سے اتر جاتے ہیں، کوئی چائے کی طرف بھاگتا ہے کوئی لسی کی طرف. چند گھونٹ گلے میں ُانڈیل کے، جیسے کہ ہوش آنے لگتا ہے. کوئی فکر تھوڑا ہی نہ ہے کہ نماز نکل گئی. یہ کوئی نئی بات تھوڑا ہی نا ہے جو آج ادھر دھیان جاۓ. ابھی تو بس یہ معلوم ہے کہ رات دیر ہو گئی تھی اور ابھی تک تھکان ہے. تو ایسا بھی ہے ،بلکہ ایسا ہی ہے. دین کونسا بھاگا جا رہا ہے. ارے بھائی صبح تو بھاگ ہی جاتی ہے، دور ، دور ، اور دور. اس کے دور جانے کا بھی کسی کو غم نہیں. کوئی نہ اس کی دوری محسوس کرتا ہے نہ ہی جدائی . ظاہر ہے جب کمی محسوس ہی نہیں ہو گی تو پانے کی جستجو کیسے ہو گی. نہیں ہو گی. اصل میں ہر روز جو اٹھتے ہی دیکھتے ہیں مانگے ِبنا ہی صبح ہو گئی اور بھلے اس سے اچھا نہ کرو. صبح دینے والے کا شکر نہ کرو، اس کو یاد نہ کرو وہ تو یاد کرتا ہے. روشن صبح دیتا ہے.

 یہی حال رہے گا تو کیسے معلوم پڑے گا کہ ُاجالا کس کے لئے ہوتا ہے ، دن کس کے لئے نکلتا ہے. صبح پو پھٹنے سے پہلے سجدہ کیوں کرنا ہے . دن کیسے شروع  کرنا ہے. یہ سب سوال دل میں بنتے ہیں .بنواۓ نہیں جا سکتے. آنکھ کھلتے ہی ہم نہ جانے کس نہ معلوم افراتفری کی جانب نکل پڑتے ہیں. اور پلک جھپکتے کہاں ُگم ہو جاتے ہیں. کوئی ہم سے الگ قسم کا انسان ہو تو بتاے کہ جو بھی ہو رہا ہے سب غلط ہے . پر کوئی بات نہیں . ہم کو خود کو اور ان سب کو ملا کے کام کرنا ہے. ان سب کو بتانا ہے وہ راز جس سے سب ہی ناواقف ہیں. وہ ہے اس بات کا احساس کہ یہ صبح ہماری ہے. یہ زندگی بھی ہماری ہے اور زندہ رہنے کی جنگ بھی. ہم کو ہر حق ہے کہ خود کو محفوظ رکھیں. ذہنی طور پر محفوظ محسوس کریں. مجھ سمیت ہمیں کوئی فکر نہیں کہ زمانہ کہاں جا رہا ہے. ملک کہاں جا رہا ہے اور ہماری سوچ کو کیا ہو گیا ہے. زنگ لگ گیا ہے ہر شے کو.خود کی آنکھ کھلتے ہی ہم معلوم نہیں. کوئی بات ہی نہیں ہے اگر زنگ لگ گیا ہے. اس کو نہیں رونا. زنگ اتارنا ہے. مجھے نہیں گمراہ ہونا کہ کچھ نہیں ہو سکتا. سب کچھ ہو سکتا ہے. امی مجھے کہتی تھیں اکیلا کوئی کچھ نہیں کر سکتا. وہ ڈرتی تھیں میرے لکھنے سے. میں ڈٹا رہا. دیکھو ہوا. ہوا اور ہو رہا ہے. لوگ آتے ہیں سنتے ہیں. ناکامیاں میرے گهر چھوڑ جاتے ہیں اور نئےعزم کے ساتھ واپس جاتے ہیں. میں ان کے جانے کے بعد ان کی ناکامیاں تنور میں ڈال کے روٹیاں پکاتا ہوں، مزے سے کھاتا ہوں. امید کی کرن ناامیدی کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی سب ماحول کو روشن کر دیتی ہے اور سب کے من کو بھی. دیکھو جی امید بھرے کو ہی نہ امیدی ملتی ہے. جس نے کوئی داؤ نہیں کھیلا اس کو کیا. وہ جلے یا کوئی اور. میں نے آنکھ کھولی تو کان میں آواز پڑی' اس قوم کا کچھ نہیں ہونے والا' یہی سنتے سنتے جوان ہوا. سنانے لگا، دیکھنے لگا اور سب سے پتے کی بات. سوچنے لگا. نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگا.آج میں سب کے سامنے ہوں. مجھے معلوم ہے میرا تو سب کچھ ہونے والا ہے. مجھ سے اور بہت سے ہیں جن کا سب کچھ هونے والا ہے. ہم کو معلوم ہو گئی ہے خود کی حقیقت. صبح کی روشنی کی بھی. ہر صبح میری ہے ،میرے وجود کی ہے. کوئی کون ہو جو مجھے ِنراش کرے. میرے رستے میں آے یا میرا دل میلا کرے. الله تعالی نے دن میرے کام کرنے کے لئے بنایا ہے. رات میرے آرام اور تفکر کے لئے. میں سب سے فائدہ اٹھاوں  گا. گھبرا کے کسی کے پاس نہیں جاوں گا. مجھے معلوم ہو گیا ہے. کرنے والا الله ہے. سہارا دینے والا اور تھامنے والا بھی وہی ہے. سب جانچ پڑتال، کھوج، ایجاد سب میرے لئے ہے میری آسانی کے لئے. مجھے کوئی کیوں کہے کہ اس قوم کا کچھ نہیں هونے والا. میرا تو سب کچھ هونے والا ہے اور میری قوم کا بھی. ابھی اندھیرا کھاتا چاہتا ہے، ُاجالا ہوا ہی چاہتا ہے. بس پو پھٹے کا انتظار ہے. پھر دم سادھے نہ رہ جاؤ تو بتانا. مجھ سے نئے راستے نئے انداز پوچھنے آنا ہو گا. نئی ُاڑآن، نئی پرواز، نئی ڈبکی نئی تری. نیا تجربہ نہیں نیا جذبہ نئی سبھا میری صبح تمہاری صبح. اٹھو جاگو،یہ صبح تمھاری ہے.

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>

٩ اتوار ،  اکتوبر ،٢٠١١، لاہور 

کیا زندگی کی حقیقت دراصل الف ہی ہے

  عجیب سی بات ابھی دماغ میں ائی ، اور آتی ہی جا رہی ہے . ویسے کوئی منطق ہے تو نہیں مگر آ رہی ہے تو اس پر بات بھی کر لیتے ہیں اور کھول بھی لیتے ہیں . کوئی گھمبیر سمسیہ تو ہے نہیں.  الف سے الله ہے، الف سے اسلام، الف سے احمدص، الف سے انسان. القران میں پہلی سورہ کا پہلا حرف الف سے الحمد. کیا  اس پہ سب کا اتفاق ہے؟ ہو سکتا ہے، نہیں بھی ہو سکتا. الف کو لوگوں نے سوچا بھی بہت، اس پہ لکھا بھی بہت. مسلمانوں نے ہی نہیں سب نے بہت بہت دھیان اس حرف پر لگایا. اس کی کیا وجہ ہے. کسی اور حرف پر اتنی توجہ نہیں دی گئی. علما ہوں یا صوفیا سب نے اس حرف کو معمہ بتا دیا ہے. جو اٹھتا ہے، اور ہی ماورائی باتیں کرنے لگتا ہے.
علما اور صوفیا کے بعد سائنس کی باری آتی ہے. سائنس حرفوں اور لفظوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا سائنس چھتیس یا سینتیس حروف سے الگ اور الف سے الگ برتاؤ کرتی ہے. کیا حروف کی کوئی سائنس ہے؟ دین کا کیا کہنا ہے اس میں. اور دل کیا کہتا ہے،دماغ کیا. ہمیں کیا اس میں پھنسنا چاہئے. اس کا کہیں کوئی فائدہ ہے. کیا حضور پاک کی کسی حدیث سے یہ کلام اللہ سے کہیں بھی معلوم پڑتا ہے کہ حروف کی کوئی حقیقت ہے؟ ہاں یہ تو سمجھ آتی ہے کہ الله کا کلام پرُاثر تو ہے مگر اس کا یہ مطلب تھوڑا ہی نہ ہے کہ اثر کو گدڑسنگی سمجھ لیا جاے. اور اس کے مفروضے نکالے جائیں اور اس کو حضور پاک کی احادیث بنا دیا جاے.میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کلام الله یا کلام رسول کی تاثیر نہیں ہے. وہ با اثر ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم تاثیر کو تار تار کر دیں. اس میں مطالب ڈال ڈال کے. آج کے حیرت انگیزعلوم دیکھ دیکھ کر  لگتا ہے یہ مقصود نہیں ہے کہ ہم دنیا کو کیا دے رہے ہیں. غلط یا ٹھیک. ہمارا مسلہ کچھ اور ہی ہے. کسی کو بھی کسی طریقہ سے پھسانے کے لئے ہم کوئی عجیب اور انوکھی بات کر ڈالتے ہیں. لوگوں کو سیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ مانو یہی صحیح ہے. حروف کی طاقت کا یہی مطلب ہے.ایسا ہے نہیں.
قرآن حضور پر آہستہ آہستہ نازل ہوا. قرآن کو سمجھنے کے فائدے پڑھنے سمجھنے والے ہی بتا سکتے ہیں. جو نہیں بھی جانتے، سن سن کر کہتے ہیں کہ قرآن یہ کہہ رہا ہے قرآن وہ کہہ رہا ہے. سب جانتے تو ہیں مناتے بھی ہیں تب ہی تو بیان کرتے ہیں. مگر عمل نہیں کرتے. تو جہاں تک قرآن کی بات ہے. اس کی آیات، سورتیں اور مقام ہی بات ہیں. وہ الله کا کلام ہے. ہم کو سارا قرآن پڑھ کر سمجھنے اور عمل کرنے کو کہا گیا ہے. کہا ہے خالق نے مالک نے. اس کا تاثیر سے، کام هونے سے، کامیابی هونے سے کوئی تعلق نہیں. الله کے کلام کو سمجھنا ہے جیسے کہ حکم کے. اور پکڑ کو یاد رکھنا ہے جیسے کہ ذکر ہے گزری اقوام کا. سو برکت ہوئی الله کو یاد رکھنے کی اور اس کے کلام کو اس کا کلام مان کر عمل کرنے کی. باقی سب فراڈ ہے. الله کا کلام، تعویز بنا کر نہ گردن میں لٹکانا ہے نہ ہی بھر کے کونوں میں دم کا پانی چھڑکنا ہے. الله ایک ہے. اس کا کوئی شریک نہیں. اس کا لفظ بھی اس ہی کا محتاج ہے. قرآن میں کچھ اٹل حقیقتوں کا ذکر ہے. ان سے سبق سیکھنا ہے. ان کا تعویز بنا کر دروازے پر نہیں لٹکانا کہ اس کی تاثیر سے کام ہو گا. کام تو کام کرنے سے ہی ہو گا. پھوکیں مارنے سے نہیں. چلے کاٹنے سے نہیں. حروف الله کی مرضی سے ہی وجود پزیر ہے. حضور سے نہیں معلوم پڑا کہ الف کی تختی لکھتے رہو، یا اس کے سحرمیں مبتلا ہو جاؤ، یا الف کے مطلب نکالو. جب سیدھا دین ہمارے پاس موجود ہے. جزا سزا، احکام، ممانعت دونوں لکھ دیے گئے ہیں تو یہاں وہاں کہاں جانا. 
کیا جس دعا یا کلام الله میں الف نه هو تو کیا وه الله کا کلام نہ ہے یا بااثر نہ ہو گا. الله کے کلام یعنی القران کے واقعات، کی تاثیر ہے کہ اپ عبرت پکڑیں، احکامات ہیں کہ عمل کریں. اس لے علاوہ اور کچھ نہیں کہا گیا.  پیسے کیسے بنائیں، میاں بیوی میں دوستی کیسے ہو، کاروبار کیسے چمکے. ان سب کاموں کے لئے تعویز کی ضرورت تو نہ ہے بس الله پر یقین کرنا ہے. اور الله سے مانگنا ہے. دعا وہ کسی بھی زبان میں سنتا ہے، زبان کے بغیر بھی سنتا ہے. ہمارے دل و دماغ میں بات آنے سے پہلے ہی جانتا ہے ہم کیا چنتے ہیں. ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے. وہ دیتا ہے جو وہ خود جانتا ہے کہ ہمارے لئے بہتر ہے. ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے. وہ جیسے چاہتا ہے کرتا ہے. ہم کو کسی ایسے علم کی کہانی الله کے کلام میں نہیں ڈالنی جس کا ہم ادراک نہیں گمان ہے. بس گمان اور اوہام پر مبنی ہے ہر کام.
اگر یقین محکم ہو کہ الله ہے. اور ہر کام وہی کرتا ہے تو خوامخواہ گھمن گھیریوں میں پڑنے کا فائدہ. الله ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں. اس کی رضا کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا. ہم جتنے حرفوں کے نمبر نکال لیں یا جوڑ جوڑ کے تاثیریں، کسی کام کی کوئی حقیقت نہیں. ہاں نتائج الله کی طرف سے نکلتے ہیں اور وہ لوگ ان گنتیوں میں ڈال دیتے ہیں جو ان نے خود کی ہوتی ہیں. الله ایسا هونے دیتا ہے تاکہ وہ خود کی گمراہی میں ایسا ِگھر جاے کہ نکل نہ ہی پاے. اگر آپ اب تک اس گروہ کا حصہ نہیں بنے تو دعا کریں کہ الله نہ ہی بناے. آمین

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<

٢٤  ستمبر،٢٠١١. سوموار  لاہور  ٢.٠٠ اے ایم

  کیسے جئیں

دنیا الله نے میرے لئے بنائی ہے. اتنی رنگین بنائی کہ بچ نکلنا مشکل نہیں نا ممکن  ہے. الله پاک خود ہی فرماتا ہے کہ میری دنیا کے کناروں سے نکل سکو تو نکل کے دکھاؤ. اسی لئے شائد میں نے تو تہیہ کر لیا ہے نکل کے جانا ہی نہیں ہے. جب میں نے چھوڑ کر جانا ہی نہیں تو مجھے پوری تیاری کرنی ہے کہ ایسا ہو جو کے مستقل ہو. بھرپور ہو. میں بڑا سا گهر بناؤں گا. بڑی گاڑی. زیادہ سارے پیسے سب میرے لئے ہی تو ہیں. جانا جو نہیں ہے. ہمیش کی زندگی ہے. میں یہ کہتا تو نہیں ہوں مگر کہ میرے کرتوت تو یہی بیان کرتے ہیں. "اساں مرنا ناہی، گور پیا کوئی ہور".       یہ سمجھنا ویسے مشکل ہے کہ اس دنیا میں کیسے رہا جاے. دل کیسے نہ ہی لگایا جاے. کیسے دل لگاے بغیر رہا جاے. جانے کو خالی خولی کہا نہ ہی جاے مانا بھی جاے. کسی کے ماننے کا کیسے معلوم پڑتا ہے. کسی کا خود کا ہی. کسی کی بات چھوڑو. خود کی بات کرو. خود میرا کیا حال ہے. مجھے لگتا ہے میری باری نہیں آنی. میں شائد دنیا کا آخری شخص رہ جاوں گا اور سب اوپر چلے جائیں گے. مگر میں اکیلا رہ کر کیا کروں گا. مزے کروں گا خوب عیش خوب خرچ، ساری رونق صرف میرے لئے رہ جاے گی. نہ کوئی مقابلہ نہ ڈر. یہ مزاج ہے نہ کہ گفتگو.       بات یہ نہیں ہے کہ کب کیا کرنا ہے. بات یہ ہے کہ ہم کو زندگی کیسے گزارنی چاہیے.یہ دراصل بات بھی نہیں ہے، سوچ ہے.  جب تک اندر سے آواز نہیں آے گی سمجھ نہیں آنی. دنیا میں رہنا ہے تو کچھ تو دل لگانا ہی ہے. اتنا جاننا ہے کہ کہاں تک دل کا لگانا جائز ہے. دنیا میری ہے، میرے فائدے کی جگہ ہے. مجھے فائدے کا معلوم ہی نہیں پڑتا میں اس میں گھستا چلا جاتا ہوں بغیر حفاظتی تدابیر کئے. پھر کیا؟ پھر پھنس جاتا ہوں، دھنس جاتا ہوں، کھبُ جاتا ہوں دلدل میں اور نیچے ہی جاتا جاتا ہوں. خود کی نظر میں، دنیا کی نظر میں، دنیا بنانے والے کی نظر میں. سچ ہے ہر وقت اگر یہی دیکھو کہ کہیں دنیا تو زیادہ نہیں ہو گئی تو دم گھٹنے لگتا ہے. گھر کی ہر شے ہی زیادہ لگنے لگتی ہے. دو گلاس کیوں اور تین جوڑے جوتے کیوں؟ میز پہ دو کھانے کیوں. کھانے کے ساتھ سلاد کیوں؟ کھانے کے بعد میٹھا کیوں؟ میٹھے کے ساتھ کافی کیوں؟ میں تو کیوں کیوں کی آواز سے نکل ہی نہیں پاتا. سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا رکھوں اور کیا کی تلقین کروں خود کو کسی کو. مجے اعتدال کا ہی نہیں معلوم. یہ تو معلوم ہے کہ ہر کا اعتدال الگ الگ ہے. مگر کیا ہے سمجھ نہیں آ رہی. خود کے اعتدال کی، کسی اور کے اعتدال کی. اوپر والے کی طرف دیکھوں تو خود کی ہر شے صحیح لگتی ہے. جائز اور دین کےعین مطابق. نیچے والے کی طرف دیکھوں تو ہر شے میں دنیا زیادہ، گناہوں کا پلندہ لگتا ہے خود کا گھر خود کی ہر شے. جاوں تو کہاں؟؟ میرے سوالات ہی مجھے جینے نہیں دیتے. یہ دل میں  آ رہا ہے کہ ابھی ابھی جو دل میں آ رہا ہے کہ زیادہ ہے دے ڈالوں. جیسے سمجھ آتی ہے کر ڈالوں. کسی سے کوئی فتویٰ نہ لوں. کسی سے نہ پوچھوں کیا کرنا چاہئے. دل کو جس نے گھڑ کے پاک بنا لیا. وہ اس کا استاذ ہوا. اس کی اب آواز ماننی ہی پڑے گی. ہاں یہاں دماغ بھی استعمال کرنا ہے.کہیں کمی زیادتی خود کے ساتھ ہی نہ ہو جاے. بات تو سچ ہے، ایسا ہو ہی جاتا ہے خود کے ساتھ سلوک کی کبھی سمجھ نہیں آتی. خود کے ساتھ زیادتی کا بھی مجھ کو کوئی حق نہیں. اس کا بھی حساب دینا ہو گا روز جزا کو. میں نے جو خود کو تیار کیا ہے حق کے راستے پر تو مجھ کو تو خود کے فیصلے پر متفق ہونا ہے. مجھے پریشان نہیں ہونا. کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی فیصلہ نہ ہو پانے اور میں مشکوک ہی رہ جاوں گا. جینا ہے خود کو خراب نہیں کرنا. جو کھاتا ہے کہلاتا بھی ہے. خود کے لئے رکھتا ہے دیتا بھی ہے. بھرپور زندگی گزارتا ہے مگر ہمیشہ موت دل و ذہن میں موجود رہتی ہے اس کا جینا ٹھیک ہی ہے. ایسے جانچ لو خود کو. یہی نقش قدم چھوڑو پیچھے والوں کے لئے.جیو اور جینے کا سہارا بنو.

>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<

ستمبر ٢٠١١ ،٢٥ اتوار ملتان 

 میں اندھا تھا اب دیکھنے لگا

میں پیدائشی اندھا تھا. ماں باپ نے چلنا سکھایا. اٹھنا بیٹھنا سکھایا. كهانا پینا بتایا. مجھے ہاتھ پکڑ کر بتایا کہ میرا منہ کہاں ہے. مجھے ہاتھ سے کیا کیا کام کرنا ہیں. میں کیا کروں کیا نہ ہی کروں. مجھے کیا معلوم کہ میری ماں کون ہے اور کون ہے باپ. جیسے جیسے بتایا گیا میں سیکھتا گیا. کرتا گیا. بہن بھائیوں کا، رشتہ داروں کا بتایا میں انُ کو پہچاننے لگا. ہر آنے جانے والے کو محسوس کرنے لگا. ان سے تعلق، بے تعلقی اور لا تعلقی کے بارے میں جاننے لگا. جو جو مجھے بتایا جاتا میں سیکھتا گیا. سمجھتا گیا. خود کے پاؤں پر چلنے لگا. انگلی پکڑنے کا مرحلہ ختم ہوا. اب مجھے پاؤں لگ گئے میں خود چلنے لگا. کسی کمرے سے کسی میں چلا جاتا. گرتا، اٹھ جاتا خود ہی بغیر کسی کو بلاۓ.چلنے لگا تو اشیاء کو پہچاننے لگا. کسی کو پسند نا پسند کرنے لگا . بتا دیا جاتا کہ غلط ہے . جس کو ہم کہیں وہ اچھا ہی ہے. جس سے منع کر دیں وہ ہی غلط ہے. اور بس اور کیا. میں دنیا کو ان کی نظر سے دیکھنے لگا جو مجھے دکھانے والے دکھاتے تھے. اور ایک زاویہ سے اب میں کافی سمجھ گیا کہ زندگی کے کیا اصول ہیں. کیا کیا بات کہاں کہاں تک کرنی ہے. میرا ایک مائنڈ سیٹ بن گیا. میں ہر بات کو اس ہی طرح دیکھنے لگا جیسے مجھ کو دکھایا گیا. ایسا لگتا کہ اب میں دیکھ سکتا ہوں. سمجھ سکتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے. کیا کرنا چاہئے. کیسے کرنا چاہئے. جن کو میں بیان کر رہا ہوں یہ سب مجھے جاننے والے ہیں پہچاننے والے ہیں.سب مجھے پیار کرتے ہیں. میری بھلائی چاہتے ہیں. مجھ پہ کام کیا سب نے. مجھے کھڑا کرنے میں مدد دی. اب میں چلنے لگا. نہیں تو کیا ہوتا.

                                      میں اب فضا کو جاننے محسوس کرنے لگا تھا. کس ُرخ کی ہوا ہے اسے بھی جانچ جاتا تھا. سیدھا جاتا تھا سیدھا آ جاتا تھا. راستے کو دھیان نہیں کرتا کہ باقی دنیا کیا کر رہی ہے کیا بتا رہی ہے. کدھر بلا رہی ہے. گزرتا گیا وقت. میں بڑا ہوتا گیا. الله کی مدد اور ماں باپ کا ساتھ، بھائی بہن کا سہارا. اب دوست بھی بن گے تھے. سب مجھے راستہ بتاتے. میں کبھی اسِ کے پیچھے چلا کبھی اسُ کے. جس طرف جاتا ادھر ہی چلتا اور سمجھتا بھی. سب مدد بھی کرتے. کبھی محسوس نہیں ھوا کہ کوئی مجھے دھکہ دے رہا ہے. سو میں نے سب کو پیارا اور دوست مانا. میرا ہاتھ کبھی کسی نے تھاما کبھی کسی نے. مجھے اکیلا بھٹکنے کسی نے نہیں چھوڑا. گرنے نہیں دیا. نہ ہی اکیلا چھوڑا کسی فیصلے کے لئے . میں نے کبھی تنہا فیصلہ نہیں کیا. کبھی بھی منجدھار میں پریشان اور اکیلا نہیں ہوا. خود کو دنیا کا اور خاندان کا سب سے خوش نصیب تصور کرنے لگا تھا. گو کہ دیکھ نہ ہی سکتا تھا. کبھی تنہا جو نہ دیکھا تھا خود کو.

اب میں ذرا سا قد نکالنے لگا. کیا محسوس کیا کہ ہر طرف لوگ ہی لوگ. میرے لئے بازو پھیلاے. مجھے پل پل سنبھالتے. مجھے دیکھتے کہ کہیں گر نہ جاوں. کہیں بھٹک نہ جاوں. میں ان کا عادی ہوں کہ ہر لمحہ ان کو ہی دیکھتا ہوں. کچھ وقت کی بات ہے یہ سب مجھے بند کیا سا لگتا ہے. آسمان کہیں محسوس ہی نہیں ہوتا. ہوا بند ہونے لگی ہے. دماغ بند دل بند. ایسا لگتا ہے کہ میرے پاؤں شل ہوا چاہتے ہیں. ہوا پانی کہیں تازہ نہیں لگتا. کیا کروں کدھر جاوں. اب کبھی تو تنہا هونے کو من کرتا ہے. کوئی نہ ہو میرے اِرد ِگرد، اس پاس. مجھے بھی اکیلے اٹھنے بیٹھنے دیں. مجھے کہیں تو میری مرضی کرنے دیں.

زبان پہ یہ بات کیسے لاؤں. کیسے کہوں کہ سب راستے اب مجھے زبانی یاد ہیں. کس کس راستے پہ کیسے جانا ہے اور کیسے روکنا ہے. کیسے واپس آنا ہے یہ بھی معلوم. اب میں گهر پر رہ کر خود کے راستے کا تعین کرنا چاہتا ہوں. کیسے آنا جانا ہے. گرنا کیسے سے اور اٹھنا کیسے. کہاں سے گزرنے کے اوقات کیا ہیں. مات کھا کے سنبھلنا کیسے ہے. راستہ کیسے کسی کو بلاتا ہے. جانا ہے کہ نہیں جانا. دل کو لگے بات تو کیسے معلوم پڑے کہ دل صحیح كہہ رہا ہے یا دغا دے رہا ہے. ٹھوکر لگے تو کیسے جانچنا ہے کہ خود گرا کہ گرایا گیا. دل چاہتا ہے اب من کی آنکھ سے دیکھوں. خود  کے من کی آنکھ سے. کبھی کبھی لگتا ہے میرے پر نکل اے ہیں، مگر اڑُ نہیں سکتا. کہیں بندھا ہوں.مجھے  آج ابھی اور اسی وقت فیصلہ کرنا ہو گا. آزادی سے آخرت تک کا سفر کرنا ہے یا کسی کے کندھوں پر بیٹھ کر. جانا تو خود کی قبر میں ہے. جواب سوال بھی اکیلے ہی بھگتنے ہیں . کیا کوئی ساتھ نام کی شے ہے بھی؟ یہ لمحہ لوٹ کہ نہیں آنے والا. آج کا دن نکل گیا تو اندھیر ہے اور بس. میں خود کے لئے دنیا اندھیر نہیں کروں گا اور نہ ہی آخرت. یہ میرا فیصلہ ہے. میں نے خود کی آنکھ بھلے وہ من کی ہو سر کی ہو دماغ کی ہو بروےکار لاوں گا. سب کے بتاۓ ہے فیصلے، بٹے ہے راستے کو بھی دھیان میں رکھوں گا. ایسا نہیں ہے کہ وہاں سب ہی غلط ہے. مگر میرا نہیں ہے. میرا آیڈیل نہیں ہے. مجھے میرے طریقہ سے آگے جانا ہے. سوچنا ہے. محسسوس کر کے فیصلہ کرنا ہے

پہلے بھی دل دماغ میں کچھ کچھ آتا تھا خیال. سمجھ نہیں اتی تھی کہ کیا ہے. کسی کا ہاتھ جو پکڑا تھا. جب کسی کا اس قدر ہاتھ پکڑا ہو جتنا ہم پکڑتے ہیں اور اتنی زور سے جتنا زور ہم لگتے ہیں تو خود کا دماغ تو کام ہی نہیں کر سکتا. آنکھ کیا معنی رکھتی ہے. اب میرا دل بولتا بھی روح سوچتی ہے. دماغ معاملات حل کرتا ہے. اس سارے سے میرے سر کی آنکھ تو روشنی ملتی ہے. اب میں دیکھ سکتا ہوں.اندھا نہیں ہوں. میرے دل ، میری حسِ نے میری آنکھ کو بصیرت دے دی. میری ویران دنیا روشن ہو گئی. میری دنیا اندھیری نہیں تھی بےنور تھی بے حس  تھی. میں گویا کہ زندہ تھا مگر لاش تھا. نہ سوچ تھی نہ سوال. نہ جذبہ نہ جذبات. نہ درد نہ ہی اعتماد. نہ محبت نہ پچھتاوا. آج میں زندہ ہوں. دیکھتا کہتا ہوں. سر کی آنکھوں سے. من کی آنکھ سے. میرا پور پور دیکھتا ہے.

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

٢٣ ستمبر ٢٠١١، جمہ { ملتان }

میری روح کی حقیقت میرے لفظوں سے پوچھو 

حرف کی کیا حقیقت ہے اور الفاظ کی کیا. جملوں کی کیا حقیت اور معنی ہیں. حقیقت کی کیا حقیقت ہے. کوئی شے کچھ معنی نہیں رکھتی جب تک اس میں معنی ڈالے نہ جائیں. لفظ مردہ رہتے ہیں. باتیں لاش. کہانیاں سرد خانوں میں پڑے لاوارث جسم. ہم نے لکھ لکھ کہ ڈھیر لگا دیے ہیں. کبھی تو مال کے لئے، کبھی نام کے لئے. کبھی لکھنے کے شوق کے لئے. سنوارنے کے لئے کب لکھا؟ کبھی نہیں. دل کو دماغ کو، وجود کو لگی ہو تب نا. مگر کہاں. درد کے مارے اور ہیں. لکھنے پڑھنے والے اور. لکھنے سے ویسے بھی کچھ نہیں ہونے والا بھائی. لفظ نہیں ناچیں  گے. نا ہی کسی، تیرے میرے کا ہاتھ ہی پکڑیں گے.کہا نا " نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل".

حقیقت لفظوں میں ڈالنی پڑتی ہے. جان ڈالنی پڑتی ہے. جان پڑتی ہے جب ہاتھ سے نہیں دل سے لکھا جاے. سیاہی سے ورق کالا نہ کیا جاے. خون سے صفحہ لال کیا جاے. بات وہی ہے. ہماری، تمھاری. سب کے،گھر گهر کے مسائل ہیں. ہمارے شہر کے مسائل. ہمارے پیارے، محبوب ملک کے مسائل. ہماری فانی زندگی کے مسائل. ہمارے دین و دنیا کے بھی. پہلے تو اس بات کا ادراک کرنا ہے کہ کسی کا  کوئی مسلہ ہے بھی. کہاں ہے. تصحیح طلب ہے. ہم نے سنا سنایا کہ ہمارے دل کو لگا کہ کوئی گھمبیر سمسیہ ہے جو کہ سلجھنی چاہئے. فیصلہ کر لو پھر بات کریں گے. ایسے تو کوئی بات سمجھ بھی آنے والی نہیں ہے. بات سمجھنے والا ہی بات کی تہہ تک پہنچے گا.

لفظ کی بات جانو، سمجھو.  ایک سیدھے سادھے لفظ کی مانگ کیا ہے؟ لفظوں کی ایک روح ہوتی ہے. یہ روح سمجھنی بہت ضروری ہے. ہر لفظ ایسے ہی تکمیل پاتا ہے جیسے کہ ایک شاہکار ہو. بھلے وہ کنوس پر ہو یا کاغذ پر. جیسے کہ ہم کوئی مجسمہ تراشتے ہیں. ہر ہتھوڑا سو مرتبہ سوچ کہ مارنا پڑتا ہے. کہیں کوئی چھلترغلط اتر جاے تو شاہکار بیکار. مضمون میں ہر جملہ، جملہ کا ہر لفظ، لفظ کا ہر حرف اس پتھر کے جزو ہیں. جو بھی حرف غلط بنا، لفظ غلط لگا سمجھو وہ مجسمہ برباد ہوا. گویا نیا ٹکرا لینا ہو گا پتھر یا لکڑی کا. کیونکہ اب یہ ادھ گھڑ ٹکڑا برباد ہوا ایک ہتھوڑی کی ناسمجھ چوٹ سے. ایسے ہی ایک غلط لفظ کا چناؤ جملہ بربات کرتا ہے. اور پورے مضمون کو بے جان، بے روح کرتا ہے.

بات بھلا کیسے بات بنتی ہے. الله کی بات کو ہی دیکھو. الله پہلے انسان کو ُچنتا ہے. گھڑتا ہے اس کو اس کے لئے، زمانے کے لئے. خود کا پیغام دینے کے لئے سنبھالنے کے لئے. اس کا مطلب ہے کہ بھلے الله کے ہی الفاظ ہوں ُچنے ہویے ہی ہوں. ان کو صحیح جگہ پر رکھنے کے لئے انسان کی شناخت بھی ضروری ہے. سو یہ ضروری ہوا کہ کونسے انسان سے کونسی بات ُسنی جاے گی. لکھنے والے کو پہلے خود پہ کام کرنا ہو گا تاکہ لفظوں میں جان ڈالے. بھلے کلام الله کا ہی ہو. وگرنہ ہر کسی سے الله بات کر لیتا. کبھی کسی پہ وحی آتی، کبھی کسی اور پہ. نوعمری میں ہی اللہ خود کی بات کہ دیتا کہ بیان کر دو. مگر نہیں اچھی عمر کے بعد نبیوں کو پیغام دیا، پہلے ان پر خود کی قوم میں  رہ کر ہی ایک عکس بنانے کا کام ہوا. لوگ ان کو اچھے انسان کے ناطے جاننے لگے. تب الله نے ذمہ داری دی. اس سے ظاہر ہوا کے بھلے کام ہمارے پاس ویسا تو نہیں ہے مگر اس سے الگ بھی نہیں ہے. سو پہلے خود پہ کام پھر ہاتھ میں قلم. اس کی بات کے لئے کیا اہتمام. وہ مالک ہے، خالق ہے. طریقہ اس نے بھی یہی اختیار کیا، بندہ خود پہ کام کرے. لفظ خود جان دار ہو جائیں گے.

                              بات کی روح بات کی شروعات سے ہی معلوم پر جاتی ہے. یہ سب ایک اثر ڈالتا ہے، پڑھنے والے پر. سمجھنے والوں پر. ہر کلام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے. بھلے کوئی زبان ہو. کوئی بھی بیان ہو. اچھے سے، سہل زبان میں بیان نہ ہو تو نہ آگے جانے کو دل کرتا ہے. نا سمجھنے کو ہی دل کرتا ہے. اس کی سب سے بڑی اور مستند مثال سورہ فاتحہ ہے القرآن میں. پہلا باب پڑھتے ہی سب کھلنے لگتا. الکلام، اور ہم تک پنچانے والا دونوں کا مرتبہ اور مقام ہمارے دل میں جس جگہ پر ہے وہ جذبات ہم الفاظ میں نہیں ڈھال سکتے. ہمارے بھائی جو اس دین سے تعلق نہیں رکھتے وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حضور پاک دنیا کے سب سے عظیم انسان. القران مستند کتاب ہے لا ریب.

القران کی بات میں نے ایک مستند اور خوبصورتی کی مثال کے لئے دی. کہنا میں چاہ رہا تھا کہ بات جب تک اندر نہ ہی اتری ہو تو مہربانی فرما کے قلم کو کیس میں ہی رہنے دو. ہوا نہ لگاؤ. خود کے دل میں کلام اتارو، اس میں سے گزر جاؤ. اب بیٹھو اور خود بھی تیاری پکڑو اور قلم کاغذ بھی تیار کرو.ایسا لکھنا ہے کہ روح ڈل جاے آپ  میں بھی،کلام میں بھی. جب تک لکھائی کو الله کے لئے نہ سمجھا جاے. اپنا آپ اس میں نہ جڑا جاے. بات نہیں بنے گی. کلام پر اثر نہیں بنے گا. آپ کچھ بھی لکھو، کھیلوں کے لئے، سیاست کے لئے یہ دین کے لئے. خود کو اس میں اتارو. اس میں اتر جاؤ. سیاہی بن جاو. لفظوں میں آپ کا دماغ نہیں آپ کی روح نظر آے. آپ کا درد اپ کی دھڑکن کا عکس نہ ہو بلکہ دھڑکن ہو. ہر حرف ایسے ہی حقیقت بن جاے گا. حقیقت ہو جاے گا.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

ستمبر ٢٠١١،٢١ ملتان،بدھ 

منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

کمال ہے ، سارے ملک کو کیا ہے. ہر کوئی چوھدری ہے یہاں، ُشکر ہے الله کا. سب کو معلوم ہے کہ کیا ہونا چاہئے اور کیسے.اتنا علم ہے ہمارے ملک میں. میں کھڑا ہوا تو میں نے کیڑے نکالے. اور لاٹھی لے کے چل پڑا. سب کو ہانکنے. ہم باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں. کرنی بھی چاہئیں. ساری عوام جب جاگی ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے. سب بات کرتے ہیں. سب ہی مشورہ دیتے ہیں. دینا بھی چاہئے. الرٹ ہونے کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں. وہ کسی کو سونے نہیں دیتے. جب سارا ملک ساری قوم جاگے گی تو جاگا جاگا پاکستان ہو گا. باہر سے کسی کی ضرورت نہیں پڑے گی. مگر ہم اس دن کے انتظار میں ہیں. انتظار میں ہی ہیں کتنے ہی سالوں سے. زیادہ نہیں صرف تریسٹھ سال ہی ہویے ہیں. اتنا انتظار کافی نہیں ہے. تب ہی تو کچھ ہوا نہیں اب تک. ہر وقت ہم یہ ہی کہتے ہیں کہ کچھ نہیں کرتے لوگ. آج ایسا کرتے ہیں کہ لوگوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتے. اس شے پہ دھیان لگاتے ہیں کہ مجھے اکیلے میں کیا کرنا ہے. خود سے. خود کے لئے. خود کے ملک کے لئے. ہمیں چاہئے کہ صرف خود کی طرف دھیان دیں کہ میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں. جماعت بنانے یا بننے سے پہلے. کام اکیلے سے ہی شروع ہوتا ہے. کام شروع کیسے کرنا ہے؟ سب سے پہلے تو معلوم ہو کہ تم بھی سب انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہو. کام کرنے والے بن کے کوئی مہان نہیں ہو گے. ایسا ہو گا تو جماعت ضرور بنے گی. نام بھی ہو گا. کام نہیں ہو گا. کام شائد کرنا بھی نہیں چاہتا کوئی.                            ایک کو میں نے سنا بھی دیکھا بھی. معصوم یتیم بچوں کا ادارہ چلاتے ہیں. روز جاتے ہیں. نام ہے. کام بھی کرتے ہیں. جانے سے پہلے فون ہوتا ہے ٹھنڈا پانی ہونا چاہئے. کمرہ ٹھنڈا ہونا چاہئے. میں ہوں تو ہر شے موجود ہو میز پر. میرے پاس فالتو کا وقت نہیں کہ برباد ہو. یہ ہیں کام چلانے والے. نام والے. ان کے بڑے نام ہیں. بڑے کام ہیں. کوئی تو سوچے کہ یہ سب کیا ہے. ہم ان  بچوں کو ہمارا حصہ بنانا چاہتے ہیں. کر کیا رہے ہیں. ہم اونچی ذات کے ہیں، چوھدری ہیں اور وہ عوام. جب تک ہم چودھری رہیں گے کچھ نہیں هونے والا. کسی کا کچھ نہیں سنوارنے والا. نہ ہی کسی اور کا، نہ ہی میرا. خود سے خود ہی سوال کرو. کیا میں کوئی تبدیلی چاہتا ہوں؟ میں تبدیلی چاہتا ہوں تو کیا میں خود بھی تبدیل ہووں گا؟ کیا میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں بھی عوام ہوں؟ اگر میں ممبر سے نیچے نہیں اتروں گا تو کچھ نہیں ہونے والا. کوئی تبدیلی نہیں آنے والی. اس سے معلوم پڑتا ہے کہ میرا کوئی الگ ہی انصاف ہے. میرا کوئی الگ ہی گول ہے. میں صرف بولنے والا ہوں. نہ کرنے والا ہوں، نہ ہی کروانے والا ہوں.    اگر میں اس بدلاؤ کے لئے کوئی بھی کام کرنے والا ہوتا اینٹ سے اینٹ بجا دیتا کم از کم خود کے قریب کے لوگوں سے ہی. اور نہ ماننے والوں سے کچھ کنارہ ہی کر لیتا. معلوم تو پڑتا کہ میں وہ سب پسند نہیں کرتا جو ہو رہا ہے. صرف منہ سے کہنے سے نہیں چلے گا. نظر بھی آے. آپ پریشان بھی بھی ہوں کہ بدلاؤ نہیں آ رہا. مجھے تو بس چیخ چہاڑے کا کام ہے. اس سے تو کوئی نہیں بدلے گا. سمجھ نہیں آ رہی سوال کرنے والوں کو اور جواب دینے والوں کو. کہ کہیں کچھ نہیں ہونے والا. اس لئے بات کرنا بند کر دیں. اگر بند نہیں کرنا تو اٹھائیں خود کو جگائیں. اور اگر نہ جگانے کا سوچ ہی لیا ہے تو چُپ کر جاو. نہ خود کے متھے لگو نہ ہی کسی کے.تو یہ معلوم پڑا کہ حشر مچانے والے سب ہی اداکار ہیں. فنکار ہیں. رونق کے علاوہ ان کا کوئی بھی مفہوم نہیں ہے. مقصد کے بغیر کھڑے ہیں، بلکہ ا ُچھل رہے ہیں. ایسے ہی ہے جیسے. ایک بچہ کسی بات کے لئے رونا شروع کرتا ہے. بھاں بھاں شروع کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ کس بات کے لئے زد کر رہا ہے. رو رہا ہے. کچھ وقت گزرنے کے بعد بس بھاں بھاں رہ جاتی ہے. اگر روندو بچے سے پوچھو تو اس کو یاد نہیں رہتا کہ کیا ضد کر رہا تھا. کیا مانگ تھی. اگر باتوں میں لگا لو تو آرام سے بہل جاتا ہے. کسی بھی طرف لگا دو آرام سے وہاں محو ہو جاتا ہے. اور محو ہی رہتا ہے. پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا. ہاں اگر کبھی زندگی میں دھیان آ ہی جاے تو اور بات ہے.اس   سے یہ ظاہر ہوا کہ انصاف کا نہ ہی کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی کسی کی آرزو. اگر معلوم ہی نہیں اور احساس ہی نہیں ہے تو مانگ کیسے ہو سکتی ہے. مانگیں گے نہیں تو ظاہر ہے ملے گا نہیں. جس شے کا احساس نہ ہو. مانگ نہ ہو، اگر سامنے آ بھی جاے تو کیا معلوم کیا چاہئے. نتیجہ کیا ہے؟ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں؟ میں کہ رہا ہوں کہ انصاف انصاف کا نعرہ نہ ہی لگاؤ. آپ لوگ کو معلوم ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا چاہئے. اگر کوئی بدلاؤ چاہئے ہوتا. کسی حالت یا ہونی سے تو ہم فکرمند ہوتے. زندگی کو کھیل نہ جانتے. یوں اٹھلاتے نہ پھرتے. بے فکری شکلوں سے نظر آتی، گفتگوؤں سے نہیں. سو چُپ جائیے، چُپ ہو ہی جائیے. خود کو دیکھئے اور یہ سوال بنیے کہ میں کیا ہوں؟ کیا چاہتا ہوں؟ جب تک جواب نہیں ملتا، شش شش، چُپ. 

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<

١٨ ستمبر ٢٠١١ اتوار، لاہور.{١٩.١٥ }

دنیا ایک منٹ میں میں

جانوں یا میرا خدا جانے

کتنی عمر گزر گئی ہے لوگ یہی کہتے ہیں. یہ نہیں بتایا وہ نہیں بتایا. اور میں بتا بتا تھک گیا ہوں. مجھے کچھ نہیں معلوم. مجھے کچھ بھی نہیں معلوم.مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ لوگ بات کیا کر رہے ہیں. کیا سفر؟ کونسا سفر؟ کس کا سفر؟ سفر کب شروع ہوا؟ میں کہاں رکا؟ کیوں رکا؟ چلا تو کیوں چلا؟ کہاں تک گیا؟ کون کا ساتھ تھا؟ مجھے معلوم نہ ہی تھا. ٹھراؤ یا سفر  کس شے ، کس بات کا نام ہے؟ کیا مزے کی بات ہے، آج بیس سال بعد بھی میں ان ہی سوالات کی بوچھاڑ میں ایک باریک چھاتا لئے خود کو اس مسلادھار سے بچا رہا ہوں. مجھے تو یہ بات سوچ سوچ تھکا رہی ہے کہ انسانیت کو کیا ھوا ہے. خود سے کتنی مایوس ہے. کچھ کرنا نہیں چاہتی. کچھ پسند آ جاے تو دل چاہتا ہے کہ کوئی تو گھول کہ پلا دے اور ایک قدم بھی چلنا نہ ہی پڑے. ایسا تھوڑا ہی نہ ہوتا ہے. خود کے سفر کا ہر قدم خود ہی اٹھانا پڑتا ہے. دیکھو میں کہتا ہوں کیا مزے کا کیک ہے. ایسے میٹھا ہے ایسے نرم ہے. آنکھ بند کرو. تو سوچ کا مزہ آ ہی جاتا ہے. کیا پیٹ بھرتا ہے. اور ہر کا مزہ الگ ہے. الگ مقدار سے پیٹ بھرتا ہے. تسلی ہوتی ہے.جب سکون کی بات ہوتی ہے. دین کی بات ہوتی ہے. کچھ سمجھنے کی بات ہوتی ہے تو ہم لوگوں کے تجربات پوچھنے لگ جاتے ہیں. کیک کے مزے تو زبان سے لینا چاہتے ہیں. یقین ہے کہ مزیدار ہے. اس کے ہم لالچی بھی ہیں. دین کا کوئی بھروسہ نہیں. خود اپنائیں تو کہاں لے جاے. الله کی راہ میں زیادہ وقت دیا تو دنیا کا وقت کم نہ ہو جائے. الله کی طرف زیادہ رخ کیا تو میک اپ خراب هونے کا خدشہ ہے. کیا یہی خدشات ہیں جو مجھے راستہ خود نہیں طے کرنے دیتے. رب کی راہ میں گزارا ہر لمحہ عزیز ہے بھلے وہ دل کا ہو، دماغ کا، ہاتھ کا یا میرے اقدام کا. اس راہ میں بیٹھنے کا بھی ثواب ہے. چلنے کا بھی. اور خود کے ساتھ بیٹھنا اس کا تو سب سے زیادہ اجر ہے. حساب جو سب سے پہلے اس بات کا ہی ہو گا کہ خود کو کیا دیا. خود سے کیا لیا. پھر ہو گا کسی کے ساتھ کیا کیا، کیا لیا دیا. تو سب سے پہلے خود پہ ہی کام کرنا ہے. کیسے کرنا ہے اس کا راستہ، طریقہ خود ایجاد کرنا ہو گا یا ڈھونڈنا ہو گا.نبیوں کا بتایا رستہ ہمارے اندر معلوم ہے. اس راستہ پہ چڑھ جاؤ تو سیدھا جنت کی طرف. اب کیا کیا اہتمام کرنے ہیں شریعت کے علاوہ. خود کو کہاں کہاں روکنا ہے، ٹہرانا ہے. سب خود کے کرنے کا کام ہے. خود کے ساتھ بیٹھنا شریعت تو نہیں. ہاں ایسے بیان تو نہیں ہوئی،  مگر. یہ کئے بغیر بندہ ایک چلتی پھرتی مشین ہے. جو سنا وہ کر تو دکھایا. ٹھراؤ کیسے آیا. رُکنا کیسے آے گا. یہ کسی کتاب میں نہیں ملے گا. ملنا بھی نہیں چاہئے. القران کو تو ہر کوئی خود کے طریقہ سے ہی سمجھتا ہے مگر زبان الله کی ہے. اللہ کا کلام ایسا ہی رہے گا تا قیامت. بندہ کا لمحہ الگ ہے. ہر کا خود کے ساتھ بیٹھنا الگ ہے. خود کا بیٹھنا خود کے ساتھ، خود کے سیکھنے کا ہی کام ہے.کام کچھ ہے نہیں ویسے. کرنا کچھ بھی نہیں ہے. خود کی حرکات و سکنات پہ  نظر خود ہی رکھنی ہے.  باہر سے نہیں اندر سے. خود کے اندر سے خود کے اندر پہ نظر. اتنا کام ہے.نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری، رنگ چوکھا. اتنی سی بات کی بھلا کوئی کیا ٹریننگ لے اور کیا ہی دے. ایک خبر ہے، شائد نقطہ کی بات ہو. جم تم سب کے ساتھ بیٹھے ہو. سب کوئی بات سن رہے ہوتے ہیں یہ لکھ رہے ہوتے ہیں. سب ایک سا، میلا جلا، قریب قریب سا ہی جواب دیتے ہیں. جب ہم بات کرتے ہیں تو سب قریب قریب کا ہی گفتگو میں حصہ ڈالتے ہیں. ایک میرا الگ سا جواب مجھے سب سے الگ کرتا ہے. جب وہ جواب مجھ میں آیا، {میں نے جب بیان کیا میں نے نہیں کہا} اس مقت میں خود کے ساتھ تھا. خود کے ساتھ بیٹھنے والے کے پاس ایک الگ سا اعتماد ہوتا ہے. جو اس کو سب سے الگ کرتا ہے. الگ تھلگ کرتا ہے. ایک پتے کی بات ہے. خود کے ساتھ جڑا انسان ایک مقناطیس کی مانند ہے. اس کا حسن اس کی پُرسراریت اس کی چمک وہ خود ہے. کوئی گدڑ سنگی نہیں. جس سکھلائی کا کسی اور کو فائدہ ہی نہیں اس پہ اترانا کیا. جو آپ کسی کو منتقل نہیں کر سکتے اس کا تکبر کیا، آج آپ کو ملے نہ ہی ملے. جو خود کے ساتھ جڑُا ہے وہ خود کے لئے ہی راستہ ہموار کرتا ہے. اس کی خاموشی اس کو جڑُا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے. یہ خاموشی نہ ہی کھوج ہے نہ ہی کوئی راز. نہ سکھایا جا ہی سکتا نہ ہی چرایا جا سکتا ہے. ایک لفظ ہے.ایک فقرہ ہے. خود کے ساتھ بیٹھو. خود کو جانو. خود کو پہچانو. یہ جاننا، پہچاننا دین تو نہیں ہے. دین سے باہر کی بات بھی نہیں ہے، اگر اندر کی نہیں ہے. دین کیا ہے؟ دین ہے الله سے جڑُنا. یہ کیسے ہو گا کہ جو خود سے جڑا نہ ہو گا وہ رب العالمین سے کیسے جڑُے گا.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<


ہفتہ ١٧ ستمبر ٢٠١١لاہور 

کانوں میں رس گھولے


ہر کو اچھا لگتا ہے ایسا کلام جو کانوں کو بھاۓ دل و دماغ کو بھی اور زبان کو بھی. دوہرانے کو بھی دل مانے، دوہرانے میں پر لطف ہو. جان پر بھی آسان ہو. میرے ڈیڈی کہتے ہیں" انسان بڑا ہی {adaptable ہے } یعنی بہت طاقتور ہے. بے بہا استعداد کا مالک ہے جیسے جس کی چاہے عادت ڈال سکتا ہے. زور کس پر ہوا؟ چاہنے پر. مگر ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم جو بہت ہی مسلمان ہیں. خود بھی عمل کرتے ہیں { شائد } اور دوسرں کو بھی ڈنڈا دکھاتے ہیں. لوگ ہماری بات کیوں نہیں سنتے. یوں بھی کہا جا سکتا ہے ہماری ہی کیوں نہیں سنتے. ہم کو ہی زیادہ محنت مشقت کیوں کرنی پڑتی ہے. کیا میری بات نہیں کوئی سننا چاہتا ہے یا میری بات ہی بے فائدہ ہے. مجھے بتانا آتا ہے کیا. میں بتانے کے مقام پر ہوں کیا؟ اتنے سارے سوال تو میرے خود سے ہی کرنے کے ہیں. اور بتاؤ! کوئی میری کیا سنے. پہلے میں خود کو تیار تو کروں بحث مباحثے کے بغیر. کسی کی خامی دل میں رکھے بغیر. کسی کو ُبرا جانے بغیر اور خود کو بڑا مانے بغیر.مجھ کو سب سے پہلے خود پہ کام کرنا ہے. ایسے کہ میں خود تک کیسے پہنچوں، خود سے پوچھوں کہ میں خود بھی خود کی بات سے اتفاق پر ہوں. دین کو ویسے ہی مانتا ہوں جیسے چاہتا ہوں کہ لوگ مانیں. کیا میں لوگوں کے لئے نمونہ ہوں. یہ

میرے مجھ سے ہی کرنے کے سوال ہیں تنہائ میں. نکلنے سے پہلے . لوگوں کے پیچھے لگنے سے پہلے. { جیڑا گهر بیٹھا اونوں پھڑیا ہی نئی } ممکن ہے حضور خود کو وقت دینے کے لئے غاِرِ حرا جایا کرتے تھے. جب خود کے ساتھ کام مکمل ہو گیا الله کے حکم سے. آپ اسُ طرح سے نہیں گئے. آپ کو بھی جب خود پر نظر رکھنا آ جاے گا. سمجھ آ جاے گی تو پھر کام کے لئے نکلو. ہمارے ذمہ نبیوں سا کام تو نہیں ہے. معمولی ہے. مگر دعوت کے کام کا طریقہ   نبیوں سے ہی ہم کو لینا ہے. کیا کرتے تھے. کیسے کرتے تھے. سب سے پہلے خود کو وقت دو. الله کے نبی معصوم ہوتے ہیں. وہ ویسے زمانے میں رُجھے نہیں ہوتے جیسے ہم ڈوب کے دنیا کو چاہ رہے ہیں. نبیوں کو بھی کام سونپنے سے پہلے الله تعلیم دیتا ہے. عوام سے، گهر والوں سے دین کے حوالے سے بات کرنے کی. انبیا کا اسوہ ہمارے پاس ہے. پہلے خود کے ساتھ ُگوڑھا تعلق پھر باہر کی دنیا میں قدم. نبیوں کی زبان رسیلی ہوتی ہے کانوں میں رس گھولتی ہے بھلے کوئی مانے، نہ ہی مانے. لوگ بھلے نہ مانیں مگر بات میں وزن کو مانتے ہیں. سنتے ہیں. ایسا ہی ہونا چاہئے. لوگ آپ کے کردار کو مانیں، قربت سے گریز نہ کریں. بات سنیں ضرور بھلے نہ مانیں. آپ سے جان نہ چرائیں. آپ کو دیکھ کر رستہ نہ کترا جائیں. آپ کو مصیبت نہ جانیں. آپ کو بھی ہر وقت ایک ہی بات نہیں کرنی. دنیا بھی رکھنی ہے. دین بھی. لوگوں کا ساتھ بنانا ہے . پیار بنائیں گے تب ہی تو کوئی رکے گا. کوئی سنانے کو. کوئی سننے کو. سنانے کے لئے پہلے سنانے والا بنانا ضروری ہے. سنو ضرور بھلے دل کو نہ ہی بھاۓ، بھلے باتوں سے بد بو ہی آے. سننے سے ہی سنانے والے ملتے ہیں. آپ ان کو جان جو جاتے ہیں کہ کہاں کھڑے ہیں، کیا چاہئے ان کو. کیا وہ نہیں چاہتے. وہ سیدھا راستہ کیوں نہیں چاہتے. ان کو سیدھے راستے کی تلاش ہے. ان سب کے لئے پہلے پہلے آپ کو زبان کی نہیں کانوں کی ضرورت پڑے گی. 

                                        جس کو آپ کان دیتے ہیں وہ آپ کو کان ضرور دیتا ہے. آج ہمارا دین اور معاشرہ اور ہم خود کہاں کھڑے ہیں. ہر خود کو ہی دین کا تھانیدار جانتا ہے. ایسے نہیں چلے گا. بات ایسے ہی سمجھنی ہو گی جیسے کہ سمجھنے کا حق ہے. حق یہ ہے کہ دل و دماغ کو حاضر ناظر جان کے سچائی کے ساتھ ہدایت کے لئے دوا کی جاے اور دعا بھی. علم حاصل کیا جاے. خود کو تیار کیا جاے. دل کو نرم کیا جاے، ہاتھ ہلکا رکھا جاے. ہر آنے والے کے لئے. اس کے لئے جس کے پاس آپ جاو. اور کس کے ہاتھ رکھا جاے جہاں خود کی بات ہو. خود کو کبھی معاف نہیں کرنا. معمولی غلطی بھی بھاری ہے بتانے والے کے لئے. اگر نہیں کر سکتے تو بتانے کے حقدار نہیں. پہلے خود کا دامن ناپو پھر اوروں کو تاکو. بات پہنچانے والے کو لبادہ نہیں اوڑھنا. بننا ہے ایسا جس کا پرچار کرنے چلا ہے. دیندار بنانے کا شوق ہے تو خود پر پورا کرو نہ. سب سے پہلے مریض تم خود ہو، پہلے گاہک بھی، پہلے طالب بھی. اس ایک کو اپنا  بنا لو تو سب خیر ہی ہو جاے گی. سب سے پہلے اس ہی کی جواب دہی ہونی ہے اوپر جاؤ تو. خود کو بھی بھدی آواز میں نہ پکارو. خود بھی خود سے بھاگ نہ جاؤ. پہلے خود کے قیام پہ نظر. ایسا نہ ہو جس کام سے ہم خود بھاگے پھرتے ہیں، ڈرتے ہیں اس ہی کی تلقین کرنے والے بن جائیں. خود کے جس کردار کا مجھ کو تجربہ نہیں وہ کیسے کسی کو دکھاؤں گا. خود کو کیا دکھانا ہے. رب کو کیا.                             

  مجھے ہر شے پہلے خود کے معیار پر پوری کرنی ہے تو میں بتانے والا بنوں گا. معیار کیا ہے؟ یہ سوال خود سے بنتا ہے ہر کا. میں خود سے سوال کرتا ہی نہیں. ہر وقت ِادھر ُادھر پوچھتا رہتا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں. میرے ٹھیک ہونے کی تصدیق کوئی کیوں کرے. اگر میں نے نیک نیتی سے خود کا جائزہ لیا ہے. خود کا تجزیہ کیا ہے تو خود سے سوال کرو کسی کے پاس نہ ہی جاؤ. خود سے سوال کرو کہ کیا یہ بات میرے کانوں میں رس گھولتی ہے. اگر سچ پہ کھڑا ہوں میں. تو کیا میرے دل کو لگے گی بات جو میں نے خود کی زبانی سنی. دل میرا ضرور بتاۓ گا صحیح ہے کہ غلط. الله کا بندہ جس نے خود کو مختص کیا ہے دعوت کے لئے، تسلیم کرے گا. کہاں میں نے غلط کیا الله معاف کرے، تم  بھی کرو بھائیو.                                             اس سب کے بعد جو میرا حال بنا ہے وہ ایک سچے داعی کا ہے. اب میری بات میری ذات، میرا اٹھنا بیٹھنا، بولنا، سننا سب الله کے لئے ہوا. اب تو یہ رس گھولے ہی گھولے. سچ جو بولے

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<..

١٦ ستمبر ٢٠١١ 

لاہور، جمعہ ١٢.٢٠


خود کشی ، خود کُشی

                      زندگی کیسی بھی ہو ، کہیں سے بھی چلی ہو، آپ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوے ہوں. مٹی کے تیل کا چولہ استعمال کرتے. عام انسان ہوں یا بادشاہ ہوں. اپنے اپنے طریقے میں زندگی سب کو ایک سی ہی ملتی ہے. "جن کے رتبے ہیں سیوا ان کو سیوا مشکل ہے" لگتا تھا کسی نے صحیح کہا، جب ہم چھوٹے تھے اور آتش جوان تھا. مگر ہمارے تو نہ رتبے ہیں نہ ہی رقبے ہیں. جس سمت نظر اٹھاو کچھ سیدھا دکھائی نہیں دیتا ،سب ظلم میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے،  یہ آج کی عام سوچ ہے. یہ باہر دیکھنے والوں کی سوچ ہے. کیا کوئی اندر دیکھنے والوں کی بھی سوچ ہے؟ یہ سوال کیوں نہیں بنتا کہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کدھر ہوں؟ کدھر ہونا چاہئے؟ کیا میں الله رخ، آخرت ہوکہ انسان ہوں؟ 

یہ وہ چند سوال ہیں جن سے طے ہو گا کہ آپ خود کش ہیں یا کہ خود ُکش

میں پیدا ہوا میرے ماں باپ کے کئی ارمان، کئی منصوبے میرے میرے هونے کے بڑھنے کے.  میں ہلنا جلنا شروع ہوا. چلنا شروع ہوا. دوڑنا شروع ہوا اور پھر جیسے کہ من مانی شروع ہو گئی. سب اس پہ بھی خوش تھے. کبھی کہا یہ نہیں کھانا. پھر ابھی نہیں سونا. یہ نہیں پہنانا. ان پانچ سال میں مجھ پر جتنی ضروری تھی وہ کشیدہ کاری ہو چکی تھی. اب ماننے نہ ماننے کے انداز اور واقعات مجھ پر نقش ہیں. میں نت نۓ انداز گھڑ لیتا ہوں. ہر حد تک عادات پک گئی اور میں اب ایک بھرپور انسان ہوں. اچھا برا جاننے لگ گیا. اچھے برے فیصلے سمجھنے لگ گیا . گویا ماں باپ کا کام مکمل ہوا کسی حد تک. ان نے مجھ کو سب کچھ سکھایا جو وہ جانتے تھے اور وہ بھی جو ساتھ ساتھ جان رہے تھے. وہ سب کیسے بتاتے جو ان کو بھی معلوم نہ تھا. ان نے اس کو کبھی معلوم کرنا بھی نہیں چاہا. مگر ایسا نہیں کہ ان نے مجھ کو کچھ بھی معلوم کرنے سے کبھی بھی منع کیا ہو. کبھی میرے رستے میں کوئی نہیں آیا نہ ہی ایسا ہوا کہ کسی نے مدد سے انکار کیا ہو.کچھ کام خود کے کرنے کے ہوتے ہیں    

خود کشی بھی خود کے لئے خود کے کرنے کا کام ہے. اس کا طریقہ ہر کے لئے الگ ہے. کیا پہلے یہ نہ معلوم پڑے کہ خود کشی ہے کیا. ہر ایک اس عمل سے گزرتا ہے کیا. اگر نہیں تو کیوں.  گزرتا ہے تو کیسے.  

نہیں ہر اس عمل سے نہیں گزرتا. ہر کو اس کی ضرورت بھی نہیں پڑتی. خود سے باہر کی دنیا اتنا خود کے گرد گھماتی ہے کہ اپنا آپ نظر انداز ہوا رہتا ہے. ایسا نظر انداز کہ وہ ُبلا  ُبلا  کے تھک کے سو جاتا ہے. ہم کو جگانا یاد ہی نہیں رہتا کہ کوئی سویا ہے. ہے بھی کہ نہیں. اندر کی دنیا الگ ہے. ُاجلا کر تو تو چمکنے لگتی ہے. اندھیرا رکھو تو روشنی نہیں مانگتی. زندگی میں خود کبھی نگاہ پر ہی جاے تو جاگ اٹھتا ہے اندر. وگرنہ تاریکی آواز نہیں دیتی. انسان بھی ایسا ہے کہ جب معلوم پڑ ہی گیا. ایک نے کسی ایسی حالت کا ذکر کیا تھا جو ہر کے اندر ہے. اس کا فائدہ ہی ہے. ہر کسی کو وہ حالت نصیب نہیں ہوتی. پھر بھی کوئی کوئی بلکہ ایک فیصد ہی اس راہ پہ نکلتا ہے. جو جاتا ہے وہ پاتا ہے. 

اب سوال یہ ہے کہ جاتا کون ہے. یہ ایک فیصد کیسے جاتا ہے. کوئی اس کو کیسے بلاتا ہے. سب سے پہلے یہ کہ ایک فیصد ہے کون. وہ کون لوگ ہیں جو خود کے اندر کو بنانا سنوارنا چاہتے ہیں اور کیوں. کیا یہ خود کا احساس ہے یہ کوئی محسوس کراتا ہے. آسانی یوں ہے. کسی کے دل میں جب سوال جواب هونے لگتے ہیں تو بات خود ہی شروع ہو جاتی ہے. تانک جھانک سے ہی سفر شروع ہوتا ہے. ہر طرف خاموشی. خود کے اندر کا بھی کہنا سننا اور باتیں بنانا بند. جب سب کام بند تو خود سے ملاقات شروع . یہاں سے خود کشی کا سفر شروع بھی اور راہ پر قیام بھی. جو اس پر چڑھ گیا. خود کے دل کی طرف جس نے نظر ڈالی. اب وہ لاکھ جان چھوڑاے کہ میں کس چکر میں ڈل گیا. کچھ نہیں ہونے والا. خود کے بارہ میں اس نظر کرنا ایک مرتبہ آپ کا کام ہے. باقی خود بخود ھوا کرے گا. خود کشی ہو گئی سمجھو. خیر ہی خیر.

                                  خود ُکش کون ہوا. خود ُکشی کیا ہے. خود ُکش تو میں ہی ہوں. جو خود کی طرف دھیان نہیں ڈالنا چاہتا اور خود کو اس ناداں اور ناتواں دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں. فانی دنیا کو بھی مانتا ہوں اور فنا کے معنی بھی جانتا ہوں. بس ذرا بھول جاتا ہوں اور اس میں ہو ُگم ہو جاتا ہوں. کبھی تو گم ہوا میں، خود کو اس ُچنگل سے نکال پاتا ہوں اور کبھی یہیں  دم دے دیتا ہوں. بنا معلوم پڑے ہی میری خود ُکشی ہو جاتی ہے اور مجھے معلوم نہیں پڑتا. خود ُکش حملہ ایسا ہی ہوتا ہے. خود کو دماغی طور پر ماؤف کر دینا ہی خود کو مارنا ہے. ویسے تو خود کا ساتھ مانگنا ہماری فطرت میں الله نے ڈالا ہے. میں خود کی فطرت کو ُسلانے میں بڑا ماہر ہوں. میرے ارد گرد والوں کو میرے سونے کا تو معلوم پڑتا ہے. نہ میرے اندر کے مرنے کا اور نہ ہی خود کے مرنے کا میرے اردگرد والوں کو معلوم پڑتا ہے. 

جس دن میں ہوش سمبھالتا ہوں مجھے معلوم پر جاتا ہے کہ میرا اندر بھی ہے اور باہر بھی. اس کائنات کی ہر شے ایسی ہی ہے. سب کا اندر ہے اور سب کا باہر. انسان کے علاوہ سب ہی خود کے اندر سے واقف ہیں. ان کو جن کاموں پر کھڑا کیا ہے کھڑے ہیں. ہم ہیں کہ فطرت سے انحراف پر کھڑے ہیں. خود کے اندر اترتے ہی نہیں. اگر ُکل انسانیت خود سے دوستی کر لے تو دنیا جنت ہو جاے. انسانوں کو شائد معلوم ہی نہیں کہ خود کے باطن سے رابطہ نہ کرنا خود سے ُمنہ موڑنا ہے. اگر بر وقت ُمنہ سیدھا نہ کیا جاے تو خود کی ملاقات ہمیشہ کے لئے رہ جاتی ہے. اوپر جا کہ بندہ الله کو کیا ُمنہ دکھاۓ گا. 

خود کی خود سے ملاقات کا حاصل کیا ہے. یہ جاننا بہت ضروری ہے. کچھ لوگ خود کو وقت دینا یا خود کے بارے میں فکرمند رہنا، لے کر پیدا ہوتے ہیں. ہم ِان کو سست الوجود بھی کہتے ہیں. خود کے بارے میں سوچنا نہ الله کے بارے میں سوچنا ہے. نہ ہی خود کی صحت یا کام کے بارہ میں. نہ ہی خود کی کوتاہیوں اور خود کی خوبیوں کے بارے میں. خود کا ساتھ خود     خود کا ساتھ دینے سے ہی معلوم پڑے گا کہ کیا ہے. اس کے لئے نہ ملا کے پاس جاؤ نہ صوفی کے پاس نہ ہی فلسفی کے پاس. خود کے پاس او  

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

بدھ ١٤،ستمبر ٢٠١١  لاہور

١٨.٣٧ 

خود کلامی 


کلام کا مقام الله کے ہاں مقبول ترین عمل ہے، الله پاک نے خود کے نبیوں اور پیغمبروں سے بھی کلام کیا، براہِ راست بھی اور جبریل کے ذریعے بھی. کلام  کرنے کو ہی ذریعہ بنایا کہ اس کا پیغام اس کی مخلوق تک بھی ایسے ہی پہنچے اور پہنچایا جاے. اس کا مطلب ہے کہ الله کے ہر پیغمبر اور نبی کو جو بھی حکم الله کی طرف سے ملے اس کو زبان سے ہی کلام کر کے لوگوں تک بات پہنچائی جاے. الله کے پیغمبروں نے یہ کام کس لگن اور خوبی سے کیا ہمیں تاریخ یہ سب تفصیل سے بتاتی ہے. القران میں ہی کافی تفصیل مل جاتی ہے کہ الله کے نبی اور پیغمبیر انفرادی حیثیت میں کیسے کام کرتے رہے اور پھر کیسے ان کا قافلہ بنتا رہا.جب   ایک پیغمبر کو الله کا کلام وصول یا موصول ہو جاتا تو وہ سنتے ہی نکل نہ پڑتا کہ بات لوگوں تک پہنچائی جاے. پیغمبر اس بات کو اچھے سے لیتا. کلام کے ساتھ رہتا.حکم کو خود کے اندر اتارتا. الله کی بات پر غور و فکر کرتا اور اس کو خود کی ذات کا حصہ بناتا. مطمئن هونے کے بعد اس بات کو پہنچانے والا بنتا. ایسا نہیں ہے کہ اس کام میں مہینوں لگ جاتے. الله کی مرضی سے وہ  جیسے جیسے چاہتا،خود کے کلام ،خود کی بات کو اس پیغمبر کے وجود کا حصہ بنا دیتا، بھلے گھنٹوں میں یا منٹ میں. ظاہر ہے کہ نیا حکم ، کوئی بھی نئی بات پہلے خود سمجھنی پڑتی ہے. اِس میں سے پہلے خود گزرنا پڑتا ہے. خود اعتمادی کے لئے اور عوام کے اعتماد کے لئے بھی. پیغمبر کو خود کی بات سمجھانے کا الله کا الگ انداز ہے جو ہمارے سمجھنے  کا ہی نہیں.

دھیان دینے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پہلے خود ایک بات  سے اچھے سے آشنائی ہو، اعتبار ہو، پھر آپ لوگوں تک پہنچانے  کے لئے تیار ہوں.الله نے سب کو کلام کرنے کے لئے زبان اور سننے کے لئے دو"زور کس پہ ہوا؟ دو پہ " کان دیے ہیں. دو کان اس لئے دیے ہیں کے بات کو ہر جانب سے سمیٹ کہ دل و دماغ تک لے جاؤ. اس کو دل و دماغ میں جگہ دو بیٹھو، اس پہ اطمینان کرو. اب اس کو پکا کر کے زبان کے استعمال کے لئے لو. اگر اطمینان نہیں تو کچھ دير بات کو اور دل کا مہمان کرو، خیر ہے. جب تک بات مکمل توجہ کا مرکز نہ بنے، کچے پهل کی طرح بد ذائقہ ہوتی ہے. کچا بد مزہ پهل پھینکا جا سکتا ہے. منہ سے نکلی بات لوٹائی نہیں جا سکتی.اور ہماری ہر بات نہ تو الله کی بات ہے اور نہ ہی مستند. یہ خیال ہر لمحه ہمارے وجود کا حصہ ہونا چاہئے.

پیغمبروں کے لئے بات کا طریقہ بالكل الگ ہے. ان کو بات پر کتنا رکنا ہے. ہمارا نہ تو ویسا ہاضمہ ہو سکتا ہے. ہمارے پاس کوئی ایک بات بھی نہیں جو کہ حرفِ آخر ہو. پیغمبر سے الله کا طریقہ بالکل الگ ہے.الله کی بات الگ ہے انداز الگ ہے ان سے. ہمارے لئے بس یہی جاننا ضروری ہے کہ دین کے حوالے سے پیغبر کی بات الله کی بات ہے اور بس. پیغمبروں سے الله کیسے بات کرتا ہے. ان کے دل کو کیسے سمجھ آتی ہے؟ ان کی سمجھ کا کیا انداز ہے؟ وہ اس سمجھ کے دور سے کیسے گزرتے ہیں؟ اس پہ ہم کو غور ہی نہیں کرنا. پیغمبری مکمل ہوئی. پیغام بھی مکمل ہوا. یہ اختتام ہوا ہے کل انسانیت کے لئے. ہم اب خود کی کسی بھی بات کو، بھلے کسی حوالے سے ہو ، الله کی وحی کہنے کا جواز رکھتے.  وحی خاص در خاص اس کے خاص بندوں کے لئے تھی. خاص یعنی نبی اور پیغمبر. ہم عام انسان بھی خاص ہو جاتے ہیں بہت سے حوالوں سے. ہم وہ خاص نہیں ہوں گے کہ الله ہم سے خود کلام ہو جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہوا. ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم پر وحی نازل ہو جیسے کے ہوتی تھی. وحی کی بات اور الله کے خود کلام کی بات اور حضرت جبریل کی بات ماضی کا صیغہ ہو گئی ہے.

یہ ساری تمہید اس لئے بندھی تاکہ کلام کا مطلب ذہن پر آسان ہو رہے. ہم پیدائش سے ہی لوگوں کو ملتے ہیں. محبتیں کرتے ہیں، کرواتے بھی ہیں. ہم محبتیں بانٹتے بھی ہیں. یہ سب عمل سے بھی ظاہر کرتے ہیں اور زبان کے الفاظ سے بھی. محبت کرنے کا اور تعلق بنانے کا جذبہ یہ فن الله پاک نے انسان میں گوندھا ہے. ہر انسان اس کو بخوبی نبھاتا ہے. کسی نہ کسی سے. کہیں نہ کہیں. کبھی نہ کبھی. ہم کو لگاؤ کا فن خوب آتا ہے. مگر کہ دوسروں کے ساتھ. اچھا ہے، ہم کو سب کا ہی خیال رکھنا چاہئے. انسان کو اور انسانیت کو پیار کی توجہ کی بہت ضرورت تھی اور ہے بھی. یہ اچھا عمل ہے. ہم کو اس کی تلقین بھی کرنی چاہئے. خود کے عمل سے اور خود کی زبان سے بھی.ہاں اس ساری بات کا، اس سارے  عمل کا ایک اور بھی گاهق ہے جو کر کے ہاں  نظر انداز ہو جاتا ہے. کسی کے ہاں کیسے کسی کے ہاں کیسے. مزے کی بات یہ ہے کے معلوم ہی نہیں پڑتا تاحیات کہ مجھے بھی توجہ چاہئے. مجھے بھی پیار چاہئے. باہر سے بھی . باہر سے ملتا بھی ہے، توجہ کی صورت میں تو کم ہی، ہاں تحائف کی صورت میں، یہ اور طرح. اس سب کی بھی ضرورت ہے. لوگوں کی بھی، تحائف کی بھی. جو سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور جس طرح ضرورت ہے وہ شاذ و نادر ہی کسی کو مل پاتی ہے. ایک وجہ تو ہے کہ مجھے معلوم ہی نہیں پڑتا اس تھوڑی سی حیاتی میں کہ مجھے ضرورت ہے. اور دوسرے کہ اس طرح سے ضرورت ہے. اس کے بغیر زندگی ویران ہے، کھنڈر ہے، ادھوری ہے.

 مجھے کوئی میرا پتہ ڈھونڈے نہیں دیتا. میں صلاحیت رکھتا ہوں نہ کہ دوسروں کے پتے معلوم کرتا پھروں. میں سب کی سنتا ہوں. سب کو کہتا بھی ہوں. مگر کہ ایک سے بات نہیں کرتا. اور اس سے بات نہ ہی کر کہ میں ایک خوبصورت انسان سے گفت و شنید سے محروم رہتا ہوں. وہ خوبصورت انسان ہوں میں خود.  جس سے میں کبھی بات نہیں کرتا. جس کی میں کبھی نہیں سنتا. سننا یہ نہیں  ہے کہ آج آٹا ختم ہو گیا تو آج شمپو، آج كار خراب ہو گئی اور آج خانسامہ چلا گیا. آج مہمان انے ہیں. آج کھانے پہ جانا ہے. یہ سب بھی زندگی ہے مگر. میں کہاں ہوں. میں بھی خود کی ملاقات چاہتا ہوں. وہ ملاقات جو ہم دو کے درمیان ہو. میں اور میں. اس کا بروقت انتظام ہو. ملاقات ہو میری مجھ سے. بات ہو میری مجھ سے. یہی واحد ذریعہ ہے کچھ پانے کا، کچھ سمجھنے کا اس سے پہلے کہ خالقِ حقیقی سے جا ملوں.خود کلامی کے لئے مواد نہیں چاہئے. خود کو خود کے پاس لاو، بات ملاقات خود شروع ہو جاے گی. رکو، بیٹھو، خود کی طرف دیکھو. خود کے حسن کو کھودو. کچھ بھی کہیں دور نہیں چھپا . بس ذرا سا وقت روزر  


>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.

٢٠١١ لاہور ١٤ ستمبر 

 بوجھ

                            زندگی بوجھ نہیں ہے مگر کہ جو اس کے لئے سامان زندگی ہے، ہم زندگی کو بھاری کر دیتے ہیں وہ سب جمع کر کے جس کو چھوڑ کے جانا کہیں  بھی مشکل ہے. کسی کو دینا تو دور کی بات ہے ہم تو کسی کو خود کے سامان کی طرف دیکھنے بھی نہیں دیتے. جس جس شے نے زندگی کو آسانی دینی تھی وہ وہ شے ہی آسانی کو ختم کر دیتی ہے، سکون تباہ کر دیتی ہے، حبلاسا سا پڑا رہتا ہے ہر وقت، بس مجھ کو پہنا اوڑھا دیکھیں لوگ اور ڈھیروں تعریف کریں اور وہ ہی میرے مال کی حفاظت بھی کریں. ایک تو اس بات کی گواہی دیں کہ یہ میرا حق تھا اور یہ کہ اس میں کوئی برائی نہیں اور یہ آخرت کی کمائی ہے بھی. وہ ایسے کہ اسی لئے تو ملا ہے کہ یہاں بھی آسانی ہو اور وہاں بھی.                                          آس پاس والے جب میرے طور طریقے دیکھتے ہیں للچائی نظروں سے تو ایسا لگتا ہے کہ الله نے یہ بھی میرا حق بنایا ہے کہ لوگ حسد کریں اور رشک بھی مجھ سے. گر کوئی میری طرف نہ ہی دیکھے تو دل ڈوب سا جاتا ہے کہ الله اس کو پوچھے گا اس نے مجھے سراہا نہیں اور میری کوشش کا ذکر نہیں کیا . جب تعریف کی بات آتی ہے تو انسان پہلے خود کی کوشش لگن اور محنت کی بات ذہن میں لاتا ہے اور اس ہی کی تعریف کرتا ہے خود بھی اور باہر کی طرف بھی للچائی نظروں سے دیکھتا ہے .اگر کوئی کہے الله نے بہت نوازا ہے تو کچھ خاص اچھا نہیں لگتا کہ پہلے میرا ذکر کیوں نہیں آیا. ان تھک کام تو میں نے کیا ہے، ہاں الله نے بھی ہاتھ بٹایا ہے بعد میں مگر تھوڑا ہی.باہر  سے آنے والا ، یعنی آخرت کی سوچنے والا اگر مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کرے تو لگتا ہے یا تو میرے مال میں سے مانگ رہا ہے یا حسد میں ہے، آنے والا اعمال کی بات کرے تو خیال آتا ہے کہ تیرے اعمال اتنے ہی آخرت رخ ہوتے تو کہیں تو زندگی میں آسانی ہوتی، مال کی فراوانی یا صحت ہی ہوتی، اولاد ہی لائق ہوتی. طرح طرح کے سوالات خود کو ڈھارس اور آنے والے کو دل ہی میں ذلیل کرتے ہیں. کسی کی عقل سمجھ والی بات تھوڑی دیر رک کہ سوچنے پر بھی راضی نہیں ہوتی کہ دیکھ ہی لیا جاے کہیں سچ ہی نہ ہو. خیال ہے کہ اگر الله کے ہاں کچھ غلط ہو رہا ہے تو مال چھین لے، یا خود بتاۓ کہ صحیح نہیں. میں لوگوں کی بات کیوں سنوں جن نے خود کوئی ترقی نہیں کی اور آ جاتے ہیں بات کرنے مجھ سے جلنے. 

                                     جینا بوجھ کب لگنے لگتا ہے؟ جب سمجھ نہ آے کہ زندگی کیا ہے، کیوں چھوڑ کے جانا ہے جب ملا ہے تو، ابھی تو اس کو دیکھنے خوش هونے کے دن تھے. کیا ہو گا اور کیوں ہو گا. میرے مال کا کیا ہو گا. کوئی سنبھال پاۓ گا کہ برباد کر ڈالے گا. میں کیا کروں اب؟ مال بناوں کہ نہیں؟ سوال اٹھاون کہ نہیں؟ یہاں دل لگاوں کہ نہیں؟ خود کو ہی شاباش دوں یا الله کو بھی یاد رکھوں جس کے دماغ میں یہ سب چلے گا. اتنے سوال اتنی سوچیں بے بہا فکریں. ایسا شخص اگر تو سیدھے راستے چل پڑا تو آسانی ہی آسانی ہے. جینا بوجھ نہیں بنے گا. ہر جان جانتی ہے کہ حساب بھی ہونا ہی اور کتاب بھی موجود ہے. ایسا کیا.اگر فیصلہ کر لو تو سب آسان.زندگی بھی ہلکی آخرت بھی

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

١٩  اگست ٢٠١١، ١.١٠ am                                                                   ١٨ رمضان 

  رمضان پروگرامز 

آج کل رمضان ہے، بہت مبارک وقت چل رہا ہے. لگتا ہے خود پر کچھ کام ہو ہی جاے گا. ہر کوئی کام کرنا چاہتا ہے. دل سے بھی متعدد لوگ کام کرنا چاہتے ہیں معاشرے کے لئے بھی. ایک سب سے آسان طریقہ تو یہ لگتا ہے کہ خود پڑھا جاے قرآن اور گھر کے بچے، ہمسایے، ملازمین اور رشتہ دار کو اکھٹے کر کے قرآن کا دورہ کرا لیا جاے. اس طرح کچھ فائدہ هونے لگتا ہے. اگر آپ کی پہنچ ہو تو آپ ریڈیو پر جا کر کام کریں اور الله کا نام پیغام لوگوں تک پہنچائیں. یہ بھی اچھا خیال ہے اگر کہ آپ کو کچھ آتا جاتا ہے تو.یہ کام کرنا ہے اگر پہلے سے تیاری ہے بتانے کی. بتانے کی تیاری کیا ہے؟ سوال تو بنتا ہے نا. وہ ہے پہلے خود سمجھ کے مقام پر ہونا کہ جو آپ بتانا جا رہے ہو وہ آپ کو ازبر ہے اور اپ خود بھی اس کے عمل کرنے والے ہو. دل سے پیغام دینا ہے نا کہ زبان سے بس.ایک اور بھی طریقہ ہے اور شائد سب سے موثر، وہ ہے ٹی وی کے ذریعے بات کرنا. یہ بہت ہی اچھی سوچ ہے اور سب سے مفید. وہ اس لئے کہ آج کل جیسا کہ رمضان مبارک ہے اور جو نہیں بھی ٹی وی دیکھتا عام زندگی میں وہ بھی ٹی وی کھول لیتا ہے اور خاص طور پر ہمارے بزرگ حضرات تو ضرور ٹی وی دیکھتے ہیں کہ دینی پروگرام سے کچھ تو دین کا معلوم پڑے گا اور معلومات میں اضافہ ہو گا. بچوں کو بھی گھیر گھار کے ساتھ بیٹھا لیتے ہیں کہ کوئی بات ان کے ذہنوں میں بھی دین کی بیٹھ ہی جاے گی.میں بھی ان میں سے ہوں کہ جب ایک آیت میں سے گزر گیا اور اس کو زندگی ک حصہ بنا لیا، یعنی ہڈ بیتی ہو گئی تو بتانے چلا. اس ہی حوالے سے ٹی وی کہیں ٹی وی والوں کو میری بھی خبر ملی اور مجھ کو بھی بلا لیا گیا. خیر سے ریکورڈنگ ہو گئی عروج ٹی وی پر. ان کو لانچ ہونا تھا پہلی رمضان المبارک پر. طالب سحاب اور میں نے حق بات کی اور ٹی وی والوں کو کہا کہ کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو گی یقینن، انسان ہوے ہیں نا. ان کو تو چینل سیٹ کرنے میں ہی اتنے دن لگ گے کہ میری تو امید ہی ٹوٹ گئی کہ کوئی ایک قسط ہی میں دیکھ پاؤں گی.اگلے دن کی بات ہے پہلا روزہ تھا کوئی ایک بجے فون آیا کہ آ کر ملیں. میں مصروف تھی. خیر تین بجے کا وقت طے ہوا. کسی شخص نے کہا تھا میں ملنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی ذھن میں رہیں پروگرامز کے حوالے سے. وہاں پہنچی. بھلا سا پروڈوسر تھا. اچھی بات ہو رہی تھی کہ بولا آپ آج ایک پروگرام کر دو پہلی رمضان کا. میں حیران، کہ آج روزہ ہے اور ان کا  رمضان کا پروگرم ابھی نہیں بنا اور یہ کسی کو بھی پکڑ کر بیٹھا دیں گے. ان کو کیا معلوم کہ میں کون ہوں اور جانتی کیا ہوں دین کے بارہ میں. کسی کو کوئی سروکار نہیں. کسی نے میرا نمبر دیا اور میری باری آ گئی. میری بات تو میرے استاذ صاحب کے بغیر ادھوری ہے، خدا ہم دونوں کی مغفرت فرماے،آمین.ہم ٹی وی پہ جاتے اس لئے نہیں گھبراتے کہ ادائیگی تو یہ لوگ کرتے نہیں تو ہم تو من کی بات کہیں گے الله رب العزت کو حاضر جان کر. جتنا کہ علم ہے اب تک، باقی وہ معاف فرمانے والا ہے. خیر ریکارڈنگ ہو گئی اور تیس پروگرامز کا بھی طے  ہو گیا کہ ہم کریں گے. استاذ صاحب سکالر ہیں اور ریسرچر بھی. متعدد کتب کے مصنف بھی. اعلی کردار کے مالک ہیں ماشا الله. دین کی اچھی سمجھ کے مالک ہیں مگر اس کو نہیں معلوم جو ہم سے بات کر رہا ہے. ان کو تو میں نے زد کر لے بلایا، وہ تو مجھ اکیلی کے ساتھ ہی تیس دن کام  سے خوش تھے.رونا یہ تو تھا میرے حوالے سے. میں نے پہلے خود کا ذکر کیا کہ بات کرنے سے یہ نہ لگے کہ ان کو تو عادت ہے لوگوں کو باتیں بنانے کی. آتا جو نہیں ہے کچھ خود. بات یہ ہے کہ میں خود کا پروگرام بھی دیکھتی ہوں بہت تکنیکی غلطیاں بھی ہیں اور یہ بھی کہ اگر کوئی بات زبان سے منفی یا مثبت مگر کہ غیر موضوع بات نکل جاے تو اگر آپ خود نوٹ نہ کرو تو کوئی نہیں پکڑتا، کیسے پکڑے، کسی کو کچھ آتا جاتا ہو تو نہ. میں نے کہا جہاں جہاں ہم گئے پروگرام کے لئے ، ہم ٹی وی، عروج، والے ٹی وی. پی ٹی وی، پہ کہ آو بات کریں بیٹھ کر دین کے حوالے سے. پروڈوسرز کو معلوم تو ہو کہ دین کیا ہے. ان کو بس گھنٹا یا آدھ گھنٹہ کی جگہ بھرنی ہے کسی دینی پروگرام سے. نہیں فرق پڑتا کہ وہ ریما ایکٹرس کو سامنے بیٹھا لیں یا ماریا بی ،فیشن ڈزائنر کو. یہ نہیں کہا جا رہا کہ کس شعبہ میں کام کرنے والے کو بات کا حق نہیں ہے. ہر جاننے والے کو حق ہے جو دین کو جانتا ہو اور عمل کر رہا ہو. اس کے علاوہ کوئی شکایت نہیں ہے. ہر کسی کو حق ہے کہ دین جانے اور آگے پہنچانے بھلے وہ کسی کماش کا ہو. ایک اور کلچر ہے کہ مشہور ہستیوں کو بلایا جاے، بھلے کوئی جرنلسٹ ہو یا کھلاڑی، گلوکار ہو یا سیاستداں. ان کا شائد، بلکہ یقینن فائدہ تو ہے کہ لوگ ان کی شکل دیکھنا چاہتے ہیں، مگر کیا گیارہ مہینے ان کی شکل دیکھنے کو کافی نہیں ہیں. صرف پروگرام کو چلانا ہے اور بس. شکل کے عاشق بات نہیں سنتے، اس لئے چنیل پہ شکل لے لو جو لوگ دیکھ کہ خوش ہوں بات کی خیر ہے. اگر کچھ غلط شلت کہ دیا دین کا تو کیا ہوا کونسا کسی کو معلوم پڑتا ہے. اگر معلوم بھی پڑا ہے تو کون پکڑنے آتا ہے . کسی کو کیا پڑی. کوئی گالیاں دے گا بھی تو گهر میں دے گا ہم کو کیا. اور ویسے بھی جو بتا دو چند کے علاوہ سب جانتے ہیں کہ سچ ہے. جو واقعی جانتا ہے اس کو کیا پڑی کہ ٹی وی دیکھیے. تو خیر ہے.       ایک تو یہ کہ کون انکر ہو اور دوجے یہ کہ سامنے جو بچے یا بڑے پکڑ کر بیٹھا دیے جاتے ہیں ان تو آسان سوال بھی نہیں آتے. مطلب کہ سوال کیا کریں     تاکہ ایسا جواب اے اور لوگ دین جان سکیں.         خیر ہی تو نہیں ہے ںا. کس کو بتایا جاے کہ ہر شے سے کما ہی رہے ہو ، دین کو تو چھوڑ دو، یہ کمانے کی نہیں نبھانے کی چیز ہے. کسی کے جنازے نکالنے سے کچھ نہیں ہو گا. behind the scenes لوگوں تک پہنچنے سے کیا ہو گا. ہم کو خود کے معیار کو صحیح کرنا ہو گا. غلط کو غلط کہو. گھٹیا پروگرام نہیں دیکھو. معیاری بات نہ ہو تو کوئی نہ دیکھیے اور بس. دین شکل کا نہیں بات کا نام ہے. 

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

ملتان] ١٤ جولائی ٢٠١١ جمعرات] 

 خواہشوں کے جنگل میں اتنی بھیڑ ہوتی ہے عمر کی مسافت میں راستہ نہیں ملتآ 

زندگی کا سفر شروع ہوتا تو سادہ سا ہی ہے . بس ماں کا پتہ ہوتا ہے، نیند کا اور بھوک کا، اور کچھ کا نہیں. مگر جیسے جیسے عمر آگے نکلتی جاتی ہے، دنیا کی سمجھ آتی جاتی ہے. ویسے نہیں آتی جیسے کہ آنی چاہئے، مگر کہ ویسے جیسے کہ دنیا دکھا رہی ہے یا میں دیکھنا چاہتا ہوں. چالاکی اور آگاہی اور پھنساونے اور خالی، خیالی پلاؤ، کہیں ٹھرنے ہی نہیں دیتے. معصومیت ایسے ُاڑ جاتی ہے جیسا کہ تیز ہوا میں کبوتر کا پر. کبھی کسی پہ نظر کبھی کسی پہ. اتنا چل چلاؤ اتنی بھاگ دوڑ کہ خود کے گریباں میں جھانکنے کا لمحہ کب آتا ہے اور کب ہاتھ سے پھسل جاتا ہے معلوم ہی نہیں پڑتا. پیدائش کے وقت، ضرورت کا پتہ ہوتا ہے ، خواہشات اور بےپناہ خواہشات کا پتہ تو صرف غور کرنے سے اور جائزہ لینے سے یا ارد گرد پر غور و فکر کرنے سے ہی آہستہ آہستہ میرے اندر بھی جنم  لینے لگ جاتا ہے. 

خود کو تھامنے روکنے کا گمان بھی نہیں گزرتا. اور گزرے بھی کیسے جب ہر کوئی ہر طرف ایسا ہی ہو جیسا کہ میں بننے جا رہا ہوں. اور ایسے میں کوئی ساتھی کوئی راہنما بھی نہیں ٹکرتا کہ روک لے یا ٹوک ہی دے. اور ٹکرے بھی کیسے، آنے والا بھی ڈرے اور میں، وہ اپنانے سے بھی ڈروں.اس ڈرنے ڈرانے میں جھنڈ اتری کب اور کب بالوں میں سفیدی آ گئی معلوم ہی نہیں پڑا. کھینچی کھال چہرے کی کب ُچنے ڈوپٹے سی ہو گئی یہ معلوم کرنے کو ہاتھ کو وقت ملا نہ ہی نظر کو. خواہشات کا گھنیرا جنگل جوں کا توں بلکہ مزید گھنا اور گھناونا. اور میں اس میں پہلے سے بھی زیادہ تنہا. نہ کوئی فاصلہ کم ہوا نہ ہی کوئی بھوک پوری ہوئی. آج میرا تو چل چلا ہے ہی، نقش قدم ہیں کہ جانو کوئی فائدہ نہیں بھاگنے کا. رزق کا کوٹہ مقرر ہے اس کا ہی انتظام کرنا ہے اور بس. نہ اس سے زیادہ نہ ہی کم. اوپر والا اگر بڑھا دے تو بڑھا دے گھٹا دے تو گھٹا دے

ہر کوئی خود ہی بے لگام سا ہے. کوئی بیکار کے خوابوں میں کوئی خود ہی کے جوابوں میں قید. کبھی کبھی کوئی دانائی سر اٹھاتی ہے، جھنجلاتی ہے، کہ کیا سراب ہے یارب کوئی کنواں کیوں نہیں دکھتا؟ مگر جلد ہی ہار مان جاتی ہے. سب کو کرتا دھرتا دیکھ کہ لگتا ہے وہی راستہ ہے. وہی زندگی ہے آخرت رخی اور یہی سچ ہے. یہ جنگل مجھ کو آگے دیکھنے ہی نہیں دیتا. لوگ جھنڈ در جھنڈ، رونقیں گلی گلی. اور میں کبھی کسی رخ کبھی کسی رخ. سمجھ نہیں آتا کہ یہ بھیڑ صحیح سمت ہے یا میں انجان کھڑا ہوں. یہاں سے تھک کہ گھر کی راہ کرتا ہوں تھکا ہارا. سوچتا ہوں کس کی جانب دیکھوں جو میری آنکھوں کے آنسو پڑھ لے اور ہاتھ تھام کے خاموشی میں کہے کہ سب ٹھیک ہے. 

 بھاگتے بھاگتے سانسوں کی بھی شام ہوئی جاتی ہے مگر عقل اکثر ہی ساتھ نہیں دیتی. یہ خیال نہیں گزرتا کہ سوچوں لالچوں امیدوں خواہشوں سے ذرا دامن ہٹا کے، [چھڑا کے نہیں کہا میں نے] دیکھوں تو سہی کہ افق کے اس پار کائنات کے کیا رنگ بکھرے ہیں. کھڑکی سے باہر نیچے دیکھوں تو کیچڑ ہی کیچڑ. اوپر دیکھوں تو ویران آسمان. نہ نیچے ہی امنگ کا کوئی بلبلہ نہ اوپر ہی کوئی چمکتا ستارہ. آج نظر بھی دھندلا گئی ہے اور عمر بھی بھاگتے بھاگتے کبھی بھیڑ کی نظر کبھی بیاباں کی. اب جو کہتا ہوں اس کو چہرے کی جھریوں میں بنا ہے ملا کے چمکتے تاروں میں پرویا ہے. یہ گیان کا وقت ہے اور دھیان کا بھی، زبان کو بند رکھو اور ذرا سوچ کو بھی جو کہیں ٹھرنے نہیں دیتی اور وقت کے خلاف بھاگتی ہے بھگاتی ہے. کان کھولو اور دھکوں سے بچو. چھوٹا سا سبق ہے.

جیسے ہو جتنے ہو الله کے ہاں قبول ہو خود کو قبول کرو. نہ خواہشوں کے پیچھے بھاگو نہ ہی ان ہو خود کا پیچھا کرنے دو. نہ بھیڑ کی طرف دیکھو نہ جنگل کی طرف نہ ہی صحرا کی طرف. جگہ دیکھنے کی ایک ہے اور بھگانے کی بھی. بھاگ کہ خود کے پاس او اور خود کے گریباں میں دیکھو. باقی سب الله کے سپرد.  

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>


ملتان ١٢ جولائی ٢٠١١ منگل 

بڑھتی آبادی کا ذمہ دار کون

اب تو یوں ہے کہ یہی رنگ تماشا ٹھہرے .........................

کوئی کہتا ہے کہ غریب طبقہ کو بچے پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام ہے ہی نہیں!صحیح ہے، نہیں ہے کام، ہم نے کوئی کام ان کے لئے چھوڑا ہی کہاں ہے، نفری بڑھانے اور خود کی قسمت پہ رونے کے سوا، ان کو کوئی یہ تو بتائے کہ زندگی کیا ہے، زندہ رہنے کا مطلب کیا ہے، اور زندگی سے کیا چاہنا چاہئے. زندگی چولہا چوکا کا نام ہی نہیں ہے، نہ ہی اس کا نام ہے کہ خود کو کمی کمین جان کر آرام سے ہر ظلم اور دکھ برداشت کیا جاے. بس یا قسمت یا نصیب کہہ کر منہ بسور کر دل میں ہی گھٹ کر مرا جاے.  وافر پیسہ نہ ہونا ایک طبقہ کی پہچان بن گیا ہے. ان کی شکل عقل سب نام پہچان کی نظر ہو گئے ہیں، کوئی جتنا ہی اچھا کام کرے یا کرنا چاہے کوئی سراہتا نہیں، کوئی بڑھاوا نہیں دیتا. غربت کا طوق ایسا گلے میں ڈلا ہے کہ سب سوجھ بوجھ اس پہچان کے پیچھے گل سڑ جاتی ہے اور غریب انسان بھی سر پیر کے بغیر رہ جاتا ہے. پس افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کو معلوم ہی نہیں پڑتا اور وہ اس پہ غمزدہ بھی نہیں ہوتا.

ان کو کیا معلوم کہ جینا کس صبح کا نام ہے. چڑھتا سورج بھی نوید ہے کہ تم بقید حیات ہو، اور یہ شکر کا لمحہ ہے،خود کے هونے پہ خوش ہونا. نئی صبح کے انتظار میں ہونا اور صبح ہوتے ہی اچھل پڑنا کہ میں ہوں. میں کیا ہوں اس سے آگے کی داستان ہے. اس مسکراہٹ پہ غریب کیسے کھڑا ہو جس کی آنکھ اس آواز سے کھلے کہ "مرگئے،کام پہ نہیں جانا، اٹھو دفع ہو جاؤ." اور بغیر ناشتہ، چاے، نہاے یا کپڑے بدلے، یا کچھ اور، کئے بغیر دنیا کی بھیڑ میں گم ہونا پڑے. تین سال کی عمر سے کبھی بچپن کا احساس ہی نہ ہوا ہو، ماں نے سر میں پیار سے کنگی نہ کی ہو یا سکھ کا نوالہ ہی منہ میں ڈالا ہو. اس کو کہتے ہو،اس کو کوئی کام نہیں ہے. کہاں سے آے کام یہ کام کی پہچان یہ کام کا دھیان کہ کچھ کرنا چاہئے. پیار چاہئے جینے کے لئے، خود نہ ملا ہو تو پیار کی پہچان کیسے ہو گی اور بانٹا کیسے جاے گا. خود کے پاس ہو گا تو دیا بھی جاے گا. فقدان کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہی بانٹے گا !آگاہی کی سوچ، آگاہی کے تقاضے، خود کی عزت، خود کے باطن کی حفاظت، عزت نفس ہر کا حق ہے بھلے وہ امیر ہے یہ غریب، کالا ہے یہ گورا  جاہل ہے یہ عقلمند. ایماندار ہے یا بے ایمان، مسلمان ہے یا کسی اور مذھب کا. انسان ہونے کے ناطے سب ایک سے انسان ہیں بھلے کہیں بھی اور کیسے بھی رہتے ہوں. حقوق کے لحاظ سے سب برابر ہیں. اور ہم کسی بھی لحاظ سے کسی کو اس بنا پہ نہیں دھتکار سکتے کہ وہ نہ ہی سیکھ سکتا ہے سو اس کو موقع نہیں دینا چاہئے. موقع پانا اس کا حق ہے جو آپ کے ذمہ ہے، اس کا اوپر جا کہ حساب ہو گا. آپ کے حواس کو جب زبان ملے گی تو بتائیں گے اپ نے کس کس کو کہاں کہاں اور کب کب نظر انداز کیا اور کب حقیر جانا. سرخرو ہو کر جانا ہے. کوئی آپ کی وجہ سے غربت کے کٹہرے میں نہ کھڑا رہے. کوئی آپ کی وجہ سے نہ دھتکارا جاے.

گیلی مٹی کی سونگھ بھی خوشی دے سکتی ہے. صبح سویرے پرندوں کی بولیاں آنکھ کھلنے سے پہلے ہی چہرے پہ مسکراہٹ لے آتی ہیں. الله کا شکر ہے کہ اس نے مجھ کو انسان بنایا، گدھا یا مچھر یا درخت یا پتھر نہیں. اور اس کے چند تقاضے بھی ہیں. وہ تقاضے کسی نے نہیں بتانے یا مجھ سے چھیننے.  مجھے خود ہی تلاش کرنے اور پورے کرنے ہیں. غریب کو معلوم ہے کہ یہ سب امیر شخص کے لینے کے مزے ہیں. کہاں میں اور کہاں الله کی خوبصورت کائنات، یہ تو عقل والوں،پیسے والوں، یعنی بڑے لوگوں کے لئے ہے. اب یہ بڑے لوگ کون ہیں؟ انسان ہیں یا جن اور فرشتے؟ یا بڑے لوگوں کے سینگ ہوتے ہیں؟ یا وہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں؟ ان کو کیا لگا ہے جو مجھ سے الگ ہے؟ یہ سوچ غصہ تو دلاتی ہے مگر مثبت سوچنے نہیں دیتی. سب مثبت سوچیں کیا پیسے بانٹنے والا کیا ہی ہاتھ پھیلانے والا.

پیسہ  اچھا کھلا پلا سکتا ہے. اچھا پہنا سکتا ہے. الله کا یہی نظام ہے.اس نے کسی کو کیسا دیا کسی کو کیسا، مگر کل انسان کو اس نے سوچ دی،مثبت سمجھ دی. آگے بڑھنے کی استطاعت دی. اور یہ حق کسی کا نہیں کہ کس کے پاس پیسے نہیں اس کو کہا جاے کہ وہ بیوقوف ہے، پیدل ہے. ہم جب کسی بھی طبقہ کو ایک ادنی مقام میں بند کر دیتے ہیں تو نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کا دھیان خود کے اندر ہی گھومتا رہتا ہے.

بچے ہماری دولت ہیں، زیادہ بچے ہمارا سرمایا ہیں، زیادہ بچے ہماری طاقت ہیں یہ سب بند ذہن اور فارغ ذھن اور کنوے کے مینڈک ہونے کی نشانی ہے. یہ شائد لکھنا یا پڑھنا مناسب نہ ہی لگے مگر کہ سچ ہے. جس کے پاس وسائل نہیں اس کو بچوں کے اکٹھ کےعلاوہ کوئی سرمایا نظر بھی نہیں آتا. حکمرانوں اور امرا نے عوام کو بتا رکھا ہے کہ تم کو سوچنے کا کوئی حق نہیں ہے.اڑنے کا بھی نہیں اور خواب دیکھنے کا بھی نہیں. اب جو بدلاؤ آ رہا ہے وہ بھی خوفناک ہے.بدلاو تو آ رہا ہے مگر غصہ سے، بغض سے، بدلہ لینے کی شدت سے. ختم کر دینے کی لگن  سے. یہ سب اتنا ہی خوفناک ہے جتنا کہ ابھی کا زمانہ. اس بدلاؤ کا کوئی فائدہ تو هونے والا نہیں ہے. اس لئے کہ بدقسمت عوام کا خیال ہے کہ ہماری بدقسمتی کا راز امراء کے ہاتھ میں ہے، اگر یہ چاہیں تو ہم صاف پانی پی لیں، یہ چاہیں تو ہم بھی تازہ ہوا کو محسوس کر لیں. ہماری حس اس قدر نفیس کہاں کہ الله کی قدرت کو پہچان سکے، یہ تو دماغ کے لوگوں کا کام ہے.ہمارا کام تو ہے ان کی فرمانبرداری اور ان کا الله کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا. اس سوچ پہ کھڑا بھلا کیا ہی بدلاو لے گا. اس کے ہاں کیسے کوئی حوصلہ ہمت جوش جذبہ پیدا کرے گا. 

ان کے ذمہ دیکھنے سوچنے محسوس کرنے کا کام لگا دو، دھیان نفری سے ہٹا دو. بہت پرچار ہوا کہ یہ ہے وہ ہے، سب غلط ہے. اب آؤ سب کو بتائیں ان کو خود کو کہ کرنا کیا ہے اور سب ٹھیک ہو جاۓ گا ان شاء اللہ.
<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

٢ جولائی ٢٠١١ ،ہفتہ، ملتان

 فاصلہ نہیں گھٹتا دو گھڑی کی قربت میں. چار پل کی چاہت میں، لوگ لوگ رہتے ہیں،قافلہ نہیں بنتا.

فاصلہ گھٹتا ہی نہیں ہے بھلے قربت جتنے وقت کی بھی ہو. قربت کیا ہوتی ہے، کیا قربت یہ جاننے کا نام ہے کہ مجھے کیا کھانا پسند ہے یا یہ جاننے کا نام ہے کہ میں کب کب جاگتا سوتا ہوں ،یا یہ کہ مجھے کونسا رنگ پسند ہے. مجھے صحافت کا شوق ہے یا سیاحت کا، یہ فاصلے سے باہر کی بات ہے.فاصلے کم کبھی نہیں ہوتے نہ محبت میں نہ ہی کڑواہٹ میں. تعلق کے ذائقے خود کی جگہ پہ کھڑے رہتے ہیں اور فاصلے خود کی جگہ پہ. اور ہم خود کی جگہ پہ منجمد .کہانی کو فلسفہ بنانا ہو تو اور بات ہے، مسلہ بنانا ہو تو اور. لکھنا لکھنا ہو تو اور. زندگی کہانی نہیں ہے زندگی وہ شے ہے جس کا حساب دینا ہو گا. اور دیتے رہتے بھی ہیں ہم ہر لمحہ جب تک سانس چلتی ہے. جمع کرتے ہیں وہ چاہتیں  اور عبور کرتے ہیں وہ فاصلے جو ان سانسوں کے بعد اس کے حضور ملیں گے ،انشا الله.

فاصلہ اور زندگی اور  قربت الگ الگ مقامات ہیں. زہن میں قربت اور ہی بات ہے. "الله سے قربت، دین سے فاصلہ دین سے قربت الله سے فاصلہ." کسی کو فرق نہیں پڑتا، سوچنے کہ مقام پہ مگر. مجھے تم سے محبت ہے میں تمھارے قریب رہنا چاہتا ہوں، تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں، تمہارا بھلا چاہتا ہوں، تمہیں بہت سے مفت مشورے دینے ہیں. یہاں تک تو سب ہی ٹھیک ہے. اب آتی ہے اصل باری، نبھانے کی، دل و جان سے.  وہ ہے موقع پر مددگار ہونا، موجود ہونا لمحہ کی مناسبت سے. کیا ہم کسی کے لئے، کسی ایک کے بھی لئے موجود ہوتے ہیں کہ اس کے لئے صرف اس ہی کہ ہو کہ، اس کے وقت پہ موجود ہوں، جیسا کہ موجود ہونے کا حق ہے. یہ حق میرا ہے اس پہ، اس کا ہے مجھ پہ. جیسا کہ قربت کا مطلب ہے. جیسا کہ ماننے جاننے اور محسوس ہونے کا حق ہے. حقوق کی ادائیگی ہی محبت ہے، احساس قربت اور محبت ہی مجھے موجودگی دیتا ہے وجود دیتا ہے، پہچان کراتا ہے مجھ سے کسی کے کرنے کا کیا ہے، مجھ سے کسی کو کرنے کا کیا ہے. جب نہیں ہوتے تو قربت کیسی. مجھ سے میری، تیری. تجھ سے تیری خود کی، میری.

قریب رہنا، قریب ہونا. قربت محسوس کرنا یا چاہنا. سب الگ الگ ہیں، اکھٹے بھی ہو سکتے ہیں کسی کسی میں کبھی کبھی. مگر ہم حساس نہ ہوں تو باطن تک نہیں پہنچ سکتے. جب باطن سے دور تو قربت سے دور. اس دوری کا احساس کس کو ہے! نہ ہی کوئی یہ ہساسیت سیکھتا ہے، حالانکہ سب اندر ہی ہے بس دھیان ڈالنا ہے خود کے گریباں میں، خود کی آگاہی میں. نہ ہی سیکھنا چاہتا ہے. مگر بات تو صاف ہے جو سیکھے گا نہیں سکھائی گا کیسے.  اب چاہے کسی کے ساتھ گھڑیاں گزارو یا گھنٹے یا زندگی کچھ ہونے والا نہیں. ہم کو عجیب عادت ہے، بنٹ بنٹ کے جینے کی. کسی کے ساتھ دل سے هونے کی کسی کے ساتھ دماغ سے اور کسی کے ساتھ وقت میں بندھنے کی. ایسی زندگی کے عادی کو کوئی کیا سکھاۓ گا. اور کوئی جیالا ہی ہو گا جو خود کو یکجاہ کرے گا اور اسی مقام پہ جئے گا. 

چار پل کی چاہت میں،اس چاہت سے ہم اس قدر کے خوش ہیں کہ ہم اس سے نہ ہی آگے دیکھتے ہیں نہ ہی پیچھے. نہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا فائدہ. چاہت کوئی مذاق نہیں. ہم چاہنے لگتے ہیں اور چاہت بڑھتی رہتی ہے. ایک دن چاہت رک جاتی ہے اور ہم سوچنے لگتے ہیں. وہاں سے فل سپیڈ سے محبت گھٹنے لگ جاتی ہے. ہم کو اس گھٹنے بڑھنے کا معلوم تو نہیں پڑتا، ہاں دم ضرور گھٹنے لگتا ہے. اس بڑھنے گھٹنے میں ہم دل سے تو قریب نہیں رہتے، کبھی کبھی سمجھ نہیں پاتے کہ ہو کیا رہا ہے. ہاں خود کو خوام خواہ دل سے دوری کا کہ نہیں پاتے اور مگر ظاہر میں پاس سمجھتے ہیں. دھوکہ میں رکھتے ہیں متعلقین کو بھی اور خود کو بھی. گزری بنیاد کو دل و دماغ نے تو خیر آباد کہ دیا مگر ہم ظاہر میں ماننے کو تیار نہیں. خاندان ہو  یا دوست، جس کے پیچھے ایک مرتبہ لگ گے لگے ہی رہتے ہیں، دھوکہ خود کو بھی ان کو بھی.گروہ بنانا ہے ہی کیوں، پہلے خود پہ کام کرو پھر بندے اکھٹے کرو . مجھے تو لگتا ہے کہ اگر آج کی زندگی میں خود پہ کام شروع کیا جاے تو اتنا وقت لگے گا کہ گروہ بنانے کا کوئی وقت نہیں رہے گا. اسلئے کہ ہم ہر لحاظ سے زندگی سے بہت دور آ چکے ہیں اور احساس کے بغیر. جو احساس کرے گا محبت کا، قربت کا، لوگوں کا، وہ پیدائش سے قریب ہو گا تو اور بات ہے. اس کے پاس وقت ہے گروہ بندی کا. اوروں کے بارہ میں سوچنے کا اوروں کو قریب کرنے کا  ہم تو خود کے قریب ہونے کا ہی سوچنے نہیں چلے ابھی.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

  جون٢٠١١ اتوار، ملتان٣٠ 

محبت تتلی

  آگاہی میں محبت کہاں آتی ہے. محبت میں آگاہی کہاں آتی ہے. کیا انسان کی محبت اور خدا کی محبت ایک سی ہے؟ انسان کیا ہے. خدا کیا ہے. کیا معرفت محبت ہے، کیا عبادت محبت ہے. کیا صبر ،جبر ، محبت نہیں عشق ہے. تو عشق آگاہی ہوا، خود آگاہی، خدا آگاہی. تعلق پھر کس شے کا نام ہے؟ کیا تعلق محبت سے پہلے کی شے ہے. یا پہلے اور بعد کچھ نہیں ہوتا ، ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ بس. الله ہے یا نہیں ہے. ایسا تھوڑا ہی نہ ہے کہ ہے بھی اور نہیں بھی. محبت بھی ایسے ہی ہے، محبت کم یا زیادہ نہیں ہوتی، ہوتی ہے یا نہیں ہوتی. محبت الگ اشیا سے الگ نہیں ہے، ہاں طریقہ اظہار الگ ہوتا ہے،ہونا بھی چاہئے. بھائی سے الگ، باپ سے الگ.محبت کے کئی رنگ ہیں جیسے کہ تتلی کے،ایک محبت وہ ہوتی ہے کہ میں تمھارے ساتھ بھی نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر بھی.جیسا کہ مجھے ملازم بھی رکھنا ہے ظلم بھی کرنا ہے، مجھے نوکری بھی چاہئے، بے ایمانی بھی نہیں چھوڑنی. سسرال نے حوصلہ بھی نہیں کرنا، مظالم بھی ڈھانے ہیں اور بہو لانی بھی ہے. میاں نے بیوی کا خرچہ بھی نہیں بڑھانا اور روز مرغا بھی پکا ہو، یا بیوی کا ساتھ بھی نہیں دینا ماں کے اگر ماں، بہن دونوں ہی اس غریب کے پیچھے لگ جائیں اور وہ چیخے بھی نہیں. عورتیں شرم بھی نہ کریں اور مرد غصہ بھی نہ کریں. شائد یہی محبت ہے، نہیں یقینن نہیں ہے.   ایسا بھی ہے جیسے میں خدا کی نہیں مانتا خدا کو تو مانتا ہوں. ایسا ہوتا کیسے ہے کہ جس کو مانا جاے اس کی نہ مانی جاے. اس کی نہ ماننا اس ہی کو تو ماننا ہے. ہم ماں کو پیار کرنا کیسے بتاتے ہیں. پیار کر کے جپھیاں ڈال کہ نہیں بلکہ اس کے لئے کام کر کہ اس کی مدد کر کہ، اس کا کہا مان کہ. اس کی خدمت کر کہ. یہی تو پیار ہے. بس یہی پیار ہے.   اس کو چاہتا بھی ہوں، اس کے کہے پہ نہیں چلتا، اس سے توقعات بھی ہیں کہ میری ہر آرزو پوری ہو. وہ کرتا بھی ہے، میں کیا کرتا ہوں؟ "الله تیرا شکر ہے" ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی سارا حق ادا ہوا .عبادت، بندگی، عقیدت، جذبہ اور کچھ کی بھی ضرورت نہیں.   یہ پیار ہی تو ہے، کہ نعت پڑھتے سمے آنسو تو آ جاتے ہیں، لکھتے سمے بھی آ جاتے ہیں. مگر جہاں آذان ائی نہ رسول کی بات کوئی دھیان میں ائی نہ ہی الله کی. ایسا نہیں ہے کہ یہ پیار نہیں ہے ہے تو مگر نہ ہی اس سے جنت ملتی ہے نہ ہی دنیا، ایسے پیار کا اجر ہو گا نہیں ہو گا کتنا ہو گا کہ صرف پکڑ ہو جاے گی پیغمبر کے لئے جان دینے کی حد تک جانے والے کی، کہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کو نہ معلوم کہ پیغمبر کے ذریعے دین بھیجا تھا اور اس ہی لئے لانے والا پیارا ہے. اور بس.جب جانتے جانتے انسان پہچاننے لگ جاتا ہے اور پھر پہچان میں آگے چلنے لگتا ہے،اب ماننے کا مقام آتا ہے، ماننے کے بعد پلٹتا ہے تو آگاہی کا مقام آتا ہے، یہ آگاہی راستہ ہے محبت کا. جس کا یہ سفرسفل ہوا اس نے کیا بھی، کروایا بھی. دل سے، زبان سے، دماغ سے اور بدن سے بھی، یہی بندگی ہے.محبت پہلے ہو جاے، آگاہی سے پہلے تو سمجھ نہیں آتی کہ وہ محبت کیا ہے، وہ سراب ہے. جوان ہوں تو معلوم نہیں پڑتا، ہلا گلا میں ہی گزر جاتا ہے، ذرا سمجھدار ہو جائیں تو پیار میں پڑنے کا سوچتے ہی پیار کی روح جاننے نہ ہونے کا احساس هونے لگتا ہے، اور سفر شروع ہو جاتا ہے، جاننے، جان کر ماننے اور پہچاننے کا کہ پیار ہے، غلطی کا احساس ہے.میرا پیار اس تتلی کی طرح ہے جو ،جب پھول پہ بیٹھتی ہے تو وہ سمجھتا کہ پیار ہے ساتھ ہے، مگر وہ تو خود کہ مطلب کہ لئے ائی اور گئیاس لئے میں نے کہا نہ،محبت تتلی ہے اور کچھ نہیں جب تک محبت کی جڑھ پر پاؤں نہ ہوںجڑ  ہی اصل ہے.محبت ہے تتلی نہیں

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

٢٢ جون ٢٠١١ بدھ 

الله کے نام پر دینا 

مجھے ہوش سمبھالنے سے پہلے کے یہ الفاظ اب بھی بہت مرتبہ ذھن اور کانوں میں گونجتے سنائی دیتے ہیں کہ یہ دے دو اس غریب کو اس فقیر کو ،گهر کے ملازمین کو، غریب رشتہ داروں کو ،پڑوسیوں کو، اور بہت کچھ.قصہ کچھ یوں ہے کہ میں نے یہ بھی دیکھا، بلکہ ایسا کہہ  لینا بہتر ہو گا کہ یہ ہی دیکھا. دینے میں تو کوئی کمی نہیں ہے مگر دیا کیا جا رہا ہے ؟ وہ جو کمتر ہے،جو میرے استعمال کا نہیں ہے، بلکہ کسی کے بھی استعمال کا نہیں ہے. اگر کپڑا ہے تو گھس گیا، پھٹ گیا یا بدرنگ ہو گیا وہ دے دو ان کو کیا معلوم پڑتا ہے اور ان کو کس نے دیکھنا ہے . نیا لینا ہے تو کم قیمت ہو تاکہ بہت سوں کو دیا جا سکے،کسی نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ کم قیمت کم ہی چلے گا، اور جن کو دیا جا رہا ہے ان کی اگلی باری لینے کی مجھ سے یا کسی اور سے، آے نہ آے.اور خود کے اچھے کپڑے نہیں دینے میچنگ پہن کے یہ لڑکیاں خود کو بیگم صاحبہ سمجھنے لگتی ہیں. ہم تو الله سے ڈرتے کہتے ہیں کل کو گھر بیٹھنا پڑ گیا تو کہاں سے پہنیں گی. بس بس ٹھیک ہے الله کے لئے لٹانا تھوڑا ہی نہ ہے.ایسے ہی پھل بانٹنے کی کہانی آج بھی سنائی دے رہی ہے اور آج تو نظروں میں ایک سلایڈ شو چل رہا ہے کہ  چھانٹ دو الگ سے پهل جو گلا ہے یا بدرنگ یا بیڈہنگا ہے اور وہ باہر لے جا کر بانٹ دو یہ بھی سنا اور بلکہ کیا بھی کبھی کسی رنگ میں کبھی کسی میں، کہ بانٹ ہی دو زیادہ آ گیا ہے،کسی نے بھیجا ہے کون سنبھالے بانٹ دو ختم کرو، کہیں گل سڑ نہ جاے ویسے ہی گند پڑے گا. اور یہ بھی سنا ساتھ کے ساتھ ،روز روز پهل کھا کے ملازم خراب ہو جاتے ہیں،یہ ذرا بھوکے ہی رہیں تو کام کرتے ہیں.کام کروا کے مار دینے کے بعد تنخواہ  کی باری آے تو، ان جملوں کے ساتھ نوازا جاتا ہے کہ تم تو اس قابل نہیں ہو کہ اس اجرت پر رکھا جاۓ مگر ہم تو خدا ترس لوگ ہیں اس سے ڈرتے ہیں اس لئے برداشت کیا ہوا ہے. اور صابن تیل بھی الله کے لئے دے دیتے ہیں روز روز نہ تقاضا ہو. الله کا غضب ہر وقت لینے کو ہاتھ پھیلا ہے. الله کے لئے ہی دیتے رہیں یا خود کا بھی کچھ سوچیں. الله کو بولو خود بھی دے. کوئی ڈھنگ کا کام سیکھ لیا ہوتا تو بھی بات تھی. ہر بات میں الله کو بیچ میں لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. زبان بند رکھو، اور واسطے کسی اور کو دو ،ہم نے جو کرنا تھا کر دیا.میں خود کا گھر سنبھالنے لگی تو میرے ہش بھی کچھ لینا آیا اور کچھ دینا. ہمیشہ دینے کا سنا تھا،دیتے دیکھا بھی تھا،یہاں بھی بڑوں کو دیتے دیکھا مگر وہی طریقہ،کہ وافر دے دو مگر جو ذرا کم یا ذرا زیادہ ناقص ہو .کم قدر و قیمت کا ہو ، کچھ ٹھیک لگتا تھا کہ دیا تو مگر کھٹکا لگتا تھا،بہت ہی کم،اور کم کم ہی. شوق آیا کہ   گھر میں دیگ پکانے کا انتظام ہونا چاہئے اور وہ بھی ہفتہ میں ایک مرتبہ، لگا کہ بڑا ثواب کا کام ہو رہا ہے کبھی ڈرئیور کہیں جا رہا ہے کبھی کہیں سستے سودے لینےاور کہیں کا کہیں بانٹنے. ایک دن میں نے کہا کہ آج میٹھے چاول بنا لیں، طالب چچا نے کہا میں جا کے ٹوٹا لے آوں گا، اور بادام میں نے کہا، بولا بیٹا بہت مہنگے ہیں،الله واسطے دینی ہے رہنے دیں ہاں اگر کہیں  سے کوئی خوبانی کے یا کوئی نرم قیمت کے مل گے تو لے آوں گا وگرنہ جو آپ کے لئے نکالنے ہیں اس میں بادام اور کھوپرا ڈال کہ دم دے دیں گے،اور میں ویسے ہی چاولوں میں سے یہ سب نکال دیتی ہوں اگر ہوں بھی تو.آج اس پہ دل کٹ رہا ہے،دس سال پہلے کی یہ بات کیا یاد ائی اس نے سب پرانے اوراق پلٹ ڈالے. الله کے لئے کا نام ہم نے کتنا سستا کر دیا اور خوشی کتنی الله کے نام پہ کام کی. دینے کے لئے لینا ہے اور ڈھیر سا لینا ہے تاکہ بہت سے لوگوں کو ملے. بہت اچھا جذبہ ہے. کیا مناسب شے ہو اور مناسب گنتی کے لوگوں کو ملے یہ بہتر نہیں ہے. کسی کا تن دھامپا جاے زیادہ وقت کے لئے. کسی کا پورا پیٹ بھرے اور صحت بھی خراب نہ ہو. صحیح ہے دینے کا جذبہ، لوگوں کو ننگا بھوکا دیکھا نہیں جاتا. تو نامناسب اور گھٹیا دینے کا تصور رب تعالی کے ساتھ بہت ہی نامناسب دینا ہے. الله کے لئے دینا الله کو دینا ہے. دینے والے کو دینا کیسا ہونا چاہئے؟ سب مال اس ہی کا ہے.اس کے دیے میں سے ہی دینا ہے.اس نے ہم کو ہماری اوقات کے مطابق اعلی ہی دیا ہے. ہم اس کا حصہ کیسا نکالتے ہیں. پھٹا پرانا، گلا سڑا، ٹوٹا پھوٹا. بات یہاں سے چلی تھی، میں ابھی راستے سے پھل لے کہ ائی تھی. میں پھل یا کوئی اور شے میں پہلے خود کے گهر والوں کا ان کا حصہ نکالتی ہوں،جو میرے لئے کام کرتے ہیں. جب تازہ شے ہو بسکٹ، کیک یا پهل بھی تو اس دن کوئی داغی شے کم ہی ہوتی ہے. مجھے ایک دم گهر آ کے کھانے کو پڑ جانا پسند نہیں. مطلب کہ کچھ گھنٹوں کے لئے بات ائی گئی ہو گئی. میں آتے ہی ان کا حصہ نکالتی ہوں جن لوگوں نے سودا سمیٹنا ہوتا ہے. کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دینے میں ٹوٹے بسکٹ دے دیے جو ابھی رستے میں ہی ٹوٹے بھلے. وہ پھل جو راستے میں دب گے وہ دیے.یہ بھی خیال ہوا اور کہہ کے دیا کہ یہ کل تک شائد نہیں سہارے گا ابھی کھا لو. آج میں نے ان سب باتوں کا تجزیہ تب کیا جب پهل سمٹ گیا اور کیلے بھی ٹوکری میں آ گے.ڈاکٹر منع کرتے ہیں ان کو فرج میں رکھنے سے، میں نے ایک کیلا کھا لیا.اب ائی اصل کہانی جس کے لئے اتنی تمہید باندھی میں نے. باقی گچھے پر جو نظر ڈالی تو ایک کیلا ایسے تھا جیسے کہ کسی کا ناخن لگا ہو.اس کو دینے کے لئے توڑنے لگی تو خدا یاد آیا. یہ میں کیا کرنے لگی ہوں، کیا یہ میں نے خدا کو دینا ہے یا کہہ لو خدا کے لئے دینا ہے،اس کے دیے میں سے دینا ہے اس کو. تو میں نے آج ایک تو دینے سے پہلے خود کھا لیا اور دینے کے لئے نظر پڑی داغی کیلے پہ ،مجھے خود سے ہی شرم ائی اور دینے والے رازق سے بھی. میں نے وہ پهل خود کے لئے رکھ لیا اور سب سے اچھی کیلے کی پھلیاں ان کو دیں، اس وعدہ کے ساتھ کہ آیندہ ایسا ہی ہو گا، الله میری مدد فرمائے گا،اس کے دیے میں سے اس کو بہترین ہی دینا ہےمیں نے بھی، آپ نے بھی. مال اس کا ہے، اس ہی کا ہے، اس کا ہی ہے ..............

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<.   

 ٢١  جون٢٠١١، منگل 

لفظ "کاش" کا صحیح استعمال 

"کاش" کوئی ایسی بری شے نہیں ہے، مگر ہم کاش کب کب کہتے ہیں؟کچھ گزرے لمحات ہو ہمارے مطابق نہ گزرے ہوں اور کچھ آنے والے لمحات جو ڈر ہو کہ ہمارے مطابق نہ بیتیں گے یا نہ گزرنے چاہییں. اگر ہم میں طاقت ہوتی یا تو گزرے وقت کو تھامنے کی یا دہرانے کی تو یہ وہ طاقت ہے کہ ہم کام خود کے مطابق ہی ہونے دیتے. " کاش" صرف مخلوق ہونے کی دلیل ہے.  جو وقت کو چلاتا تھامتا اور گھماتا رہتا ہے اس کو تو اس لفظ کا معلوم ہی نہیں ہے. گزرے وقت کو عبرت کے طور پر یاد رکھنا تو ٹھیک ہے تاکہ ترقی ہو سکے مگر اس لکیر کو پیٹتے رہنا جہاں سے سانپ نکل گیا ہو، اتنا زیاں ہے زندگی کا کہ رونے والا واقف ہی نہیں. وہ ایسے کہ ایک تو گزرا وقت ہاتھ نہیں آنا اور دوجے جو ہاتھ میں وقت ہے وہ بھی گزرتے وقت کے گڑھے میں چلا گیا ہے،جا رہا ہے. غم غلط کرنے کا جو محاورہ ہے،وہ غلط ہے. غم کو دہرانے سے غم تازہ ہوتا ہے تازہ رہتا ہے. اور یہ عبارت کرو "غم غلط " کی تو ٹھیک ہے،وگرنہ زندگی کے نقصان کا اندازا بھی نہیں لگایا جا سکتا.کاش میں ڈاکٹر ہوتا، کاش میں امیر ہوتا، کاش میں لڑکی ہوتا، کاش میں خود کی قسمت لکھتا، کاش میرا باپ میرے لئے بہت نام کما کے جاتا، یہاں تک کہ کاش میں اکیلی اولاد ہوتا اور جو ہم چار بھائیوں کا ہے سب میرا ہوتا. کاش میں فلموں کا ہیرو ہوتا. کاش کی تو اتنی لمبی داستان ہے کہ زبان کہاں رکے معلوم نہیں. خیر ہے اگر میں غلط کام کرنے نہ چل پڑوں، جیسا کہ غلط طریقہ سے کمانا، بھائیوں کی نقصان پہنچانا،ان کے کاروبار میں آگ لگانا. برا چاہنا، حالانکہ ہمارے چاہنے سے ہونا کچھ نہیں، کہیں جانے انجانے میں ہم کو معلوم ہے سب ." کاش اور مگر" کی گردان اس سمجھ کو پیٹھ پیچھے ڈالے رکھتی ہے. جو ہمارا ہے جتنا ہے اور جب تک ہے نہ ہی کوئی لے سکتا ہے اگر وہ چاہے تو نہ ہی کوئی دے سکتا ہے اگر وہ چاہے تو. پر یہ سمجھ کیوں نہیں آتی؟  

                   " کاش" کا ایک بہت اچھا اور مثبت استعمال بھی ہو سکتا ہے، ذرا ہٹ کے ہے . ہم سب کام ویسے ہی کریں جیسا کہ کرنے کا حق ہے. الله کی راہ میں خرچ کریں. کسی کو دکھ نہ دیں،کسی کا گھاٹا نہ مانگیں. لوگوں کی جانب رشک کی نگاہ تو اٹھے، حسد کی نہ اٹھے. دل و دماغ کو باور کرا کے رکھیں کہ میری قسمت اور کوشش کا کوئی نہیں چھین سکتا. الله نے نظام ہی ایسا بنایا ہے کائنات کا دنیا کا، میرے اندر کا باہر کا.وہ تو ایسا ہے کہ ہم جان نہیں پاتے کہ مجھے کہاں تک کا حصہ دیا گیا ہے. ہم کہتے ہیں میں یہ گھر بنا لوں پورا، میں کتاب لکھ لوں پوری، میں ساری اولاد کو سیٹ کر لوں. بھلا کیوں؟ ایک اور جملہ عام ہے; بیچارہ پورا نہیں کر سکا،اس کے بچے چھوٹے رہ گۓ. اس کے بوڑھے ماں باپ کا کوئی سہارا نہیں بچا. یہ سب کیا باتیں ہیں معلوم نہیں؟ کبھی سمجھ آئی؟ نہیں آئی، آتی بھی کیسے، میں تو یہ سمجھا کہ سارا نظام اور ساری دنیا میرے ہاتھ میں ہے،جیسے جیسے سوچوں گا یا چاہوں گا ہونے لگے گا. میں تو بھول ہی گیا کہ ہونا کسی اور کے ذمہ ہے،اس ہی کے ہے جو مالک ہے ،خالق ہے.  میں سب الله کے لئے ہی کروں بھلے زیادہ نہ ہی کر پاؤں، سچے دل سے ڈٹا رہوں تو کہوں

 " کاش میں جنت میں چلا جاوں" 

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

٢٠ جون ٢٠١١ سوموار

بات کے ہجے،  چہرے دیکھ کے کرو 

.ویسے تو ہر بات کا رنگ ڈھنگ، اس کی ادا، پیچ و خم، رنگ اور خوشبو سب معلوم پڑ جاتا ہے بھلے چِٹھی  ہی ہو یا فون پر بات. بات تو سمجھ میں آ ہی جاتی ہے،سیدھے سے اگر سمجھو اور لفظوں کے دائیں بائیں سے کھودنے میں طاقت نہ لگاؤ تو.اس سادہ سمجھ کا ہی معنی ہیں ہجے.

بات کرنی آسان ہے، مطلب سمجھنا آسان نہیں ہے. بات تو ہم کر جاتے ہیں، وقتی طور پر خود کو بھی کہ دیتے ہیں کہ فرض ادا ہوا. مخاطب کی بھی ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ کچھ نہ کچھ تو یہ کرے گا ہی اتنا وقت نکال کے آیا بھاشن دیا کاندھے پہ ہاتھ بھی رکھا دلگداز شخص ہے.یہیں مار کھا جاتا ہے وہ بھی میں بھی. نہ ہی اس کو سمجھ آتی ہے کہ مجھ کو سمجھ نہیں ائی، نہ ہی مجھ کو آتی ہے کہ بیڑا غرق کیا اس کا بھی خود کا بھی.

میرا مقام ہی نہیں ہوتا کہ بغیر بلاے کسی کی گفت یا شنید میں مہمان بن جاؤں، مداخلت کرنے لگوں. مجھے اصل میں کسی کی بات میں گھسنے کو کہا ہی نہیں گیا. "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" یہ بات ہی ٹھیک نہیں، میرا جگر میرے دردوں کے ہی لئے بنا ہے یا اگر کوئی درد بانٹنے میں مجھے بلاے. ہم کو تو کسی کے گریباں میں نہ ہی جھانکنے کی اجازت ہے نہ ہی ٹو لینے کی،جتنی بتا دی وہ ہی بہت، نہ آگے کے کوئی ہجے کرنے ہیں نہ ہی پیچھے کے. نہ مطلب نکالنا ہے کہ کیا کہہ گیا نہ ہی مطلب نکالنا ہے کہ کیا کہنا رہ گیا اور کیا چاہ رہا تھا، شائد. ساتھ والے سے ہی پوچھنے لگیں کہ بات کہاں سے چلی تھی ، مکمل ہوئی یا ابھی بھی چند نکات زیر غور ہیں.وغیره وغیرہ.

 ہماری بلا سے کوئی کچھ بھی کرے ،کچھ بھی سوچے ہم کو خود کے کام سے کام ہی رہنا چاہئے، جب اگلے کے برے بھلے کا جواب اوپر بھی یا نیچے بھی ہم کو نہیں دینا ہوگا تو فکر کاہے کی. ویسے شوق بھی ہوتا ہے کہ معلوم تو پڑے کہ دوسروں کے گھر کیا ہو رہا ہے، اس میں خود کا کام تو رہ ہی جاتا ہے اور جہنم کھری الگ. ہم کو معلوم ہے کہ ایک ایک لفظ کے کیا کیا مطلب ہوتے ہیں تو پھر ہم کسی کی آدھی  پوری بات سن کہ کیوں خود کے مطلب ڈال کے بات مکمل کرتے ہیں یہ کتنی شرم کی بات ہے . کبھی کبھی  ہم خود کو اس قدر گرا لیتے ہیں کہ بات سنے بغیر ہی کہہ ڈالتے  ہیں کہ وہ کیا سوچ رہا ہو گا، یا جب میں اس سے یہ کہوں گا تو وہ یہ کہے گا. یہ کہاں کا دین ہے اور کہاں کی دنیا پر میں تو ایک آٹومیٹک مشین کی طرح ہوں جب کسی کا برا کرنا دل نے ٹھان لیا تو بس. سب خیر کے راستے بند اور ُبنت شروع. کوئی کہیں سے سمجھانے والا آ جاے  مگر کہاں، مزہ جو آ رہا ہوتا ہے، لگائی میں اور بجھائی میں اور.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><.<.<.<.<.<.

٢٠  جون٢٠١١ سوموار 

خاموشی گفتگو میری

خاموشی کا مطلب خاموش بھی نہیں جانتا اور تو کوئی کیا ہی جانے گا. جو کسی کی خاموشی نہیں پڑھ سکتا وہ اس کی یا  کسی کی گفتگو سے ایسے نہیں مستفید ہو سکتا جیسے کے ہونے کا حق ہے . تو پہلے خاموشی کو ہی لے لیتے ہیں . خاموشی چُپ ہونا نہیں ہے بلکہ خود کے ساتھ ہونا ہے . خود آگاہی کی راہ پر گامزن . ایک آتا ہے اس کے آنے سے کئی لمحہ پہلے اس کے آنے کا معلوم پڑجانا کسی کے جانے کے بعد دیر تک اس کے ہونے کو محسوس کرنا کیا ہے؟اس کی خاموشیوں سے آپ کی خاموشیوں کی ملاقات. آج اس کو کئی نام دیے جا رہے ہیں، ماورائی قوت، سائنسی تجربات، الگ الگ سے نام ، مگر کیا ہے، فطری سی بات ہے، ٹھہراؤ ہو گا تو خود سے ملاقات بھی ہو گی۔

اب سوال یہ ہے کہ ملاقات کیوں ضروری ہے؟ وہ اس لئے کہ خود کو جاننے کا عمل ہو گا تو خود پہ کام ہو گا خود کی اچھائیاں برائیاں ،صلاحیتیں صالحیتیں معلوم پڑیں گی. ویسے تو میری مجھ سے اوپری سی ملاقات رہتی ہے، بھلا کیوں، وہ اس لئے کہ میرا مجھ سے وہ ہی تعارف ہوتا ہے اور رہتا ہے جو لوگ مجھے کراتے ہیں، بھلے ماں، باپ، دوست وغیرہ، اور خود کی بہت سی خوبیوں سے میں روشناس نہیں ہو پاتا، خامیاں بھی لوگ بڑھ چڑھ کے بتاتے ہیں میں اس قدر کا خراب بھی نہیں ہوتا. مگر میری اچھائیاں ضرور مجھ سے چھپا لی جاتی ہیں،مجھے ہر لمحہ کہا جاتا ہے تم کسی قابل نہیں، خود کو جانتا ہوں تو خود فیصلے کر سکتا ہوں. خود کے مثبت منفی فیصلوں کے لئے بھی خود کے ساتھ کی ضرورت ہے.میں کیوں لوگوں کی زبانی خود کے تعارف کو مانوں، جب کہ مجھے مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا مگر مجھے خود کو جاننے کا سفر خود ہی شروع کرنا ہے اور جاری رکھنا ہے، لوگ بھلے کہیں کہ تم نہیں کر سکتے ،نہیں سیکھ سکتے میرا خود کے بارے  میں فیصلہ اگر الگ ہے تو ایسا ہی ہو گا جیسا کہ میں  خود کو جانتا ہوں. قدم اٹھانے سے ہی سفر طے ہوتا ہے، لوگ قدم ہی اٹھانے نہیں دیتے ڈراتے ہیں. مجھے نہیں ڈرنا، تنہائی ہو اور خود کا ساتھ ہو اس کے سوا کیا چاہئے ، کچھ وقت کرنا ہے ایسے پھر بھاگ بھاگ کے اکیلے نہیں ہونا پڑے گا، تنہائیاں خود ہے میرے اندر سمٹ جائیں گی. میری خاموشیاں مجھ سے باتیں کریں گی ابھی ذرا جلدی ہے۔

گونگے کی ماں اس کی زبان جانتی ہے اور آہستہ آہستہ سب کو سمجھ میں آنے لگ جاتا ہے کہ کیا چاہا جا رہا ہے. ایسے ہی میرا خود کا ساتھ ہے خود کے پاس. جب میں لوگوں کی باتوں پہ خود کی بات کو ترجیح دینے لگتا ہوں، اس وجھہ سے کہ یہ لوگ مجھ کو نہیں سمجھ پاتے تو میں تو خود کو دیکھوں، میں ان سے مطمئن نہیں ہوں مگر ابھی ان کو جواب بھی نہیں دوں گا پہلے خود کے پاس جا کے خود سے پوچھوں. اس سوال پہ کھڑا خود کے ظاہر اور باطن کے ساتھ مساوی مقام پر کھڑا ہے. یہاں سے اس کی خاموشی اور اس کی گفتگو برابر ہے، یہ فلسفہ کی بات نہیں نہ ہی کوئی ماورائی طاقت ہے بلکہ اصل میں فطرت ہے. جس کو ہم جانے انجانے میں کھو کر چالاکیاں اختیار کر کے خود کو کمال پر ماننے لگ جاتے ہیں.

اب گفتگو پہ بات کر لی جاے تو خاموشی سے بات چیت تک کا سفر خود ہی طے ہو جاۓ گا. "رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آے". اس سے کیا مراد ہے؟ جب رنگ باتیں کر سکتے ہیں تو خاموشی کیوں نہیں، رنگوں کی زبان ہے ان کی رنگت، ان کی موجودگی کا مقام، ان کا گہرا اور ہلکا ہونا. بدن بھی کینوس ہے، اس پہ بھی ہر رنگ نظر آتا ہے جیسے کہ پینٹنگ میں. اور وہ رنگ بدن پر کام کرنے سے نظر نہیں آتے، بلکہ باطن پہ نظر ڈالنے اور ڈالتے رہنے سے عیاں ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ نکھرنے لگتے ہیں. یہ ہی وہ باتیں ہیں جن سے بغیر کیے خوشبو آتی ہے اور کرنے سے بھی. آپ وہ کینوس کیوں بنو جس پہ کوئی اور رنگ بکھیرے بلکہ وہ رنگ بنو جو کسی کے کینوس پر بھی بکھرے اور خود کے کینوس پر بھی خود ہی. 

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>


 ٢٠١١ ،١٩ اتوار جون

قرآن ایک زبانقرآن

ایک زبان کا بھی نام ہے،لوگ زبان جاننے لگتے ہیں اور تاریخ کے اوراق بھی الٹ پلٹ کہ روابط مل جاتے ہیں. اس کا یہ تھوڑا ہی ںا مطلب ہے کے جو حوادث زمانہ کو جانتا ہے وہ حوادث میں سے گزرتا بھی ہے یا گزر رہا ہے، سمجھ رہا ہے. القران کو ماننا جاننا اور ہے اور گزرنا اور. اس کے بارہ میں لکھنا لکھنا اور ہے،اس کو گزرنا اور. ہر لکھنے بولنے والا راہی نہیں ہوتا اور ہر را ہی زبان نہیں رکھتا،کچھ آنسو کچھ آہیں رکھتا ہے اور کچھ قدموں کے نشان چھوڑ جاتا ہے.زبان سیکھی جا سکتی ہے،سکھائی جا سکتی ہے. واقعات لکھے بتایے جا سکتے ہیں، کچھ بھی محسوس نہیں کرایا جا سکتا، کیا بھی نہیں جا سکتا، اگر تن من دھن سب داؤ پر لگا نہ دیا جایے. من لگانے والا ہی جانتا ہے کہ تن بھی کیسے لگایا جاتا ہے. من لگ جاے تو مطلب کی دنیا خود ہی کھل جاتی ہے. دین مطلب نکالنے سے نہیں بنتا، نہ ہی مطلب سے کوئی بات سمجھ کا حصہ بنتی ہے. خود کے نیچے کی ماٹی مضبوط ہو تو لفظوں سے مطلب اچھلنے لگتے ہیں اور دل میں ڈلنے لگتے ہیں. ہمیشہ یہ سوال میرے ہاں بنتا رہا کہ تفسیر کرنے والے کیسے ہوتے ہیں؟ خدا کے منتخب یا دنیا دار، دل کی آنکھ والے یا الفاظ کے کھلاڑی. یہ سوچنا تو نہیں چاہئے مگر! تفسیر مجھ کو بھی لکھنی ہے ہمیشہ ہی یہ دل نے کہا. مگر زبان سے ناواقفیت مسلہ تھا. معلوم ضرور تھا کہ مطلب کرنا اہل زبان کا کام ہے اور تفسیر کرنا اہل تاریخ کا.تو قرآن جاننا کس کا کام ہے اور جنوانا کس کا؟ یہ ہم سوں کا کام ہے جو کائنات پہ نظر رکھتے ہیں،ہر لمہ کی آواز سنتے ہیں. لکھنے پڑھنے سے دور. کان آنکھ زبان سے دور، نظر، سماعت اور دھڑکن سے قریب. یہ نہ ہی کوئی صوفی کلام ہے نہ ہی کوئی فلسفہ، ویسا ہے جیسے کہ مالی مٹی کو جانا ہے، مکینک مشین کو، ایسے ہے میں لمحہ کو .یہ لمحہ ہی کائنات ہے،کلام ہے. جو اس سے جڑ گیا وہ بنانے والے سے جڑ گیا وہ احکامات کو بھی جان گیا مان گیا اور کر گزرا.بات سننے ماننے سے پہلے بات والے کا ادراک ہونا چاہئے،تب ہی بات پہ دھیان لگتا ہے. بندہ کسی صفت کا نام نہیں ہے موصوف کا نام ہے.ہر موصوف کا خود کا ہی رنگ ہوتا ہے،اور اس رنگ کے برابر ہی ادراک اور عمل. ہر بات بتائی نہیں جا سکتی دکھائی بھی نہیں جا سکتی،محسوس بھی نہیں کرائی جا سکتی  جیسا کہ مجھے بہت پیاس لگی ہے یہ آس لگی ہے! دونوں کو ناپنے کا پیمانہ نہیں ہے. نہ پیاس کا ہوئی درجہ حرارت ہے نہ ہی آس کا، ایسا ہی ہے تعلق رب اور ربانی کا. جو دل کے دربار میں کھڑا ہے وہ رب کا بندہ ہے،جو لفظوں کو مات کرنے کی فکر میں ہے اور الفاظ کے کھلاڑیوں کی ٹکر کے ہتھیار لئے کھڑا ہے وہ دنیا کو دل دے بیٹھا ہے.ربانی ہونے کا کیا کھیل ہے جو رب نے رچایا ہے. خود کو خود سے ہی مات دینی ہے اور بس.اس میں نے جب میں کو ہرا دیا تو سب چمکدار ہو گیا. یہ دنیا بہت حسین ہے،میں اس دنیا سے بھی زیادہ حسین اور یہ سب جال میرے لئے ہی بچھایا گیا ہے مجھے پھنسانے کے لئے نہیں میرے لبھانے کے لئے. میں غلطی یہاں کھا جاتا ہوں کہ یہ مجھے پھنسانے کے لئے ہے اور جب میں ادھر نہ رخ کرنے کی ٹھان لیتا ہوں تو ادھر رخ کئے بغیر رہ نہیں پاتا اور پھر پھنس جاتا ہوں.گویا کہ میں بنانے والے سے لڑائی ڈال لیتا ہوں اور شیطان کے ہاتھ آ جاتا ہوں. یہ دنیا میرے لئے بنائی ہے. انسانوں کے لئے. خود کے رنگ کا مہرا  اٹھا لو اور آگے چلو.سب انسانوں کا ٹھیکہ کسی ایک کو نہیں دیا، انبیا کو بھی نہیں. یہی سبق ہے. کائنات رحمان کی ہے اس ہی کی رہنے دو. آپ کو نہ مالک بنایا ہے نہ ہی آپ اس قابل ہو، مان کیوں نہیں جاتے. اس کرب کی سوچوں سے گزر کیوں نہیں جاتے؟ بندہ ہو رب بننے سے باز کیوں نہیں آتے؟ 

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

١٩ جون ٢٠١١ ہفتہ 

 مذہب کس کے لئے ؟


مذہب کس کے لئے ؟صرف متوسط طبقہ کے لئے ، نہ تو اوپر والوں کو ہی کوئی فکر یا ضرورت ہے الله یا آخرت کی ،نہ بیچارے غریب کو فرصت ہے کے روٹی کے رونے سے اوپر اٹھ کے دیکھے،اس کے ٹوٹے ٹپکتے چھپر سے باہر بھی کوئی دنیا یا اس پر راج کرنے والا کوئی ہے ہم سب کا مالک. ٹھیک ہے ایک ہے جس نے بنایا ہے،جو دیکھ بھی رہا ہے ،مگر وہی تو ہے جس نے مجھے اس حال میں ڈالا ہے،مانتا تو ہوں اور کیا کروں؟کیا روزی نہ کماوں،اگلے دن کی فکر نہ کروں؟ مانتا تو ہوں که مجھے اس نے ہی اس حالت میں ڈالا ہے اور کیا کروں ،اس کا رونا رووں ، اور کچھ نہ کروں . اگر شکر کی بات ہے تو ،کس حالت کا شکر کروں،نہ دانے نہ چھت،نہ تعلیم نہ ہی مت. مانتا ہوں کے رب ہے. ہے تو مگر تماشا تو دیکھ ہی رہا ہے نہ کے میں کس کرب میں ہوں.ہاں پھر بھی مانتا ہوں کے یہ تماشا خود بخود نہیں لگ گیا ،میرا میرے گرائیں کا.

آج میں ایک اپاہج انسان ہوں کانٹوں کے بستر پر لیتا گزرے چودہ سال سے،ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتا ،ماتھے سے لٹ نئی سرکا سکتا، پاؤں سے چادر نہیں ہٹا سکتا، کل مجھ سے دین کے بارے میں پوچھا گیا اور دین دینے والے کے بارے میں،اور شکر گزاری؟ میرا سوال ہے اس مالک کائنات سے،مجھے مٹا کیوں نہیں دیا بھرپور زندگی لے کے،یہ کیا تماشا بنا کے رکھا ہے میری ہستی کا. اب بتاؤ کہاں کا دین کہاں کی دینداری.کس انداز کا شکر ادا کروں کے کتنے موجود ہیں میری زندہ لاش دیکھنے کو؟وہ شکر ادا کریں کہ کام په کھڑے ہیں یا میں گلا کروں کے موت کیوں نہیں آتی.سوال کرنے آسان ہیں اور جوابوں کا انتظار بھی، میرے جبےکے نیچے کوئی جھانکے تو!

ایک میں ہوں منہ میں سونے کا نوالہ لے کے پیدا ہوا تھا اور اب تک وہ نوالہ منہ میں ہے،عیش کی زندگی کیش کے سہارے ،کس کی شکرگزاری،کوئی میرا مددگار نہیں،میرے پاس ہے تو ہے. کام کرتا ہوں اور خوب آرام بھی کرتا ہوں، دنیا کا اور میرا مالک ہے اوپر،ہے تو ہے،خود کے حصہ کا تو سب مجھ پر ہی پڑا ہے نا،وہ خالق تو ہے مگر خلق کے بعد وہ بیٹھا ہے،مزہ لے رہا ہے یا اگر اس نے دنیا کے بعد کی کوئی رونق رکھی ہے تو اس دن کے نافذ کرنے کو بیٹھا ہے.میرا کیا کر رہا ہے.میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھوں تو میرا گھر،کام،دو کے بغیر صحت چلے تو بات ہو.وہ تو مجھے بنا کر میرے دنوں کے پھیر سے محظوظ ہو رہا ہے ،میری سوچ کے مطابق.

میں ایک چوتھا ہوں چار میں سے ،چوتھا اور میں ہوں بس اس بنانے والے کا .اور شائد میں ہی ہوں اس کام کے لئے جس کا ذکر ہے،جس کو شکر کے مقام پر رہنا ہے اور خاق کو یاد کرنا ہے ،عبادت بس مجھے کرنی ہے ،دوا مجھے ہی کرنی ہے .لو مجھے ہی لگانی ہے، جنت جہنم مجھ ہی کو ہر وقت ذہن میں رکھنی ہے.میرا ہی حساب ہو گا اور مجھ ہی کو تولا ناپا جاے گا ،جو جتنی فکر کرے گا اس کو اتنا ہی امتحان ملے گا .اور جزا سزا کا کھیل بھی میرے لئے ہی ہے.اس لئے کہ مجھے ہی نہی معلوم کے کیا نتیجہ ہو. باقی تو سب یا آر یا پار ،سب کو وہ جہنم میں ہی ڈالے گا.یا جہاں بھی ڈالے گا یہاں تو وہ نہ فاقہ بھگت رہے ہن نہ ہی فکر کے کیا هونے والا ہے ،بھلے یہ فانی ہے اور وہ ابدی مگر اب کا مزہ وہ لے رہے ہیں جو آزاد ہیں.تب کا مزہ بھی شائد آزاد کو ہی ملے .میرے پاس کوئی کندھا نہیں تو میں الله کے کاندھے پر سر رکھتا ہوں، کوئی کمائی نہیں تو جنت کی اس ہے ،کوئی سکھ نہیں کوئی من و سلوا نہیں تو جنت کے پھول کا ذکر کر کے پیٹ اور نیت سب سیر کر لیتا ہوں، سوچن دان لگاتا ہوں تو سب سوال بنتے ہیں وگرنہ تو خود کی دھن میں زندگی مجھے گزار رہی ہے اور میں زندگی کو.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

١8جولائی ٢٠١١ 

 کوشش کی کشش

 کوشش کی کشش انسان کو زندہ رکھتی ہے . بہانہ ہے اور کیا .اب تک مجھے خود کے اختیار کا سب معلوم ہے .پاؤں میں پڑی زنجیر مجھے کتنی دور لے کے جاتی ہے. اسی   زنجیر کا شکریہ کہ میں وہاں سے بارہا رک جاتا ہوں جو میرے ہی لئے نقصاندہ ہوتا ہے اور میرے وسیلہ سے میرے پیاروں کا. کوشش ہی امید کا دروازہ  ہے،جو کوشش نہیں کرتا وہ امید بھی نہیں رکھتا. کوشش کریں گے تو ہی نتیجے کی فکرمیں رہیں گے. دعا بھی کریں گے دوا بھی.

ہمارا خیال ہے کہ کوشش کا معنی ہے امتحان میں پاس ہونا، نوکری کی تلاش، ایجادات وغیرہ. تو کیا سانس لینا ،کھانا کھانا، سونا، ستھرا رہنا، میل ملاپ رکھنا، یہ سب کیا ہے؟ یہ سب زندہ رہنے اور زندہ دیکھنے کی ہی کوشش ہے. بھلے یا سب اٹومیٹک دیکھتا ہے مگر ہے نہیں. کوشش ہماری زندگی کا پہلا پنا ہے یہ جان لو  میں کہتا ہوں کہ میں نے کوئی کوشش نئی کرنی. بھلا اس سے میری کیا مراد ہے؟ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے سمجھ لیا کہ زندگی کیا ہے، یعنی کوشش ہی زندگی ہے. میں اس سے باہر تھا ہی نہیں تو کیا جانوں کہ بغیر کوشش بھی کچھ ہے بھلے سانس اندر کھینچنا ہو یا باہر پھینکنا. زندگی کہہ لو یا کوشش ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں. 

بھاگنا  اور نہ بھاگنا دیکھا جاے تو سب کوشش ہی ہے، ایسے مل جاے ویسے مل جاے. سب لینے اور دینے کے بہانے ہیں. ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر ترے گننا بھی معرفت کی ہی دریافت ہے، جاگر پہن کے سانسوں کا مقابلہ کرنا اس ہی کا الگ رخ یا خانہ ہے. میں کوشش اور سانسوں کو الگ الگ طریقہ سے دیکھتا اور آزماتا رہتا ہوں. کبھی نکھٹو دیکھ کہ کبھی وقت کی رفتار پہ چڑھ کہ. وقت مجھے گزار رہا ہے یا میں وقت کو گزار رہا ہوں، فلسفہ نہ جھاڑنا ہو تو ہم اگلے لمحہ میں داخل ہو ہی گتے، مر گیے یا مارے گیے. ہم ایسے ہی بناے گیے ہیں آنے کے لئے بھی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور جانے کے لئے بھی. بھلے یہ طریقہ  الله تعالی نے ہی بنایا ہے مگر کوشش میرے ہی ذمہ دی ہے. ایسا نہیں ہے کہ میں کوشش نہ کروں جیسا  کہ ایسا نہیں ہے کہ میں سانس نہ لوں، بھلے غریب ہوں یا پیسے والا، بیمار ہوں کہ صحتمند، خوش ہوں یا نالاں.

<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<

 ١٦ ,٢٠١١جولائی, جمعرات

ہر شے فانی ہے! 

زندگی میں کوئی خوشی کوئی رشتہ کوئی جذبہ بھی مستقل نہیں ہوتا ،ان کے بھی پاؤں ہوتے ہیں ، ہمارا سلوک اور رویہ دیکھ کر کبھی یہ بھاگ کر قریب آ جاتے ہیں اور کبھی آہستہ آہستہ دور چلے جاتے ہیں. جب دنیا کی ہر شے آنی جانی یا  فانی ہے ، انسان، انسان کی صحت، بھلے وہ بدن کی ہو یا باطن کی، رشتے کی ہو یا روایت کی، جذبے کی ہو یا جذبات کی. سب ہی فانی ہے ںا. پھر ہم اس پہ کیوں اتنا تلمتاتے ہیں جب کسی کا رویہ بدلتا ہے. رویہ بھی ایک جاندار شے ہے موسم کی طرح ، ہوا کی طرح یا خوشبو کی طرح. موسم آتے جاتے رهتے ہیں،ہوا سرد گرم رہتی ہے،خوشبو تیز، مدھم، ہو جاتی ہے،غائب ہو جاتی ہے.تو؟ اب دیکھنا یہ ہے اس لمحے کو لافان کیسے بنانا ہے جو کہ فانی ہے، اس لمحہ میں خوشی رشتہ جذبہ سب روک جائیں تو وہ لافانی ہو جاے گا. کچھ بھی روکتا نہیں روکنا بھی نہیں چاہئے، مگر، اگر ہم کسی ایک لمحہ میں یہ سب بیک وقت محسوس کر لیں تو وہ لمحہ یا ساعت مستقل ہو جاتی ہے.اس سے زیادہ اور کیا چاہئے؟ انسان چونکہ نادیدہ ہے اس لئے ہر شے ہر لمحہ کو روکنا چاہتا ہے، مستقل کرنا چاہتا ہے. جب کہ وہ جانتا ہے صرف بدلاؤ ہی مستقل ہے.اگر غور کیا جاے تو مستقل مزاجی الله تعالی نے انسان میں رکھی ہی نہیں ہے. وہ  ُُاکتا جاتا ہے، روز روز ایک سا موسم ہو تو، ایک سا کھانا ہو تو، ایک سی بات ہو، مگر ُاس کا خیال ہے کہ اگر خوشی، اچھے جذبات، اچھے لمحات رک جائیں تو کمال ہو گا، مگر نہیں،وہ اکتا جاے گا،اچھا اور اچھا اور سے اور .............انسان کو بنایا ہی گیا ہے بدلاؤ بھانے والا. یہ جانکاری اب ہوجانی چاہئے تو زندگی کا سفر آسان ہو جاے گا. الله فرماتا ہے کا وہ وقت کو پھیرتا رہتا ہے. تو وقت صرف دن رات روپیہ پیسہ ہی ہوتا ہے؟ جذبات،احساسات، رشتے ناطے کسی اور چڑیا کے نام ہیں!جس لمحہ یہ احساس ہو جانے کہ ایسا ہی ہے کہ وہ ہی مالک ہے اور ہر شے اس ہی کی گرفت میں ہے تو یا سمجھ آ جانی چاہئے کہ لمحہ کا بھی وہی مالک ہے اور بدلتا لمحہ اس ہی ہی عنایت ہے.یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حالات خواہ ظاہر کے ہوں یا باطن کے بدلتے ہی رہتے ہیں اور یہی خوبصورتی ہم کو زندہ اور پر امید رکھے ہوتے ہے. بدلاو کی امید ہی زندگی ہے اور لافانی بھی اگر رویہ اور سلوک روا رکھا جانے ُاس کے ساتھ ُخود کے سات 

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<۔<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>><.<.<.

<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.<.

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

 ٩ ستمبر ٢٠١٠ جمرات ،٢٩ رمضان

ستمبر کہ ستمگر


اگست کے ١٠ ،١١ دن مشکل گزرے ، بلکہ یوں کہو کہ دن گزر ہی نہیں رہے، تیاریوں اور خوشیوں کے رمضان شروع ہوا ، رمضان مبارک ہوا ، معلوم پڑتا تھا سارا ملک ہی چمک رہا ہے اور محو ہے کہ مبارک مہینہ شروع هونے والا ہے. الله سے کیا کیا راز و نياز ہوں گے. دن کیسا اور رات کیسی ہو گی. سو اقسام کی تیاریاں اور احکامات گھر والوں کو. بچو ستانا کم ہے دوپہر کو نماز کے بعد سب کو سونا ہے اور اٹھ کر عصر. شور شرابا کم. سب نے ایک دوجے  کی کام میں مدد کرنی ہے. خریداری کم اور ملک کے لئے سیلاب والوں کے لئے  ڈھیروں دعائیں وغیرہ وغیرہ.
اب بھی تراویح کے لئے بچوں نے ضد کی مسجد میں جانے کی تو دل ڈرا. ملک کے کوئی حالات نہیں، مگر خیال ہوا کہ رمضان ہے، دہشتگرد شائد شرم کریں. دل تو کرتا ہے کہ ہم سب  ہی مسجد جائیں. رمضان ہی میں تو صرف خواتین کا انتظام ہوتا ہے نماز کا. سب خوشى سے جانے لگے. ١٠ رمضان سے پریشانیوں کا سلسلہ شروع ہوا. مغیث اور منیب کو رمضان اتنا ہی نصیب تھا.٢٩ مردودوں نے سرِ راه مجمع لگا کر ان کی جان لے لی. شائد، بلکہ یقینً سوے ہوئے اور بہت سے درندہ صفت انسانوں کو جگا دیا.
 اُن نے سب کچھ بھول بھال کے غدر مچانے کی تیاری کرنی شروع کر دی، الله تیاری کروانے والوں کو غارت کرے اوراِن کو دنیا کے لئے عبرت بناے، آمین. خودکش تو کمپوٹر گیمزکی طرح ہے. جو جو بٹن دباتے گئے وہ وہ بندہ مرتا گیا، عمارت گرتی گئی. کھیتوں میں آگ لگ گئی، کاریں، سائکلیں، بسیں کہیں جا پڑیں. ٹرین تباہ کرنے کو دل کیا ٹرین اڑا دی، جہاز کو دل کیا جہاز گرا دیا. انسان کو کیا ہو گیا ہے؟ لگتا ہے کوئی الگ سا پرزہ لگوا کر پل  بڑھ رہا ہے. پتہ نہیں مائیں کیا کھا کر پیدا کر رہی ہیں، کہ دماغ درندگی کی طرف ہی جاتا ہے. ویسے ابھی میں نے سوچا کہ ماؤں کا کیا قصور ہے، ہماری ہوا کی آلودگی ہی ذہنوں کو آلودہ اور ظلم پر آمادہ کر رہی ہے. کوئی مثبت سوچ کسی کے لئے آتی ہی نہیں ان بد بختوں کو.
                           ہم دعا کر کے بھی ہار گئے ہیں. اپنوں کے لئے دعا کی بھی ضرورت ہوتی ہے دوا کی بھی. اور الله کہتا ہے ںا "میں اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کی حالت خود نہیں بدلنا چاہتی". ہو گیا ںا قصہ ختم. یہاں دوا کی ضرورت ہے. وہ ضرورت ہم، تم، سب نے مل کر بدلنی ہے. ہر کوئی خود کی ذرا سی گردن جھکاے، گریبان میں سب صاف نظر آے گا بتانا نه ہی پڑے گا کہ کون کون اس سب میں دہشتگردوں کی کیسے مدد کر رہا ہے. کوئی تو تماشا دیکھ کے، کوئی قلم نہ اٹھا کے ، کوئی نعرہ نہ لگا کے، کوئی صرف غلط کو غلط نہ کہہ کے. سب ذمہ دار ہیں خود کے مقام پہ وہ جتنا بھی بلند تر ہے یا جتنا کمتر. ایک اکیلا دو گیارہ.
بات رمضان مبارک سے شروع ہوئی تھی اور کیسے غم کی داستان بن گئی، سوچ بھی ماؤف ہوا چاہتی ہے. آخری عشرہ کے آخری چند سانس باقی ہیں یعنی کے روزے تین یا چار. الله ہی خیر کرے، اس ہفتہ میں تو صرف خون کی ہولی ہی کھیلی گئی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں، کوئی دس دھماکے ہو چلے ہیں کراچی، لاہور میں تین اکٹھے، پشاور، کوہاٹ اور معلوم نہیں کئی اور جو معلوم پڑے یا نہ ہی پڑے. جانے والے چلے جاتے ہیں اور ہم ہاتھ ملتے یا ہاتھ پہ  ہاتھ دہرے بیٹھے رہ جاتے ہیں یا منہ پھیر کے خود کی راه جاتے ہیں، .
باتیں تو بہت ہو گئیں، ہوں گی بھی ابھی اور، ہمیں اور آتا ہی کیا ہے، لے دے کے حکومت کو الزام یا الله سے گلے شکوے، میرا خود کا حصہ کہاں ہے. میرا میدان میں آنے کا وقت کب آے گا؟ میں خود کو مخاطب کروں گا.

**********************************


٨ ستمبر ٢٠١٠ ، بدھ ،   رمضان٢


دل ہی جب درد ہو........................................


یقینا ہمارا آج یہی مسلہ ہے، اگر ہم غلطی کرتے ہوں تو غلطیاں سدھائی جا ہی سکتی ہیں، مگر غلطیاں کر کر کے ہمارا وہ مقام آ  گیا ہے کے ہم مرقع غلطی رہ گے ہیں اور کچھ باقی نہیں رہا.
آج انسانیت کی ہر حد پار ہی ہو چکی ہے. ایسا نہیں رہا کہ جرم سے نفرت ہے مجرم سے نہیں. انسان جرم کے علاوہ اور کچھ بچا ہی نہیں. زیادہ غلط نہ ہی ہو گا اگر اب انسان کی جگہ ہم پکارنے میں یا لکھنے میں کہیں کہ "جرم" نے کہا. انسان چلتا پھرتا جرم ہو گیا ہے. اب تو گھر بیٹھے کئی مرتبہ میری گردن اکڑنے لگ جاتی ہے کہ کہیں سے گولی آئی کے آئی. خود کے گھر میں آرام سے بیٹھے میں دیکھتا ہوں کہ میری دھڑکن تیز هونے لگ جاتی ہے اچانک اور میں کھڑکیوں کے طرف دیکھنے لگ جاتا ہوں، لگتا ہے گولی ائی، کبھی لگتا ہے کہیں دہماکہ تو نہیں ہوا. یہ ہی زندگی رہ گئی ہے. خیالوں میں بس خوف، خواب میں خوف. کبھی میں پنکھا بند، ٹی وی بند کر کے سانس روک کہ بھی سننے کی کوشش کرتا ہوں کہیں بھگڈر کی آواز یا شور تو نہیں آ رہا. دیوانوں کا سا حال ہو گیا ہے. اس دن کی بات ہے سڑک سے شور کی آواز ائی ، چار سالہ حبیب ہے کہا نانو بلاسٹ ہوا ہے؟ اس طرح ہماری نئی پود پروان چڑھ رہی ہے.
کتنی ہی باتیں آج یاد آ رہی ہیں. گرمی کی چھٹیاں شروع ہوئیں تو سکول سے نوٹس آیا کے سکول کل سے بند ہے. حبیب نے پھر سوال کیا، نانو، سکول میں دھماکہ ہوا ہے. کیا ہماری زندگی میں دھماکوں کے علاوہ کوئی یادیں نہیں ہوں گی. کل خبروں میں بتایا گیا کہ ٤٠،٠٠٠ لوگ جن کے پاس ٢ پاسپورٹ تھے ملک چھوڑ گے، ہمیشہ کے لئے، یعنی کہ جان بچانے کے لئے ہجرت. رات پھر مجھے یاد آیا جب میں بچا تھا، ہم بڑی خوشی سے چھٹیوں کی تیاری کرتے تھے اور گھومنے جاتے تھے ملک سے باہر، کبھی کدھر کبھی کدھر. اب بچوں کی اور ان کے بچوں کی باری ہے. چھٹیاں شروع ہوئیں تو نور نے امریکا جانے کا پروگرام بنایا دونوں بچوں کے ساتھ. حبیب پھر بولا ماما ہم امریکا جا رہے ہیں اس لئے کہ یہاں والے پاکستان میں روز بم چلتے ہیں سکول بھی بند ہو جاتا ہے اور میں اسفندیار سے بھی نہیں ملتا. امریکا والا پاکستان اچھا ہے، وہاں تو بم نہیں چلتا نا. یہ میں نے ویسے ہی لکھ دیا جیسا کہ چار سال کے بچے نے سوال کیا یا یوں کہو جیسا کہ وہ سوچتا ہے. وہ اتنا چھوٹا ہے کہ کہتا ہے یہاں والا پاکستان اور وہ امریکا والا پاکستان. یہ بچہ کیسا نوجوان ہو گا، آپ جواب دو؟
ذرا غور کرو کہ بچوں کے دل میں پاکستان کا کیا مطلب ہے، لا الہٰ الااللہ، کا اس معصوم کو نہیں معلوم . اس کو وطن یا مٹی یا کاروبار یا خاندان کا بلکل نہیں پتہ، اس کی کل کائنات اس کا گھر ہے، وہ ہی اس کا پاکستان ہے. اور اس نا سمجھ کو بھی اتنی سمجھ تو آتی ہے کہ یہ جگہ یا گھر یہ مکان یا سکول اب رہنے بسنے کے لئے کسی صورت مناسب نہیں رہا. ہر کا اپنا الگ انداز ھے، فکر کا بھی بیان کا بھی. ہم فکر کی اور سمجھ کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، بڑے گہرے نکتے نکالتے ہیں. مگر بچے کی بات ہے حق. اگر ہم ہوش کے  ناخن نہ ہی لیں گے، اور سب ہی یا تو مر کھپ جایئں گے یا ملک بدر ہو جائیں گے تو ....................
 

 **********************************


٥ ستمبر ٢٠١٠ اتوار ، ٢٥ رمضان

تا حدِ نگاہ ملبے کا ڈھیر ...........................زندگی

الله نے انسان بنایا اور اس کو از بر بھی کرایا کہ اس کو زندگی  کی علامت بنانے کا سارا ماجرا کیا ہے. کیوں یہ قصہ چھیڑا جا رہا ہے اور اس کو کیا کرنا ہے اور آخر کار کیا ہو گا، اس کہانی کا اختتامیہ منظر. الله کی سنت ہے کہ وہ پورا سبق پڑھاے بغیر امتحان لیتا ہی نہیں. سب بتا سکھا کے بھیجا سجی سجای دنیا میں جو اس کے انتظار میں کھڑی تھی استقبال کو. استقبال تو کسی بڑی ہستی کا ہی کیا جاتا ہے اور سجاوٹ بھی معتبر شخصیات کے اہتمام میں کی جاتی ہے. سو انسان صاحب کو خود کا رتبہ اور مقام معلوم تھا. اس نے آو بھگت کو خوب سراہا.سراہتے سراہتے یہ انسان بھول گیا کہ جس شے کی وجہ سے اس کی اتنی عزت ہے اس کا تو دھیان کرے بچا کے رکھے. وہ جان ہی نہ سکا کے کردار ختم ہو جاے گا تو عزت دولت مال دنیا اور آخرت سب چلا جاے گا. اور عزت ہے ہی اس وجہ سے کہ انسان جو استغفار کہہ کے یہاں بھیجا گیا تھا وہ احکامات لے کے آیا تھا ان کی خود بھی مشق کرے اور پھیلاۓ بھی. ایک اور بھی انسان کے ساتھ ہی مہلت لے کر آیا تھا مردود. وہ ہر وقت تاک میں رہا کے معافی تو ہو گئی ہے مگر کب تک؟ انسان بھولے گا ہی یہ ورغلایا ہی جاے گا بھلے کم تعداد میں پہلے اور آہستہ آہستہ یہ نفری بڑھ جاے گی. پھر کیا بندہ اور کہاں کی عزت.                                        آخر وہ راندہ درگاہ جیت ہی گیا، اکثریت میں انسان ایسا ہی ہو گیا ہے اسلام کی دنیا میں. وہ بھول گیا کہ آخر اس کو اکثر و بیشتر خلق پر اشرف کیا الله نے. اس کی لاج بھی ڈبو دی انسان نے. انسان کی الله کو بھولنے کی خبریں بھی ملیں ہیں کافی آج تک، تاریخ میں. اب جو انسان کے خلاف انسان نے کر ڈالا ہے اس کی تو انتہا ہی ہو گئی. "شرم تم کو مگر نہیں آتی" . دوسروں کو بھی ڈبوتا ہے ہی مگر خود کا جو حشر کر رہا ہے اس کی مت پوچھ اے دوست! اپنا وجود ہی اس نے اتار کے رکھ دیا ہے کسی تاکی میں. روح کو ننگا کر رکھا ہے. اور وار کرنے والا بھی خود ہی ہے خود کی روح پہ. اس کو خود کے دھرے جانے کا ابلیس کے ہاتھوں معلوم ہی نہیں پڑتا. یا اس نے ٹھان ہی لی ہے کہ لو لگانی ہے تو اس سے جس کے لئے دائمی جھنم کا اعلان ہو چکا ہے.جسم کا بھی گناہ گار انسان خود ہی ہے اور روح کا بھی. بتاے احکامات خود بھولا اور رستہ دیا دوسرے کو. اب سارا الزام اس ہی پر ڈالتی ہے انسانیت. وہ تو الله سے مہلت لے کر آیا تھا. انسان بھی تو استغفار کہ کے آیا تھا. مردود نے بھٹکانے کا وعدہ کیا اس نے برقرار رکھا. میں نے بھی اطاعت کا وعدہ کیا تھا. اس کے سامنے میں نے ہار مان لی اور خود کے سامنے بھی. مجھے مالک کا ساتھ بھی حاصل ہے اور تھا. میرے اعتماد کو کیا ھوا اور وعدے کو؟ وہ الله سے طاقتور تھوڑا ہی نہ ہے جو جیت گیا . میں نے خود کی کوتاہی سے ہار مانی ہے مجموعی طور پر . میں بھی اس جتنا ہی قصور وار ٹھہرا . شائد اس سے بھی زیادہ کیوں کہ میں خود کا وعدہ بھول گیا وہ مردود وعدے پہ قائم ہے . وہ گندگی کا ڈھیر تھا میں بھی ہوا .سو مالک کی مہربانیوں کا کیا شکرانہ ادا کیا میں نے.حدِ نگاہ اب کچھ دکھائی نہیں دے رہا یہ آندھی ہے، طوفان ہے، سیلاب ہے، گہرے بادل ہیں بجلیاں ہیں، مایوسیاں ہیں فکر ہیں اداسیاں ہیں تنہائیاں ہیں. یہ سب کیوں ہیں، سوال آج خود سے بنا میرے آگے. زمانوں بعد آج اس طوفانِ بد تمیزی کے جنگل میں، میری خود پہ نگاہ پڑی تو یہ خیال آیا. زندگی کہاں سے کہاں پہنچ گئی. الله نے کیا بنایا تھا مجھے، میں نے خود کو لالچ اور بغض کا ڈھیر بنا دیا. کہاں ستاروں کو مسخر کیا اورکہاں خود سے ہی مات کھا گیا. مجھے مجھ کو مات دینی تھی میں کس طرف لگ گیا. وہ ازل سے میرا دشمن میں نے دوست کر لیا. رب تعالی کی رحمت کا میں نے کیا کیا. زندگی آج بھی میری ہی راہ دیکھ رہی ہے. لوٹا لو نگاہ کو خد کی طرف. خد کو زندگی بنا لو ، ملبے کے ڈھیر سے اٹھا لو ہٹا لو.

************************************************************

 

  

[٤ ستمبر ،ہفتہ  ٢٠١٠ ،رمضان ٢٤    [رمضان جاتا 


 عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ !


آنا آنا کرتے کچھ دن نہیں گزرے تھے کہ آنے والا آ ہی گیا. کچھ تیاری ہوئی کچھ نہ ہی ہوئی. ہمیشہ کی طرح. ہر تیاری انسان کی ایسی ہی ہوتی ہے، اور خاص طور پہ جب اچھے کام کی طرف جانا ہو تو پھر تو ہر کام کی تیاری رستے ہی میں رہ جاتی ہے بلکہ انسان خود ہی رستے میں رہ جاتا ہے یا آدھے راستے میں اور کہیں نکل جاتا ہے. اُس نے خود کو مضبوطی سے نہ ہی تھاما ہو خود کا ظاہر، باطن.
تھامنا بھی سیکھنا پڑتا ہے. پہلے خود کو دیکھو کہ کسی تعلق سے چاہ کیا رہے ہو، کہ وہ آپ سے کیسا ہو، یعنی کیا دے، اپ اس سے کیسے ہو یعنی کیا لو ،حاصل کرو ، فائدہ اٹھاؤ. یہ ساری مثبت چاہتیں ہیں. کہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہے نہ مانگ میں نہ ہی سوچ میں. مثلا استاد ڈھونڈنا سیکھنے کے لئے، دوست بنانا سیکھنے کے لئے. صحبت اختیار کرنا مستفید ہونے کے لئے، خدمت کرنا اجر پانے کے لئے. بڑھ چڑھ کے حصہ لینا فلاحی کاموں میں، الله کے ہاں سرخرو هونے کے لئے. اور بہت کچھ. رمضان کے روزے رکھنا تقویٰ اختیار کرنے کے لئے.
جس آنے والے کا ہم ذکر کر رہے تھے اور اہتمام میں لگے تھے کہ کوئی کمی نہ ہی رہ جاے، سب ٹھیک سے ہو جاے، استقبال بھی، اس کا رہنا، یعنی ہمارے ہاں ٹھہرنا، اور پھر مقررہ وقت پہ چلے جانا. کوئی مسافر عمر بھر کو نہیں آ جاتا کہیں بھی. اس کی کوئی تو منزل ہوتی ہے جہاں اس کو آخر کار پہنچنا ہوتا ہے. حاضری دینی ہوتی ہے اور رپورٹ بھی پیش کرنی ہوتی ہے، یا تبادلہ خیالات کرنا ہوتا ہے.
                  ''تم چلے جاؤ گے تو سوچیں گے       ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا''
رمضان کو لیتے ہیں، انتظار کیا، انتظام کیا، اب الوداع کی تیاری ہے. کبھی میں پیچھے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کچھ نہیں کمایا، کبھی آگے دیکھتا ہوں تو ڈھارس ہوتی ہے کہ ابھی بھی چند گھڑیاں ہیں جن سے مستفید ہوا جا سکتا ہے. غم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو رہ گیا ہے اس کو اچھے سے گزارو،خود کے ساتھ ، ساتھ والوں کے ساتھ. بد گمانی آج بھی ہوئی، میں نے خود کو جھٹکا دیا اور سیدھا ہو گیا. شائد یہ ہی سیکھا میں نے اس رمضان.
کچھ وعدے تیرے آنے سے پہلے کئے تھے کچھ تیرے جانے کے بعد کروں گا، آج میں ماہ رمضان سے مخاطب تھا. میں نے شرافت سے قبول کیا. انسان جو ٹھہرا. کمزور انسان. اب ایک وعدہ کر رہا ہوں خود سے اس انمول مہینہ اور لمحہ میں ایک پُر اعتماد انسان اور مسلمان هونے کے ناتے کہ خواہ میری ایک نماز ہی سیدھی ہوئی ان چند دنوں میں میں قائم رکھنے کی دوا اور خود سے وعدہ کرتا ہوں. خواہ میں نے گالی سن کہ خود کے لئے ایک مرتبہ درگزر کیا ،کرتا رہوں گا. ایک مرتبہ ہی جلی ہانڈی یہ ٹوٹی پلیٹ کو معاف کیا، کرتا رہوں گا. ایک ایک کر کے بہت سی سکھلائیاں ہو گئیں. دو تین اور ہو جائیں گی، گیاراں مہینے وہ ہی پکا لوں گا. یہ آٹھ ، سات مثبت پہلو خود کی ذات میں لے کے داخل ہوں گا آتے رمضان، سانس چلتی رہی، صحت کے ساتھ تو.
آج پھر دھیان پیچھے جاتا ہی ہے. یہ میری ہوش کی زندگی کا پہلا رمضان نہ تھا نہ ہی ہے. پھر بھی ابھی تک نہ ہی تیاری ہو پاتی ہے. نہ کوئی اجینڈا بنتا ہے نہ ہی کوئی آئیڈیل، نہ ہی کوئی خود کا ضابطہ حیات. کیا ہم ہمیشہ رمضان کی بات اور اس سے ناکام سی ملاقات کرتے ہی یوم الدین میں جا کھڑے ہوں گے. یہ کسی کا مجھ سے، میرا کسی سے سوال نہیں ہے. ہر مسلمان جان کا خود کا خود سے سوال ہونا چاہئے. ابھی تک اور تو کچھ نہیں ہوا دل کہہ رہا ہے. تو کم از کم ابھی خود کے لئے جاتے رمضان کا سوال ہی بنا لو. میں کیا شکل لے کرمالک کے دربار میں حاضری دینا چاہتا ہوں؟

**************************************


٣ ستمبر ٢٠١٠ ، جمعہ  ٢٣ رمضان



گئے دن کا برگزیدہ، آے دنوں کا گندہ انڈہ


الله نے دنیا بنائی عدم سے اور پھر اس کو خود کے طریقہ پہ سنوارا، ہر ضرورت کی شے مہیا کی اور اسے مکمل کر کے، معاف کئے انسان کو کہا کہ اس میں چلو پھرو عیش کرو. خود کے رب کا شکر ادا کرو، اس کی تسبیح کرو اور آرام کرو مگر یاد رکھو کہ شیطان مردود تمہارا کھلا دشمن ہے. وہ ہر طرف سے تم پر وار کرے گا جیسا کہ اس نے تمہیں الله کی جنت میں سے نکلوا دیا. وہ الله سے مہلت لے کے نکلا ہے انسان کو گمراہ کرنے کو مگر جو تقویٰ اختیار کئے ہوں. جنت سے نکلے انسان کے لئے سکون اور راحت کا ہر ممکن سامان موجود تھا اس دنیا میں الله تعالی کی طرف سے اور انسان کے ہی لئے. ابھی نیا نیا جنت سے آیا تھا خود کی کوتاہی بھی تازہ تازہ یاد تھی سو خوش خوش رہنے لگا. اس کے گیت گاتا، اس کی حمد و ثنا کہتا، اس کی تسبیح و عبادت کے سہارے سکھ کی زندگی گزرنے لگی.
مردود دھاک لگاے بیٹھا تھا، لگا کوشش کرنے. اس کو تو کوشش کرنا ہی تھی، رب سے مہلت جو مانگی تھی قیامت تک کی. وہ بھی گمراہ کرنے کی. اس کو معلوم ہی تھا کہ کچھ کو تو پیچھے لگا ہی لے گا. لگا انسان کے پیچھے بھاگنے، وہ پیچھے پیچھے اور انسان صاحب آگے آگے. جیسے جیسے اولادِ آدم پھیلتی گئی، الله کے احکامات اور مناجات میں کمی آنے لگی، کچھ تو یاداشت کی کمزوری، اور کچھ دنیا کی رنگینی کا غلط استعمال اور مردود کی انتھک محنت رنگ لائی. جب بھی رب کی طرف سے انسان کمزور پڑتا یہ بدبخت اس کو قابو کر لیتا. یوں ہی چلا آ رہا ہے، چلتا ہی رہے گا. راندہ درگاہ اسی طرح الله کی خوبصورت  دنیا اور خوبصورت بندوں کو جگہ جگہ سے بدصورت کرتا رہا. کرتا رہے گا مگر جو اس کے حقیقی بندے ہوں. نافرمان، سرکش کا کام جو یہی ہے.
ابھی ذرا ابلیس کو بھولیں. خود کو دیکھیں اور الله کی دنیا کو، کیسے دونوں کو الله نے فرصت میں بنایا ہے اور کس قدر پیار سے. انسان ہر طرح سے افضل کئی مخلوقات پر اس کو کئی لحاظ سے افضل ہے. اس کی شکل عقل کا کوئی مقابلہ نہیں ہے. الله کے راستے پر چلے تو عجائب اور غائب کی دنیا کو فتح کرتا چلا جاے الله کے حکم سے. الله فتوحات اور ایجادات میں مدد فرما کر اس کے نام لگا دیتا ہے. یہی انسان الله کے بتائی راستے پر چل کر جنت کا مستحق کہلاتا ہے جو الله نے خود کے متقی بندوں کے لئے تیار کی ہے. الله کی اس کے بندے کو کیا کیا نعمتیں حاصل ہیں، وہ اکثر بھول جاتا ہے. دراں حالانکہ اس کے پاس  کوئی بھی معقول جواز نہیں ہے.  آو الله سے بنی نوح انسان کے لئے ہدایت کی درخواست کریں.
اب آے ہی ہو تو چلو الله کی حسین اور رنگارنگ دنیا کو بھی دیکھیں. الله نے یہ دنیا انسان کے لئے، بلکہ انسان کو آزمانے کے لئے کہ یہ خلق کہاں تک مجھے اور مجھے ہی رب مانتی ہے. پھر انسان کو بنایا اور خود کہا کہ اس دنیا اور اس کی ہر شے کو سب جائز طریقوں سے استعمال بھی کرو فائدہ بھی اٹھاؤ ، اور ہاں خالق کو نہ بھولنا. واپسی وہیں ہے، اور یہ سفر تیری پیدائش کے بعد ہی سے شروع ہوا چاہتا ہے. انسان نے اس ساری بات کو احسن انداز میں پورا کرنے کا عزم کیا، اور چڑھ پڑا  زندگی کی پٹڑی پہ، اچھی گزرنے لگی، آہستہ آھستہ وقت کے ساتھ ساتھ اور راندہ درگاہ کی مدد سے انسان پٹڑی  سے سرکنے لگا. پہلے پہل سرسکنے کی رفتار کم تھی اور کسی کسی کی ہی تھی. نقصان یہ ہوا کہ آہستگی سے شیطان کی ٹیم تیار هونے لگی اور وقت کے ساتھ ساتھ بھرپور تیار ہو گئی ہے.
ہر طرف افرا تفری، قتل و غارت، بے چینی، تفرقے، حسد ، لوٹ مار، مقابلہ بازی، جھوٹ اور فریب کاری جو موجود ہے یہ اس کا ہی کیا دہرا ہے جو وہ ہم سے ہمارا دوست بن کے ہی کرواتا ہے. اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے. میں خود کا بربادہ مچا دیتا ہوں. کام یہیں ختم نہیں ہوتا. میرے بربادہ مچانے کی جڑیں لمبی اور مضبوط ہوتی جاتی ہیں، لوگ ساتھ آتے جاتے ہیں اور قافلہ بنتا جاتا ہے. قافلہ سے پہلے آہستہ آہستہ اور پھر تیزی سے قافلے وجود پانے لگتے ہیں، پا رہے ہیں. ادفرا تفری بڑھتی اور پھیلتی جا رہی ہے. انسان بکھر گیا ہے اور اس کو خبر بھی نہیں ہو رہی ، حسین دنیا جس کو چاند اور سورج روشن اور چمکدار کرتا تھا، آنکھ پرندوں کے اپس کے سلام سے کُھلتی تھی اب بم دھماکوں سے کھلتی ہے اور کبھی تو خوف سے رات رات بند ہی نہیں ہوتی. بارود کے دھوئیں کے بادل نہ کہاں کا دیدار کرنے دیتے ہیں نہ ہی سورج کا. نفسہ نفسی کا عالم ہے، الٹ پلٹ ہو کہ رہ گیا ہے نظام. قیامت دور نہیں مگر تب تک تو سکون کرو. کسی لحظہ تو شیطان کو خود سے نوچ کے پھینک دو، گندے انڈے کو.

******************************************


 

 ٢ستمبر ٢٠١٠،جمعرات ،رمضان ٢٢


سورہ کوثر


الله تعالی نے حضورص سے فرمایا کہ ہم  نے تم کو کوثرعطا کی.
 یہ خوش خبری دنیا میں بھی پوری ہوئی اور آخرت میں بھی پوری ہو گی ۔ پہلے دنیا کے حوالے سے دیکھ لیتے ہیں. آخرت کا تو ہم کو معلوم ہے حضورص کے لئے ڈھیروں برکتیں اور خوش خبریاں ہیں جو آپ کے خود کے حوالے سے اور آپص کے صحابہ کے حوالے سے ہیں. ہم سن کے پڑھ کے روشن ہو جاتے ہیں. کیا ہی کمال شخصیات ہوں گی. آپص  کے زیر سايه، زیر نگرانی، پلنے، بڑھنے والے. آپص سے براہ راست مستفید هونے والے.
وہ سب آپص کے ہر حکم کے گواہ، تابعدار، ساتھی، پیار کرنے والے اور پیار کروانے والے. ان سب کا ساتھ حضورص کی خوش خبروں میں شامل تھا.آپص  جس جس اونچ نیچ سے گزرتے سب دل و جان مال سب نچھاور کر دیتے. آپ کے صحابہ واقعی ستاروں کی مانند تھے. الله نے بشارتوں کے ساتھ ساتھ اکثر جگہوں پر نماز کی حمد و ثنا کا فرمایا ہے. سورہ کوثر میں ارشاد ہوا نماز اور قربانی کا.
ایسے ہی ہے حضورص کے وقت مشرکوں کا خیال تو تھا ہی کہ ہم دین ابراہیمی کی ہی پیروی کر رہے ہیں مگر دین کا احکامات کی شکل اتنی مسخ کر دی تھی کہ پہچاننا ناممکن. ایسے میں حضور کو نیے سرے ہے الله کے کہے کے مطابق نماز بتانی پڑی اور ایسے ہی ان کے ہاں قربانی تو تھی ہی مگر غیر الله کے نام کے لئے،خود کے بناے بتوں کے نام. یہ بھی بتانا پڑا کہ سب قربانی جس کا سورہ میں ذکر ہے، اور دل و جان و مال و وقت، اور سب کچھ،  کی قربانی صرف اور صرف الله کے ہی لئے ہے.
القران میں الله اور حضورص کے درمیان کی سب گفتگو خواہ شریعت ہو یا حکمت سب قلمبند ہے، مگر وہ صرف اس ہی لئے ہے کہ وقتا فوقتا ہم کو اس کو کھولنا ہے اور مستفید بھی ہونا ہے. ہم یقینًا بھول جاتے ہیں، یا بھولنے لگ جاتے ہیں، اہمیت احکامات کی ہماری زندگی میں کب ہونا شروع ہو جاتی ہے. اب تو خود سے ہی عقل سمجھ استعمال کرنی ہے. الله نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجنا اور نہ ہی کوئی صحیفہ. ہم کو یہ قرآن سمبھال کر رکھنا ہے،یعنی اس کے احکامات ادا کرتے رہنا ہے نا کہ القران بطورِ کتاب.
حضورص کی مشرکین مکہ چڑ بناتے تھے کہ آپ کے بعد آپ کا نام لیوا کون ہوگا، آپ کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں سو آپص  کا پھیلایا کام منقطع ہو جاے گا. آپص کے بعد کے ہم سب ہیں. میرا قیاس ہے کہ الله پاک نے جو کہا کہ تیراص دشمن ہی منقطع کیا جاے گا، سو وہ آپص کے زمانہ میں تو ہوا. آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم تک آپص کا پھیلایا الله کا کلام، آپص کی کاوشوں کا پهل، ہم تک پہنچا ایسے ہی، جیسا کہ الله تعالی نے چاہا. اب ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ یہ آج ہم سب کا انفرادی سوال ہے خود کا ہر مسلمان کہلاۓ جانے والے شخص سے.
میں کہتا ہوں آج کا اسلام، آج کی نوید آج کا مسلمان بھی ہے. حضور سے لے کے آج تک، ہر وقت کا مسلمان خوش خبری تھا، ہم کو کیا ہو گیا؟ مسلمان حضورص کے لئے خوشخبری ہے، خوش خبری بن جاؤ خدارا. جو دشمن نے کہا کہ آپص کی جڑ کٹ کے رہے گی الله نے ان کو ہی کاٹ دیا. وہ خود کو تباہ و برباد کرنے والے بنے. نہ ہی ان کا مال ان کی پشت چلانے کے کام آیا نہ ہی ان کے کئی کئی بیٹے. الله نے خود کا وعدہ پورا کر دکھایا. حضورص سے الله سے ہم نے بھی وعدہ کیا تھا، کیا ھوا وہ وعدہ؟ ہم خوشخبری بن کے کیوں نہیں کھڑے نظر آتے. اب بھی وقت ہے. آج کل تو بہت ہی وقت ہے معافی کا، لوٹ جانے کا، اس کی طرف جو رحمت کے دروازے اور مغفرت کے دروازے کھولے کھڑا. اٹھو اس سے پہلے کے دیر ہو جاے............!

**************************************************


                  ٢١ رمضان    ١ستمبر ٢٠١٠ ، بدھ 


میں مجھ سے لا پتہ


اگر ایسا نہ ہوتا تو آج یہ بھی نہ ہی ہوتا جو ہو رہا ہے، کسی کا پتہ لگانے کی ضرورت نہیں ، کسی کی کردار کشی یا کردار کُشی کرنے کی ضرورت نہیں خود کا گریبان دور کہاں. جائزہ ہی لینا ہو تو بندہ خود کا لے. اور جب خود کو میں دیکھنے لگتا ہوں تو ایسے خود میں محو ہو جاتا ہوں جیسے کہ کوئی عجوبہ زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا ہو اور وہ بھی ایسے کہ دیکھنے کی امید نہ ہو، یہ یا کہ یہاں تک پہنچنے کی امید نہ ہو یا ایسا عجوبہ نظر آ گیا ہو جو توقع سے باہر ہو. اتنی حیرانی ہے کہ الفاظ میری سوچ کا ساتھ ہی نہیں دے رہے.
یہاں جو میں گیا تو معلوم پڑا کہ لاتعداد ایسی گھمبیر سمسیایں ہیں کے میں ان کو سلجھاتے سلجھاتے اگلے جہاں جا پہنچوں گا مگر حل نہ ہو کے دیں گی. یہ ہے میری اندر کی داستان باہر کی بھی کوئی کم نہیں ہے مگر ظاہر تو میں سوٹ بوٹ پہن کہ کسی حد سمبھال لیتا ہوں. اسی سے تا حیات کام چلتا رہتا ہے گرتے پڑتے. کبھی اندر کی آواز کان میں آ ہی جاے تو میں اس زور کا کان مروڑتا ہوں کہ کان ہی اتر جاے. یہ اکثر میری چالاکی ہوتی ہے، اکثر نہیں بھی ہوتی. میری نا اہلی، سستی، کم عقلی بھی ہوتی ہے. بس خود کو خود کی نگرانی میں دینا ہے سب مسائل کے حل کے لئے.
ان کے مسائل بھی کم ہو جاتے ہیں جو اوروں کو نہیں دیکھتے. ایسا نہیں ہے کہ مسائل واقع ہی کم ہو جاتے ہیں بلکہ خود کی طرف دیکھتے، وقت ہی نہیں رہ جاتا اوروں کی طرف دیکھنے کا. یہ ہی سب سے بہتر طریقہ ہے ساری مخلوق کو ٹھیک کرنے کا. ہر ایک خود کا احتساب کرنے لگے تو کائنات کا مالک بھی شائد انسانوں سے خوش ہو جاے اور آزمائش کی گھڑیاں کچھ کم ہو جائیں. ویسے تو دنیا آزمائش گاہ ہے، کبھی کبھی سامنے ائی آزمائش سخت ہو جاتی ہے اور ایمان ڈولنے لگتا ہے. کمزور انسان   مقابلہ نہیں کر پاتا خود کا ہی اور شیطان مردود کا. ایسے وقت میں اگر خود کی طرف دیکھا جاے خود کی غلطیوں پہ نظر رکھی جاے تو خود کی غلطیاں نظروں کے سامنے رہتی ہیں اور معلوم پڑتا ہے کہ یہ سب میری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے جو بھگتنا پڑ رہا ہے نہ کہ الله کی طرف سے پکڑ ہے.
اسی طرح اگر میرا مجھ کو پکڑنے کا عمل جاری ہو گیا تو سمجھو کہ چاندی ہو گئی میری، اور اگر ٥٠ لوگ بھی یہ کہیں خود سے تو دنیا ہی بدل جاے گی. کل ہو ہم یہ کہیں گے، میں تو صرف خود کا ذمہ دار ہوں، اور کسی میں دخل اندازی میرا کام نہیں. اس سے بے حسی وجود میں نہیں آے گی بلکہ ہر کو معلوم پڑے گا کہ خود پر کام کرنا ہے. یہ ایسے معلوم پڑتا ہے کہ آپ کے پاس نہ کوئی مچلتی خبر ہوتی نہ آپ خبر میں اشتیاق رکھتے ہیں. لوگ آپ کے پاس نہ بیٹھنا چاہتے ہیں نہ ہی وقت گزارنا چاہتے ہیں. یہ اچھا شگن ہے. ایسے ہی یا آوارہ طریقوں سے ملنا اور بولنا ختم ہو گا. کسی کو کہیں سے کوئی خوراک نہ ملے تو سب کی واپسی خود کی ہی طرف ہو گی. کہاں جاے گا کوئی انسان. 
ابھی تک انسان کو یہ معلوم نہیں پڑا کہ جانداروں میں انسان ہے اور حیوان ہے. ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ فرق صرف خود کا پتہ پانا اور نہ پانا کا ہے اگر دیکھو تو. حیوان تو خود کو نہیں دیکھ پاتا نہ ہی اس کو ضرورت ہے. الله تعالی نے ان کو بنایا ہی ایسا ہے. اب ائی انسان کی بات. انسان اگر آواگون پھرے گا تو کیسا لگے گا؟ حیوان سا ہی لگے گا. یہ تو ظاہر ہے. مگر اسی انسان نما کو اگر بتا دیا جاے کہ صرف خود کے اندر دیکھ لیا جاے خود پہ کام کیا جاے تو بس اور کچھ کرنا ہی نہیں. الله نے سب سے پہلے انسان کو خود کا حق ادا کرنے کو کہا ہے بعد میں الله کا اور الله کے بندوں کا. یہ ہم کیوں سمجھ نہیں پاتے کہ کام خود سے خود کے گھر سے شروع کرنا ہے.
الله نے سب سے پہلے مجھے مجھ کو دیا سو ظاہر ہے سب سے پہلے مجھ سے میرے بارے میں سوال ہو گا. اس سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ سب سے پہلے سارے دنیا کے کام چھوڑ کر مجھے خود پہ نظر ڈالنی ہے. ظاہر پہ اور اندر پہ. جب تک میرا خود پہ کام نہیں ہو گا میں زندگی کے کسی بھی مقام پر پورا نہیں اتر سکتا. میرا خد کے حوالے سے سرخرو ہونا خود کی نظر میں کہ میں نے تیری امانت کا خیال رکھا. معلوم ہو کہ میرا وجود میرے پاس الله کی امانت ہے. اس لئے اس کا خیال دھیان کرنا اور اس کو سمبھالنا، پالنا میری پہلی ذمہ داری ہے. میں اس حوالے جب خود کا قدردان ہوتا ہوں تو اصل میں الله کا ہی شکر ادا کر رہا ہوتا ہوں.
معلوم پڑا کہ الله کی طرف سفر خود سے شروع کرنا ہے. خود کو اس قابل بنانا ہے کہ خود کو منہ دکھانے کے قابل ہو جاوں. اور الله کی حاضری کو بھی تیار ہو جاوں. مجھے خود کا پتہ خود کے لئے بھی ڈھونڈنا ہے اور الله کے لئے بھی. اس لئے کہ خود کو لے کے الله کے سامنے بھی جانا ہے. پہلے میں خود کو اس مقام پہ لے آوں کہ خود کا سامنا کر پاوں اس بیدرد زمانے کے سامنے، خود کو کھڑا مضبوط پاوں. اس وقت کے شیطانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے. یوں میری زندگی بھی کمال ہو گی اور انشاء الله آخرت بھی. میں مجھ کو ڈھونڈوں گا خود کے لئے رب کے ہاں حاضری کے لئے.  
 

**********************************************************************************



١  ستمبر ٢٠١٠ ،  بدھ ٢١ رمضان  
 

سورت  نصر


الله کی طرف سے یا الله کی، کامیابی جب سنا دی جاے! یہ تب ہی ممکن ہے جب الله اور آپ کا اجینڈا ، مقصد، مطلب ایک ہو. انسان کی سوچ کے مقاصد اور بھی ہو سکتے ہیں اور عمل کے اور. انسان دنیا میں نام، عھدہ، مقام، ترقی شہرت پانے کے لئے بھی وہی کام سر انجام دے سکتا ہے اور ہو بہو وہی کام الله کی رضا کے لئے بھی ہو سکتا ہے.
یہاں الله پاک حضورص  سے مخاطب ہیں بلکہ مدد اور فتح کی نوید سے کلام کا آغاز ہو رہا ہے کہ، ابھی جب آپ کے سامنے الله مددگار ہوگا اور آپ کو کامیابی نصیب ہو گی. یہاں یہ خاص مدد اور فتح کا اسلوب بیان ہوا ہے، جو خاص پیغمبروں کے لئے ہے. پیغمبر جب اپنی سی ہر کوشش کر بیٹھتے ہیں، مگر دشمن خود کی دشمنی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو الله کو خصوصی مدد فرمانی پڑتی ہے اور فتح پہ دعوت کا اختتام ہوتا ہے. ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ الله کا نمائندہ دل شکستہ نہ ہو جاے اور خود کی کوتاہی نہ جاننے لگے.
رسول جب کہہ، کہہ، تھک جانے کے قریب ہوتا ہے اور ناماننے والے اڑ ہی جاتے ہیں الله کے رسول کی تکذیب کرنے اور دشمنی نبھانے پہ تو رب تعالی اب خود کی دعوت اور اس کی کامیابی خود کے ہاتھ میں لے لیتے ہیں. کیونکہ قوم کی حالت اب کھل کے سامنے آ چکی ہوتی ہے کہ یہ الله کے راستے میں رسول کو ہلاک کر چھوڑیں گے یا رسول خود ہی دل برداشتہ نہ ہو جاے.
الله بشارت دے رہا ہے کہ اس کی مدد جب آے گی تو کیا ہو گا ؟ لوگ کثیر تعداد میں ایمان لے آئیں گے اور پیغمبر کا دستہ مضبوط ہو جاے گا اور اس کی وجہ سے فتح نصیب ہو گی، یعنی کہ فتح مکہ . یہاں الله خوشیاں ماننے کو نہیں کہہ رہا، نہ ہی حکومت جمانے کو یا حکم چلانے کو، اب الله نے ہر کام صرف خود کے ہاتھ میں لے لیا ہے. تدبیر بھی خود ہی کرے گا، مقدر تو وہ ہی کرتا ہے.
الله نصرت پانے والے کو یعنی حضور پاک کو کہہ رہا ہے کہ آپص الله کو اور زیادہ یاد کرو، ذکر، حمد، انعام پہ شکر، فضل پہ اطمینان اور سکون پہ تسبیح کرو، الله کہہ رہا ہے کہ یہ سب کچھ اس ہی کی طرف سے ہے. بیان ایسے اس لئے ھوا کہ اس کو القران میں آخرت تک کے لئے رہنا تھا. ہمارے خیال میں یہ ہمارے لئے سبق ہے نہ کہ حضورص کے لئے . ہم کامیابی کے بعد اس کو خود کا کارنامہ جاننے لگ جاتے ہیں اور الله کو اس سے فارغ کر دیتے ہیں.       
ہم سے الله ہر وقت چاہ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ  خود کے رب سے مغفرت طلب کرو، اور یہ کہ پکڑ کبھی بھی آ سکتی ہے. الله سے مغفرت کامیابی کے بعد اس لئے ضروری ہو جاتی ہے کہ دل میں خیال آ ہی جاتا ہے یا آ سکتا ہے کہ کہیں تو میں نے ہی سب کچھ کو کامیابی کی منزلیں طے کرائیں. اس فتح کو کمایا. الله ہم سے مخاطب ہے ہر لمہ کہ کبھی نہ ہی بھولو کہ سب کیا الله کا ہے اور بر وقت معافی مانگ لو تو معافی ہو بھی جاتی ہے. وہ اس لئے کہ مدد کرنے والا بھی وہی ،کامیابی دینے والا بھی وہی اور درگزر کرنے والا معاف کرنے والا بھی وہی ہے.
الله نے حضورص کو بشارت دی کامیابی کی اور بھاری نفری کے اسلام قبول کرنے کی. یعنی دین کہ کام مکمل بھی ہوا اور دین اسلام کو غلبہ بھی ھوا کافروں اور مشرکین پر. اور فرمایا کہ بس اب رب کو خوب یاد کرنے میں لگ جاو اور مغفرت مانگو. یہاں لوگوں کہ خیال ہے اور صحیح بھی معلوم پڑتا ہے کہ حضورص کا مشن چونکہ مکمل ہوا اس لئے آپ کی زندگی کہ مشن بھی مکمل ہوا چاہتا ہے. حضور تو ہر وقت رب کی حاضری میں ہی رہتے تھے. ہمارے لئے یہاں کیا سبق ہے؟ ہمکو ہر وقت الله کی تسبیح کرتے رہنا چاہئے. اور مغفرت بھی. ہمیں کوئی بشارت نہیں آنی جانے کی اور نہ ہی کوئی پڑا مشن سامنے ہے. بس خود کی جان ہے اس پہ ہی کام کر لیں اور بچی ماندی زندگی ہے اس کہ قبلہ سیدھا کر لیں. کب بلوا آ جاۓ معلوم نہیں. ہر وقت جانو کے بلوا آیا کہ آیا. پڑھو خود کے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ اور مغفرت طلب کرو. تمہارا رب ہر وقت معاف کرنے والا ہے.   
 

****************************************************


٣١  اگست ٢٠١٠ ،منگل، ٢٠ رمضان

بسم الله


 اگر کہو ، تیرے نام کے ساتھ یا تیرے لئے،کیسا ہی خوبصورت لفظ ہے، جملہ ہے. کسی کے نام کے ساتھ بھی کہو دنیا داری میں تو کیا کمال لگتا ہے. میں نے صبح ہی تجھے یاد کیا،یعنی تیرے نام سے صبح کی. میں نے لکھتے سمے تم کو سوچا ،یاد کیا ،تمہارا نام  لیا، میں نے گھر خریدتے وقت تم کو دھیان میں رکھا. تو گویا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم کو تمہارا کتنا خیال ہے یا محبت ہے یا اداسی ہے.تم ہر وقت دھیان میں ہی رہتے ہو ، یہ ہے ناچیزانسان کی بات، جس کے ساتھ اکثر بھاجی ہی رہتی ہے.مگر یہ سب محبتیں ظاہر کرنے کے مختلف انداز ہیں.
ایک وہ ہے جس کا اب ہم ذکر کرنے والے ہیں اس کا نام اس لئے لیا جاتا ہے،  یا کیا جاے کہ وہ مالک خالق ہے. رازق ہے، ہمارا احاطہ کئے ہے. اس سے بھاگ کہ  نہ ہی کہیں جایا جا سکتا ہے، نہ  ہی اس سے کوئی بات چھپائی جا سکتی ہے. وہ ایک تو سب دیکھ ہی رہا ہے اور ایک ہم کو ہر وقت اس کی ہی محتاجی ہے. اس کے ازن کے بغیر کوئی پتہ نہیں جمبش کر سکتا. اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا. اس کے نام کے ساتھ پہلا قدم اٹھاؤ تو برکت والا ہو گا، بس اتنا سا فرق ہے. اب یہ تو آپ پر ہوا نا کہ برکت چاہئے کہ نہیں!
بسم الله پڑھنا ایسے ہی ہے،جیسے کہ قدم بڑھاتے ہی سامنے ماں کھڑی ہے. الله تو ایسے ہے، کہ آپ کئی ماؤں سے بڑھ کر سامنے کھڑا ہے مالک ہے نا، اس کو سامنے جان لو تو کسی شے کی پروہ نہیں ہے، سب کام اس کے سامنے رکھ دیا ہے، جو کام بنانے والا ہے. سب سے پہلے تو یہ ہے کہ جو کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یا کوئی کام کرنے سے پہلے الله کا نام لے گا، اس کو یاد کرے گا. اس کا مطلب ہے کہ اس نے خود کو اور خود کے کام کو الله کے حوالے کر دیا ہے اور جانتا ہے کہ وہ ہی ہے جو کام بنانے والا ہے. الله کو ماننے والا ہو گا ، الله کا بندہ ہے.
ہم بسم الله پڑھتے ہیں، زبان سے لفظ ادا کرتے ہیں. بسم الله پڑھنا ایسے ہی ہے، قدم بڑھاتے سامنے ماں کھڑی ہے. کسی شے کی پروہ نہیں ہے، سب کام اس کے سامنے رکھ دیا ہے جو کام بنانے والا ہے. سب سے پہلے تو یہ ہے کہ جو کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یا کوئی کام کرنے سے پہلے الله کا نام لے گا، اس کو یاد کرے گا. اس کا مطلب ہے کہ اس نے خود کو اور خود کے کام کو الله کے حوالے کر دیا ہے اور جانتا ہے کہ وہ ہی ہے جو کام بنانے والا ہے. الله کو ماننے والا ہو گا ، الله کا بندہ ہے.  ہم وِرد کرتے ہیں بسم الله کی تسبیح بھی کرتے ہیں، مگر سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، ہم کیا چاہ رہے ہیں.
الله کو منانے والا الله کا بندہ الله کی یاد کے بغیر ہوتا ہی نہیں ہے. اس کی یاد ہر لمحہ اس کے دل میں اسے بسم الله کے مقام پر ہی رکھتی ہے. اس سے سب سے پہلے تو یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ الله سے ڈرتا کوئی غلط کام کرنے کا سوچتا ہی نہیں اور کہیں بھٹک ہی جاے،انسان جو ھوا، تو جلد ہی الله کی یاد،اس کی محبت، اس کا خوف، اسے واپس سیدھی راہ پہ لے آتی ہے .اس کا خود تجربہ کرنا ہوگا وگرنہ صرف یہ پڑھ کے، کہ اس کی تاریخ کیا ہے اور کس کس نے کیسے کیسے اور کہاں کہاں بسم الله پڑھی اور بسم الله کب لکھی گئی؟کیسے استعمال ہوئی؟کیا نتیجہ ہو گا؟ کچھ نہیں، وہی جو اب تک نکلا ہے اور کیا. ایمان کی ضرورت ہے بس. اگر مثالوں سے ہی معلوم پڑنا ہوتا تو ١٤٠٠ سال سے زیادہ ہو گئےہیں معلوم پڑ ہی گیا ہوتا. خود کو مثال بنانا ہے خود کے لئے. کسی کے اسلام کی مضبوطی کسی کو کچھ نہیں سکھاتی آج تو یہی لگ رہا ہے. خود کے گول خود سیٹ کرنے ہوں گے  .
آخری بات ہے کہ بسم الله کو توڑ توڑ کے سامنے رکھو؛ "ب -اسم -الله "اور صدق دل سے غور کرو کہ آپ کیا کہہ رہے ہو یا لکھ رہی ہو ،پڑھ رہے ہو ، اور اس سے کیا سمجھ رہے ہو، کیا چاہ رہی ہو. الله سے خود کے تعلق کے بارے میں تحقیق کرو. صرف یہ دیکھو کہ آپ الله کے ساتھ اور خود کے ساتھ کہاں کھڑے ہو، کھڑی ہو. تب یہ بھی معلوم پڑے گا کہ الله تم سے کیا چاہ رہا ہے. جب تم اس کا نام کسی کام کے ساتھ جوڑ دو ہے. یا تو غلطیوں سے باز آجاؤ گے یا الله کا نام لینا چھوڑ دو گے.  اب فیصلہ کرو،"ب -اسم -الله" کا. کیا سمجھ آیا اس کا مطلب؟؟؟؟؟؟

***************************************************************


 

 ٣١  اگست  ٢٠١٠منگل  ، ٢٠  رمضان
شرم تم کو مگر نہیں آتی؟؟؟؟؟

{کج شہر دے لوگ وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی}

 
اگر دیکھا جاے تو ہم ایسے ہی ہیں یعنی کہ ہم سب ایسے ہی ہیں، اوپر سے لے کے نیچے تک، یہ میں کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہ رہا. بلکہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ آوا ہی خراب ہے . کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں آتی- شائد اسی لئے شرم بھی نہیں آتی . شرم بھی سیکھنے سکھانی کی شے ہے. الله نے ہم میں رکھ تو دی ہے مگر ہم نے گھول کے پی لی ہے ڈسپرین کے ساتھ، سر درد اتر گیا ہے شرم بھی. حضورص نے کہا نہ کہ "جب تمہاری حیا ختم ہو جاے تو جو مرضی کرو". سو ہم میں سے ہر کوئی وہ ہی کر رہا ہے. افرادی مقام پہ اور اجتماعی مقام پہ بھی.
ملک کا صدر ہو، کسی ادارے کا سربراہ ہو، ہم نے کسی بھی عھدے پہ کسی کو کیا کرتے دیکھا ہے جب سے آنکھ کھولی ہے. یہی تو ہو رہا ہے کہ ہر جگہ دھاندلی. دھاندلی ہمارا قومی فریضہ بن گیا ہے. ہم اس کو بخوبى نبھا رہے ہیں.پہلے سکھایا ہی یہی ہے اب کس بات پہ اتنی  دھما چوکڑی مچائی جا رہی ہے.ایک صدر آتا ہے، کیسے آتا ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے. مارتا ہے مرواتا ہے، پھر بھی کھپے کھپے کہلاتا ہے. کیا سن سن کر ہم جوان ہو رہے ہیں- کوئی نالائق ہو تو ہی بہتر ہے، کرسی کسی عقلمندی پہ دانشمندی پہ منصوبہ بندی پہ نہیں ملنی. نالائقی، بدمعاشی، عیاری، بدکاری پہ ملنی ہے. میری تو رگ رگ کو پتہ ہے کہ ترقی کا صحیح راستہ یہی ہے. اب بتاؤ جو ہو رہا ہے ٹھیک ہی ہو رہا ہے نہ؟
کمال ہے اگر کسی باہر والے نے خیرات صدر صاحب کو یا ان کے وزیر صاحب کو نہیں دی تو کس بِناء پہ ؟ اب یہ بھی ہمارا قصور ہوا کہ ان کا اعتبار ہی نہیں رہا. کیا کریں بندہ چلتی آندھی کا اعتبار کر لے ان کا نہ ہی کرے، زندگی کا تو یہی تجربہ ہے، کل ہو، ہو، نہ ہو. ہم شرم کہاں سے لیں یا لائیں ہمارے ہاں ہوتی ہی نہیں. زلزلہ آیا، کیا تباہی کا سما تھا اب تک نہیں بھولتا، مگر تب بھی اجڑے لوگوں پہ ستم ہوے، ان کو دی رقم ہم تم ہی کھا گئے. وہ اب تک لا وارث ہی کھڑے ہیں اور یہ طوفانِ بدتمیزی کھڑا ہے. سیلاب میں سارا ملک ڈوب گیا ہے. کبھی ان کو ملنے جاتے لوگوں کی پوشاکیں تو ملاحظہ ہوں. واہ پریشان حال لوگوں کے دل سے آہ نکلتی ہو گی کہ نہ ہی آتے تو کیا تھا.
خیر ہے اب تو جیسے سہنے کی عادت سی ہو گئی ہے کہ سب خیر اُن کے ہی لئے ہے جو جم کے کرسی پر بیٹھا ہے. ہم سہنے کو تیار ہیں اگر چوٹ پہ چوٹ نہ دیں اور ذرا ٹھہر ٹھہر کر دیں. دینی تو ہیں ہی مجھے معلوم ہے. اس لئے میں نے سمجھوتہ ہی کر لیا ہے ان ساروں سے. مگر کچھ لوگ اب بھی لگتا تھا میرے ہیں. جیسے ہمارے کھلاڑی. کل ہی ہاکی ٹیم جیت کر ائی تو کتنا اچھا لگا اور اپنا تمغہ ان نے سیلاب زدگان کو دے دیا. کمال ہے نا. ایک اور بھی گئے تھے ہمارا ہی نام روشن کرنے، اپنا کہتے بھی اب تو شرم آ رہی ہے. مگر ہیں تو ہماری مٹی کی پیداوار. ہم روزے میں تہجد میں دعائیں مانگ تھک رہے تھے کہ جیت کی خبر اے کچھ ماحول بدلے. مگر ایسا کلنک کا ٹیکا لگا ہے کہ دنیا جان گئی ہماری شکل،اور خصلت. ہماری بچی کھچیعزت بھی سیلاب کی نظر ہو گئی. کوئی نہیں مان رہا کہ ہم نے کچھ لیا ہے اور ملک کو ذلیل کیا. شرم ان کو کیوں نہیں آتی؟؟؟؟؟؟؟؟

*************************************


٣٠   اگست  ٢٠١٠سوموار ، ١٩ رمضان  
سورہ الھمزہ
ہر زمانے میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ حق کی بات کرنے والے کو ظاہری اور باطنی تنگی دی جاۓ. ایسے طریقہ سے تنگ کیا جاے کہ داعی کا حوصلہ ٹوٹ جاے. اتنی ایک حوصلہ شکنی ہو جاے کہ اس کے لئے اٹھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاے. ظاہر ہے یہ اس کی بد ترین شکل ہے. کرنا یہ ہے کہ اس کا گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہو جاے. کوئی طعنے کسے، کوئی ہاتھ بناۓ، کوئی منہ چڑہاے. اشارہ بازی اور فقرہ بازی کسی کو گرا دینے کے لئے کافی ہے. گھر سے باہر نکلنے کا خوف اور کسی تک خود کی بات ںا پہنچنے کا خوف،کئی مرتبہ داعی سوچے گا کہ گھر سے کب نکلوں کہ کسی کا نشانہ ںا ہی بن پاوں.      
                     الله پاک کہہ رہا ہے کہ جو کسی حق کام کرنے والے پر اشارہ بازی کرے اور عیب لگاے، اس کے لئے اور کچھ نہیں رہ جاتا سواے ہلاکت کے. اور داعی بھی جب حضورص ہوں. ایسی دعوت دے رہے ہوں، جو الله کا کلام پیغام ہو، جسکو رہتی دنیا تک کے لئے دوام ہو اور صرف مکہ کے لوگوں یا عرب کے لوگوں کے ہی لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ہو. ایسے لوگوں کو لوگ بھی نہیں معاف کرتے اور الله بھی نہیں کرتا. وہ فرما رہا ہے شرارتیوں کی شرارتوں کا انت ہونے کو ہے . جو دانستہ یا نادانستہ بات سمجھنے سے  بھی قاصر ہے اور پریشان کر رہا ہے اور مزید کرنے کے طریقے دریافت کر رہا ہے اس کو الله معاف تو نہیں ںا کرنے والا. آج ہم خود کی زندگی میں بھی دیکھیں کا کوئی دور سے بھی اشارہ کرتا لگے، تو کیسے کیسے وسوسے آنے لگ جاتے ہیں کہ کیا بات ہوئی ہو گی . میں پاس سے گزروں اور بھلے کوئی کسی اور کی ہی بات کر رہا ہو، مجھے کہیں بھی میری کسی بات سے مناسبت لگتی ہو تو ایسے ہی لگتا ہے مجھ میں عیب نکالا جا رہا ہے. یا مجھ پہ بات کسی جا رہی ہے. اور اس معاشرے میں تو سب کچھ اصل میں ہو رہا تھا حضورص کو تنگ کیا جا رہا تھا.
شیطان لوگ ایک توحق کے لئے کام کرنے والے کو کام نہیں کرنے دیتے. کسی ںا کسی بہانے رکاوٹ پیدا کرتے ہیں. اور دوجے خود کے مال کو جوڑتا رہا گنتا رہا کہ کہیں کوئی سکہ کم نہ ہو جاے. مال و دولت بڑی طاقت، الله کی رحمت ہے، مال کا بڑا سہارا بھی ہے. مگر گننے والوں کے لئے نہیں جائز طریقہ سے خود پہ اور الله کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لئے. مال الله کا ہے. ہم بھول جاتے ہیں کے اِس میں ضرورت مندوں کا حصہ ہے. اس بھولنے والے کے لئے ہی الله نے فرمایا ہے کہ کیا وہ سمجھ رہا ہے کہ یہ اس کی طاقت ہے اس کا سہارا ہے. گویا کہ یہی ان کی زندگی ہے اور یہ زندگی ہمیشہ ہی رہنے والی ہے. اور یہ بھی کہ یہ مال بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اس کی زندگی کی طرح. اس کو اگر پاتا ہو کہ زندگی فانی ہے اور مال بھی. اور یہ جمع کیا مال کسی کے کبھی بھی کام آنے والا نہیں. اس زندگی میں تو وہ تجوری میں ہی بند رہا اور اگلی دنیا میں اس کا حساب دینا ہو گا کہ مستحقین تک کیوں نہیں پہنچایا. جس مال نے یہاں فایدہ نہیں دیا آگے بھی نہیں دے گا.
آگے اس کے لئے کیا جگہ تیار ہوئی ہے؟ وہ جو چور چور کر دینے والی ہے، یعنی ایسے کر دے گی کہ کوئی اس کی اکٹھا ںا ہی کر سکے گا. شیرازہ بکھر جاے گا اور یہ بکھیرنے والا الله ہے. اب وہ کبھی خود کو اور خود کا کچھ بھی جوڑ پاۓ گا.اور یہ ہونے والا ہے اس آگ میں جو الله پاک نے خاص طور پر اس کام کے لئے بھڑکا رکھی ہے. الله سب سے بڑا ہے اس کا ہر کیا بھی سب پر افضل ہے.اس کی بھڑکائی آگ بھی سب آگوں سے زیادہ دہکتی اور ہولناک ہو گی. یہ خدا کا کام. دلوں سے شروع کرے گی.ان دلوں سے جن کو مال کی محبت نے اندھا کر رکھا تھا اور ان کو حاجتمند نظر نہیں آتے تھے، اور ان کے حقوق کا خیال ںا رکھا جا سکا.
جس آگ میں مال سمبھالنے والے ڈالے جائیں گے مالک نے اس کا خاص اہتمام کیا ہے اس کا مخصوص طریقہ ہو گا کہ وہ ظالم ساہوکار کو اچھے سے لپیٹ لے گی اور پھر اوپر سے ڈھک دیا جاے گا کہ کوئی بھی تپش یہ بھڑک یہ انگارہ ضا‏ئع نہ ہو جاے. پھر ان کو لمبے لمبے ستونوں میں بند کر دیا جاے گا پکڑ جکڑ کے. یہاں یہ نہ ہلنے جلنے کی سکت رکھتے ہوں گے. خود کی کئے کا کیا خوب ہے ان کا انجام، جن کو خود کے سوا رب کی مخلوق  اس مال کے لئے نظر نہیں آتی جو اس کا ہی ہے اس کا ہی دیا ھوا ہے.

********************************************************


٢٩ اگست ٢٠١٠ ، ١٨رمضان ،اتوار
الله سے محبت،
محبت ایک حالت کا نام ہے اور آگاہی نام ہے حالت کے ادراک کا، یعنی محبت میں معلوم ہو کہ میں کہاں کھڑا ہوں اور جس کو چاہ رہا ہوں وہ کہاں ہے.
دنیا کی محبت کو الگ سے دیکھنا پڑے گا اور دنیا بنانے والے کی کو الگ سے.
دنیا کی محبت اور ہی راہ  کے خوف لپیٹے میں ہوتی ہے اور رب کی اور ہی طرح کے.
رب پہلے ہے. اسلئے اس کو پہلے دیکھ لیتے ہیں. وہ مالک کائنات ہے. اس کے اختیار میں ہر شے ہے. وہ جب چاہے جسے چاہے کر سکتا ہے اور جب جسے چاہے پہلی زندگی دیدے یا مار کے اٹھا لے سب پر وہ ہی قادر ہے.
مگر اس نے خود ہی کچھ قانون بنا رکھے ہیں خود کی خلق کو چلانے کے. وہ اس کو آگے پیچھے نہیں کرتا . یہ اس کی خود کی خلق سے محبت ہے. وہ نافرمانی پہ اسی وقت نہیں دھر لیتا، ڈھیل دیتا ہے. یہ اس کا پیار ہے. اس نے رحمت خود پہ واجب کر رکھی ہے. رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں. جب چاہو اس کی رحمت کی چھاؤں میں سکوں سے زندگی گزارو. توبہ کا دروازہ بھی ہر آن اس کے بندے کی راہ دیکھتا ہے، ابھی آیا کہ ابھی آیا، بندہ ہے دیر کر دیتا ہے. آخری سانس سے پہلے جب بھی عقل سمجھ آ جاے وہ رابطہ بند نہیں رکھتا، یہاں تک کہ نافرمانی کی ٹھان ہی لی جاے. پھر اس نے بار بار القران میں فرما دیا ہے کہ ان کے لئے ہے ابدی جہنم.
اس پیار کرنے والے کو تو کئی مرتبہ آزما لیا ، وہ ویسا ہی ہے جیسا خود کو وہ القران میں بیان کرتا ہے. القران پڑھ کے سمجھ کے، میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ ایسا ہی ہے، میں نے اس کو ایسا ہی پایا. شکر میں کیسے کرتا ہوں؟ بس منہ سےکہہ  دیا ،الله تیرا شکر، یہ الحمدللہ ، بس ہوگیا شکر. نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری. یہ تو کسی طرح کا شکر ہی نہ ہوا ، نہ ہی الله کی تعریف ہوئی نہ ہی میں شکر گزار نظر آیا. اور اوپر سے میں نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں الله سے محبت رکھتا ہوں، کیونکہ وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اس نے خود ہی کہہ دیا، ایسے ہو جاو، یہ سب چھوڑ دو تب.
الله تعالی نے میرے کرنے کے کام تو مجھ کو پہلے ہی بتا دیے ہیں، اور وہ مجھ پر آسان بھی ہیں. مجھے ان کو کرنا ہے حضور کے بتاۓ طریقہ اور الله کےبتاۓ ہوئے اوقات میں، یہ احکامات اچھے سے نبھانا ہی الله کی محبت ہے . الله کی محبت میں بیٹھ کے حمد کہنا اس شخص کا محبت کہا جاے گا،الله کے ہاں محبت مانی جاۓ گی جو فرمانبرداری کرے باقی زبانی کلامی باتیں اس کے حضور بعد میں پیش کرے. اس کی عبادت، اور اس کا ذکر اس کی محبت ہے. کوئی دوست نہ ہو اور نہ کوئی دشمن. مگر سب الله کے لئے. اس کا دوست میرا دوست اور اس کا دشمن میرا دشمن. رات رات جاگنا اس کے لئے اس سے مغفرت مانگنے کے لئے. اپنی کوتاہیوں پہ نظرثانی کرنے کے لئے اکثر تنہائیاں اختیار کرنا اس کی راہ میں ہونا ہے، یہی محبت ہے. 
اس کے حقوق پورے کرنے کے بعد آتے ہیں اس کے بندوں کے حقوق، ان کو پورا کرنا بلکہ احسن طریقہ پہ انجام دینا ہے. یہ الله کے بندے ہیں اس کی محبت ہے . اس کے بندوں کے بعد اسکی تخلیق کردہ ہر جان دار کا خیال رکھنا جو اختیار میں ہو،  یہ جان کے کہ اس کی تخلیق ہے اور وہ اس کا مندا حال دیکھ کر رنجیدہ ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ حق ادا نہیں کیا. میں رب کو راضی رکھنا چاہتا ہوں اس لئے میں چوکنا ہی رہتا ہوں، اس کے لئے. میری نظر سے اس کے لئے بے جان بھی نہیں بچتے، جو ہماری تمہاری طرح جان تو نہیں رکھتے مگر الله نے بناے ہیں تو وہ صرف ان کے مقصد پیدائش سے واقف  ہے. میں خواہ مخواہ پتھروں کو ٹھڈے لگاوں. اس کے لئے ہی کہا ہے "ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن".
یہ  الله کے اذن سے میری شان ہے کہ میں ہر لمحہ کی آگاہی رکھتا ہوں کہ وہ ہے مالک خالق اور میں بھی ہوں خلق اور بندہ ہوں. مجھے اس کی برائی کا احساس، ادراک آگہی ہو، اور خود کے چھوٹے، حقیر، ناچیز، خلق، بندہ، بے وقعت، بے اختار ہونے کا احساس ہی آگے بڑھ کر میری محبت بنتا ہے. میں رب سے لاکھوں راستوں سے بندھا ہوں، یہ سب راستے مجھے حضوری پہ مجبور کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر میرا ہونا، نہ ہونا ہے. میری محبت ہی مجھے اطاعت کرواتی ہے. میری اطاعت ہی مجھے سیدھے راستے پر رکھتی ہے. سیدھا راستہ ہی مجھے جنت میں لے جاے گا انشااللہ.
میں اس مالک خالق سے بے پناہ محبت کرتا ہوں. اٹوٹ بھی کرتا ہوں، راستے کا دھیان بھی رکھتا ہوں کہ کھوٹا نہ ہو جاے. انسان ہوں خطاکار ہوں. معافی مانگ کے الله کو منا بھی لیتا ہوں.مگر پھر بھی ڈرتا رہتا ہوں. یہ بتاتا چلوں کہ راہ حق کے مسافر کا ڈرنا کیا ہے. وہ یہ نہیں ڈرتا کہ الله پکڑ لے گا جیل میں بند کر دے گا کوڑے لگاے گا. ایمان والا اس کو رحمان کے نام سے ہی جانتا ہے متقی کو دھڑکا یہ لگا رہتا ہے کے میری محبت میں کہیں کمی تو نہیں آ گئی اور میں الله سے اور الله مجھ سے فاصلے پہ تو نہیں ہو گیا. قریب آنے کے بعد دوری کے تصور کا بھی تصور محال ہے. الله تیری میری ہم سب کی محبت دائم رکھے. آمین

*******************************************************


 رمضان ٢٩   ، ١٨  اگست ٢٠١٠ اتوار 
سورہ التین
الله پاک انسان کی آسانی کے لئے ان جگہوں کو شاہد کہہ  رہا ہے کہ یہ انسانی واقعات کی جگہیں ہیں اور آج کے انسان کو معلوم بھی ہیں یعنی موجود ہیں دیکھی جا سکتی ہیں. یاد بھی ہیں ان کے گرد و نواح پہ گزرنے والی داستانیں.  یہ بار بار دوہرائی جانے والی داستانیں ہیں جو نسل در نسل بتائی گئیں سمجھانے کے لئے سبق سیکھنے کے لئے سکھانے کے لئے. الله کہ رہا ہے کے وہ مقامات جن پہ انسانی واقعات ہوے گواہ ہیں کہ انسان نے کیا کیا اور پھر اس وقت انسان کے ساتھ کیا ہوا.  انسان کی کس بات کا کیا نتیجہ نکلا. اس سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے انسان کس قماش کی چیز ہے، جس کام کی اس کو سزا ملی اس سے معلوم پڑتا ہے کہ وہ غلطی نہ کرنے کا سو فیصد اہل تھا. الله کو تو معلوم ہی تھا، اس کو بھی معلوم تھا مگر خود کی ہڈ دھرمی کی وجہہ سے عذاب نصیب ہوا
                  کوہ تین، یعنی ''کوہ جودی" {کوہ جودی کو کوہ تین اس لئے کہا جاتا تھا کے یہاں تین کی پیداوار زیادہ ہی تھی} جہاں سے طوفان نوح کے بعد بنی آدم، یہاں وہاں نکل گے یہ واقعہ کوہ جودی کے پاس پیش آیا. یہ ایک بڑا واقعہ تھا. زیتون بھی جبل زیتون ہے جہاں مسیح علیھ السلام عبادت کے لئے جایا کرتے تھے. ان دو جگہوں کو الله نے شہادت ہی بنا دیا اور یہاں پیش آنے والے واقعات بھی زندہ رکھے. سینیں یعنی کوہ طور، جہاں حضرت موسیٰ کو خود کی قوم کے لئے شریعت ملی. اور شہر امین، پر امن سر زمین یعنی مکہ جہاں حضرت ابراہیم سے لے کر محمدص تک ہر نے دعوت توحید دی، الله اس کو امن کا شہر کہہ رہا ہے. الله نے حکم دے کے ابراہیم سے خود کا گھر بنوایا، اور اس کو پْر امن بنایا.یہ گویا مِلت ابراہیم کے لئے انعام تھا اور ہمیشہ رہے گا.  
الله نے تو انسان کو بہترین خلق بنایا ہر لحاظ سے، عقل شکل دونوں ہی کمال، دیکھو تو دیکھتے ہی رہ جاؤ، سوچ سمجھ ایسی کے کیا کیا نقطے بتاۓ، الله کے اذن سے کیا کیا غیب اور عجائب ڈھونڈ نکالے. یہ سب الله نے اس کو ہی بخشا جس کو انسان کہا. اور انسان کے لئے دریافت کے بعد، امتحان کے بعد، انعامات رکھ دیے بے بہا.انسان میں الله نے خیر و شہر کی تمیز، نیکی و بدی کا امتیاز، عدل سے محبت اور ظلم سے نفرت رکھ دی ہے، میں کہتا ہوں اس کے خمیر میں گوندھ دی ہے اب اگر وہ کہے کہ مجھے معلوم نہیں پڑتا کہ مجھ سے کیا چاہا جا رہا ہے تو درست نہ ہو گا. یہ انسان آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور جزا اور سزا پر. اور الله کو عادل اور حاکم نہیں مانتا.
الله نے تو بنی نوح انسان کو بہترین خلق کیا. مگر ایسا نہیں کہ اس کو ایک رستے پر ڈال دیا کٹھ پتلی کی طرح کے جدھر دور ہلاؤ بھاگا چلا آے. اس میں تو الله نے شعور رکھ دیا ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اور فیصلہ اس پہ چھوڑ دیا ہے اختیار دے کر. وہ اختیار کو جیسا استمال کرے. جب جب اس نے خود کے اختیار کو غلط استعمال کیا. الله نے اس کے خود کے کرتوت کے بدلے میں اس کی پکڑ کی.جب الله پکڑتا ہے تو وہ کہا ہے کہ الله نے میرا ساتھ خرابی کی دراں حالانکہ یہ سب اس کے ہاتھ میں ہے، سرفرازی لے یا ہر نعمت سے محرومی. جو شخص بھی خود کی احسن تقویم کو جان جاے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا الله اس کو نوازے گا ابدی نعمتوں والی زندگی، یہ اس کی سنت ہے اور ایک وہ ہے جو کہ  نافرمان ہے. حق جان چکا ہے بلکہ مان چکا ہے اور پھر پلٹ رہا ہے کفر کی طرف . اس کا کیا ہو. وہ تو بہت بڑا مجرم ہوا .الله اس کو سزا نہ دے تو وہ سب سے بڑا سب سے حکمت والا حاکم بادشاہ کیسے ہو.

*****************************************************


رمضان١٧ ، ٢٨  اگست ٢٠١٠ ، ہفتہ


امن چاہتا ہوں سکوں چاہتا ہوں، میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں


خیر ہو ، میں اتنا ہی بے وقوف ہوں، ہاں دکھتا نہیں ہوں. مگر وہ ہی کہہ  رہا ہوں جو دل چاہتا ہے، چاہنا آسان ہے مگر چاہت پوری ہونا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے. معلوم ہے. چاہتیں کبھی پوری نہیں ہوتیں. ہوتی بھی ہیں اگر نیت سیدھی ہو. ہر کو، خود کی نیت سیدھی کرنی ہے، تنقید ہی کرتے رہنا اچھا نہیں ہوتا. ہم کو، تم کو، سب ہی کو خود سے کام  شروع کرنا ہے. وقت یہی ہے ، طاقت بھی یہی ہے، تنقید میں خرچ کر دو یا اٹھو اور خود کا حصہ ڈالو. میری سادگی ہی آج میرے کام آے گی.
شاطر لوگ تو خود کی فکر میں پڑے ہیں کہ آگے بڑھیں یا نہ ہی بڑھیں. کل کو خود کا کیا ہو گا. اور چند لاکھ مر بھی گۓ تو میرا کیا. کونسی دنیا میں کمی آ جاۓ گی. ویسے بھی ہمارا غریب ملک ہے. کتنا ہی کسی کا گیا ہو گا. زیادہ معلوم تو نہیں ہے. اب روزہ میں کوئی کیا تباہ کاریاں دیکھیے اور موڈ خراب کرے. ہم تو خبریں لگاتے  ہی نہیں اس لئے ہمیں نہیں معلوم کے کیا کیا ہو رہا ہے. یہ ہی ہے آج کا بے حس انسان. آپکا انسان، آپ کے ملک کا. جو الله کی خاطر روزہ رکھے ہے اور الله کی ڈوبتے ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کا اس کو معلوم نہیں کہ کیا بن رہا ہے.
سب ایک سے نہیں بھی ہیں، اور ایسا بھی نہیں کے لوگوں کے کان تک آہ و پکار نہیں پہنچ رہی. مگر پھر بھی نہ کی شاپنگ کم ہوئی نہ ہی ہوٹل میں افطاری، نہ ہی فون پہ بات کم ہوئی نہ ہی بجلی جلانا کم ہوا، بچوں کی زد پہ ہتھیار بھی ویسے ہی ڈل رہے ہیں کہ یہ چاہئے یا وہ. یہ ہے بے حسی، اور کونسا وقت ہو گا بتانے کا یہ بہت بڑی ہم آزمائش میں سے ہم گزر رہے ہیں. جو مظلوم پھنسے ہیں ان کا کیا ہی قصور ہو گا. غریب عوام غریب ملک کی. ہمارا تمہارا ہی کیا دھرا ہے جو وہ بد نصیب بھگت رہے ہیں. الله ان کے دن پھیرے.
ان کو بھی تو یہ رمضان میری تیری طرح ہی ملا تھا. وہ بھی عبادت کرنا چاہتے تھے خود کے گھروں میں، وہ گھر کچے تھے یا پکے. ان تباہ ہُوے لوگوں کے گھر تھے. ان کی کل جائداد تھی، وہ وہاں خوش تھے. کبھی مانگنے نہیں آے تھے اس پار. ان کو تو پانی نے لوٹ کے فنا کیا ہی ہے، وہ کبھی آسمان کو دیکھتے ہیں کبھی پانی کو اور خود کی زمین ڈھونڈتے ہیں. ان دونوں کے بیچ وہ تجھے بھی ڈھونڈتے ہیں کہ تم کہاں رہ گے. کیا تم تک ہوائیں اندھیری سڑکوں پر  بے یاد و مددگار بیٹھے لوگوں کی داستان لے کر نہیں آئیں.
ہوائیں تیرے بعد میرے پاس آئیں تھیں اور تجھے تو سمجھیں کہ تو سنتے ہی چل پڑا ہو گا بلکہ کئی اوروں کو بھی لے گیا ہو گا.  وہ آگے چل دیں ہم کو بتانے. سنا ہے اگلے آ بھی گے اور پچھلے بھی. بس تم کوسوٹ نکالتے سمبھالتے در ہو گئی. آج سوچو تو اے صاحب وسائل انسانوں کہ مجھ سے پہلے خبر تم تک کیوں پہنچتی ہے؟ اس لئے کہ الله تم کو ایک موقع اور دینا چاہتا ہے خود کو" بندے دا پتر بنا لو " پانی تم سے دور نہیں اے بے حسو. بےامنی اور بے سکونی پھر تم سے بھی اتنی ہی دور ہو گی آج جتنی تمھارے ہم وطنوں سے ہے. تمہاری بے خبری کوئی سادہ بات نہیں. میں جانتا ہوں. پھر بھی، میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں. -- 

 ****************************************************


٢٨ اگست ٢٠١٠ ہفتہ ١٧ رمضان

تزکیہ نفس


تزکیہ نفس ایک اصطلاح ہے ایک زبان میں. یہ لفظ اکھٹے بھی آتے ہیں الگ سے بھی. اور زبانوں میں اور الفاظ ہیں اور اصطلاحات ہیں اور الفاظ ہیں جو ایسے ہی لفظی معنی ادا کرتے ہیں.اس کا کسی بھی فرقہ یا جماعت یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں. یہ ایک کرنے کا کام ہے جو ہر شخص کو ہر عمر ہر مقام ہر لمحہ کرنا چاہئے خود سے، اور پورے اعتماد سے آگے بڑھتے جانا چاہئے. تزکیہ کوئی انہونی شے نہیں ہے. ہم لوگوں کو اس لئے یہ بڑا لفظ لگتا ہے کہ یہ ہمارے علماء کے استعمال میں آ گیا ہے. وگرنہ یوں دیکھو تو بس ایسا ہے کہ خود پہ نظر رکھنی ہے ہر لمحہ. یہ ہم ویسے بھی خود کو، خود کے ساتھ والوں کو کہتے رہتے ہیں. مشکل الفاظ، یا یوں کہ لو وہ الفاظ جو ہمارے استعمال میں نہیں ہوتے، ان میں بات مشکل بن کر لگتی ہے.
                                  حالت اپنانی یا اس پرغور کرنا بار بنا دیا جاتا ہے اس لئے مشکل لگتا ہے. کہا جاے کہ خود کو ہر لمحہ دیکھتے رہو کہ کیا کر رہے ہو. کیا الله کو پسند آ رہے ہو. کیا یہ چاہو گے، جو تم دوجے کے ساتھ کرتے ہو تمہارے ساتھ بھی ہو. ایک نوٹ بک بنا لو اس پہ لکھتے رہو جب دل چاہے کسی خود کے رویہ پر غور فرمانے کا. اتنا کہنا کافی ہے. ہاں یہ بھی کہنا ہے کہ میں آپ کا confession box نہیں ہوں عیسائیوں کی طرح، آپ کے نوٹس آپ کے ہی لئے ہیں.کسی کو دکھانے  کے لئے نہیں اگر آپ اس پر گفتگو نہ کرنا چاہیں تو کوئی آپ کو دھکے نہ دے.اب جو یہ اصطلاح سننے میں تو آ رہی ہے مگر علماء سے یا یوں کہو کہ ایک الگ کلاس ہے جو یہ بات بتاتی ہے ہم کو.جو خود کو مذہبی یا زیادہ ہی پاکیزہ اور الله کے مقرب گردانتے ہیں.بس آپ کو جو بھی کوئی کچھ بتاتا رہے بھاگ بھاگ کے کسی کے پاس نہیں جانا.
بھلا نفس میرا اور تزکیہ کوئی اور کرے یہ کیسے ہو سکتا ہے، جیسے کہ پیٹ میرا اور بھوک مجھے لگی ہو اور کوئی اور روٹی کھائی جو میرا پیٹ بھرے ایسے ہی ہے، جیسے کوئی اور مجھے روٹی کمانے اور کھانے کے آداب اور وسائل میں مدد کر سکتا ہے، ایسے ہی خود کی کمیوں، کوتاہیوں کو ماننا اور درست کرنے کا طریقہ تو کوئی بتا سکتا ہے، میرا تزکیہ نہیں کر سکتا. مجھے سیدھا رستہ تو کوئی بتا سکتا ہے، اگر میں کسی کے بتائی کو سیدھا جانوں تو وہ مجھے راستے پڑ چڑھنے میں مدد بھی دے سکتا ہے مگر، نیت ہمت مجھے ہی کرنی ہو گی اور ہر قدم خود کے لئے خود ہی اٹھانا ہو گا، وگرنہ راستہ نہ ہی طے ہو گا.
                                                                            آخری بات ، جسے جو بھی کوئی کچھ بتا دے اس کے پیچھے نہیں لگ جانا ایسے ہی ہڈدھرم بن کے ایسا نہ ہو کہ صحیح بات کو بھی پیچھے چھوڑ جاو. الله اسی کی مدد کرتا ہے جو خود کی مدد کرتا ہے. صحیح وقت، صحیح بات، صحیح کتاب، صحیح استاد کو تلاش کرنا، صحیح نیت رکھنا اور صحیح جذبہ خود یہ سب کرنے میں مدد  کرتا ہے. الله تو ہے ہی مددگار. جو اس کی طرف ہے گا چل کے وہ دوڑ کے آے گا، حدیث قدسی ہے.اس سب کے لئے فکرمند رہنا نفس کے ساتھ جہاد اور تزکیہ کی طرف پہلا اور مستند قدم ہے. تزکیہ ہوا کے ہوا .

*****************************************************


جمعہ ٢٧ اگست ٢٠١٠، ١٦ رمضان

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر


"نہ بجلی نہ روٹی نہ چھت نہ صاف پانی، پھر بھی دل ہے پاکستانی" اور کیوں نہ ہو. ہمارے باپ دادا کے خون پسینے سے حاصل ہوا ہے یہ جگر کا ٹکڑا، یہ جان سی زمین. اس کی ہم تو پیداوار ہیں . یہیں زندگی کے لئے ہاتھ پاوں ماریں گے. اس ہی کی مٹی نصیب ہو الله کرے،آمین. یہ تو دعا ہے ہی مگر جو تباہی کا سلسلہ یہاں چل پڑا ہے اس کا انت سمجھ نہیں آتا کیا ہو گا. آزمائش کہاں تک چلے گی معلوم نہیں. اور ناحق جو خون ہے اس کا کیا. انسان کا، اخلاق کا، روایات کا، اقدار کا. کس کس کا ذکر ہو یہاں. شائد چُپ ہی بہتر ہے، ہے تو مگر کب تک. کبھی تو کسی کا لہو کھولنا چاہئے.
ہم خود کے گریبان میں جھانک کر چونکہ دیکھتے نہیں ہیں اس لئے خود کو معصوم گردانتے ہیں. وگرنہ ہماری کوئی بھی حرکت ایسی نہیں کہ ہم کو گرا نہ دیا جاے یہ کہ ہم گر نہ پڑیں. ہماری  حرکات و سکنات ہی اس قدر گری ہوئی ہوتی ہیں کہ وہ مالک خالق ہی ہے جو در گزر کئے ہوئے ہے. معافی کے باوجود بھی اکثر اوقات پکڑ کرنی پڑ ہی جاتی ہے. ںافرمانی کی کوئی انتہا بھی ہوتی ہے. ہماری مسلمان ہوتے بھی کوئی انتہا نہیں ہے.
 معاف کئے ہوئے ہے تو ہی میں ہوں. اس کا شکر ہے زبان سے تو کہتا ہوں مگر ہجے کسی شکر کے نہیں آتے. جو شکر کرتا ہے وہ احسان تلے دبتا بھی ہے اور شرم بھی کرتا ہے. مگر جب میں ڈرتا ہی نہیں تو شکر کیا، ایک لفظ ہوا ںا . تب ہی آزمائش کڑی سے کڑی ہوئی جاتی ہے. اب تو یوں ہے، لگتا ہے ایک میں سے نکل نہیں پاتا اگلی پہلے آئی کھڑی ہوتی ہے. وہ تو رحمان ہے رحیم ہے مگر سب سے پہلے عادل ہے. وہ جو ہدایت پرہیں اور ایک جو میں، سب کا ایک ہی حشر کرے تو مالک کیا ہوا. معلوم یہ پڑا کہ خود کے کئے کی فصل کاٹ رہا ہوں.
ایک تو مالک کی طرف سے آزمائش آتی ہے اور دوسرے بندہ بندے کے لئے آزمائش بن جاتا ہے، جیسے کے اناج کی آزمائش، پانی کی آزمائش. الله نے فصل بھی خوب دی اس لئے کے اگانے والے اور بازار والے اور خریدنے والے عوام و خواص دونوں کا حق ہے، الله کسی کا حق نہیں رکھتا. بندہ بندے کا سارا ہی مار جاتا ہے. کم آمدنی والا کہاں جاے الله نے دریا سمندر چشمے سب انسان کے لئے چلا دیے، مست ہوا بھی. انسان نے ایسا گند ڈالا کے صاف پانی بھی خرید کر پیاس بجھانی پڑتی ہے. عام شخص کیا کرے کہاں مرے.
                                        ہم سخت موسم والی الله کی زمین پہ پڑے ہے ہیں ،رہ رہے ہیں، پرباد ہیں آباد ہیں، کیا کہیں. کیا بتائیں کس کس بات کا رونا روئیں اور کس کے آگے. الله نے کچھ لوگوں کو کچھ پہ برتری دی ہے چند حوالوں سے. اب اس برتری کا بندہ کیا استعمال کرتا ہے الله ہی اس کو پوچھے. ہم تو ترس ترس کے ترس گۓ ہیں مر،مر کے مر گۓ ہیں.ایک تنگ دستی کا پہاڑ عبور کرتے ہیں تو مہنگائی کا سمندر آگے ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے. وہاں پوری کرتے ہیں تو بجلی نہیں. پیٹ نہیں مارے گا تو موسم مار ہی دے گا . بجلی الله نے ہر کے لئے ایجاد کرائی تھی. اب تو لگتا ہے بس کرنٹ لگ کے مرنے کے لئے ہی استمال ہو سکتی ہے. وہ دیکھو سامنے نیا حکم آیا کھڑا ہے مزید ١٦ % اضافہ کا.
کیا یہ برق بھی میرے کئے کا پهل ہے. کسی حوالے سے تو ہو گی ہی. تو کچھ کا کیا سب کو بھگتنا پڑ جاتا ہے . گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے. کرے کوئی اور بھرے کوئی یہ کہاں کا دستور ہے. ہم تو گھن کے ساتھ پس رہے ہیں. وہ تھوڑے بھی ہیں خراب بھی ہیں مگر ہم سب کو لے بیٹھے ہیں. اگر ہم پسنے والے سچے دل سے مالک خالق کے ہو جائیں. میں نے کہا سچے دل سے. اس رمضان کے مہینے میں خود سے وعدہ کریں. جیسے آج بنے ہیں جیسے آج دل ہی حالت ہے وہ ہی کا وعدہ کریں پہلے خود سے پھر اوپر والے سے، برق بھی نہ گرے گی بیچارگی بھی ںا رہے گی.

*****************************************************


٢٧اگست ١٦ رمضان ٢٠١٠ جمہ
"

جس کی حیا ختم ہو جاۓ تو جو مرضی کرے"حدی


                             "ہاں مگر اچھا ہوا کچھ لوگ تو پہچانے گۓ"
واہ بھائی واہ، امریکہ کو کیا ہوا کے ہم کو پرائم ٹائم میں ایک گھنٹہ دے دیا. ہم نے بھی کیا خوبی سے برباد کیا. ہماری کوئی کیا مدد کرے گا. الله کہتا ہے کے وہ بھی اس کی مدد نہیں کرتا جو خود کی خود مدد نہیں کرتا. تو جب الله نے ہاتھ اٹھایا ہوا ہے تو کوئی مخلوق کیا شے ہے. ہم کو تو دیکھو ابھی دل نہیں بھرا، مصیبت کی جگہ پر بارہا تصویر بنوا کر دل نہیں بھرا، دل تو بھرتا ہی نہیں ہے، دل ہی تو ہے.
صرف چند کروڑ کا ہی تو نقصان ہوا ہے. تو ایسی کیا بات ہے. چند لاکھ لوگوں کو یہ  تو معلوم پڑا نا  ہم کون ہیں. ان نے کہا، "ہم بے وقوف تھے جو ان کو اتنا مہنگا وقت دیا". میں تو ابھی تک یہ ہی رونا رو رہا تھا کہ سیلاب زدگان کو اتنے قلف لگے جوڑے پہن کر نہ جاؤ بھائی اور وہ  بھی چمکتے سفید. دیکھنے والوں کا دل ان پہ کیچڑ ملنے کو نہ کر جاے. تصویر کے لئے تو پہننا پڑتا ہے. اگر یہ بتانا ہو کہ بہت دل اداس ہے اور پریشان بھی اور ہم بھائیوں کے پاس آے ہیں تو بھی نہیں چلے گا.
ایسے تو جاو کے کسی کا ہاتھ تھام سکو یا کوئی آپکا ہاتھ تھام سکے یا کندھے لگ سکے. اور کچھ نہیں تو ساتھ بیٹھنے کو ہی کہہ سکے یا آپ تصویر کے لئے ہی کسی روتے بچے کو گود اٹھا سکو یا کسی خیمے میں اندر گھس کے تصویر کھنچوا سکو.یہ بھی نہ ہوا، چند مرتبہ کیا کہوں ایک مرتبہ بھی نہیں. " انھیں پانیوں میں چل کر اگر آ سکو تو آو" نہ ہی پکارو بھائی ہم نہیں آنے کے، ہم تو کہکشاں پر چلنے کے عادی ہیں. ہمارا بھی قصور کیا؟ قصور تو قصور والوں کا ہے.
بہرکیف  افسوس ہے افسوس، ایک ہم یہاں پر دن رات مصلے پر بیٹھے ہیں ،کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیل رہا ہے تو کبھی کسی کے آگے. کبھی سوچتا ہوں کے عید کے کپڑے کینسل ، بچوں کی عیدی وہ بھی نہیں دینی، حالانکہ ان سب کی کیا ہی اوقات. یہاں حکام کو تو دیکھو خود کے سوٹ بوٹ میں لاکھوں گنوا دیے گھنٹا بھر میں. زمانہ ہم کو دینے کو کھڑا ہے اور ہم لاڈ صاحب نہ لینے پہ کھڑے ہیں کہ ، ہماری شکل کا چوکھٹا کوئی دیکھ لے اور وہ بھی نیو یارک کی سٹآک اکسچینج کی امارت اور اور سب سے مہنگے گھنٹے میں.   
                دیکھو نہ آخر ہماری بھی کچھ آرزوئیں ہیں کہ کوئی سفید چمڑی والا، والی ہم کو بھی دیکھیے، اور ملامت لعنت کرے کے کس دنیا کے باشندے ہیں یہ بس شرم کا گھاٹا ہے باقی سب ہے ان کے پاس. حضور کی حدیث ہے "جس کی حیا ختم ہو جاۓ تو جو مرضی کرے" یہ ہمارے کردار کے لئے ہی کہا گیا ہے.آج اس آفت کی گھڑی میں معلوم پڑا، ہمارا دین، ایمان، شرم، حیا، غیرت، محبت، درد  سب ختم ہوا چاہتا ہے .الله  ہی اس آفت کی گھڑی سے نکالے . ہمارا معافی والا کوئی منہ نہیں ہے. دنیا کے سامنے شرمندہ  ہوگئی قوم دو  تین لوگوں کے لئے.
دیکھو ان کی بھی زیادہ خطا نہیں ہے، ہماری ہی غلطی ہے. کہیں سے بھی اٹھا کی سرخی پوڈر لگا کی کرنی پہ بیٹھا دو تو اہلیت تو لیپا پوچی کے پیچھے سے بھی جھلکنی ہے. سب بات کر کے بھی کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا، ہاتھ ملنے سے گلایا وقت لوٹتا تو نہیں.                                             "ہاں مگر اچھا ہوا کچھ لوگ تو پہچانے گۓ"
                                

**********************************************************


جمعرات ٢٦ اگست ١٥ رمضان٠ ٢٠١ 

زر، ضرورت اور زندگی


زر کس کو عزیز نہیں، اور ضرورت بھی کس کو نہیں. ہونی بھی چاہئے. زندہ انسان کی ضروریات بھی ہیں. ضروریات ہی بتاتی ہیں کہ یہ انسان زندہ ہے. مگر زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو صرف خود کا زندہ ہونا ہی معلوم پڑے اور وہ بھی باقی سارے جہاں کی قیمت پر. جہاں ہے تو، آپ بھی ہو. میں بھی ہوں، تو پھر بے حسی کیوں؟ بے حس ہونا تو نہ ہی انسان کہلاتا ہے، نہ ہی زندوں میں آتا ہے، بلکہ درندوں میں آتا ہے.
ضرورت هونے میں اور ضرورت بنا لینے میں بڑا فرق ہے. جیسے کھانے کے لئے جینا اور جینے کے لئے کھانا. ضروت مجھے اتنی ہی ہے کہ سب پورا ہو جاے میری قماش کے مطابق، چلو یوں کہو کہ میرے مطابق بہت اچھا، یہ بھی صحیح ہی ہے. جب میں کہتا ہوں کہ سب سے اچھا، یہ میں غلطی پر ہوں. اب نہیں معلوم کہ سب کون. ساتھ والے سے مقابلہ تھا   چند وقت پہلے. اب خود کے بھائی سے ہونے لگا تھا قریب کے زمانے میں. گزرے سال سے سب احباب سے مقابلہ تھا. معلوم ہی نہیں پڑا کے وڈیرے سے کب مقابلہ شروع ھوا. آج کل ہر سامنے سے گزرنے والے سے ہے. وہ جتنی لمبی کار میں ہوتا ہے مقابلہ اتنا ہے گلے پڑ  جاتا ہے.
گزرے ماہ جو نیا موبائل ایک راہ چلتے کے ہاتھ میں دیکھا تو میرا دل ہی دھڑکنا بھول گیا اور لگا اس کے پیچھے چلنے. بھول گیا کے لیب میں ٹیسٹ کروانے آیا تھا. اس کے دروازے جا کے دم لیا.مُڑ کہ جو اس نے دیکھا تو ہوش آیا کہ کیا کیا. پوچھ ہی لیا بھائی کوئی کام تھا مجبور ہو کے کہنا پڑا، معاف کیجئے گا آپ کا فون دیکھنا تھا. وہ بیچارا تو حیران ہی رہ گیا. شکل سے شریف ہی دکھتا تھا اس نے تھما دیا. آج معلوم پڑا کے حد ہی ہو گئی.
یہ کوئی اچمبے کی بات نہیں ہے.
ضرورت کو اگر مجبوری مان لیا جاے تو یہ انسان کی کمزوری بن جاتی ہے اور جینا نرگ ہوکے رہ جاتاہے. مانو تو مالدار کی زندگی اور اس کا زر اور اسکے وسائل صرف اسکے نہیں ہیں بلکہ اسکو لوگو پہ برتری اس لئے دی گئی ہے مالک نے کہہ اس کے بندوں کا خیال رکھا جاے گا،  معلوم پڑا کہ یہ جینا اسکا خود کا ہی نہیں ہے بلکہ اوروں کا بھی. وہ جو اپ سے جڑے ہیں مگر آپ کو معلوم نہیں پڑتا. اس لئے نہیں کہہ آپ جانتے نہیں بلکہ اس لئے کہ آپ کو خود کی طرف سے ہی فرصت نہیں. یہ ہی ہے اصل نقصان آپ جب ضرورت سے زیادہ کو ضروری بنا کہ کنڈلی مار کہ زر پہ بیٹھ جاتے ہیں تو وہ مستحقین تک نہیں پہنچتا.
 آج کل جو حالات ہیں وہ تو سب کی نظروں کے سامنے ہیں مگر جو جیب پر دبا کے ہاتھ رکھے ہے، اس کو تو ایسا ہی لگ رہا ہو گا کہ اگر میں مدد کو نکلا تو میرے لئے کچھ نہیں بچے گا. پوچھو تو اگر تو ہی نہ بچا تو؟ تب تو ہم خود کی مرضی سے ہی تیرے زر کو استعمال کریں گے اور تیرے کھاتے میں کچھ نہیں لکھا جاے گا. نقدی بھی تیری ہوگی نقصان کا حقدار بھی تو ہی ہوگا.تو شائد اوپر بیٹھا دیکھ رہا ہو گا جب الله کہے گا مال میرا تھا تو نے سینچ سینچ کے رکھا کیا خوشی اٹھائی، جب اور اب؟ اس کے سوال کا تیرے پاس کوئی جواب نہ ہو گا شرمندگی کے سوا . اس کے دیے کو اس کے لوگوں کو دو، آج ان کو اشد ضرورت ہے. اس پہلے کہ تمہاری زندگی کا دیا بجھا دیا جاے.

***********************************************


٢٦   اگست ٢٠١٠     ١٥ رمضان جمرات                            ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے.

سارا مسئلہ ہی میرے هونے کا ہے

 میرے هونے کا آخر مسئلہ کیا  ہے، میں خود کو سب سے افضل جانتا ہوں. کسی کو کھاتے میں نہیں لاتا آخر  کیا بات ہے. مجھے کیوں یہ غلط فہمی لاحق ہو جاتی ہے کہ میرے بغیراس دنیا کا کارخانہ نہیں چل سکتا. میں خود کو کیا جاننے لگ جاتا ہوں یا کیا ماننے لگ جاتا ہوں. میرا ہونا ہونا بھی ہے اور تماشہ بھی ہے. بس یہ ہی نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں کون ہوں زندگی کیا ہے .میرے شب و روز کا کیا مقصد ہے. اصل وجھہ یہ ہی ہے کہ مجھے زندگی کا ہی نہیں پتہ. نہ زندگی کا، نہ ہی موت کا، نہ ہی خود کی اصلیت کا.اگر ہم میں ہر ایک خود کے گریبان میں جھانکے اور خود کی دھلائی کرے، تو کسی پہ کسی انگلی اٹھانے کا نہ ہی موقع ملے، نہ ہی دل میں خیال آے کہ میں کسی سے افضل ہوں. ہر کوئی اگر خود کا فرض پورا کرے دل کی گہرائیوں سے تو فرائض مکمل ہو جائیں گے. کوئی بھوکا رہے گا نہ ہی نادار. نہ ہی کسی سے بے انصافی ہو گی. اور کوئی مفت میں مارا نہیں جاۓ گا، خیر مفت کوئی کہاں مارا جاتا ہے، مرنے کی بھاری رقم دی جاتی ہے.

رقم سے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر ہمارے ہاں، جان لے ، مال لوٹ لو  کسی کا کاروبار برباد کر دو ، عزت کا جنازہ نکلوا لو تھوڑے سے پیسوں کے لئے. اور بھی بہت کچھ بربادا مچوایا جا سکتا ہے. پیسہ آج بہت بڑی طاقت ہے. ہے تو مگر کیا موجودہ  شکل اور احوال لوگوں کو پسند ہیں ؟ نہیں یقین ہے کہ کوئی پسند نہیں کرتا مگر جس کو پیسہ دے کر کام کروایا جاتا ہے اس کو بھی خود کی زندگی اور عزت محبوب ہے نا. مانو تو الله کے مجرم نہ مانو تو کام کروانے والوں کے مجرم . کوئی کہاں مرے اور کس تماشہ کا حصہ بنے؟ یہ سوال ہے، حصہ تو بنانا ہی ہے!

میں چاہتا ہوں کہ کچھ کر جاوں خود کے لئے، سب کے لئے. میں نے خود کو کبھی سب سے جدا جانا ہی نہیں پہچانا ہی نہیں. مل کے کھانا ہے، مل کے جنت میں جانا ہے. تو پھر کس تماشا کا حصہ بننا ہے. سب سے پہلے دعا  سے کام شروع کرو کہ الله کرنے میں بڑھوتری دے، اور کامیابی دے، آمین. میں مرنے والوں کو واپس تو نہیں لا سکتا، شائد اگلے مرنے والوں کو بھی بچا نہ سکوں. مگر یقین ہے کہ بےحسی کو آواز ضرور پہنچے گی. اور مجمع بنانے والے ہی کم از کم نہ گھیرا بنیں. کھلے عام اموات نہ ہوں کھلے عام بے حرمتیاں نہ ہوں، اجتمائی زنا نہ ہو سکے.

میں ان سب واقعات کا گواہ ہوں اتنا ہی جتنا کوئی عینی گواہ. میری بھی یوم الدین کو پیشی ہو گی، الله کے سامنے. کہ سن سنا کے میں کہاں تھا، میں نے کچھ لکھا لوگوں تک پہنچایا. زبانی بات کی کسی سے. صرف الله کی طرف  دھیان لگانا ہے، لگوانا ہے، یہاں سے خود ہی سوچ بدل جاے گی انشاء الله. کسی کو تو قدم بڑھانا ہے، چپکے سے یا سامنے آ کے، ڈر لگتا ہے تو خود کو بتاؤ، گھر والوں کو احباب کو، آہستہ آہستہ سب بدل ہی جاے گا.

                                       بدلے گا کیوں نہیں، میں کوئی بندر تھوڑا ہی نہ ہوں کہہ سب مجھے یا مجھ سوں کو نچاتے ہی رہیں. کام تب ہی ہو گا جب تماشا کو تماشا جانو گے. اس کو تقدیر نہیں کہو گے. کچھ فیصلے الله نے انسان پر چھوڑ دے ہیں جیسے کے خود کی حفاظت اور تعلیم اور آگاہی. وہ مالک ہے مگر انسان کو فیصلے کی آزادی اس نے ہی دی ہے. اور وہ سب دیکھ رہا ہے کہ یہ کیا فیصلے کرتا ہے.سب تو ہے ہی اسکے ہاتھ میں مگر جب سرکش انسان خود کے ہاتھ میں لے لیتا جو فیصلہ الله کا ہے. تو الله اس کا بد ترین فیصلہ کرتا ہے اور عبرت بنا دیتا ہے اس کو . او اور دیکھو ہمارے سرکشوں کے عبرت بننے کا تماشہ آنے والا ہے آگے، کچھ ہی شب و روز باقی ہیں ..........................

************************************************************************


٢٥ بدھ ٢٠١٠ اگست ،١٤ رمضان

نماز اور صبر سے تقویت حاصل کرو
یہ آیت یقین سے کہتا ہوں آج دیکھو تو، زیادہ ہی کام آے گی. الله کا ایسا کلام ایسے وقتوں کے لئے ہی آیا ہے جیسے وقت سے ہم آج گزر رہے ہیں، ہم کہاں گزر رہے ہیں وقت پانی بن کر ہم پہ سے ہمارے اوپر سے ہمارے عنصر سے اور ہمارے نیچے سے گزر گیا اور ہم میں سے ہر جان کو کنگال کر گیا خواہ  اس کا فانی وجود اس سيلاب کا شکار ہوا یا نہ ہی ہوا.
                                         ویسے تو ہم کو روز روز کی زندگی میں ہر لمحہ ہی خدا کو یاد رکھنے کی اشد ضرورت ہے. شکر ہے کہ وہ ہے اور شکر ہے کہ اکیلا ہی ہے. وہ مالک ہے، خالق، رازق ہے، جو چاہے کرے جیسا چاہے ہم سے سلوک کرے، مگر نہیں. ہم اس کی نہیں بھی مانتے تو بھی وہ ہی ہے جو ہم کو نہیں چھوڑتا. ہر لمحہ ہم پر نظر رکھے ہے. اس کے رحمان ہونے کی انتہا ہے کہ، ہماری غلطیوں، خامیوں، کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے اس ہی نے ہم کو معافی کے کلمات سکھاۓ. یہ اس کا رحمان ہونا ہی ہے کہ وہ رحمت کے دروازے   ہمیشہ ہمارے لئے کھلے رکھتا ہے. معاف کئے رکھتا ہے. نافرمانیوں کو پکڑتا نہیں.
                                          اجتماعی زیادتیوں کا اجتماعی خمیازا تو ہم  بھگت ہی رہے ہیں. فرق صرف اتنا ہے کہ پیغمبر کی موجودگی میں جب قوم کا ہم سا حال ہوتا تھا تو ان پر عذاب نازل ہو جاتا تھا. اب پیغمبر کو تو آنا نہیں ہے. ایسے ہی آزمائش آتی رہے گی. کبھی زلزلے کی صورت میں اور کبھی سیلاب کی شکل میں" شرم تم کو مگر نہیں آتی". جو بذات خود پھنسے ہیں وہ تو صاحب استطاعت ہی نہیں ہیں کہ توفیق والوں سی نافرمانیاں کر سکیں، سیدھے سادھے غریب لوگ، کچے گھروں میں نمک یا پیاز سے روٹی کھانے والے الله سے دل لگاے سکون سے زندگی کے دن پورے کر رہے تھے، ہماری نا اہلی کی پکڑ وہ بد نصیب بھگت رہے ہیں.
آزمائش تو آ گئی ہے، زمین و آسمان پانی ہوا جاتا ہے، بلکہ پانی پانی ہو گیا ہے، ہم ہیں کے موج میلا ہی کر رہے ہیں کل ہی کسی بے شرم نے لندن میں گھر خریدا، دو دن پہلے ہی ایک اور بے دید نے ٧٥ دوستوں کو افطاری پہ مدعو کیا، سب ٹھیک ہے ان کا ذاتی خرد برد کیا زر ہے. ہمارا کوئی حق تو نہیں ہے، اس لئے نہیں کے مال ہمارا نہیں، مال تو ہمارا ہی ہے، ہاں ہم لوٹ تو لئے گۓ مگر لوٹ مار میں ہماری مدد شامل نہیں. اس لئے ظاہر ہے جو بنگلہ لیا گیا اس میں ہمارا حصہ نہیں ہے.
کیا ہمارا حصہ صرف صبر میں ہے. الله کے ہاں یہی حکم ہے تو یہی سہی . "ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے، ایسے بھی سہی" کہا جا رہا ہے کہ ہمارے لئے بہت کچھ ہو رہا ہے، بہت ایڈ آئی ہے. دنیا کے آنسو نکل آے ہمارے لئے، وہ بھی طغیانی کا مزید سبب بنے سیلاب میں شامل ہو کر، مگر سائیوں سے کیا ملا؟ صبر کا بھاشن. وہ تو الله نے کہہ دیا ہے ہم کو معلوم بھی ہے تو یہ لوگ بھاشن  دینے کی بجاے خود کے بینکوں کا رخ کیوں نہیں کرتے؟
ہم تو الله کی مانے کھڑے ہیں، جو گھر بیٹھے روزے کی حالت میں کڑھ رہے ہیں اور دعائیں بھی کر رہے ہیں. وہ مظلوم بھی الله پہ یقین کئے كبهى اوپر دیکھ کے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور کھبی ہم گھر بیٹھوں کو دیکھتے ہیں، صبر ان کو تقویت تو دیتا ہے نماز بھی یقین ہے کہ اس وقت سہارا ہے مگر پیٹ بھرنے کو روٹی بھی درکار ہے، تن کو کپڑے نے ہی ڈھاںپنا ہے. اگر اس حال میں میں اور تم ان کا کندھا نہیں تھامیں گے تو جمع شدہ تقویت زائل ہوتی جاے گی. ایک چادر سے تن تو ڈھانپا جا سکتا ہے، مگر ایک چادر ہو تو. پیٹ میں اگر آگ لگی ہو تو بھی اناج سے ہی بجھتی ہے، لکڑیاں اور پتھر کھا کے نہیں. لکڑیاں اور پتھر پیٹ میں دھر کے تیلی لگا کے بھوک نہیں بجھائی جا سکتی.
امیر مملکت نے فرمایا تقریر میں، کہ میری بھی ایک زمین زیر آب آ گئی ہے، دکھ تو ہوا ہی ہو گا انکو اگر معلوم پڑ جاۓ کے ٥٠٠٠٠٠٠٠٠ ایکڑ میں سے یہ آدھ کنال کہاں برباد ھوا ہے.    دل تو اس بات پہ کٹ رہا ہے کہ یہ ان کو سنایا جا رہا ہے جن کی کل کائنات ہی ٢ مرلہ ہے، معاف کیجئے گا تھی، ہے نہیں. آج چاند کی ١٤ ہے، چاند کا حسن دیکھ کر سمندر بے قابو ہو رہا ہے. حکّام کی طرح چاند بھی بے رحمی سے حسن اور قدرت کے مظاہرہ سے باز نہیں آیا. آج حجاب میں نہیں تھا وہ، نہ ہی تم . اس کا روشن ہونا تو اتنا معیوب نہیں لگا جتنا اس کلف لگے سفید سوٹ والے کا دمکتا چہرہ، جسکو چاند کے بالمقابل ہماری ملاقات کو مجبوری لے آئی تھی ، اور صبر کی تلقین کرنا بے صبرے کا بهايا نہیں مجھے اور ہم سب کو ایک آنکھ . بے اختیار میرے دل نے کہا، " تم پہ ہم نے صبر کر لیا ہے خود کے لئے ہی حیا کرو. آ آ کے ہمارے صبر اور طاقت کو نہ للکارو، خدارا معاف کرو."


**************************************************************


١١ رمضان                   ٢٢ اگست ٢٠١٠

تیرے حضور        

الله تعالی نے چند خصوصیات انسان میں زیادہ شدت کی رکھی ہیں چند کم شدت کی، محبت اور نفرت زیادہ شدت کی اور بھوک پیاس کم شدت کی. یعنی کچھ کے بغیر انسان کا گزارا ہو جاتا ہے چند وقت تک کچھ کے بغیر بلکل نہیں. نیند کہتے ہیں سولی پہ بھی آ جاتی ہے، درد ایک حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے،پھر انسان جان دے دیتا ہے ںا چاہتے ہوے بھی. یہ ہے انسان اور اسکی حد.کچھ ایسے بھی ہیں جذبے اور اوقات کہ جس پہ انسان کا بس ہی نہیں چلتا، یا یوں کہو وہ مجبور رہ جاتا ہے، خود کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے، یا کہو ہتھیار خود اس کےہاتھوں سے نکل کے دور جا پڑتے ہیں. وہ ہے جذبہ محبت کا، جہاں اس کی ایک نہیں چلتی. اور جہاں جس کے بے لوث احسانات ہوں وہاں وہ دل اور جان دونوں ہار بیٹھتاہے.محبت الله نے عجیب شے بنائی ہے، نہ ہی کرنے کی سمجھ آتی ہے ںا ہے نہ کرنے کی. الله کی صفت جو ہے. وہ خود کے بناے ہر بے جان اور جان دار سے محبت کرتا ہے. اس کی محبت ہی ہے کہ ہم اس کی نہ مان کر بھی چلتے پھرتے، کھاتے کماتے، نظر آتے ہیں. یہ اس کی محبت ہی ہے کہ وہ ڈھیل دیے رکھتا ہے اور واپسی کا انتظار کرتا ہے ہماری. سرکشی کرتے سمے وہیں دم نہیں چھین لیتا. ہماری محبت کو کیا ہو گیا ہے کسی کے لئے جوش ہی نہیں مارتی، کسی کے لئے پیاسی ہی نہیں ہوتی. ہم خود کے دھندوں میں الجھ کے اتنے خوش ہیں کہ شکر ہے انسانوں سے جان بحال ہوئی. میرا کمپوٹر میرے آنسو نہیں پونچھتا میرا قلم میرے کندھے پہ ہاتھ نہیں دھرتا. میرے ڈرامے اور فلمیں مجھے وقت پڑنے پر خون کا عطیہ نہیں دیتے پھر بھی مجھے محبوب ہیں.میں انسانوں سے ہی گھبرانے لگا ہوں، شائد حق نہیں ادا کر پاتا اس لئے، خود پہ کام کرنے کی بجاے میں نے تعلق ہی توڑ لیا یہ آسان لگا. اس سے دنیا کو تو نقصان ہوا ہی دین کو بھی ہوا. میں سمجھنے سمجھانے استاذ کے پاس جاتا تھا، مسجد جاتا تھا دوست بناتا تھا. اب سی ڈی سن لیتا ہوں، کمپٹور پہ مسائل پڑھ لیتا ہوں. حال چال، چلو پہلے ملنا ملانا یا فون ہو جاتا تھا. اب سب کی جگہ لکھنے پڑھنے نے لے لی ہے، لکھائی میں کیا ہی پتہ چلے کسی کا موڈ خراب ہے یا بخار ہے. گھر میں کوئی پریشانی چل رہی ہے. ہم کوئی اور مخلوق ہی معلوم ہو رہے ہیں. خیر ہو.ہم تو جو خود کے ساتھ کر رہے ہیں وہ ہی الله پاک ہم سے کرنے لگے تو، ہمارے لئے دل کو سخت کر لے تو، ہماری نہ ہی سنے تو. اگر انسان بنانے بند کر دے تو. سب مشینی کر دے تو، یقین ہے کہ دل نہ لگے گا. ابھی معلوم ہے کہ انسان بستے تو ہیں بھلے میں الگ ہو گیا ہوں وہ ہیں تو سہی جب چاہوں گا یہ فاصلہ دوڑ کے عبور کر لوں گا. گلے جا لگوں گا سب شکوے مٹا لوں گا. مگر جان لو ایسا نہیں ہے وقت، حالات، جذبات، کھڑے نہیں رہتے کہیں اور جا بستے ہیں. کسی اور کے حضور.

*********************************************************************

                                                                                                                          اگست  ٢٤ ٢٠١٠                    رمضان ١٣ 

 رمضان، کیا سوچا تھا کیا گزر گیا!  کیا رہا ہے!  کیا گزرے گا!

آج کے انسان کو رمضان کا تو کیا ہی معلوم ہو گا، تیاری کا ہی نہیں معلوم کے کیا شے ہے. اگر حضور کے زمانے کی بات کرو تو ان کو تیاری یہ کرنی پڑی پہلے رمضان میں جب روزے فرض ہوے، تو دین ابراہیم میں بدعات جمع ہو چکی تھیں. روزہ جب رکھو تب ہی آتے دن میں کھولو تب ہی نیا بھی رکھ لو. نوافل زیادہ ہی پڑھتے تھے لوگ تو بتایا گیا کے اتنا ہی کرو کے بعد میں بھی برقرار رکھ سکو، ایک اور بات اتنا ہی کرو کہ فرائض میں کوتاہی نہ هونے لگے یا تھکاوٹ کی وجھہ سے ناممکن ہی ہو جائیں. سحر میں تاخیر اور افطار میں عجلت اختیار کریں. باقی سب زندگی تو ویسے ہی تھی جیسے کہ ہونی چاہئے. جیسی کہ ہماری نہیں ہے اور ہو گی بھی نہیں اگر زندگی کی یہی رفتار رہی سیدھی راہ کو نہ ہی دیکھنے کی.
سیدھی راہ کیا ہے؟ نا معلوم کو بھی اچھابھلا معلوم ہے. ہم بھی آج اگر اتنے دور نہ ہوتے تو ہمارے لئے بھی یہ سبق نہ ہوتا مگر ہے کیا کیا جاے. اب بھی کچھ پلے پڑ گیا تو شائد اگلے رمضان جو اس آتے کے بعد آے گا کام آے. ابھی تو ہم کو ڈھیر ساری تیاری کرنی ہے.١٣ روزے گزر گے یعنی آدھا رمضان. آج بھی سوچ ہی رہا ہوں کہ کیا پلان کروں، کچھ وقت سیلاب کو دیکھتے گزر جاتا ہے کچھ بے دھیان حکومت کو کوستے. میرا رمضان تو برباد ہوا نہ. میں کہیں خود کی طرف ہی دھیان لگاوں کہ کیا کروں اور باقی کے لئے دعا یہی کافی ہے. اتنے دن تو کچھ نہیں کیا آج پھر جوش آیا ہے پلان بنانے کا نۓ سرے سے، خیر ہے جب اٹھو تب ہی سویرا.
    چلیں اب سب سے پہلے وعدہ اور کام یہ ہوا، کے ہم نے خود کی ایسی پلاننگ کرنی ہے کے جو رمضان کے جانے کے بعد بھی نہ جاے. وہ زندگی کا حصہ بن جاے. میرا رمضان ایک نہیں بارہ مہینے کا ہو. سارا سال ایک سا. ایسا انسان چاہئے الله کو.آج تو کرنے کا کام وعدہ نبھانے کا وعدہ، اور پلانر بنانے کا کام ہے کہ کیا کیا کرنا ہے. یعنی وہ سارے کام جو میں عام دنوں میں نہیں کر پاتا. آج سے کام شروع کرنا ہیں بھلے آدھ وقت گزر گیا اب باقی ماندہ وقت افسوس میں نہیں بلکہ ایسے گزرنا ہے کہ کچھ برباد ہوے روزوں کا بھی ازالہ ہو جاے.
الله تعآلی  کہتا ہے کہ میں شیطان مردود کو جکڑ دیتا ہوں زنجیروں سے اس مہینے میں، تو لڑائی کے لئے صرف بچا ایک شطان یعنی میرا نفس. اسی نفس کے گھوڑے نے آدھا  رمضان یہاں وہاں گزروا دیا. یہ مغفرت کا عشرہ ہے، اس کو ایسے ہی نہیں جانے دینا. کئی کئی نفل پڑھو کہ اب بھی خود کو سمیٹ لیا وگرنہ یہ منہ ویسا ہی رہ جاتا جیسا کے گزرے سال تھا. رحمت کا عشرہ گزر گیا بھلے، رحمان اور رحیم تو موجود ہے. اس ہی کی نوازش ہے کہ اب بھی مجھے خیال والا بنا دیا نہیں تو مجھ نکمے نے کیا کر لینا تھا.
اب جو اتنی مدد ہوئی ہے خالق، مالک، رازق کی، تو یہ معلوم پڑا کہ وقت اس لئے زیادہ ہو گیا کہ ایک تو جن شیاطین اس نے بند کئے اور دوجے مجھے کچھ خود کو بھی باندھنے کا معلوم پڑا، بھٹکانے،بلانے والے کم ہو گے. جو کام پہلے مجھے خود کو کھینچ کھینچ کے کرنا پڑتا تھا، پہلے عشرہ میں اب کافی آسان ہوا اور کافی وقت بچ گیا. کافی کچھ میرے لئے عام زندگی میں مشکل بلکہ کبھی کبھی ناممکن ہو جاتا ہے. اب الله نے دیا ہے زیادہ وقت زیادہ طاقت، سو جہاں  میں ناکام تھا اب وہ  صرف مشکل راہ گیا جو مشکل تھا آسان ہوا. جو آسان تھا وہ  چلتے پھرتے ہوا، کمال مہینہ کمال وقت ہے.
 آج یہ بھی خیال آیا کہ کہیں تو کھول کے دیکھوں کہ حضورص   کا  رمضان کیسا ہوتا تھا.میں نے اس سے بہت کچھ جانا اور عمل کرنے کا ٹھانا، جزبہ یہی رہا تو الله توفیق دے گا ہی. کچھ کچھ لگتا ہے سچے دل سے ندامت کا احساس ہو رہا ہے. تب ہی یہ سب خیال آ رہا اور رستہ کھلا اور نصیب ھوا اچھے سے رمضان، بھلے ادھا ہی سہی.الله معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے.  
   

******************************************************


    ٢٣ اگست ٢٠١٠    ١٢ رمضان
رمضان مبارک کس کے لئے؟

ہمارا روز کا کلمہ ہے آج کل کے  رمضان مبارک اس سےکسی کی کیا مراد ہے شائد غور ہی نہیں کیا گیا. کوئی بات نہیں ہم  کر لیتے ہیں آج غور. مجھے یہ سمجھ آیا کہ میں نے ٹی وی  کی سکرین پر جب حسین چاند دیکھا تو خود کو کہا کہ  رمضان، الله تم کو مبارک کرے. اس سے میری مراد خود کے  لئے یہ دعا تھی کہ میرے دل میں جو بھی پلان تھے خود پہ مثبت کام کرنے کے مجھے ان کو الله تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرماے، آمین.
رمضان کا انتظار بھی رہتا ہے، کس کو؟ خوشی بھی ہوتی ہے، کس کو؟ اصل میں ان کو جو ہمیشہ ہی حاضری میں رہے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں غلطی تو نہیں ہو گئی، الله معاف کرے گا بھی کہ نہیں. ان کے لئے جب الله شیطان کو بند کر دیتا ہے تو استغفار زیادہ  ہی کرنے لگتے ہیں اور رحم کی اپیل بھی زیادہ ہی کرتے ہیں. خوش ہوتے ہیں کہ قربت کا وقت ملا، تنہائی میں راز و نیاز کا مہینہ آیا. صرف اس کی طرف دیکھنے کا مہینہ آیا. دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ سارا سال ہی ایسا وقت ہو.
ایک اور لوگ بھی ہیں انتظار میں کہ کب یہ رحمت برکت کا مہینہ آے اور ہم کو موقع ملے. وہ ہیں حافظ قرآن، تراویح پڑھا سکیں. اس مبارک مہینہ میں لوگ مسجد کا رخ کرتے ہیں خاص طور پر رات کو عشاء کے وقت اور گھنٹوں کے لئے الله کے گھر لوگوں کے بیچ رہتے ہیں مل جل کر اس کے ذکر کو دعاؤں کو. اور یہ جوڑنے کا کام تراویح پڑھنے والے کا ہی کام ہے، جتنی اچھی تلاوت ہو گی لوگ جوق در جوق جمع ہوں گے.
ایسا ہی ایک تراویح پڑھانے والا ہمارا بھی حافظ قرآن ہے، اوہ معاف کیجئے تھا، ایک نیک بخت بچہ آنکھ کا تارا تھا، ہر لحاظ سے حسین، ١٨ سال عمر، پڑھائی میں اول، کردار میں اول، اخلاق میں اول، قول و فعل میں اول. جوان اولاد سے اور کیا چاہئے. آنکھوں کی ٹھنڈک ہے یہ انسان ایسی اولاد. معاف کرنا ہے نہیں تھی. اس کو بھی ہم سب کی طرح ماہ رمضان کا انتظار تھا. یہ مہینہ اس کے لئے بھی مبارک تھا. وہ روز قرآن کی دوہرائی کرتا تھا. تراویح جو پڑھانی اور پڑھنی تھی. پیارا بھائی  سامع تھا.
کیا خوب جوڑی ہے، ہے نہیں بھائی میں بھول جاتا ہوں."اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا"
وہ تھا ہو چکا ہے. اس کا رمضان الله کے پاس، اس کے گھر والوں کا رمضان مبارک نہیں بھیانک ہو چکا ہے. ہم اس مبارک مہینے میں جہاں، جنوں میں سے تو، الله پاک نے شیاطین کو زنجیروں میں  جکڑا ہے مگر انسانوں میں سے شیاطین کھلے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں. ان کی کوئی تو قید ہو کوئی تو ان کو بھی زنجیروں میں جکڑے پکڑے اور تا قیامت ان کو الٹا لٹکا کے رکھے، ان پہ کوڑے برساۓ. برساتا ہی رہے تاکہ ایک حافظ قرآن نو جوان کی ماں کے کلیجے کو ٹھنڈ ہو.
آج ١٢ رمضان ہے پچھلے ایک ہفتہ سے میں سوچتا ہوں کہ میں رمضان میں خود کے لئے، خود کے ارد گرد کے لئے کیا مانگوں، میری تو سمجھ ہی کم پڑ گئی ہے، اب سب اوپر والے پہ چھوڑ دیا ہے. نہ ہی خود کے لئے دوا کی سمجھ آ رہی ہے نہ ہی کسی کام میں دل لگتا ہے. وہ  تو ٹھیک ہے زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے مگر ان ظالموں کا کیا جو تقدیر سے سانس چھین لیتے ہیں زبردستی. ان کی جہنم تو برحق ہے، پر میرے گزرے سپوت کا کیا؟
                                میرے تو ایک نہیں دو دو گۓ ہیں، گویا دنیا ہی ختم ہو گئی ہے، میرے دل کی میری سوچوں کی. مجھے آگے کچھ دکھائی نہیں دے رہا. قاتل بھی نہیں یہ مہینہ بھی نہیں ہر طرف معلوم پڑتا ہے شیطان ہی گھوم رہے ہیں ہاتھوں میں ڈنڈے لئے. معلوم نہیں کب کہاں اور کس پر برسا دیں. بچ کے رہنا نیک بچو رمضان کے منتظر حفاظ لڑکو، الله تم کو ان درندوں سے بچاۓ میرے تو نہیں بچ سکے. آج لکھنے کا خیال اس لئے آیا کا آج ان دونوں کے کپڑے بن کے آ گے ہیں. مغیث تو کہتا تھا میں ٢٧ رمضان کو پہنوں گا پہلے کہ قرآن مکمل ہو گا اور وہی میری عید ہو گی. ٢٧  بھی آے گی، قرآن بھی مکمل ہو گا عید بھی آے گی مگر جو بقید حیات ہوں گے ان کے لئے الله  نے چاہا تو . ہم جو باقی رہ گے اور وہ جو چلے گۓ ان کی عید اب کبھی نہیں آے گی.  

********************************************

 

 

٢٣ اگست ٢٠١٠              ١٢ رمضان

 

آپ کونسے ہیں ؟
کوئی تو صحیح بولتا نہیں اور کوئی تو صحیح سنتا نہیں کوئی صحیح سنانا نہیں چاہتا، ان میں سے آپ کونسے ہیں؟ مجھے تو آج فرق نہیں پڑتا کہ آپ کونسے ہیں میں نے سوچ لیا ہے کہ کہنے میں کیا حرج ہے؟  آپ جو کوئی بھی ہو . نہ سننے والے ہو گے تو بھی پڑھ لو گے تو صحیح ہے کسی نہ پڑھنے والے کو سنا دو گے. مقصد پیغام پہنچانا ہے جیسے بھی ہو. بھلے اخبار کے شوقین ہو تو لکھ دیں گے. ٹی وی بھاتا ہے تو بول دیں گے کہاں تک چھپو گے، کہاں تک نہ ہی سنو گے.
ہم نے تو پیغمبروں کا کام خود کے سر لیا ہے، کہتے جائیں گے لکھتے جائیں گے، حق ہواؤں میں بھی گھول دیں گے کہاں کہاں سے بچ پاو گے. اصل میں لگتا ہے فرعون کا زمانہ لوٹ آیا  ہے. سب خود کی دھن میں لگے ہیں، اور گدی پہ بیٹھے کا چہرہ دیکھتے ہیں. محسوس ہو رہا ہے کم از کم مجھ کو کہ افراد کی حسی قوت جواب دے چکی سے، خالق سے ایمان اٹھ چکا ہے. فراغت ہو گئی ہے کہ اوپر نہ ہی دیکھا جاے رب کو، تو ہی جان بچے گی. ایمان سے زیادہ جان کی ہی پڑی ہے.
ٹھیک ہے جان ہے تو جہاں ہے. یہ کیا کہ آپ جان کو تو بچا لیں مگر خط انسانیت کی لکیر سے نیچے بہت نیچے دکھیں. خود کو کوئی جواب نہیں دینا کیا. خود کا کوئی حق ادا نہیں کرنا. حق نا اہلی کے سوا . حق شیطانی حیوانی کے سوا . کیا ہو گیا ہے چہرہ تو دیکھو ، لگتا ہے آئنہ کو زنگال لگ ہی گیا ہے جو کبھی خود پہ نظر نہیں پڑی. تب ہی خود سے اب تک خوف نہیں نہ آیا.
آ جاے گا. آ جاۓ گا. فکر نا کرو،  کسی نے چہرہ جو نہیں دکھایا ابھی تک. اب تو مجبور ہو کے دیکھنا ہی پڑے گا شہر بھر میں شیشے جو ںصب ہو گۓ ہیں، گھروں پہ سڑکوں پہ عمارتوں پہ. دوستوں دشمنوں کے چہروں پہ، اب سب خیر ہی ہو جاے گی.
سننے سنانے کے کام میں اب کسی کو کوئی کشٹ نہیں کرنا پڑے. سب کام الله نے جو خود کے ہاتھ میں لے لیا ہے. اب وہ سناۓ گا اور ہم سب ہی سنیں گے، بھلے اندھے ہوں، گونگے ہوں، یا بہرے، وہ کسی کو نہیں معاف نہیں کرے گا. پیغمبروں کے زمانے میں آسانی تھی، گمشدہ ہوئے تو عذاب آ گیا اور چھانٹی ہو گئی. اب پیغمبر کو تو آنا نہیں تو الله نے خود کی جناب سے ہی ڈنڈا برسنا ہے.
"ڈلے بیراں دا ہلے وی کج نئی گیا" کچھ نہ بنو بس دیکھنے والے بن جاؤ، آنکھ بھینچنے سے بلی نہیں جاتی. بلی اب بھی وہیں ہے، وہیں رہے گی کیونکہ اس کے منہ کو خون لگا ہے، وہ خون ہے ہماری، تمہاری، بند آنکھ، بند کان، اور بند ہونٹھ. بندھے ہاتھ، جکڑا دل پکڑا دماغ کا.  او مل کر الله کا ہاتھ بٹائیں، پیغمبروں کے نقش پا پہ کوئی تو قدم دھریں. بولیں ہم ان میں سے کوئی سے بھی نہیں ہیں. میں الله کا خلیفہ ہوں. وہ ہی میرا مددگار اور حامی و ناصر ہے. آج سے میں ان میں سے کوئی سا نہیں ہوں، کوئی سا نہیں ہوں، کوئی سا بھی نہیں ہوں. کوئی نہیں ہوں.

*****************************************************************



اگست ٢١ ،  ٢٠١٠    ١٠  رمضان
 
محمد ص میں اور محبت
 
 حضورص   ربیع الاول میں پیدا ہوئے سو ہم اس مہینے سے زیادہ ہی عقیدت رکھتے ہیں، حضور کو سفید رنگ پسند تھا میں ساری عمر سفید ہی پہنوں گا، حضورص کو کدو پسند تھا میں نے کدو کا کھیت اگا لیا کہ کدو ہی بیچوں گا اور کھاوں گا بھی، حضور کے پٹے نما بال تھے میرے بھی ہیں. یہ سب اس لئے ہے کہ میں انص سے محبت رکھتا ہوں. میری آواز اچھی ہے میں صرف سلام اور نعت ہی پڑھتا ہوں حضورص سے محبت ہے نا، سو میں ایک نہایت ہی اچھا مومن مسلمان ہوا؟ اور میری بحیثیت امتی ساری ذمہ داری پوری ہو گئی؟ یہ کہاں کی تعلیم ہے؟ اور آج کا مسلمان اور مومن کہاں کھڑا ہے؟
 
 
ربیع الاول میں الله تعالی نے حضورص جیسا تحفہ ہم کو دیا، اس مہینے کی بہت خوشی ہے حضورص کے حوالے سے اور یہ خوشی منانا بھی جائز ہی ہے،ایک دوجے کو تحائف دو، حضورص کا ذکر کرو ذکر کی محافل منعقد کرو، ذکر الله کا الله کے رسول کا، ملو جلو کھانے کھلاؤ، خوب ہنسو بولو، سب ٹھیک ہے. مگر اتنی خوشیاں منانے والے سے کوئی اگر یہ پوچھ ہی بیٹھا کہ یہ سب جس کے لئے کیا جا رہا ہے وہ کون تھا کیسا تھا اور کیا کر گیا، کیا چاہ گیا،کیا بتا گیا، پہنچا گیا، کرنے کو کیا گیا، تو؟ سب خوشیاں دھری نا رہ جائیں گی.کیونکہ جواب تو آے گا نہیں یا آے گا تو عمل نہیں کیا ہو گا.
اب بتاؤ کہاں کا پیار اور کہاں کی عقیدت؟ چھوٹی سی ہو نوکری کی بات لے لو٢٠٠٠ روپیہ ماہوار، اگر سارا مہینہ خوشامد ہی کرتے رہو اور کام ذمہ داری سے نہیں کرو تو مالک نکال باہر کرے گا. سکول میں ڈھنگ سے کام نہیں کرو تو استاز کان سے پکڑتا ہےگھر پہ
شکایت بھی جاتی ہے، ساتھی بھی مذاق بناتے ہیں، میں ان سب باتوں سے ڈر کے رہتا ہوں کہ کوئی شکایت کا موقع دوں خوام خواہ کی رسوائی.
                      کتنا خیال ہے ذرا سی بات کا، جب بات آتی ہے دین کی تو الله کو اور اس کے رسولص کو کسی فکر کے بغیر ہی محبت بھرے لفظ یا فقرے سنا کے ٹرخا دیا جاتا ہے. اور کہا جاتا ہے محبت ہے. اداسی بھی آتی ہے، آنسو بھی آتے ہیں. کبھی یہ کیوں نہیں دیکھتا کے میں نے ان کو خوش کرنے کے لئے کیا کیا، خالق کا کوئی کہا مانا اس سے ڈرا، کہ پکڑ بھی سکتا ہے ابھی اور اسی وقت ، ڈھیل دے تو آخرت تو ہے ہی انجام سنانے کا وقت.
                        حضورص ،الله کی ہی بتا کے گۓ ہیں مگر ہم وہیں ہیں جہاں لوگ ان کے آنے سے پہلے تھے، دین کا کوئی پتہ ہی نہیں. دنیا سے محبت ہم ایسے ہی کرتے ہیں کیا؟ کہ نہ فیشن کا پتہ ہو نہ کسی نۓ ہوٹل کا، نہ کسی ڈرامے کا نہ ہی نئی فلم کا. نہ شہر اور ملک بلکہ ملکوں کی خبروں کا، ملکوں کے موسموں کا. رنگ رنگ کی کتابیں پڑھتے ہیں کہ up to date رہیں. دین کے بارہ میں کیا ہو جاتا ہے نبیص  کے بارہ میں کسی کو کوئی اپ ڈیٹ نہیں چاہئے کیوں. ہم نے پیار ہی نہیں ڈالا کہ کوئی حکم، سبق، طریقہ، معلوم پڑے اس کا جس سے محبت میں ہم آنسو بہاتے ہیں.
نقشہ کھینچو تو، جس سے محبت کے دعوے ہیں آنسو ہیں لب پہ نعت و سلام ہے، وہ سامنے آ جاے تو کیا درشن کرو گے اور کیا منہ دکھاؤ گے.کیا جواب دو گے. محبت کا کیسے یقین دلاؤ گے اور آنسوں کا کیا جواز بتاؤ گے. آپ کا 'سی وی' جو مانگا تو کیا جواب ہو گا. ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی قابلیت کہاں سے اکٹھی کرو گے. آبا کا پوچھا گیا تو؟ آپ کے پاس تو کوئی اپ ڈیٹ ہے نہیں کے ان سے ہم نے کیا لیا، کیا کیا. میرے چھپنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ان کے سامنے، یہ تو الله کے بندے اور رسولص کا سامنا ہے.
آگے چل کے خالق مالک کا سامنا بھی ہونا ہے، وہ تو تصور کرو کہا میں نے. یوم الدین یعنی کتاب، حساب اور فیصلے کا دن، وہ تو الله نے کہا کے ہونا ہے، ہر شے فانی ہے اور ہر فانی شے کا حساب ہو کے پھر اس کو ابدی زندگی ملنی ہے. اس کا کیا؟ حضور نے خود کا کام خوب اچھے سے کیا الله گواہ ہے، ہمارے لئے اذیتیں اٹھائیں، ہمارے لئے دعائیں مانگیں ہمارے لئے خود کی زندگی ایک نمونہ کے طور پر ہمارے لئے چھوڑی. کوئی سوال ادھورا نہیں رہنے دیا خود کی امت کے لئے کہ اس کو تکلیف نہ ہو، اور یہ جنت کی حقدار ہو. میں نے خود کے حق کا کیا فائدہ اٹھایا. وہ حق جو برحق تھا میں نے نہ حق اس کو گنوا دیا. 
                            i love you  کہنا یا بتانا ہماری تہذیب نہیں ہے ہم تو کرکے دکھانے والے تھے. محسوس کروانے والے تھے. پاس سے گزرے تو معلوم پڑے کہ کوئی اپنا ہے. ایسا تب ہی ہوتا ہے جب دل میں قدر ہو مگر قدر کے معنی بھی معلوم ہوں، قدر کسی کی خوشی کا خیال رکھنے میں ہے، اس کا کہا ماننے میں ہے، اس کے نقش قدم پر چلنے میں ہے، یہ تو ہم ماں باپ کا لئے بھی کہتے ہیں اور یہاں میں بات کرتا ہوں رسولص الله کی جس کو الله نے کہا کہ یہ میرا بھیجا ہوا ہے، ہم اس بھیجے کی یہ قدر کرتے ہیں کے درود پڑھ لیا نماز غائب، سلام کہہ دیا روزہ غائب، نعت کہہ دی زکات غائب. اسے کوئی کہے محبت! تو خود ہی آگاہی کرو اور کہو میں غلطی پہ تھا. الله مجھے معاف فرمائے. صبح کا بھولا گھر آیا ہے اب محبت ایسے کرے گا جیسے کہ ادائیگی کا حق ہے. جاننا، پہچاننا، ماننا اور عمل کرنا الله کا حکم جو الله کے کہنے پر حضورص سے ہم کو ملا بس یہ ہی محبت ہے، میری محبت محمدص کے ساتھ. 

******************************************************

       

 

رمضان ٩                   اگست ٢٠١٠ ، ٢٠

 پیار کے قابل ......................................
محبت کس سے کی جاے کیسے کی جاۓ، کب کی جاے یا کب ہو جاے کوئی نہیں جانتا، محبت کس شے پہ دلالت کرتی ہے، کس راہ کی مسافر ہوتی ہے، کیا چاہتی ہے، دینا یا لینا اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا. جتنی محبتیں اتنے رنگ، کسی کا کیسا کسی کا کیسا. سچی محبت نہ کم ہوتی ہے نہ ہی زیادہ. اس کا کوئی رنگ نہیں ہوتا. محبت کا کوئی جواز بھی نہیں ہوتا ظاہری اور ہوتا بھی ہے. کچھ باتیں تو ہم کسی کھاتے میں نہیں ڈالتے،ہر کی محبت کا خود کا ہی رنگ ہوتا ہے، محبت کا اور اس کا ملا جلا اور اس کا بھی جو کہ محبوب ہے.
محبوب وقت میں قید نہیں ہوتا. وہ حیات ہی ہوتا ہے،جو دل میں رہتا ہے. محبت، وجود محبوب کی موجودگی کی محتاج نہیں ہوتی. جب تک دل دھڑکتا ہے،سانس آتی ہے ہر دھڑکن محبوب کے هونے کا پتہ دیتی ہے. اور کوئی محبت تو ایسی ہوتی ہے کہ کئی دلوں میں بستی ہے. اس کا بہت سے دلوں میں وجود ہوتا ہے. اس کو محبوب کرنا سب کی مجبوری نہیں خوشی بن جاتا ہے. کوئی پیارا ہوتا ہی اتنا مہان ہے.
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیار بتانا بھی نہیں آتا ایسے تو نہیں کہا جا سکتا کہ کرنا نہیں آتا، یہ بھی ہو سکتا ہے صرف لینا ہی آتا ہو کرنا نہ آتا ہو، کرنا نہ آتا ہو بیان ہی نہ آتا ہو، یوں بھی ہو سکتا ہے کہ وشواس ہی نہ ہو خود کے پیار پہ کہ ہے بھی یا نہیں، اور یہی کشمکش نہ کہنے کا سبب ہو، اور لگے کہ ہے ہی نہیں.ماں کی سمجھانے  کی عادت  بھی ناگوار جو لگنے لگ جاتی ہے. استاد کی ڈانٹ بھی بتانے لگ جاتی ہے کہ میں کسی قابل نہیں کسی کے بھی قابل نہیں خود کے بھی. تو ایسا تھوڑی نہ ہے کہ ماں سے بھی پیارا اور پیار کے قابل کوئی ہے،ماں کے بغیر گزارا بھی ہے کیا. استاد  کے بغیر انسان بنتا ہے کیا، کوئی شیطانی شخص.
کوئی محبت تو ہوتی ہے جہاں رقیب برداشت نہیں ہوتا، یہ ہوتی ہے ہم پلہ سے، جس کو جوانی کی محبت کہہ سکتے ہیں، یہ سچی بھی ہو سکتی ہے نادانی بھی. اور کوئی محبت ہوتی ہے، جو سب کی ہوتی ہے،ہر ایک کا رنگ الگ، ڈھنگ الگ، بیان الگ، تصور الگ، یہ وہ جگہ ہے جہاں کوئی رقیب نہیں ہوتا جہاں ہر کوئی خود کی ہی بولی بولتا ہے، کوئی کسی کی محبت چرا نہیں سکتا اور یہ سب عاشقوں کو معلوم ہے. تب ہی سب عاشق مل کے مشترکہ محبوب کا ذکر کر لیتے ہیں.
معشوق کا ذکر کرنا ہی عاشق کے لئے سکون کا باعث نہیں اس کی بات کا دھیان،  اس کی پسند کا دھیان، اس کے کہے پر عمل کرنے سے ہی معشوق کو معلوم پڑے گا کہ کوئی اس کو پسند کرتا ہے پیار کرتا ہے، مانتا ہے.ہم بس قصیدہ کہنا، تعریف کرنا، تحائف دینا تو جانتے ہیں، i love you کہنا ہی آتا ہے بس. اس سے نہ ہی دنیا بنے گی نہ ہی آخرت.         
 

**********************************************************



١٨ اگست ٢٠١٠
٧  رمضان
العصر
الله نے ایک فیصلہ کیا اور اعلان فرما دیا. دربار لگا. کم وبیش سب نے قبول کیا جو الله نے فرمایا. الله نے یہ بھی فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے. سو الله نے،وہ لوگ بھی بتاۓ جو اس کا نام ماننے پہچاننے اور پھیلانے والے تھے.  سو خلیفہ مقرر ہوا. معلوم پڑتا تھا کہ بڑے لوگ ہیں. انسان جہاں گم ہو گا بچا لیا جاے گا. کیونکہ وہ مان جاے گا، اور الله کا قافلہ بڑھتا رہے گا. گھوم پھر کر سب ہی جنت کے حقدار ہوں گے.
یہ تھوڑا دور جا کر معلوم پڑا کہ جو چلا نافرمان جو بڑھا نافرمان. الله نے انسان میں رکھ دیا بلکہ میں کہتا ہوں سب گوندھ کہ ہی مجھ کو بنایا خیر اور شر. سو ہر کے اندر ایک دوراہا کھڑا ہے ١٨٠ ڈگری ادهر یا ادھر. فیصلہ خود کرنا ہے. الله وہاں ہی مدد کرتا ہے جہاں میں خود رضامند ہوں.وہ موقعے پہ موقع دیتا رہتا ہے جب تک انسان خود سے خود ہی تھک ہار نہیں جاتا، یا تو الله کی مان کے الله کا ہو جاتا ہے یا خود کا دنیا کا شیطان کا، زمانے کا.زمانہ انسان خود بھی ہے. زمانہ حد درجہ انسان بھی ہے، انسان کی تخلیق انسانوں کے کرم، انسانوں کے اعمال بھی زمانہ ہیں اور اس کے کرتوت بھی.
اسی زمانے کی الله قسم کھا رہا ہے. کہ گزرا وقت اور گزرتا وقت سب ہی گواہی دے رہا ہے. گواہی ہے کیا؟ گواہی ہے نافرمانی کی تکبر کی سرکشی کی، عمارتوں کے کھنڈر ہیں، سرکشی کی داستانیں ہیں. مشرکوں کی لاشوں کے ڈھیر ہیں مصر میں. یہ سب شواہد ہیں جن پہ ہماری خود تو آگاہی جاتی نہیں. یہی خیال ہوتا ہے کہ وہ پکڑا گیا میں الله کے پیچھے سے گزر جاوں گا. الله کو معلوم ہے نہ کہ میں نہیں دیکھتا تب ہی وہ کہ رہا ہے کہ یہ سب شواہد میں نے ہی منہ بولتی گواہی کو چھوڑے ہیں میں کھنڈر کر سکتا تھا تو یہ نشانی بھی نہ چھوڑتا اگر اس کو شہادت نہ بنانا ہوتا. فرعون غرق ہی رہتا کنارے نہ ہی لگتا. یہ ہیں گواہ، یہی وقت ہے، زمانہ ہے. اللہ کہتا ہے زمانہ میں ہوں. یعنی سب گواہیاں اس سے ہیں اس کے اذن سے ہیں.اس کی نظر میں ہیں اس کے موجود هونے سے ہیں.
ان سب گواہوں پہ یا تو نظر نہیں پڑتی یا ادهر نگاہ جاتے ہی میں آنکھ بھینچ لیتا ہوں. ان گواہوں سے مالک کیا بتا رہا ہے؟ وہ یہ کہ جو نہ ہی مانا وہ خود کے لئے ہی گھاٹا،گھٹہ،دہکتا کھڈ اور اس کھڈ کی ہمیشگی کماتا رہا زور و شور سے، دل و جان سے.برائی کے لئے تو بہت ہی کام کرنا پڑتا ہے، فطرت کی مخالف سمت جو کمر کسنی ہے. محنت بھی کرنی ہے کھڈ میں رہنے کو، جان بھی گھسنی ہے خسارہ کمانے کو وہ بھی دائمی.  
       مفت تو کسی کو کچھ بھی نہیں ملتا.ہر لمحہ کا ہر سانس کا حساب ہے، میزان لٹک رہی ہے. انسان کو کبھی معلوم ہی نہیں پڑا کہ نیکی کے لئے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی فطرت جو ہے. اور فطرت کی راہ میں روڑے نہ اٹکاؤ تو جنت وہ بھی ہمیشہ کی. نیکی کرنا کرنے کو کہنا
، کہتے رہنا. منانے والوں کے لئے دعا نہ ماننے والوں کے لئے صبر اور ان کے لئے بھی دعا. ماننا کوئی آسان کام نہیں. یقین کی بہت طاقت ہوتی تو ہے مگر یقین بنتے بنتے بنتا ہے.انتظار صبر سے کمانا پڑتا ہے. انتظار بھی سیکھنے کا کام ہے، حضرت ابراہیم کی طرح دل میں سوال آ ہی جاتا ہے تسکین کو. راه میں سو رکاوٹیں پھر بھی ثابت  قدم اور  استقامت ہمیں حضور سے سیکھنا ہوگی . اس کا ہی انتہا کا درجہ ہے کے  صبر کرو اور کرنے کا کہو الله کی راہ میں.
صبر کیسے آتا ہے؟ یہ جان لو کہ الله سب جانتا ہے، مجھے کچھ نہیں معلوم کہ مجھے کیا چاہئے، کب، کیوں، کیسا، کتنا اور کیا یہ میرے لئے فائدہ مند ہو گا بھی کہ نہیں. میں وہ بھی نہیں دیکھ پاتا جو سامنے ہے اس لئے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا. وقتی بہت کچھ مناسب بھی لگتا ہے مگر اکثر مثبت نتیجہ نہیں دیتا. یہ سب الله کے حوالے کر دو تو خود کی فراغت. بس اس پر بھروسہ ہی سیکھنا ہے. زمانہ شاہد ہے جو حق پر ہے دنیا بھی اسی کی آخرت بھی

******************************************************************************

.

 

١٧ اگست ٢٠١٠                                           ٦رمضان
القارعه
حادثہ قیامت کیا ہے؟  اگر تو لگتا ہے کہ ہے تو فکر کیوں نہیں، اور نہیں تو نہ ہو، نافرمان خود ہی بھگتے.  معلوم پڑتا ہے الله کو ہی زیادہ فکر ہے خود کے نافرمان بندوں کی ماں کی طرح، وہ بھی نافرمان یا اکھڑ اولاد کی روٹی پکا کر بھی بیٹھتی ہے راستہ بھی دیکھتی ہے بھلے وہ شراب پی کر گالیاں بکتا ہی گھر میں داخل ہو، اور سہارا بھی دیتی ہے اس کی کھٹیا تک، یہ تو ایک ماں کا بیان ہوا، وہ ذات پاک تو خالق ہے، مالک ہے، نظر بھی رکھے ہوئے ہے پیار بھی کرتا ہے کئی کئی ماؤں سے بھی زیادہ، رازق بھی ہے بھلے اسے مانو،نہ ہی مانو. القران کا اختتام ہوا چاہتا ہے، یہ "سورہ ١٠١" ہے. نافرمان اڑے کھڑے ہیں اور الله کہ رہا ہے کہ کیا هونے والا ہے، تم جانتے نہیں. زور دے کے کہ رہا ہے کہ وہ آنے والی آفت، وہ هونے والا حادثہ، وہ سخت آواز، وہ  زوردار کڑک، کھڑک ہے کیا ؟
 وہ بنا بتاۓ آ دھمکنے اور ہڑبڑا دینے والا کیا معاملہ ہے.وہ کھٹکا ہے جس کی نہ ہی کسی کو پرواہ ہے نہ ہی فکر نہ انتظار نہ ہی خوف. تب ہی تو نافرمانی عروج کو ہے اور تکبر و غرور بھی. الله اس آنے والے وقت کو عظیم بھی کہتا ہے یعنی بڑا بہت ہی بڑا. جس کو بڑا، بڑا کہہ رہا ہے وہ کتنا بڑا ہو گا بھلے وہ انسان کے حوالے سے ہی کہہ رہا ہو، مگر غیر معمولی تو کہہ ہی رہا ہے. الله سوال بھی کر رہا ہے کہ کیا تم جانتے نہیں ہو؟ معنی کے تم ادراک نہیں رکھتے کے کیا بھگتاوہ ہے آگے. یعنی معصوم ہو اور انجام سے بےخبر ہو مگر معلوم تو پڑنا چاہئے کہ یہ جو سب ہے یہاں بازار لگا اس کا کوئی تو انجام، اختتام ہو گا ہی یا ہونا چاہئے اور نتیجہ نکلے گا ہی. اسی کو حادثہ اور غیر معمولی حادثہ کہ رہا ہے سب کا مالک خالق رازق. بھلے نہ ہی  مانو اس کی بات مگر یہ انکار نہیں کر سکتے کہ  وہ جو کہہ رہا ہے نہیں ہو گا. اس کا تو انتظار ہونا ہی چاہئے.  الله کا سوال یہ ہے کہ انتظار کیوں نہیں ہے یا جان کاری کی پریشانی کیوں نہیں ہے.
                                        اب الله کچھ جان کاری خود سے دے رہا ہے کہ، انسان کی اوقات اس لمحہ کیا ہو گی، جب ہلچل اور بھگدڑ مچی ہوگی. انسان جو آج خود کو ہی دنیا کا بادشاہ جانتا ہے اور دندناتا پھرتا ہے، یہ ہوا سے بھی ہلکا ہو جاے گا ، جس کی زندگی بھی کیا ہے اور موت بھی کیا ہے. پروانے کی زندگی بھی کیا معمولی اور بے حقیقت ہوتی ہے.انسان مردود کو بھی جب  یوم الدین کو معلوم پڑے گی خود کی حقیقت تو لگ پتہ جاے گا. آج تنہائی ،بے سروسامانی، اکیلا پن ، نا امیدی،اب پچھتاوا بھی کیا ،وقت لوٹایا نہیں جا سکتا.اب بس میں اور میرے اعمال. 
                  ایک اور مضبوط شے جس کو یہ انسان سب سے ہی ناقابل تسخیر جانتا ہے اس فانی زندگی میں وہ ہیں پہاڑ .اونچے لمبے ،مضبوط ،میلوں میل پھیلے بے خوف. ان کی اوقات بھی الله بتا رہا ہے کہ روی کی طرح اڑ رہے ہوں گے دھنکی روی کی مانند ان کا ریشہ ریشہ الگ ہو گا اور یہ بھی بے حقیقت ہی ہوں گے. پہاڑ سے مرد ایک تو پہاڑ ہے اور ایک الله بتاتا ہے مضبوط  اور نہ ہلا دینے والی شے جو قائم رہتی ہے زلزلہ ہو طوفان ہو قائم ہے پہاڑ لاوا اگلتے ہیں اڑتے نہیں اور ہمیشہ انسان نے پہاڑ کو طاقتور ہی جانا،  حضرت نوح کے بیٹے نے بھی کہا کہ سیلابی طوفان آے گا تو میں پہاڑ پر چڑھ جاوں گا. یہ ہے اس دن کا حال جس کا ذکر ہم کو خوف نہیں دلاتا.
اس دن بھی الله فرما رہا ہے کہ جو الله کی راہ میں زندگی گزار رہے ہوں گے، اس کی خوشنودی کے لئے خود سے، اوروں سے معاملہ کر رہے ہوں گے، وہ اس بھگدڑ اور نفسا نفسی میں بھی عیش میں ہی ہوں گے.اگر آج اس کی ہی فکر کر لی جاے کہ میرا ہر عمل تولا جا رہا ہے، اور تولا جو جا رہا ہے تو کہیں تو لکھا جا ہی رہا ہو گا حساب. اور ظاہر ہے کہ اسی لئے تو تولا جا رہا ہے. جب لکھا جا رہا ہے تو پیشی بھی ہو گی. پیشی ہو گی تو نتیجہ بھی ہو گا. نتیجہ ہو گا تو علی الاعلان ہو گا. عہدہ ملے گا سب کے سامنے. مرتبہ کی جگہ بھی دکھائی جاے گی بھیجا جاے گا اور دوام ہو گا.  بھاری اعمال والے ہی فلاح پائیں گے.ہلکی میزان والے نامراد ٹھہریں گے. اب تو جان ہی لو !
یہ کمال میزان ہو گی، بتاتی جاے گی اور بھیجتی جاے گی اوپر سے اوپر کے درجات میں الله کے حکم سے، اور پھینکتی جاے گی گڑھوں میں نیچے سے نیچے، آگ اور پتھروں سے بھرے. ان بھاری میزان والوں کی من پسند عیش ہو گی اور ہلکے وزن والوں کی گہرے  گڑھے میں ساری لا فانی زندگی گزرے گی.اس گڑھے کا ابھی تو پتہ نہیں پڑ رہا کہ کیا ہے. دہکتی آگ ہے. دہکتی آگ کیا ہوتی ہے آج کا انسان نہیں جان سکتا.
ہم سو ہزار اشیاء کو روز مرا، کی زندگی میں سمجھ نہیں پاتے مگر ملتے جلتے موقعوں سے سمجھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، اور کسی حد تک سمجھ بھی پاتے ہیں اور نہیں بھی مگر کوشش تو کرتے ہی ہیں ںا. مگر نار سے بچنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا، جہاں ساری عمر رہنا پڑے گا اگر الله کی ںا فرمانی کی تو. یہاں سے وہاں جانے کا انتظار ہے. وہاں تو ہمیشہ رہنا ہے، صرف یہ کہہ کر نہیں چلے گا کے وہ غفور الرحیم ہے. آپ کے لئے اگر وہ معاف کرنے والا ہو جاے تو ان کا کیا جو زندگی اس ہی کے نام لگاے کھڑے ہیں؟ خود سے پوچھو اور جانو کے وہ عادل ،منصف،پہلے ہے پھر غفور بھی ہے رحیم بھی. اب بھی اس کے راستے میں اٹھ کھڑے ہو کھڑکھڑانے والی سے پہلے. 

*************************************************************************


١٥ اگست ٢٠١٠                                          ٤ رمضان

سورہ التکاثر
شروع ہے اس کے نام سے جو رحم کرتا ہے اور کرتا رہ رہا ہے. اس پہ  میری نآ اہلی بتا رہا ہے کہ اس کی رحمت کی چھاؤں میں میں کیا کرتا پھرتا ہوں. اسی فکر میں کہ کسی طرح میں لوگوں سے آگے ہی رہوں، بھلے وہ مال ہو، گاڑی، بنگلہ، پیسے، زمین، شہرت، نام مقام سب اس میں آ جاتا ہے، یا میں اس بڑھوتری میں لگا رہا،خود کے لئے اولاد کے لئے، یہ تو رہا میرا پہلے فکر، بات یہیں نہیں ختم ہوئی، اس کو سنبهالنے کے لئے اولاد بھی چاہئے اور وہ بھی بیٹے، بیٹے نام بھی ہیں طاقت بھی، رعب بھی. جتھا بنانے کی تگ و دو میں میں نے اولاد اکھٹی کی کہ رعب ہو میرے دنیا فانى کے ساتھیوں پر، نہ کہ الله کی راہ کے مل کر مسافر ہوں.
اس بےخبری کی اداکاری اورعیاری نے تجھے بس ایک طرف ہی لگاۓ رکھا. نہ ہی ادھر دیکھنے دیا نہ ہی ادھر. بس منہ دھیان نہ ہی کسی کی سنی نہ ہی سنائی خود کی. سننے سنانے سے کبھی دل مُڑ بھی آتا ہے ہدایت کی طرف. مگر جب دنیا کی پڑی ہوتی ہے میں جان بوجھ کے کسی کی طرف نگاہ نہیں ڈالتا کہ کوئی کچھ الگ بتا دے تو کہیں میں اس کی سن ہی نہ لوں. اس سے یہ تو معلوم پڑتا ہے کے مجھ کو باطن میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو میں کر رہا ہوں اصل میں غلط ہے ، مگر چونکہ میں نے کرنے کی ٹھان ہی لی ہے اس لئے کوئی مشورہ نہ دے. سر کی آنکھ اور دل کی آنکھ دونوں بند جو ہیں، خود کا فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا ہے. اس لئے نہ میرا کوئی بڑا ہے نہ ہی دوست اور خیرخواہ.میں ہی سب کی خوب بوجھ رکھتا ہوں.
کمال ہے الله اس بوجھ سمجھ والے کے لئے کہ رہا ہے اس نے خود کا ستیا فنایا کر دیا، کوئی زندگی کا لمحہ اسے میرا پتہ نہ دے سکا، رنگ رنگ کے پھول، دراز نوکیلے خار، بوند بوند کو ترستی زمین اور چنگھاڑتے مچھرتے طوفانی سیلابی ریلے سب کچھ کو آنکھوں کے سامنے نابود کر دینے والے. روز روز کی ولادتیں اور جنازے اس کے من کو نہ ہی چھو سکے. آج کے دن کا سورج اس کے جنازے کو طلوع ہوا چاہتا ہے. اب دیکھیے کے،مال، مویشی اور مرد، جس کے بلبوتے پر یہ دندناتا پھرتا تھا دھرتی ماں میں، پیر پٹختا. سب خود کی موج میں کھڑے بیتاب ہیں اسے کندھے پر اٹھانے منوں مٹی نیچے پٹخ دینے کو، سانپ ہونگے کہ بچھو، کیڑے کہ مکوڑے، رب ہی جانے کون استقبال کو اتاولا ہوا کھڑا ہے.  یہ تھی تیری زندگی اور یہ ہے تیری حاضری کی شروعات.
جو بچے ہو خبردار ہو رہو، جان لو کہ زندگی یہی نہیں ہے جو تمہاری ناقص عقل اور فکر کہہ رہی ہے جو تم کو نظر آ رہی ہے. جس چمک کے پیچھے تم اندھے ہوئے جاتے ہو وہ سراب کے سوا کچھ نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہے، کس اندھیرے نے تم کو دیوانہ کر رکھا ہے، اصل کی نہ چنتا ہے نہ خوف. گھر ہمیشگی کا وہی ہے جس سے آنکھ مونڈھے ہے. آخر اس فریب کاری کا ناٹک کب تک چلے گا. وہ گھڑی وہ لمحہ بس اگلے قدم کھڑا ہے جس کو تم جانے تھے کہ آے گا ہی نہیی بلکہ ہے ہی نہیں. کیسے کہتے تھے جب تمہارا اندر کہتا تھا کہ مت دو خود کو چکر. یہ سب فانی ہے اور یہ جان اس کو ہی جانی ہے جو سب کائنات کا بانی ہے.ماننے والے کے لئے سو بہانے،نہ ماننے والے کے لئے دو سو.
اگر کہیں تم خود کی آواز خود کے باطن کی پکار پر کان دھر دیتے تو ایک لمحہ کو ڈر ہی جاتے کہ اتنے وضعدآر هونے اور دیکھنے کا آخر کار کوئی خیر خواہ نتیجہ نہ ہو گا. اگر دل کی گواہی پہ یقین کر ہی لیتے تو آج کی محفل اور ہی رنگ کی ہوتی. مگر تم تو یقین کی طرف آتے ہی نہ تھے. اگر درجہ یقین ہوتا کم ہی ہوتا تو آج کے دن کا انتظار کچھ اور رنگ دے رہا ہوتا. کیونکہ تم وہ نہ ہی کرتے جو کیا بلکہ کرنے کا سوچتے ہی نہ، سوچنے سے خود بھی ڈرتے اور ڈراتے بھی، سب ہی خیر ہو جاتی. مگر یہ تو ماضی کا صیغہ ہوا. اب بس بھگتاوہ ہی حال کا منظر ہے. اور یہ منظر کھلی آنکھ کی قسمت تم نے بڑے ذوق سے بنایا ہے. خوب سینچا یہ پیڑ دن رات، تب ہی بنی یہ ملاقات.
اے جو جا پڑے ہو قبروں میں، جان لو کہ تمہارے ہاتھ اب کوئی محل نہیں رہا، دوہرائی کا خود پہ نظر ثانی کا. اب تو بند کتاب مہر لگی ہے ہاتھ میں اور باری  کا انتظار. نہ کوئی یار نہ ہی پرسان حال. خود کا ساتھ بھی میسر نہیں کیا پر مسرت مقام ہے،ابھی یقین رکھو باز پرس ہوا ہی چاہتی ہے. صرف یہ ہی سوال ہو گا کہ تم کو انسان بنایا اورجس قماش کا انسان بنایا بس اس پہ نظر ڈالی کبھی؟ خود کی صالحیت اور صلاحیت کیسے استعمال کی؟ دل دماغ ہاتھ پیر زبان کس کام کو دیے تھے کہاں استعمال ہوئے. جو مال دیا تھا، تجھے وہ تیرے پاس میری ہی امانت تھا، خود کے علاوہ اس کا کوئی اور والی نظر آیا کیا؟ یہ ایک ہی سوال کے چند حصے ہیں.
کہنا یہ مقصود ہے کہ دنیا جمع کرنے میں نہ ہی لگو آخرت رخی زندگی اختیار کرو دنیا تمہاری ہے، تمھارے لئے ہی بنائی ہے مگر امتحان گاہ ہے، آرام گاہ نہیں. غور کرنے کا مقام ہے گلچھرے اڑانے کا نہیں. اس فانی دنیا کی آبادی ہی نہ بنو وگرنہ برباد ہو رہو گے. نہ گھر کے نہ گھاٹ کے نہ دنیا کے نہ آخرت کے. گھر بھی آخرت ہے گھاٹ بھی. جس کی قبر کشائی نہیں ہوئی اس کو پیغام ہے.

**********************************************


٠٥اگست ٢٠١٠
پانی رے پانی تیرا رنگ کیسا؟  سرحد والوں کا پیغام آپ کے نام


آج سرحد جس درد سے گزر رہاہے اس کو باتوں میں یاد کرنا کافی ہے یا حکومت کو طعنے دینا تو اس سے بھی آسان کام ہے. ملک دوستی بھی قائم رہتی ہے اور گپ شپ بھی. سب دوست مل جاتے ہیں کسی ایک گھر میں اور کھانا چل رہا ہے خوب بحث ہو رہی ہے. یا کسی کو چی پہ بلا رہے ہیں کہ یار اس ملک کا کیا ہو گا حکومت کو پروا ہی نہیں ہے وغیرہ.. بحث کرنے سے وقت اچھا گزرتا ہے طرح طرح کے کھانے کھا کے گرما گرم چاۓ پی کے. ہلکی بارش بھی اچھی لگ رہی ہے ٹھنڈے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے میں اور پکوڑے تو کیا ہی مزہ دے رہے ہیں. ایسے میں حکومت کے اگلے پچھلے قصے. واہ، مگر سرحد وہیں کا وہیں، نہ پینے کا پانی نہ پکوڑے نہ چھت ہی، ٹی وی  پہ دیکھ کے چہ چہ کرنے سے میں بہت ہی چنتا  میں ڈوبا ہونا بتاتا ہوں.
یہاں بھی میری اداکاری کام اتی ہے. یہ وقت ٹی وی دیکھنے کا نہیں جیب دیکھنے کا ہے کہ کیسے کسی کی مدد کی جاے اپنے تئیں، سوچو کہ حکومت ہے ہی نہیں ،ملک بھی نہیں ہے بس ہم اور ہمارے گھر والے ڈوب رہے ہیں اور مجھے دائیں بائیں نہیں سیدھا دیکھنے کا حکم ہے اب کام کیسے کرنا ہے ، یہ میرے ذاتی گھر والوں کا سوال ہے. ابھی رمضان آیا کھڑا ہے، سب کے سر پہ ٹوپی ہاتھ میں تسبیح ہو گی. دوسرا ہاتھ جیب میں، کہیں زکات دی جا رہی ہے کہیں خیرات. کہیں ٹی وی پہ آ رہا ہے کہیں مسجد میں سخاوت دکھائی جا رہی ہے. کہیں دوستوں میں سخی کا لقب دیا جا رہا ہے. کھانا بنٹتا ہے ہر شام ،لوگ گھروں کے باہر مجمع دیکھ کر تعریف کرتے ہیں.
ہمارے دل و دماغ کے دروازے رمضان میں ہی کھلتے ہیں. جیب میں ہاتھ ڈلتا ہے رمضان میں،کیوں؟ رمضان میں اجر زیادہ ہی ہے.کیا جو آج آنکھیں نہیں کھول رہا ہاتھ نہیں کھول رہااس کو بھی رمضان کی انتظار کا اور جیب کے بھار کا اجر ملے گا رمضان میں. خیرات وقت پہ مدد اسی لمحہ اس کا اجر الله ہی جانے، کتابوں میں نہیں لکھا گیا نہ ہی لکھا جا سکتا ہے. آج کے زندہ انسان سے سوال ہے بلکہ التجاہ ہے کہ انسانوں کی زکات کی خیرات کی آج ضرورت ہے. دینے والے کی آج بھی مشہوری ہو گی، آج بھی نام آے گا اخبار میں، آج بھی بڑا اجر لکھا جاے گا باری تعآلی کے ہاں. خدارا اس کو تنقید نہ جانو اپیل جانو، لوگوں کے لئے پیغام ہے، ہم سب کے لئے ہے کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں. جو کر رہا ہے برا نہ مانے، جو نہیں کر رہا وہ بھی ناراض نہ ہو ذرا سوچے اور آگے بڑھے، وقت ابھی بھی کھڑا ہے پکار رہا ہے. جو کر ہی نہیں سکتا اس سے دعاؤں کی درخواست ہے،الله بہت بڑا ہے ہماری کوتاہیوں کی پکڑ سے ان کو ہم سب کو معاف فرمائے.آمین
دیکھو تو ہم کہاں جا رہے ہیں، کل ہی میں نے کہا کے رمضان کی تیاری کیسے کرنی ہے، دل ع دماغ کو الله کی طرف لگانا ہے، یہ موقع گو کہ خوشگوار تو نہیں ہے مگر الله نے ہی دیا ہے. خالق کی تختیق ہے سب الله کے انسان ہیں، الله نے سب انسانوں کو بھائی کہا ہے. انسانوں کو قنبہ کہا ہے، آج بدلے لینے کا وقت نہیں خود کے گناہ جھروانے کا وقت ہے. بابرقت مہینے کی طرف جانے کی تیاری. الله کو یاد کرنے اور معافی مانگنے کا وقت.ان کی جگہ میں بھی ہو سکتا تھا یا میری اولاد. اولاد کو بھی درد انسان بتانے کا وقت ہے. سرحد کا پانی ہمارے لئے ٹھاٹھیں مارتا  پیغام ہے کہ جاگو اور جگاؤ . ٨ . ٧٦  میں الله کہتا ہے وہ کھلاتے ہیں الله کہ لئے. آج ہمیں خود کہ بچوں کو خود کے ساتھ بٹھانے کا موقع ہے. ڈرامے فلمیں دیکھتے نہیں یہ آفت دیکھتے کہ کیسے حاضر ہوں
 ہمارا سرمایا دو حصوں میں بنٹا ہے، مگر ایک کے بغیر دوجا نہیں. اولاد اور دھرتی. ایک بھی ہاتھ سے چلا گیا تو کیا بچے گا؟ اولاد کو اس پاک دھرتی کی پہچان اس کا پیار اس کے لئے حاضری کا سبق آج ہی دینا ہے،یہ سوچے بغیر کہ وہ کہاں چلے گے اس ملک میں ہیں یا نہیں، میری سنیں گے یا نہیں، داروغہ تو نبی کو بننے سے منع کر دیا. بتانا فرض ہے، بار بار بتانا، خود کو، دوستوں کو، گھر والوں کو، اور سب سے زیادہ بچوں کو. بچوں کا دل نرم ہوتا ہے،صاف ہوتے، پریشانی ان کو جلدی سمجھ آ جاتی ہے، ٹی وی پہ ریڈیو پہ ہر جگہ پر آج ایک ہی بات ہے، مدد چاہئے. بڑوں کو چھوٹوں سب کو سڑک پہ لٹکے بینرز بھی نظر اتے ہیں اور ٹی وی کے اشتہار بھی. ہو  سکتا ہے ہماری ننھی پود کا یہ ہی  
 ! turning point ہو 

******************************************************

 

٣ اگست ٢٠١٠
رمضان کی آمد
آج کل ہم بڑی بیتابی سے رمضان کا انتظار کر رہے ہیں، آخر یہ انتظار ہے کیا؟ہم رمضان کی تیاری بھی کر رہے ہیں، مگر یہ تیاری ہے کیا؟دو باتیں تو یہ ہیں. اصل بات یہ ہے کہ انتظار اور تیاری ہونی کیا چاہئے.
رمضان کا انتظار ہر ایک کو ہے کام کرنے والوں کو تو انتظار ہے کہ چھٹی جلدی ہو جاے گی اور آرام کر پائیں گے. کھانا کھانے کے چور بچوں کو انتظار ہے کہ کوئی کھانے کو نہیں کہے گا. خواتین کو انتظار ہے کہ وزن کم کر پائیں گی. کھانے کے شوقین لوگوں کو  دوستوں کے ساتھ رات بھر شغل اور پھر بازار کی سحری کا انتظار ہے. چسکوروں کو افطاری کے پکوڑوں، بھلوں اور سموسوں کا انتظار ہے. بہت سوں کو عیدی کا ہی انتظار ہے. سارے انتظار ہی جائز ہیں مگر کیا یہ ہے رمضان کے مہینے کی سمجھ؟ یہ سب تو نہ بھی انتظار کیا جاے تو ہونا ہے،مگر اس کے ہی خواب ہوں گے تو یہ مبارک مہینہ کیا دے پاۓ گا ہم  کو اور ہم کیا لے پائیں گے - اس سے ہم میں سے ہر ایک کو خود کی سطح پہ سوچنا ہے.
اب آتی ہے تیاری کرنے والوں کی باری،  آج کل بہت ہی مصروفیت ہے، ہرقسم کے لوگوں کی. مرد حضرات تو آدھا دن چھٹی کے خوابوں میں فلمیں دیکھنے کے پلانز ،کہ ابھی نہ دیکھو رمضان کے لئے جمع کرو، دوستوں کے ساتھ پلان، افطاریوں اور پکنک کے پروگرامز. مری جا کے ٹھنڈے موسم کے روزے اور چھوٹے دنوں کے مزے. بچے بھی دیکھا دیکھی فلمیں اکٹھی کر رہے ہیں کہانی کی کتابیں اکٹھی کر رہے ہیں. ویڈیو گیمز اکٹھی کر رہے ہیں کہ گرمی کی چھٹیاں بھی ہیں اور لمبے دن کیسے گزریں گے. خواتین کا سارا دن بازاروں میں گزر رہا ہے، جوڑے بنا رہی ہیں کہ افطاریاں کرنی ہیں کروانی ہیں. فریزر بھر رہی ہیں کے روزے کی حالت میں اور وہ بھی گرمی میں کون باورچی خانے میں جاے گا. یہ ہے ہماری زندگی کے برکتوں والے مہینے کی بھرپور تیاری، اور یہ ہی ہے الله کا خلیفہ اور بہت سی مخلوق سے اشرف مخلوق. اس ذکر سے ہمارا مقصد تنقید نہیں ہے بس باور کرانا ہے کہ کیا ہو رہا ہے.
 ایسا بھی نہیں ہے کہ سب ہی یہ کر رہے ہیں. اب بتائیں گے کہ کیا ہونا چاہئے. یہ تو ٹھیک ہے کہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے. ہم انتظار میں بھی ہیں. انتظار تو ایک کیفیت کا نام ہے. انتظار محبوب کا ہوتا ہے محبوب وقت کا ہوتا ہے محبوب مقام پہ جانے کا ہوتا ہے. رمضان محبوب وقت ہے. اس کا انتظار اس کا استقبال کیسے کرنا ہے. بات کرتے ہیں استقبال کی تیاریوں کی اور ملاقات سے حصول کی، تاکہ کوئی کمی کوتاہی نہ ہی رہ جاے. سب سے پہلا کرنے کا کام ہے کہ اگر میں نے بنا نہیں لیا تو ابھی قلم کاغذ لے کہ لسٹ بنانی ہے کہ کون سے ایسے کام ہیں جو مجھے عام حالات میں ناممکن معلوم پڑتے ہیں، اور کون سے مشکل، ذہنی تقویت کے لئے اور وقت نکالنے کے لئے. میں کر ہی نہیں پاتا، کوئی خیال ادھر سے بلا لیتا ہے تو کوئی ادھر سے. میں خود کو مکمل جوڑ کے رکھ نہیں پاتا کہ آگے بڑھ سکوں.
الله تعالی کہتا ہے کہ وہ جنوں میں سے شیاطین کو جکڑ دیتا ہے کہ وہ انسانوں کو اس مہینہ میں پریشان کریں. سو ایک طرف سے تو ہم فارغ ہوے. اب بس رہ گیا میں خود شیطان، یعنی میرا نفس. اب صرف اس کے ساتھ لڑائی باقی رہ جاتی ہے. چُپ کے سے وار  کرنے والے تو زنجیروں میں ہیں سلاخوں کے پیچھے. میرا شیطان نفس تو میرے ساتھ ہے کھلا دشمن، اس سمے کھلے کے ساتھ مقابلہ آسان ہو جاتا ہے، حد درجہ سو ہم کو یہ لسٹ بنانی ہے کے عام حالات میں کیا اچھے سے نہیں کر پاتا جو میں رمضان میں خصوصی وقت اس کو دوں گا تاکہ مثبت اور جلد نتیجہ نکلے. جیسے کہ لکھو، میں یکسو ہو کر نہیں سوچ پاتا، تو میں سوچ کو سیدھا کروں گا، میں لگ کر ایک کام نہیں کرتا میں رمضان میں اس کو دیکھوں گا کہ کیا وجوہات ہیں. میں وقت کی پابندی نہیں کر پاتا، رمضان تو لگا بندھا وقت ہے سحر افطار میں بندھنے سے میں پابندی پہ خصوصی غور کروں گا اور آیندہ کے لئے اپناوں گا، مجھے دین میں مکمل داخل ہونا کچھ زیادہ اپیل نہیں کرتا،کیا وجوہات ہیں. مِن ہمیشہ فاقہ کرتا ہوں اس مہینہ میں نماز سے کیوں گھبراتا ہوں، اب پڑھوں گا اور قائم رکھوں گا.
آخر  میرا رمضان کا مزاج کیوں الگ ہے، اخلاق کے حوالے سے، حوصلے،غصّہ کے حوالے سے،کیا اخلاق ایک ماہ کے لئے فرض ہوا تھا؟ خیرات کے مستحق لوگ کیا صرف رمضان میں ہوتے ہیں باقی سال کیا ان سے "من و سلوی " کا وعدہ  ہے؟ کیا دل نہ دکھانا، کام کا بوجھ کم کرنا، انعام دینا، شاباش دینا، گالیاں نہ بکنا، کھانا بانٹنا سب ایک مہینہ پر محیط ہیں بس؟ یہ سب سوال میرے پلانر کے ہیں جو بس میرا سٹمپ پیپر ہے، کسی کو دکھانے کا نہیں. مجھے لاوارث لوگ رمضان میں ہی کیوں نظر آتے ہیں، میں بھاشن سننے کے لئے اور سننے کے لئے رمضان میں وقت نکالتا ہوں، کیا ملنے ملانے اور اچھی بات کرنے کو سارا سال کا منصوبہ نہیں ہونا چاہئے. پیار کروانا اور کرنا انسان کی سب سے پہلی ضرورت ہے، پیار خیال دھیان ہم سب کو سارا سال چاہئے.آخری اور ضروری بات. حضور کا ارشاد ہے کہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جاے. یعنی ایسا پلینر بننا ہے جو بوجھ نہ ہو کہ رمضان کے بعد چھوڑنا پڑے. رمضان میں اجر زیادہ ہے، مگر کس کے لئے؟اس سوال کا جواب خود ڈھونڈو آخری پیرا پڑھنے سے پہلے.
رمضان کے ماہ کا حقیقت میں اجر زیادہ ہے ہر مثبت عمل کا، مگر اس کے لئے جو یہ تو اس وعدہ سے ماہ رمضان میں داخل ہو کہ جو وقت میں پا رہا ہوں ، اس میں ہم اچھا عمل میں زندگی کا حصہ بناوں گا، گزرے وقت کی معافی کا طلبگار ہوں.یہ بات بھی میرے ہی پلانر کا حصہ ہے. پلانر آج سے روز پڑھنا ہے اور کوئی بات رہ گئی ہو تو ڈال دینی ہے اس میں.دوسری بات ان لوگوں کے لئے اجر زیادہ ہے جو وہ سب کچھ کرتے آ رہے ہیں جو ایک کامل انسان سے چاہا گیا ہے،انسان هونے کے مقام پہ. ان کو رب کے اور نزدیک هونے کا موقع مل جاتا ہے شیطان کی بندش کے حوالے سے.الله سے اور راز و نیاز کر پاتے ہیں جو عام حالات میں چاہتے بھی نہیں کر پاتے، دلوں کے حال تو رب  ہی جاننے والا ہے. پلانر آج ہی بنانا ہے کاغذ پہ بھی دل پہ بھی تب ہی آج اور ابھی سے عملی کام شروع ہو گا. او سب مل کر رمضان کی تیاری میں جت جائیں، استقبال رمضان کے بعد وہ دن ،ہفتہ ،مہینہ ،تو چلا جاے مگر میری رمضانی حالت نہ جاے، آمین

***********************************************


٢ اگست ٢٠١٠
اچھی بات کہو یا چُپ رہو
کتنی اچھی بات ہے.
آج یہ خیال لکھنے کا ایسے آیا کہ ایک در گھٹنا ہوئی صبح ہی صبح. ای میل تو رات کو ہی ائی تھی میں نے ابھی دیکھی. فرمایا گیا تھا...................
خیال میں آیا کہ ہم بولتے سوچتے نہیں، سنا تو بہت ہے کہ مینگنیں ڈال کہ دودھ نہ دو مگر ہم باز تھوڑا ہی نہ آتے ہیں. زبان ہی ایسی کہ "بہت ہی اچھا پکایا ہے بس نمک ذرا تیز ہے. کیسے کیسے چینی لگا لگا کہ کڑوا کھلاتے ہیں. کبھی تو ضروری بھی ہوتا ہے. بچوں کو تو مثالیں دینی ہی پڑتی ہیں. کبھی ساتھ والے کا ذکر کبھی کوئی ہوائی کہانی بنانی پڑتی ہے، اگر ہر لمحہ یہی کہانی ڈالے رکھیں تو دن شکنی بھی ہوتی ہے اور بات بے اثر بھی ہو جاتی ہے. دکھ کی کیفیت بڑھ بھی جاتی ہے. کوئی تو ںاامید بھی ہو سکتا ہے. ایسا اگر ہوا کہ دل ٹوٹ ہی گیا تو ہو سکتا ہے کہ مثبت سوچ کبھی ادھر کا رخ ہی ںا کرے. بات کو رگڑا لگانے کا عمل بہت ہی سنگین ہے. ہم کبھی کبھی جو خود تکلیف میں ہوتے ہیں تو بار بار دوہرائی جانے والی بات کا معلوم ہی نئی پڑتا اور اگلا نا امید ہوا جاتا ہے.وہ خود کو ناکارہ جاننے لگتا ہے. دل ٹوٹ سا جاتا ہے.
                                              ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ ٹوٹا دل جڑے بھی. ہم دوبارہ کوشش کریں بھی. مجھے یاد ہے میں نے بچپن میں ایک ڈرائنگ کیvenus,the goddess of love" امی نے کہا ٹریس کی ہے میرا دل اتنا خراب ہوا کے میں نے وہ چار فٹ لمبا چورا کاغذ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور رو رو کے برا حال الگ.خود سے وعدہ کیا کے کبھی ڈرائنگ پینٹنگ کی طرف نہیں آنا. دیکھنے میں شائد یہ آپ کو کوئی بڑی بات ںا لگے. مگر ہے. بات کچھ ایسے ہے. میں کم عمر تھی اور کام نفیس تو حیرانی یوں بانٹنی چاہئے تھی کہ اور بنا کہ دکھاؤ یا کیا کمال کام ہے تو نتیجہ الگ نکلتا. خیر وہ تو میرے اندر جنون تھا جس نے مجھ کو روکنے نہیں دیا. چند وقت بعد میرا غصہ مکمل ہوا تو میں نے پھر ڈزائن بنانے شروع کئے اب ہی بار والد صاحب نے اپنی مل میں سے ڈیزائنر صاحب کو مقرر کیا میرے لئے کہ کچھ وقت مجھے دیا کریں.
                      ہر وقت ایسا نہیں ہوتا کتا کہ کوئی آپ کی باتوں کا گرا شخص دوبارہ اٹھ سکے. کیوں ںا ہم ہمیشہ مثبت بات ہی کریں. ادھر ملک کے حوالے سے دیکھو ہم ناامید ہو کے ہر وقت کہتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا. حالات بہت ہی خراب ہو چکے ہیں. اس کا نتیجہ کی نکل رہا ہے؟ کوئی عقل والا ہمت والا نیک شریف غنی دل و دماغ سے آگے نہیں آ رہا کہ سمبھال سکے اس دبتی حسین پاک سر زمین کو. یہی وجہ ہے کہ ہم نے سب کے دل بجھا دئے ہیں منفی باتیں کر کر کر کر کہ. چند وقت ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک امید بھلے اس لمحہ کم ہی مثبت دکھائی دے رہی ہو، حوصلہ دیتی ہے اور زیادہ ہی دے جاتی ہے. ڈوبتے ڈوبتے سب ہی تیرنے لگتے ہیں. ہماری اس چھوٹی سی زندگی میں اگر اچھی بات کرنے سے ایک بھی گرا اٹھ پڑے تو سمجھو کا مقصد حیات مکمل ہوا.

ہماری ٹریننگ کیوں ایسی ہو گئی ہے کہ ہماری نظر ستاروں پہ نئی کیچڑ پے ہی پڑتی ہے. دیکھو نقل کے لئے زیادہ ہی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، اگر کوئی نقل کر ہی رہا ہے تو یہ تو معلوم پڑا کہ لکھنا چاہتا ہے،اگر کہ چاہتا ہے. اس کو یہ بتانا ہے کہ مجھ تمہاری لکھائی میں تمہارا رنگ چاہئے، بات ووہی حسین ہے جو تمہارے دل سے نکلی ہو، تمہارے خیالات کی عکاسی کرتی ہو، آسان ہو بھلے مختصر ہو. آسان اور مختصر بات ہی دل میں جگہ کرتی ہے. حضور کی زندگی سے بھی یہی معلوم پڑتا ہے. کتاب لکھنا آج آسان ہے مگر پڑھنا آسان نہیں، آج بس چلتے پھرتے مفید نقطے درکار ہیں. لمبی کہانی کوئی نہیں پڑھنا چاہتا. اچھی بات کر کہ لوگوں کو اصل کی طرف لانا ہے. میرا ووہی ہے جو میرا ہے خوشي بھی اسی کی ہے جب میرے اصل کی تعریف ہو. اچھی مثبت بات کے فوائد ہم بس پڑھ چھوڑتے ہیں جب عمل کرنے کی باری اتی ہے تو طعنو سے سواگت کرتے ہیں

*******************************************************


جولائی٢٠١٠، ١٨
طہارت حاضری کا جُذ
ہم دنیا میں آنے سے پہلے ہی حاضری میں تھے نفس یا روح کی سطح پہ یعنی طاہر تھے. دنیا میں آ کے کیا ہوا ہم آفس جانے کے لئے نہانے لگے یا سکول کالج جانے کے لئے.کچھ  لبادہ ہم رمضان میں عبادت اور پاکیزگی کا اوڑھنے لگے. کیا یہی پیار ، لگن ، شکر اور عبادت ہے؟ وضو تو نماز کے لئے ہی ہوتا ہے اگر کبھی پڑھنی ہو بھولے سے یا الله سے کوئی کاروباری مشاورت کرنی ہو تو ، وگرنہ کیا !
الله  نے ایک پاک مخلوق خلق کی، وہ ذات پاک ہے، اس نے انسان کو خود کی حاضری دینے کے لئے بنایا، تو وہ ناپاک کو خود کو حاضری دینے والا کیسے بنا سکتا تھا. انسان پاک تھا جب اس نے کہا کے یکن  تو ہی میرا رب ہے. الله نے انسان کو دونوں علم ڈال کر بنایا ہے، یعنی پاک ناپاک کی تمیز، اور پاکی کے فوائد اور ناپاکی کے نقصانات. یہاں تو ہم پاکی کے لفظ کو طہارت کے حوالے سے بیان کر کے کھول رہے ہیں مگر پاکی کا لفظ بہت ہی وسیح معنی خود میں رکھتا ہے. اور ہم اسےوسیح تر معنی میں استعمال بھی کرتے ہیں. جیسا ک پاک ناپاک ارادہ، پاک ناپاک نظر، پاک ناپاک سوچ، پاک ناپاک  حرکت ، اور مزید بھی .
الله نے بتایا بھی کہ پاکی ہی مطلوب ہے، حاضری میں جو رہنا ہے اور اس ہی کا نام ،تعریف کا بیان شکرانہ زبان پہ رکھنا ہے. ناغہ کرنے کی کوئی وجہہ قبول نہیں کی جاے گی اس کے حضور. پاکی کے مقابلے میں دوجا رستہ اس لئے سجھا دیا ہے کہ ظاہری باطنی آنکھ جو لگا دی ہے، ہم اوپر بیان کر چکے. اب لگانے والا دیکھے گا تو سہی نہ کہ کیسے اور کتنی استعمال کی. حساب جو رکھ رہا ہے  بدلے کا جو وعدہ کیا ہے الحق نے. یہ بھی بتا دیا کے وہ چاہتا کیا ہے. اسے تو معلوم تھا کے جتنا بھی ازبر کرا کے احکامات بھیج رہا ہوں دنیا میں جو میں نے اس ہی کے لئے بنائی ہے، مگر یہ عہد ایک ادھ نسل ہی یاد رکھ پائی. سو  آخر کار خود کے منتخب کردہ بندوں کو کلام دینے لگا جو موجود ہو، سامنے ہو، نہ کہ صرف یاداشت میں. یہ کم نصیب کتاب کو بھی پیٹھ پیچھے ڈالنے لگا اور حضوری کو بھی.
          نادان یہ بھی بھول گیا کہ وہ بھلے اس کو غیب سمجھے غیر سمجھے، اوٹ میں چلا جاے آسمان کی یا زمین کی، یا سمندر میں غوطہ لگا جاۓ، الله ہر لمحہ نظر رکھے ہے. ہمارا کوئی سانس آتا یا جاتا، پلک کا جھپکنا، سوچ کا آنا اس کے سامنے ہے.انسان خاک ہو جاے جلا دیا جاے یا دبا دیا جاے ہر لمحہ ہر تصویر اس کے سامنے ہے . انسان کی ہی نہیں، ہر ذی روح کی اور ہر جاندار کی بھی جو کہ خلق ہے. جو اتنا بھرپور موجود ہے اس کی موجودگی کے احساس سے انسان کیسے غافل ہو جاتا ہے. اکثر سنا ہے کے لوگ ہر دم حاضری میں رہتے ہیں. جن کو وہ یہ بتا رہے ہوتے ہیں یعنی کہ ہمارے تمہارے جیسے انسانوں کو. ان کے سامنے آنے کا جو ڈھنگ روپ ہونا چاہئے وہ تو بتانے والا کرنا چوکتا نہیں. تو الله کو حاضری دینے کا جو طریقہ سلیقہ ہے، جس کے بغیر وہ خود کے دربار میں آنے ہی نہیں دے گا، وہ کئے بغیر ہی یہ کہتا ہے کہ خبردار تخلیہ میں رب تعالی کی حاضری میں ہوں سب میرا احترام کریں میں کہوں گا کہ آپ شرم کریں. خود کے گریبان میں جھانک کر دیکھو کہ تم اس نام لینے کے بھی قابل ہو جو کہ ہر دم حاضری کی بات کرتے ہو .
القران میں قصہ آدم سے معلوم یہ پڑا کہ ہم اندر باہر سے طاہر بناے گے تھے. میں کہتی ہوں الله کی حاضری کے لئے. آپ کا سوال ہو گا کے کیا غیر اسلامی لوگ بھی؟تو بھائی ہمارا ایمان ہے نہ کہ الله کے ایمان پر ہی سب روح بنائی. اسلام پر ہر جی پیدا ہوتا ہے، گھر والے اس کے، اسکو عیسائی یا یہودی بناتے ہیں. ہم حاضری دیں نہ دیں وہ  تو حاضر ہی ہے. سو حاضری دی تو نہیں مگر پھر بھی اس کے حضور ہی ہیں، تو اس سوچ سے بھی پاکی چاہئے. ہم نے نماز کو ہی حاضری بنا رکھا ہے. مل مل کے خود کو چمکاتے ہیں کہ یوم الدین میں چمکیں. یہ تو ہے پنج وقت کی تیاری، جس میں کوتاہی بھی ہو جاتی ہے بھول بھی غیر حاضری بھی. اگر اس دھیان سے خود کو چمکدار ہی رکھیں گے کہ وہ تو دیکھ ہی رہا ہے تو خوب سے خوب تر رہیں گے اور قریب سے قریب تر ہو جائیں گے انشا الله. میرا ہر کام ہی اس کی قربت کے لئے ہے. باوضو رہنے کا حکم تو نہیں ہے البتہ قربت کا گر ضرور ہے.یہ واحد گر اپنا لیں صراط  خود ہی مستقیم ہو جاے گی.

*************************************************


١٢ جولائی ٢٠١٠
زیر آب
زیر آب تو پچھتر فیصد خود ہی رب نے قرہ ارض کو کر دیا. ہمارا اس پر کوئی عمل دخل نہیں . وہاں نوادرات اور کھانے کا سامان بھی .خشکی پر بیٹھے سمجھ تو نہیں آتی کہ کیا حسین کائنات آباد ہے میری آنکھ سے پڑے . ایک مچھلی کو چکھ لو تو لگتا ہے سارا مزہ اس ہی میں ہے دوسری کو دیکھو تو لگتا ہے نہیں تو، وہ نہیں یہ ہی کمال ہے اور پھر کیکڑا، لوبسٹر، شریمپس، کریبز اور بہت کچھ بھی جن سمندری جانداروں کو ہم جانتے بھی ہیں اور نہیں بھی. بہت سی رنگین حسین مچھلیاں ہم گھر پر رکھ کر خوش ہوتے ہیں. ان سے ماحول کیا رنگین اور خوش گوار ہو جاتا ہے. بچے جو مچھلی کا خاکہ بنا کر رنگ بھر دیتے
                              گہنے بنانے چلو تو معلوم پڑتا ہے موتی آتے ہی سمندر سے ہیں. کیا رنگ رنگ کے موتی ہیں چمکدار سفید کوئی مقابلہ نہیں کتنی ترقی ہو گئی یہاں تک کے نقلی موتی بنا بھی لئے انسان نے مگر رب سے نہیں فارمولا وہی اپنایا ہے مگر بنا کچھ اور ہی طرح کا موتی فٹ بال کی طرح گول مٹول چمک بھی الگ. گلابی بھی ہے گرے بھی الله کا موتی انسان کا بھی ہے، کلوننگ کا یہ بھی ایک تجربہ ہے جو مقبول بھی ہے مہنگا بھی. اس کو کلچرڈ موتی کہتے ہیں اس کو نچرل موتی. قدرت بنانے والے کی قردت بھی حسین اور متوازن ہے. اس کے جھکڑ چلنے میں بھی توازن ہے مست ہوا چلانے کا بھی.
                               یہ تو زیر آب کا ایک رخ تھا، جو نہایت حسین اور پر کشش آتا ہے خیال میں . ایک اور رخ ہے، جو نہایت بھیانک اور اذیت ناک ہے. جیسے کہ قوم لوط کو پانی نے آ لیا. ہمارے ہاں بھی بارش آتی ہے،سیلآب آ جاتا ہے بیٹھے بٹھاۓ. زندگی معمول کے مطابق چل رہی جیسے بھی گرمی بھگتتے اپنی ہی رو میں کے اچانک بادل، اچھے بھی لگتے ہیں، کبھی تو آنکھ مچولی کر کے چلے جاتے ہیں. اور کبھی جب مناسب لاڈ آتا ہے تو برستے ہیں محظوظ کرتے ہیں راحت پہنچاتے ہیں. اور یہی لاڈ خود کا توازن کھو بیٹھتا ہے تو نہ دائیں دیکھتے ہیں نہ بائیں روندتے چلے جاتے ہیں برس برس کے. لگتا ہے کبھی نہیں تھمیں گے سب ہی بہا لی جائیں گے. جب مگر میں اور مجھ سے سب ، بلکہ سب کے سب زیر آب آ جاتے ہیں تو یہ راحت دینے آے مہمان بربادی دی کے خوش باش تھم جاتے ہیں.
                                 دوسرا رخ بھی ہوا ، اب آتا ہوں اصل مطلب کی جانب، اس لفظ کا ایک تیسرا رخ بھی ہوتا ہے. جو کے اصل رخ ہے. "پانی پانی کر گئی مجھ  کو قلندر کی وہ بات". یہ مصرع تو ہم کو یاد ہے خود کہاں آ گے ہیں یاد نہیں. الله نے پیدا کیا تھا وہی حساب بھی لے گا اس کا وعدہ ہے. ہم یہ بھول گۓ یہ بھی بھول گۓ کہ اس کا مجھ کو کائنات کو بنانے کا ایک مقصد تھا. بس رنگ رنگ کی زندگی گزارنے لگے بلا جھجک. اور نۓ  نۓ  فتوے لگے گھڑنے اور پھیلانے اور لوگوں کو اس پر ہی مطمئن بنانے. نہ ہی ان ہی آخرت کی فکر نہ ہی خود کی. کوئی لکھ سمجھانے میرے کان پر تو جوں نہیں رینگتی. میں نے حیا کی تجوری کو خالی کر کے تالا لگا دیا ہے. دین کی بات کوئی دماغ میں داخل نہیں ہوتی. جو داخل ہوتی ہے میں خود کی لغت کے مطابق اس کو سنوار لیتا ہوں. میری مثال کچھ یوں ہو گئی ہے. القران "تم زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، وہ کہتے ہیں ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں" میرا وجود زیر آب آتا ہی نہیں. آب مجھے دیکھ کر پھاپ بن کے اڑ جاتا ہے.


********************************************************* 
 
                           

٧ جولائی ٢٠١٠
پیغام اور میں
میں خود سے کیا چاہتا ہوں؟کیا میں مطمئن ہوں کہ جو میں ہوں ٹھیک ہوں اور ٹھیک کر رہا ہوں اور میں اس قابل ہوں کہ لوگوں تک پیغام پہنچا سکوں؟ سوالات تو اور بھی بنتے ہیں مگر پہلے ان کو تو دیکھ لوں.
میں ایک نیک گھر میں پیدا ہوا، معنی شریف لوگ تھے اب بھی ہیں، سیدھا سیدھا نماز، روزہ، نہ زیادہ نہ کم، ہاں جہاں تک اقدار کا تعلق ہے وہ سب برابر موجود، نہ کو لمبا چوڑا دسترخاں نہ کوئی لمبی تسبیحات، آسان سبق آسان امتحان، چاہو بھی تو فیل نہ ہو سکو. نہ کسی سوال کی ممانعت نہ جواب پہ گھوریاں. زندگی خوشبو سی ملی مجھے. بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی، کوئی پریشانی ہوئی ہی نہیں. استقامت، صبر، باری کا انتظار، اگلے کو موقع دینا، خود کا اعتماد بحال رکھنا، سکون میں رہنا، خود کی سطح کے خواب دیکھنا، شکر گزاری پہلا اور آخری سانس ہر چڑھتے دن کا اور پھیلتے اندھیرے کا. خود کے گریبان میں نظر اگلے کی چال پہ نہیں.
آہستہ آہستہ خود سے جو ذرا سی باہر نظر ڈالنی چاہی تو لگا رنگ ہی اور ہے، بلکہ رنگ برنگ، کیا کمال لوگ ہیں نہ آگے کی فکر نہ ہی پیچھے کی. بلا کے مذہبی مگر کے بات کرو تو آگ جھاڑے، اپ کے لئے جہنم کی رسید لئے. کئی کئی گز اور کئی کئی کلو کے فتوے.کمال کے لوگ، اور باکمال لوگ ان کے مرید. سب ہنسی خوشی چل رہا ہے. کوئی ان کا گریبان پکڑنے والا نہیں جو سب کا گریبان پکڑتے ہیں. یہاں سے میرا کم از کم سوچنے کا سفر تو شروع  ہونا ہی چاہئے کہ آخر کیا ہو رہا ہے، باہر اگر دیکھا نہ گیا یہ روکا نہ گیا تو میں بھی اس کا شکار ہو سکتا ہوں اور پتا بھی نہ چلے، ایسا تو نہیں کہ یہ سب ہی شاطر لوگ ہیں کوئی معصوم ہو بھی سکتا ہے. ایسا ہو سکتا ہے کہ ان کو کسی اور روئیے کا معلوم ہی نہ ہو.
                            سب سے پہلے تو اگر اپ نے سوچ ہی لیا ہے لوگوں کی مدد کرنے کا، روئیے کے حوالے سے تو پہلے تو خود کے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ رکھو، خالی خولی پرکھوں کی کہانی سنا کر کچھ نہ ہو گا. خود کو خود کے لئے ثابت کرنا ہو گا. ایسے تو نہیں نکل کے لوگوں کو برا بھلا کہنا ہے. بھلے وہ جیسے بھی ہوں اپ ان کی سمجھ ہی نہ رکھتے ہوں. سو کسی کا امتحان لینے سے پہلے خود کا لو. پھر جس کو زندگی میں بڑا مانتے ہو اس کو ساری سمسیہ بتاؤ. تب ہی معلوم پڑے گا کہ قابلیت کیا ہے. مگر اس سے پہلے ایک اور کام ہے. جو باتیں آپ چاہتے ہو اوروں میں ہوں ان کا امتحان لینے کو بولنا ہے کہ کیا مجھ میں ہیں. اول تو دیکھو اس بندے  میں ہے وہ سب  جس کی آپ اپنی ٹیسٹنگ کرا رہے ہیں . آنکھ ہو تو بات ہو، پرکھے بھی جاؤ مگر پرکھو بھی .
ابھی تک مجھے ڈگری نہیں ملی کہ میں بتانے چلوں. چلنا چاہتا ہوں تو قابلیت تو پاؤں نا جلدی کیا ہے .ایک اور بات جلدی ہے بھی .کیا پتا  کب میری سانس لپیٹ لی جاے اور مجھے موقعہ نہ ملے 
خود کے لئے یا کسی اور کے لئے. میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ charity begins at home تو سب سے پہلا خیرات پانے والا کون بنا ،میری دنیا میں ؟میں خود. میں اور میرا پیغام، مجھے خود کو .

***************************************************


١٠ جولائی ٢٠١٠
تجھے نماز کی فرصت نہیں تعجب ہے!
 یہ فقرہ پرانا ہوا. کیا دین کسی مخصوص طبقہ کے لئے آیا تھا؟ عام حالات میں یعنی روزانہ کیا فرض دینی سرگرمی چاہی گئی ہے.

سوالات  تو بہت سے ہیں، هونے بھی چاہئیں اگر کہ آپ حد سے زیادہ ہی عقل بند ہوں تو. الله واحد احد نے انسان بنایا اور اس کو خود ہے اس تخلیق کا مطلب بتایا سمجھایا. خود کا مالک ہونا اس کا بندہ ہونا ،بس یہ تھا سبق. اب ظاہر ہے ٹھپے پہ تھپا تو نہیں بننا تھا نہ ساری اولاد آدم کو کہ کوئی خود کا گھر والا پہچان ہی نہ سکے. اس نے الگ الگ اولاد آدم کو عقل شکل قد رنگ دیا. گھر بھی الگ الگ دے. صلاحیت بھی الگ دی. القران میں بتا بھی دیا کہ تم سے اوپر اور اوپر اور اوپر بھی ہیں تم ہی میں سے ہی تم جیسے دیکھتے انسان . تم سے اور نیچے اور نیچے اور نیچے بھی ہیں تم میں سے ہی تم جیسے دیکھتے انسان. ہر انسان کو ظاہر کی آنکھ دی ہے  یعنی سو سور پڑ لگی نظر آتی ہے اور باتیں کی آنکھ جو نظر تو نئی آتی سور کی آنکھ کی طرح مگر استعمال ہوئی ہو تو نظر آتی ہے سمجھ آتی ہے.
                الله نے ہر انسان ایک سا نہیں بنایا یہ اس کا ہی ارشاد ہے. اس الگ بنانے کا مطلوب انسانوں کی آسانی کے ہی لئے ہے. نچلے کو سکھا بتا سکو،مدد کر سکو، حوصلہ بھی رکھو کہ وہ تم سے کم پہ راضی ہے، اگر کہ ہے تو وگرنہ تو ناشکرا ہے. اوپر والا اس لئے بنایا کہ اس سے پوچھو سیکھو مدد حاصل کرو، رشک کرو، امید ہو کہ ترقی کے امکانات موجود ہیں، حصول ممکن سے، حسد نہیں اگر تگ و دو کر کا بھی نہیں پا پاتا. "جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے" اگر سنا ہو تو. دنیا چونکہ آزمائش کے لئے بنائی ہے اس لئے جس نے جنم لیا اس نے ہی جانا. سب کو سب کچھ ملتا ہے مگر اس کے سب کو دینے کا ڈھنگ الگ ہے، دے کے بھی آزماتا ہے لی کے بھی. ہم روز دیکھتے ہیں.
الله  نے بتا دیا کے اس نےسب انسان ایک سے نہیں بناے. کسی کو زیادہ دیا کسی کو کم ، عقل بھی شکل بھی وسائل بھی. مگر فکر کس بات کی ہے . جس کو اس نے جتنا دے کر بھیجا ہے اتنی ہی آزمائش ہے. اتنے کا ہی حساب ہو گا. اس نے کہا بھی ہے کہ میں تمہارے کندھوں پر اتنا ہی پوجھ ڈالتا ہوں جتنا کہ تم اٹھانے کی سکت رکھتے ہو. اس کا مطلب ہے کسی کو رات بھر کھڑا دیکھ کر خود کا ماتھا نہیں پھوڑنا، معلوم بھی نہیں کہ وو الله کو یاد کر رہا تھا کہ گمشدہ نوٹس تلاش کر رہا تھا بس لگے نقل کرنے. رب نے نقل کرنے کے لئے نہیں عقل استعمال کرنے کے لئے بنایا اور بھیجا ہے. ہر شخص کا خود کی زندگی پہ اعتماد اور بڑھوتری الله کو پسند ہے. وہ اس ره میں ہی برکت ڈال دیتا ہے جس راہ میں کوشش ڈالی جاے. آپ راہ ہدایت میں ڈالو نہ.
راہ ہدایت وہی ہے جس پہ چلنے کے لئے بندہ بنایا گیا ہےاور بندہ وہی ہے جس کے لئے راہ ہدایت بنی ہے. روز دن شروع کرنے کا اور اختتام کو پہنچانے کا طریقہ  تو الله نے بتا دیا ہے. اب تو بس خود کے بہانے دیکھنے ہیں کہ کس کامش کا بہانہ بناتا ہوں. امراء میں سے ہوں تو خود کے لئے وقت نہیں، اولاد کے لئے نہیں اندیکھیے کو کیا دوں. غربا میں سے ہوں تو روٹی کی فکر سے باہر نکلوں تو رب کو یاد کروں، یاداشت ہی نہیں رہی اس پیٹ کے علاوہ. اب اگر میں بیچ کا بِلَا ہوں تو میں عبادت کرنے کا وقت پاتا ہوں، یہی سنا بھی دیکھا بھی ہے، بھلا کیوں؟ اس لئے کہ نہ میرے پاس زیادہ ہے نہ کم برابر ہے تو اس کا مطلب ہے متوازن زندگی ہے عبادت مجھے ہی کرنی ہے. سب کے حصے کی.تو جنت بھی مجھے ہی ملے گی سب کے حصے کی ظاہر ہے.
کچھ  ظاہر نہیں ہے. سب مذاق ہے. ہر کسی کو خود کا ہی کام کرنا پڑے گا. جس بھی کماش کے اپ بنے ہو، بھلے روڑی کوٹنے والے یا راج کرنے والے. رب کا سب کے لئے اصول ہے. جو جیسا بوے گا ہو بہو ویسا ہی پاۓ گا. مالک منصف جو ٹھہرا. فرض، فرض ہے. حد بتا دی ہے اس نے. حج فرض ہے اگر کے استطاعت رکھتے ہو، زکوات دو اگر ھمت ہو تو، روزہ فرض ہے اس کی بھی طاقت ہو تو. مگر نماز سانس چلتی تک فرض ہے. جب ہمت ہے تو کھڑے ہو کر وگرنہ بیٹھ کر، وگرنہ لیٹ کر نہیں تو اشارے سے ہی.سفر میں حالت جنگ میں بھی معاف نہیں. تو امیری، غریبی میں، عقلمند یا عقلبند میں کہاں معاف ہو گی. آبا کی زندگی فارغ نہیں تھی،ان کو خود کی طرح کی مصروفیت آج ہم کو خود کی طرح کی. زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا. ہاں نیت میں آیا ہے. ہم حد درجہ نڈر، سرکش، ناشکرے اور بےحیا ہوگئے ہیں، مزید ہوتے جا رہے ہیں

*******************************************************************


٢٦ جون ٢٠١٠
شراب حرام ہے،خنزیر بھی اور غصّہ بھی
جب سے پیدا ہوے ہیں سنتے آے ہیں کہ شراب حرام ہے، کسی کو پیتے دیکھا تو دھر دھر کی، کنارہ ہی کیا. منہ نہ لگایا بلکہ اوروں کو بھی کہا اس کو منہ نہ لگاؤ، اس کی صحبت، اس کے ساۓ سے بھی دور رہو، ان کے گھر رشتہ نہ کرو. ان کے گھر کی لڑکی نہ لو، کہیں ان کے گھر جانا پڑ ہی جاے تو برتن دھو دھو کے استعمال کرو . میٹھے وغیرہ میں دیکھو کہیں کوئی شراب نہ ہی ڈالی ہو اور مشروب میں بھی کچھ ملا نہ ہی دیا ہو الله کی پناہ . ان کے گھر کے ہر کونے میں درود پڑھ کے پھونکو  جس جانب بھی نظر اٹھے کہ نہ جانے کس کونے میں کیا حرکت ہوئی ہو، کہاں کہاں پینے پلانے کا کام ہوا ہو. کہیں بوتل ہی نظر آ جاۓ تو لاحول دل میں پڑھو گو کہ چہرے پہ مسکراھٹ ہو. کوئی شراب کا گلاس لئے پاس سے گزر جاۓ تو ناک کو پکڑ کا بند کرو کہ باس آتی ہے. جہاز میں کسی کے ساتھ بیٹھنا پڑ جاے تو جان پہ بن آتی ہے کہ کہاں جاوں، کوئی پل کٹتا نہیں کہ کب سفر کٹے اور جان بحال ہو.
خنزیر حرام ہے، منہ سے نام لو تو چالیس دن زبان ناپاک رہے گی، بچپن سے ہی سنتے آے ہیں. کوئی کسی کو چاہتے نہ چاہتے بھی  یہ گالی زور سے نہیں دے پاتا تھا  ہاں آہستگی سے ضرور کہتے ہوں گے. اور لگتا تھا اب بھی لگتا ہے گالیوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا. بیرون ملک چلے جاؤ تو پھونک پھونک کے قدم رکھو کہ کہیں گوشت خنزیر کا تو نہیں، سور کی چربی میں تو الو کے چپس نہیں بنے. ناشتے میں کہیں انڈے کے ساتھ سور کا گوشت تو نہیں تلا گیا. کتنے ہی فکر کتنی ہی پریشانیاں کہیں ایسا نہ ہو جاے کہیں ایسا نہ ہو جاے. شیو کرنے کا برش کہیں سور کے بالوں کا تو نہیں بنا ہے. سور کی کھال سے جوتا  یا بیگ تو نہیں بنا. سور کے دانت کی  ہڈی تو نہیں استعمال ہوئی کھانے کے چمچ میں  چھری پہ کانٹے میں.کسی تصور کے فریم میں یہ کسی کپڑے پہ خنزیر کی تصویر تو نہیں بنی یہ نام تو نہیں لکھا یہ ہے حرام سے نفرت اور بچنے کی انتہا.
    یہ تو بات ہے ان چیزوں کی جن کے لئے ہم سر دھڑ کی بازی لگانے سے دریغ نہیں کرتے، اگر کے ہم ذرا بھی مسلمان قسم کے مسلمان ہوں، آج کے مسلمان سے نہیں. مگر آج کا مسلمان ہو یا کل کا مسلمان کسی کو معلوم نہیں کہ  مزاج حرام بھی ہوتا ہے، خطرناک بھی، ناجائز بھی. اس مزاج کا نام ہے غصیلا مزاج     غصہ تو ہر کسی کو آتا ہی ہے، انا بھی چاہئے مگر دل میں ہی ٹھیک ہے. نہ ہی خود پہ اتارو نہ ہی کسی پہ. غصہ حرام جو ہے. حرام کیوں کہا ہے، اس لئے کہ نقصاندہ ہے. سب سے پہلے میرے لئے پھر دوجوں کے لئے. اصول ہے کہ جب تک پیالہ لبوں تک بھرا نہ ہو اس سے وافر پانی باہر نہیں گرتا. کائنات کی ہر شے کا یہ ہی اصول ہے. اب میرا غصہ تب تک باہر نہیں آے گا جب تک وہ مجھ  میں بھر نہیں جاۓ گا. معنی پہلے وہ مجھے نقصان پہنچاے  گا پھر دوجوں پر  قہر بن کر نازل ہو گا. کہنا یہ ہے جب میں اوپر کا حرام کام نہیں زندگی میں لانا چاہتا اور بھرپور کوشش بھی کرتا ہوں کہ کوتاہی نہ ہو جاے، دراںحالانکہ ان سے نقصان بس میرا ہی ہے.اس حرام کام جس کا نام غصہ ہے اس میں کئی جانوں کا نقصان ہے. میں جو کہ شکار کرنے والا ہوں میں خود ہی اس حرام کام کا پہلا شکار ہوں جس کا نام غصہ ہے.


 ***************************************************


جون ٢٤ ،٢٠١٠

زمین طیب بھی ہوتی ہے اور بنجر بھی

الله تعالی فرماتا ہے زمیں کو طیب اور ناپاک. پاک زمین کے ثواب نہیں ہیں یا ناپاک زمین کے گناہ. پاک زمین الله نے سرسبز کو، پھلدار کو، پھولدار کو، کھیت کو، باغ کو کہا ہے اور بنجر زمین کو ناپاک کہا ہے. پاک زمین میں پھوار پڑتی نہیں کہ بہار آ  جاتی ہے، کہیں پھل لگ جاتا ہے کہیں سبزی کی بہار رنگ برنگ، کہیں سبز گھاس آنکھ کی ٹھنڈک، کہیں پھول آزردہ دل کو بہار کی خبر دیتے ہیں کہ جیسے یہ دھرتی الله نے رنگ دی ہے دل بھی کھل اٹھیں گے.
بنجر زمین پہ چاہے زور کی برسات ہو کوئی جڑی بوٹی بھی نہیں نکلتی، بھلے جتنی پھوار پورے یہ کئی گھنٹے مسلسل بارش ہو، حل چلاؤ  یا کھاد ڈالو، لمبی کھدائیاں کرو کچھ نہیں هونے والا. الله کی مرضی، سورج چمکے چاند دمکے مگر بنجر زمین منہ ہی چڑاتی ہے کہ بھائی نہ محنت کرو کچھ نہیں هونے والا. میں ہی عبرت کا نشان ہوں. کھبی پیدائشی بنجر ہوتی ہوں کبھی وقت کے ساتھ ہو جاتی ہوں. سبق سیکھو. مگر انسان کہاں سیکھتا ہے. وہ تو دوسرے انسان کو دیکھ کر سن کر درد محسوس کر کہ بھی نہیں سیکھتا تو!
انسان بھی دو طرح کے ہوتے ہیں دو طرح کی زمینوں کی طرح، طیب اور خبیث. طیب انسان پھلدار پھولدار زمین کی طرح ہوتا ہے اس پر دین کی پھوار پڑتی ہے وہ لہلہا اٹھتا ہے رنگدار ہو جاتا ہے. وہ سورج سا گرمائش پنچانے والا اور چاند سا ٹھنڈک دینا والا بن جاتا ہے. دل پاک صاف ہو جاتا ہے.  طیب زمیں کی طرح اس پے پھل پھول لگنے لگتے ہیں جس سے سب اس پاس والے دیس پردیس کے سب فیضیاب هونے لگتے ہیں. اس کا کہا دور دور تک پہنچنے لگتا ہے جیسے کہ بڑھیا موسمی  پھل اور پھول درامد، برامد ہو جاتے ہیں. اس کی بات بھی چلن بھی درامد برامد هونے لگتا ہے.گویا کہ یہ شخص طیب زمین سا ہے.
یہ دوسرا شخص جو بنجر، ناپاک زمین سا ہے یہ بھی میرے تمہارے علاقے کا ہی ہے، اس کو لکھ سمجھو لکھ اپنا وقت دو پیسہ دو پیار دو، نہ بھائی اس کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگتی اس پر کچھ بھی پھوار بن کر نہیں برستا. اس کو رب تعالی کی کوئی عنایت نظر نہیں اتی. اس کی شفقت کا اس کو پتہ نہیں چلتا، سب نکھٹو دوستوں کی شفقت کا پتہ چلتا ہے. یہ کمبخت والا انسان اس ویرانے سا ہے جو صرف بھٹکنے بھٹکانے کے کام آتا ہے،   صحرا کی طرح بیاباں ہے. صحرا کی ریت کو ہوائیں کسی کروٹ بیٹھنے ہی نہیں دیتیں کے وہ خود کا یا کسی کا راستہ بنے یا بناے. 
الله کی زمین طیب بھی ہوتی ہے خبیث، ناپاک، بنجربھی. پتہ یہ چلا کہ الله کا انسان بھی خبیث اور طیب ہوتا ہے اس کی زمین کی طرح. طیب انسان پھول پھول بھی دیتا ہے، خود کی سوچ سے زبان سے سبھاؤ سے. زندگی بنا دیتا ہے خود کی ،دوجوں کی یہ الله کا طیب انسان، مطلوب انسان ہوا. خبیث انسان بدنصیب اور بنجر ھوا،  زمین کی طرح. نہ ہی اس پے پھول پھول لگتے ہیں.  نہ خود ہی سرشار ہوا ہے نہ دوسروں کو ہی کچھ دے پاتا ہے.  نہ ہی مالک، رازق کو خوش کر پاتا ہے.زمین تو خود کا فیصلہ نہیں کر سکتی طیب اور ناپاک هونے کا . مگر انسان زمین نہیں، عقل دل دماغ رکھتا ہے اور یہ سب اسکو استعمال کے لئے دیا گیا ہے.

***************************************

 

٢٣ جون  ٢٠١٠

جستجو
الله نے فرمایا کہ اس نے انسان کو عبادت کے لئے بنایا ہے. طریقہ بتا سکھا کر اسے آزمانے کے لئے ایک مقام کی طرف روانہ کر دیا، اس مقام آزمائش کو دنیا کہا. انسان کو یہ سمجھ میں آیا کہ مجھے خالق کو خوش رکھنے کے لئے اس کے بتاے احکامات پورے کرنے ہیں اور بس، اس سب کے لئے وہ بھیجا گیا ہے. ذرا ہوش سنبھالا تو معلوم پڑا کہ اس کے ذمہ تو بہت کام ہے. اب لگا وہ نظر کو ادھر ادھر دوڑانے. یعنی احکامات کو پیٹھ پیچھے ڈالنے لگا. انسان بہکنے بھٹکنے لگا،  بھول گیا کہ  کہاں تھا، پھر کیا کیا ھوا، اس کو کیسے معافی ملی، کیا وعدہ تھا کیا قسم کیا ارادہ تھا،  اور یہ بھولنے کا پہلا موقع نہیں ہے. الله انسان کی امداد فرماتا ہے اس کام میں، جس میں وہ زیادہ ہی زور لگاے. تو الله بھی رنگینیاں پھیلانے لگا. اس طرح انسان خود کے مقصد حیات سے دور، بہت دور نکل گیا.
 گزرے وقت کی تلاش میں رہنے کی جستجو ہی زندگی ہے. بلکہ دنیا و آخرت کی زندگی جستجو یا کوشش ہی ہے. مجھے آخرت رخی زندگی گزارنے کا حکم ہے. کیونکہ آخرت میں جواب دہ ہونا ہے یہ گزران دراصل آخرت کی تیاری ہی ہے. ہمارا خیال ہے کہ دنیا اوردنیا کی مصروفیت اور ہے. آخرت کی تیاری اور ہے یعنی دنیا سے کنارہ کرکے الله کی یاد میں ڈوبے رہنا.پتہ نہیں یہ کہاں سے آ گیا، مگر الله کیا چاہتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم. بہرکیف اس جستجو کو کسی سمت پہ ڈالنا ہے تاکہ سمجھ میں آ سکے کہ کیا  نتیجہ ہو گا جب الله کے سامنے حاضری ہو گی. زندگی کا کوئی طریقہ بھی تو کرنا ہے کہ کیسے جینا چاہئے. الله نے کیا احکامات دے کر بھیجا ہے. خود کے لئے، بندوں کے لئے دنیا اور کائنات کے ساتھ کیا رویہ کرنا ہے. وسائل کو کیسے استعمال کرنا ہے. تگ و دو تو کرنی ہی ہے. زندگی جیسی بھی نہیں گزارنی. کسی ضابطے کے تحت گزارنی ہے کہ آخرت کے لئے زیادہ ہی سامان اکٹھا ہو جاے اور وہاں کم ہی صعوبتیں اٹھانی پڑیں.
اگر  دیکھا جاے تو الله کی جانب جستجو اور صحیح کیا ہے کی تلاش ہی اصل دین ہے. جستجو اور کوشش کے ہی درجات ہیں صحیح کی تلاش ہی قربت ہے. حکم جیسے جب اور جتنا سچے دل سے سمجھ میں پڑے اس کی ادائیگی .جیسے جیسے سمجھ اتی جاے  صحیح کو اپناتا جانا اور غلط کو جھٹلاتا جانا ہی صراط مستقیم ہے. جو اور سے اور کی تلاش میں لگا ہو، جس کو قریب سے قریب کی لگن ہو ، اس جہاں میں اسے اور کیا چاہئے . سب ہی مل گیا بنا مانگے . دنیا میں بھی اور آخرت تو حسین ہی لگتی ہے. کیسے نہ لگے زندگی،کوشش ، محنت ،محبت ،خوشی و غم سب ہی الله کے لئے، بس لگن، انتظار، بیقراری، ڈر،جستجو اس کو ملنے کی ،تیاری حاضری، حضوری کی. سہل ہو گیا سب کچھ. آرام میں ووہی ہے جسکا بس ایک ہی آقا ہے.  
 

*********************************************************


١٧ جون  ٢٠١٠ 

رومال 

سجاوٹ کے کام بھی آتا ہے ،ناک صاف کنے کے کام بھی آتا ہے. آج مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے دین کو رومال کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ہمارا دیندار ہونا ہماری سجاوٹ کے کام ہی آنے لگا ہے. میں نے مسجد بھی جانا شروع کر دیا ہے  تا کہ لوگ کہیں نمازی ہے، پہناوا بھی بدل لیا ہے کہ دیندار لگوں، آخر اس کا فائدہ کس ہو ہے؟ کسی کو نہیں. میں یہ لوگوں کو اس لئے دکھانا چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ پر اعتبار کرنے لگیں. مجھ کو امانت دار جانیں سمجھدار جانیں کہ میں سیدھے راستے پر ہوں مجھ سے مشورے بھی مانگیں اور مجھ کو بھی مانیں. دین، دنیا میں نام بنانے کی شے نہیں ہے نہ ہی لوگوں سے داد لینے  کی، یہ سب کام دنیا کے ہی ہتھکنڈے ہیں صرف پھنسانے کے لئے، جس کی آخرت نہیں ہے.     آخرت کا دین اور ہے. اس میں ہر کام دنیا میں ره کر ہی کیا جاتا ہے مگر آخرت کو ذہن میں رکھ کر. دنیا کی گزران ہی آخرت کی تیاری ہے. ہر دم پتہ ہو کہ جواب دینا ہے، کوئی جواب لینے والا ہر دم دیکھ بھی رہا ہے نوٹ بھی کر رہا ہے. ابھی نتیجہ اس لئے نہیں دکھاتا کہ وہ موقع دیتا ہے کہ شائد بندہ سدھر جاے. اگرچہ بندہ سمجھتا ہے کہ الله کا کوئی دخل عمل نہیں سارا نظام خود ہی چل رہا ہے، میں بڑا پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں اس لئے الله تعالی کی کوئی پکڑ نہیں اور زندگی کو  میں نے  صحیح جانا .

 زندگی کو وہ ہی جان سکتا ہے جس نے زندگی کو وہ مطلب دیا جو الله نے دیا، یعنی میری زندگی ہے اس کی عبادت اس دنیا میں رہتے اور اس پر ایمان کہ سانس چلتی کےہر لمحہ کا حساب مانگا جاے گا. اسی محفل کا نام ہے یوم الدین. زندگی سجنے بننے کے ہی لئے نہیں ہے، ممانعت بھی نہیں ہے.دل کو معلوم ہی ہے کہ دنیا میں کتنا کھبنے کی اجازت ہے، کنارہ کشی کو تو سخت منع فرمایا ہے،دنیا میں رہنا اور لطف اندوز ہونا ہے دائرے میں رہتے. جب بھی نظر بھٹکے یا بھٹکنے کا اندیشہ ہو تو رجوع کرو. الله رہنمائی کرتا ہے تنہا نہیں چھوڑتا. 

ہم ہی اس کو جھٹک دیتے ہیں کہ ہم کو ضرورت نہیں، وہ پھر بھی  ہمیں نالائق کہہ کر معاف فرماتا ہے اور رزق دیتا ہے دھیان کرتا ہے ہم اسکے پیغام کو کبھی ریشمی رومال کی طرح سجا لیتے ہیں. جسکا  ادھڑا  حصہ جیب میں ہوتا ہے چھپا سہما میرے  باطن کی طرح. اور چمکتا حصہ جیب سے باہر میرے سر کے محراب کی طرح. یہ ہے میرا رمالی دین اور کمالی دنیا. کبھی تو میں دین کو ڈھال بناتا ہوں مگر کبھی تو میں پروا نہیں کرتا کہ کوئی کیا کہے، یا میرا الله کیا کہے گا. میں بلکل بے پروا سا ہوں. کیونکہ کہیں تو دل کے گوشے میں معلوم ہے کہ کوئی خیال رکھتا ہے. اس کا تو پتا ہے خود کا نہیں کہ جو خیال رکھتا ہے اسے بھی کچھ درکار ہے. کوئی بھینٹ، کوئی شکر کا کلمہ، میں اس سے بےنیاز ہوں، جاہل کہیں کا.

 
*****************************************


 ١٥جون ٢٠١٠
الله  نے رحمان اور رحیم  بن کر القران سکھایا ...................
الله تو خالق ہے مالک ہے، ہر شے اس کے ہی قبضہ قدرت میں ہے مگر اس کا مجھ سے
تعلق لاڈ اور پیار کا ہے. وہ مجھے سب سے زیادہ چاہتا  مجھ سے بھی زیادہ. اس نے
میرے لئے دنیا بنائی سب سامان زندگی میرے لئے موزوں بنایا تسلی کی پھر مجھے
تخلیق کیا. دنیا میں بھیجا سب کچھ ٹھیک تھا، مجھے خود کی اوقات بھی تازہ تازہ
یاد تھی، الله کا حکم بھی، خود کی نافرمانی، الله کا حکم، الله کی معافی بھی.
میں خوش تھا کہ معاف کیا اور دوبارہ موقع ملا. میں قدم جمانے لگا. دنیا
کو ہمیش گاہ سمجھنے لگا.
یہ تو ٹھیک ہے کہ دوبارہ موقع ملا، مگر چھن بھی تو سکتا ہے. اور اس مرتبہ چھنا
تو میں زمیں کے نیچے ہی جاؤنگا اور معافی نہیں ہو گی بلکہ حساب لیا جاے گا اور
سزا ہو جاے گی. اگر اس پہ غور نہ بھی کیا جاے کہ انسان اس دنیا کو ہمیش گاہ
سمجھنے لگا، مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ خود کی اوقات کیوں بھول گیا. اس کو الله
کی بات یاد کیوں نہ رہی کہ معافی ہوئی ہے ندامت میں رہنا ہے نہ کہ پھنے خانی
میں. جو سبق ملا وہ پکاتے رہنا ہے نہ کہ بھول جانا ہے. اب بھول چوک معاف نہ ہی
ہو گی.
اب جو میں سکھایا پڑھایا سبق بھولنے لگا، اور آہستہ آہستہ بلکل کوری سلیٹ ہو
گیا تو شرم تو نہ ہی آئ. الله کو ہی رحم آ گیا خود کے نالائق نمائندے پر. اور
وہ ان میں سے ہی ان پر بتانے سجھنے والا تعینات کرنے لگا. یہ سلسلہ چلتا
رہا. قوم بھولتی رہے پیغمبر آتے رہے یہاں تک کہ آخری پیغمبر بھی آ گیا. الله نے
آخری پیغمبر کو آخری پیغام بھی دیا. اس وقت کے انسان کا اور بعد کے کا، اس کو
معلوم تھا کہ کئی نتیجہ نکالنے والا ہے مگر اس نے شروع تا آخر کبھی سختی کا حکم
نہ دیا.
ظاہر ہے معلوم ہی تھا کے بیشتر انسان کس مٹی کے بنے ہیں ضرور ہی احکامات پیٹھ
پیچھے ڈال دیں گے. پھر بھی وہ خود کے انسان کے لئے رسی دراز کرتا رہا، ڈھیل
دیتا رہا، اور ڈھیل، اور، اور. یہ پیار نہیں تو اور کیا ہے.جب بھی بتانے سمجھنے
کی بات آتی ہے، وہ حکمران کے مقام سے کبھی نہیں بولا. بار بار بتانے پہ بھی نرم
لہجہ ہی اختیار کرتا ہے اس کو معلوم ہے کہ یہ نادانی کی اس حد کو چھو جاتا
ہے کہ جہلا کے زمرے میں ہی آ جاتا ہے. ایسا نہیں کہ اس کو مجھ پہ غصہ نہیں آتا،
مگر کم ہی آتا ہے. جب حد ہی ہو جاۓ.
القران الله کی کتاب ہے، اس کا کلام ہے، اس کی بات اس کا حکم ہے. وہ جس رنگ میں
چاہے بات کرے، مگر اس نے پیار کا اسلوب ہی اختیار کیا. ہاں جب جب میں اس کے
لاڈ پیار کو غلط سمجھ کے نافرمان ہی ہوا تب اس کو غصہ آیا. یہ سب میرا ہی کیا
دہرا ہے. وہ کہتا ہے کہ اس نے مجھ پر میری اوقات سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا، تو
نہیں ڈالا میں مانتا ہوں، پھر بھی بے ایمان ہو جاتا ہوں. اس کو میں نے ہر دم
رحمان ہی پایا. پالنہار ہی پایا. رحم کرنا اس کی تمام صفات میں سب سے
نمایاں صفت ہے، جو میرے ہی لئے ہے.
وہ رحم کرتا ہے، فضل کرتا ہے اور کرتا ہی چلا جاتا ہے، جب تک میں استغفار اور
توبہ کرتا رہتا ہوں دل و جان سے، سچائی سے، وہ معاف کرتا رہتا ہے. وہ القران
میں ہمیں جہاں احکامات دیتا ہے وہیں ہمیں توبہ استغفار کا سبق بھی خود ہی دیتا
ہے ، یعنی اس کو معلوم ہے کہ مجھے کوتاہی کرنا ہی کرنا ہے. سو مجھے دیکھتے اس
نے رحمت خود پر واجب کر رکھی ہے.

*******************************************

 ١٤ جون ٢٠١٠
 
خوداعتمادی یا خدا اعتمادی
اعتماد خدا ہی دیتا ہے مگر پراعتماد ہوتے ہی ہم خدا کو خود سے الگ کر دیتے ہیں کہ یہ سب میرا کمال ہے، یہ کہ مجھے اب خدا کی ضرورت نہیں رہی. میں باقی خود ہی سںبھال لوں گا. خدا ہی بوجھ لگنے لگتا ہے کہ کون اس کو آے دن حساب دے، خود کی سفارش کرے، ترقی مانگے. حمد کرے شکر کے کلمات دل سے ادا کرے. سب سے بڑھ کر جو بات چبھنے لگتی ہے، وہ  ہے الله کا حصہ نکالنا. اس میں سے جو الله نے ہی مجھ کو دیا ہے.
مال  الله کا ہے، میرا مجھ پہ فضل بھی الله ہی کی دین ہے. وہ جب چاہے چھین لے میرا کوئی زور نہیں. مگر جب میں ابلیس کے ہتھے چڑھا ہوتا ہوں سب سدھ بدھ اس مردود کو ہی تھما دیتا ہوں. وہ ہی مجھے یقین دلاتا ہے کہ سب تیرا کیا دہرا ہے. تیری محنت کا پھل ہے، دن رات ایک تو نے کئے الله نے کیا کیا. کرنا ہوتا تو گھر بیٹھے نہ دیتا. میں عقل کا مارا اس کی باتوں میں آ کر سب کھو دیتا ہوں. مگر ڈکار نہیں لیتا. وہ سب کیا ہے؟ جو جانے انجانے میں گنوا دیتا ہوں وہ ہے الله کی مدد.
جیسے الله کہتا ہے کہ تم چل کر آو میں دوڑ کر آتا ہوں. بلکل ایسے ہی  میں ایک قدم پیچھے ہٹتا ہوں وہ گھنٹوں پیچھے ہٹ جاتا ہے. اب وہ دور بیٹھ کر دیکھتا ہے. میں ڈوبوں یا تیروں وہ آخرت کو ہی ملاقات دے گا. یہ اس لئے ایسا ہے کہ اس نے تو زور سے تھاما تھا، چلا بھی رہا تھا، تیزی سے منزلیں طے کروا رہا تھا، میں نے ہی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا. خود مختار ہوا. سمجھ بیٹھا، کام مکمل ہوا میں منزل تک پہنچ گیا. اب مجھ کو کسی کی ضرورت نہیں رہی. یہ سب آٹومیٹک ہو گیا ایسے ہی تا قیامت چلتا رہے گا. وہ تو اس راستے پہ ہی مدد کرتا ہے جس پہ میں زیادہ شوق ظاہر کروں اور محنت کروں، وہ میری محنت میں رنگ ڈال دیتا ہے.
خود اعتمادی اچھی شے ہے اگر اس کو الله کی دین مانا جاے. مجھے میرے پیروں پر کھڑا ہونا وہ ہی سکھاتا ہے. میں اکیلا ہی پیدا ہوا تھا. مجھے اکیلا ہی اس کے حضور حاضر ہونا ہے. اور مجھے خود سے لڑ کر ہی منزلیں عبور کرنی ہیں سب باطل کی. اس کے لئے الله نے مجھ میں خود اعتمادی گوندھ کر بنایا ہے. میں نے اس اعتماد کے بل بوتے پر ہی خدا سے خود کی نافرمانی کی معافی مانگی اور دنیا گزرنے چلا آیا. یہاں آ کر مردود کے بتاۓ اصولوں پر چلنے لگا. یہاں تک کے خود کو خود مختار یعنی خدا سمجھنے لگا. خود سے بھی گیا.
دنیا میں ہم جن کو ساتھ ملا کر خوش ہورہے ہوتے ہیں، یعنی خود کو، اور خود سے اور انسانوں کو وہ سب بھی ہماری طرح چوری چوری خدا کی طرف ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں. اندر سے آواز بھی آتی ہے.
برا ہو ابلیس کا جس نے مجھے مجھ سے، تجھ سے جدا کیا!
اس کا بن کر میں نے خود کے ساتھ کیا کیا!

******************************************************


١٢ مئی ٢٠١٠
اعتبار اور اعتماد
اعتبار کوئی سیکھنے کی شے نہیں ہے. اعتبار کرنا ہماری فطرت میں ہے. ہم اعتماد اور اعتبار کے سہارے ہی پروان چڑھتے ہیں. پیدا هونے سے پہلے ہی کان میں آواز پڑتی ہے الله اکبر، غیب پر ایمان، الحمدلللہ، الله نے دیا، الله کے پاس چلا گیا، الله سن رہا ہے، الله نے کر دیا. یہ سنتے سنتے میں بڑا هونے لگتا ہوں مگر الله ایسے نظر نہی آتا جیسے امی، ابا، بہن، بھائی.میں ڈھونڈتا ہوں کہ کس کا ذکر ہے. جو نظر نہیں آتا مگر سب کام کرتا ہے سنتا بھی ہے، داد بھی وصول کرتا ہے،تو نظر  کیوں نہیں آتا؟ یہ سوال ہی رہتا ہے.
اس سوال سے میرا اعتماد اور پکا ہو جاتا ہے ان پر، جو نظر آتے ہیں کہ اگر نہ نظر آنے والا اتنے کام کرتا ہے، سنتا ہے، ساتھ رہتا ہے، تو جو نظر آتے ہیں اور ظاہر میں پیار بھی کرتے ہیں، خیال بھی رکھتے ہیں وہ کیا کمال ہوں گے. اس سے میرا خود پہ اور ساتھ والوں پہ اعتماد بننے لگتا ہے. ساتھ والے اور باہر والوں میں ابھی امتیاز نہی کر پاتا اس لئے ہر آنے جانے والوں پہ اعتماد کرنے لگتا ہوں. جب تک کہ بار بار کہا نہیں جاتا کہ اس سے نہیں لینا، اس کے پاس نہیں جانا، وہ تمہارا کچھ نہیں لگتا. مجھے بلکل سمجھ نہیں اتی یہ سب کیا ہو رہا ہے. کیا ماجرا ہے.
    یہاں تک کہ مجھے سمجھ آنے لگتا ہے کہ میرے منہ میں ہر نوالہ کچھ کہ کر ڈالا جاتا ہے. وہ کچھ کیا ہے کسی کا نام ہی ہے جو میں ماں کے پیٹ میں بھی سنتا تھا کہ کوئی ہے جو ماں کی دعائیں سن رہا ہے میرے متعلق . اب میں بھی بسم الله کہنے لگا نہ جانتے کہ کیا کہ رہا ہوں. مگر جب میں کہتا تو سب گھر والے مجھے چومنے لگتے اور کہتے پھر سے کہو اچھا لگتا ہے. مجھے سمجھ تو نہیں آئی مگر میری بسم الله پکی ہو گئی. جیسے جیسے وقت گزرا میں گھر والوں کو سجدہ کرتے دیکھتا تو سوچنے لگا کہ یہ کیا ہے. میں بھی نقل کرنے لگا. جب میں ماں کے ساتھ کھڑا ہوتا تو سب نہال ہو جاتے اور میرا تجسس بڑھنے لگا.
میرا ان دیکھیے پر ایمان بھی بڑھتا رہا مضبوط بھی ہوتا رہا مگر معلوم نہیں پڑا کہ کیا ہے. اب ذرا جو میں سوچنے کے قابل ہو رہا تھا، دماغ بھی لڑا رہا تھا تو احساس هونے لگا تھا کہ کوئی ہے،خود سے نہیں. بلکہ گھر والوں کو حرکات و سکنات کا جائزہ لے کر کے دنیا میں کیا چل رہا ہے. میری دنیا تو میرے گھر والے ہی تھے. وہ جو ہر بات ان دیکھیے کہ حوالے کر رہے تھے اور میٹھی نیند سو رہے تھے میں بھی کرنے لگا اور اس کا اعتماد و اعتبار مجھے گھر سے ہی ملا. ان کے پیار، تحفظ، مان، لاڈ نے مجھے میرے اندر کےاعتبار و اعتماد سے ملاقات کروائی.
    آج میں جو کچھ ہوں اپنے لوگوں کی وجہہ سے ہوں. ان نے میری فطرت، میرے اعتبار و اعتماد، میرے الله کو میرے اندر سونے مرنے نہیں دیا.

************************************************


١٠ جون ٢٠١٠
خط آگاہی کی لکیر
خط آگاہی کی لکیرسے نیچے زندگی گزارنے والے کبھی تو یہ سوچیں کے زندگی کیا ہے؟  مقصد حیات کیا ہے؟ خط آگاہی کی لکیر کیا ہے، اس کو جانچا کیسے جاے؟ س کو پار کیسے کیا جاے،پارکیسے کرایا جاے؟ سب سے پہلے تو معلوم ہو کے آگاہی کیا ہے؟ جب تک معلوم نہ پڑے اس کو چاہا، مانگا کیسے جا سکتا ہے. اس کے لئے کوشش کیسے کی جا سکتی ہے. کیوں، کیسے، کیا، کتنا، کس کے لئے، اور بھی بہت سے سوال ہیں یہ دل میں بنیں گے تو ہی سفر شروع ہو گا، یا سفر کرنے کا دھیان آے گا. یہ دھیان اصل میں  آگاہی کی شروعات ہے.
اس بات کی سوچ اور فکر کے مجھے آگاہی کی ضرورت ہے، مجھ میں کوئی کمی ہے، ایک بہت ہی مثبت اور بھرپور قدم ہے اس مہم کی جانب. جو کمی محسوس کرتا ہے وہ ہی کام بھی کرتا ہے. یہ وہ کام ہے جو نہ ہی آپ کا پیسہ لیتا ہے نہ ہی وقت. بلکہ زندگی چلتی رہتی ہے اور یہ اوٹومیٹک مشین کی طرح سفر طے کرتا رہتا ہے. آپ کب صراط مستقیم پہ چل پڑتے ہیں اور دل و جان سے قائم ہو جاتے ہیں معلوم ہی نہیں پڑتا. آپ کمی جتنی شدت سے محسوس کریں گے اتنی ہی تیزی سے آپ پر حق عیاں ہو گا اور تیزی سے آپ شانت ہو جائیں گے. خود کے لئے خود کے کام پر لگ جائیں گے. جب دل کو سکون ملتا ہے تو صحیح اور غلط میں خود ہی فیصلہ ہو جاتا ہے.
جاننا ماننا اور پہچاننا یہ ہے کہ مجھے کیا کیا سمجھ نہیں آ رہا تھا. اب جو بات سمجھ آ رہی ہے وہ کیا طریقہ کار جس سے مجھ کو مدد ملی اور میں اگلوں کو مدد فراہم کر سکتا ہوں. دیکھا جاے تو یہ لفظ بھلے مشکل لگتا ہے وہ بھی اس لئے کہ اس لفظ سے ہم کو کبھی کسی نے ملوایا ہی نہیں وگرنہ یہ کوئی سائنس نہیں ہے. طریقہ کار ہے کہ زندگی کا اجینڈا کیا ہونا چاہئے، یعنی کس شے کو ترجیح دینی چاہئے. وجود زندگی جب دیا تو مقصد بھی وجود میں رکھ دیا. انسان چلتے چلتے انسان ہونا تو یاد رکھتا ہے بندہ ہونا نہیں، تب ہی یہ پریشانی بنتی ہے کہ وہ خط آگاہی کی لکیر سے نیچے زندگی گزرنے کا عادی ہو جاتا ہے.
مگر عادات تو آنی جانی شے ہیں، اصل شے ہے فطرت. اگر یہ سمجھ آ جاۓ کہ یہ عادت ہی ہے، تو اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے. فطرت اجاگر کی جا سکتی ہے . اگر معلوم ہو کہ ہم نے کوئی فطری اہلیت دبا کے رکھ دی ہے یا گما ہی دی ہے. دابی اور گمی شے تو تلاش کی جا سکتی ہے جب کہ وہ اس قدر اہم ہو، ہاں اگر دفن کر کے پہرے بیٹھا دے ہیں کہ نہ ہی خود نکال سکھیں نہ ہی کوئی اور نکال کے ہماری مدد کر سکے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا. اگر دابی شے خود ہی چیخ چیخ کر نہ پکارے. وہ پکارتی ہے کسی کو وقت پہ اور کسی کو آخری وقت سے ذرا پہلے. عرصہ پہلے تو آگاہی نام کی شے کا ذکر ہی نہیں سنا تھا یا کتابوں میں تھا یا صرف دین کے نامور لوگوں کے نام کے ساتھ لگا تھا. معلوم پڑتا تھا کہ ہم یہ گیڈر سنگی نہیں پا سکتے یا ہمارے لئے ہے ہی نہیں. اب، جبکہ حرف عام ہے تو تگ و دو ہونی چاہئے. آسان ہے!

*****************************************************************



٦ جون ٢٠١٠ دبئی

خاموشی

زبان الله نے ذکر کے لئے حمد و ثنا کے لئے بنائی ہے. سوال کرنے کے لئے بنائی ہے.رابطے کے لئے، مدد کرنے کے لئے ہمارے ساتھ لگائی ہے. محبت بڑھانے کے لئے، شبہات مٹانے کے لئے لگائی ہے. خبر پہنچانے کے لئے دی ہے، یعنی زبان جسم کا سب سے اہم جز ہے. حقوق الله، حقوق عباد کو نبھانے کے لئے بھی زبان کا اہم کردار ہے. زبان ہے تو ہی کان کی ضرورت ہے. کان سے ہی بات دل تک پہنچتی ہے. سو زبان دل تک بات پہنچنے کا راستہ ہے. زبان سے ہی پیغمبروں نے الله کا پیغام لوگوں تک پہنچایا، زبان سے ہی لوگوں کے ابہام دور کئے.

          جہاں زبان کی اتنی ضرورت ہے وہاں ہی زبان فساد کی جڑ بھی ہے. کہاں کیسے زبان لڑھک جاے کوئی پتہ نہیں. جہاں زبان مصیبت بن سکتی ہے وہاں اسے کیوں نہ خود کے تا بع رکھا جاے. تا بع تو زبان کو ہر وقت ہی ہونا چاہئے. مگرکہیں کچھ خدشہ ہو تو دھیان کرنا ہی بہتر ہے. بے جا بولنے والے کا اور تحقیق کے بغیر بولنے والے کا ایک ہی مقام ہے. یہاں ہم نہ بولنے کا سبق تو نہیں دیں گے بلکہ سوچ کے بولنے کا مشورہ ہی ٹھیک ہے. دراصل زیادہ وہی بولتا ہے جو پر اعتماد ہوتا ہے. وہی پیغام پہنچا بھی سکتا ہے. اس کے لئے خاموشی کا سبق نہیں ہے بلکہ تول کر بولنا ہے. اس کو تصدیق کرنا، موقع محل، کا خیال رکھنا سکھانا ہے.

سیکھنے سکھانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے جب انسان سکھانے اور درست سیکھنے کی طرف چل پڑتا ہے تو زیادہ بولنا خود ہی کم ہو جاتا ہے. خاموشی کو نعمت بھی کہا گیا ہے. خاموش انسان سنتا زیادہ ہے، غور کرتا ہے. جس کا بولنے کی طرف دھیان نہیں ہو گا وہ اندر ہی اندر بات کا حساب لگاے گا جو سنے گا پھر سکون سے ہضم بھی کرے گا. یا سوچ کر بولے گا، پر اعتماد ہو گا، چونکہ اسے بولنے کی جلدی نہیں ہو گی. ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اچھی بات کرو یا چپ رہو. انسان دوستی چاہتا ہے، خاموش رہنے والے سے دوستی نہیں ہو سکتی سو زبان چاہئے، زبان کو اچھی بات چاہئے، خود  بخود ہی اچھائی پیدا ہو گئی.

خاموشی کو اختیار کرو، خود کا سراغ بھی خاموشی میں ملتا ہے، خدا بھی خاموشی میں ہی ملتا ہے. خاموشی نہ اختیار ہو تو نہ خود کی آواز سنائی دیتی ہے نہ ہی رب کی. خاموشی مل جاے تو تنہائیاں نہیں ڈھونڈنی پڑتیں. خاموشی نہ سمجھو تو نہ کائنات کی پکار سنائی دیتی ہے نہ ہی خود سے بات ہو پاتی ہے. خود کی آواز نہ سنی جاے تو نہ خود سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے نہ ہی کوئی مقام ہی حاصل ہوتا ہے. بھلے وہ دین کا ہو بھلے دنیا کا. خود کو کسی ڈگر پہ ڈالنا ہو یا راستہ ہی بدلنا ہو یا تفکر ہی کرنا ہو. صبر ہی کرنا ہو یا گزری زندگی پہ نظر ڈالنی ہو. آنے والی زندگی کا ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو. نہیں ہو سکتا اگر خاموشی نہ ہو .

یہاں ہم بتاتے چلیں کے خاموشی دو قسم کی ہوتی ہے ، دونوں ہی اقسام ایک دوجے سے بڑھ کر ضروری ہیں. اندر کی خاموشی کے بنا باہر کی اور باہر کی خاموشی کے بغیر اندر کی خاموشی نہیں آتی. اگر یہ سمجھ آ جاۓ تو ہم شائد بولیں ہی اتنا کہ سنہری حروف میں لکھا جاے

 
****************************************************************

 

٣١ مئ ٢٠١٠ دبئی
 انی جاعل فی الارض خلیفہ

البقرہ٣٠   
 خالق نے ایک اچھوتی خلق کا فیصلہ کیا، اور اسے خلیفہ کہا. فرشتوں کو سننے میں اچھا نہ لگا. ان کو یہ محسوس ہوا کہ وہ ہی الله کے قریب ترین عبادت گزار ہیں نہیں، قریب ترین عبادت گزار تھے . سوچنے لگے کہ الله ان سے ناراض ہے یا مطمئن نہیں ہے ان کی عبادت سے، تب ہی تو خلیفہ بنا رہا ہے. اور بھی بہت سے سوالات تھے جیسے کہ، جب وہ بااختیار ہو گا تو دنگا کرے گا نافرمانی کرے گا. وہ سمجھتے بھی کیسے کہ الله کا کیا منصوبہ ہے. وہ بھی الله کے الفاظ کے محدود معنی جانتے ہیں تھے، جیسا کے ہم جانتے ہیں، یعنی وہی جو الله نے چاہا کہ ہم جان سکیں. ہم تو الفاظ کے زیادہ ہی اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں کہ الله یہ کہنا چاہ رہا تھا یا کہہ رہا تھا اور حضور نے یہ کہا، باقی مخلوق ایسی نہیں ہے. سو انھوں نے فورا اعتراف کیا کہ ہمارا علم محدود ہے
اس کے بعد کا سارا بیان اپ کو القران سے معلوم ہے، کہ انسان زمین پر آ رہا.  انسان ڈرا ھوا بھی تھا، خوش بھی تھا. خود کو الله کا بندہ جان کر رہا، جتنا کہ رہنا لکھا تھا. آہستہ آہستہ الله کا رنگ کھرنے لگا اور آپس کا, دنیا کا رنگ چڑھنے لگا. الله ان کی ہدایت کے لئے ان  کو پیغمبر بھیجنے لگا. آخر وہ دن بھی آ گیا جس دن آخری نبی اور پیغمبر کو معبوث کیا.  ہر آنے والا پیغمبر خود کو الله کا بندہ ہی کہتا رہا اور کہتا کہتا چلا گیا. الله کے حکم پہ خود کو نبی اور پیغمبر کہا، خود بھی مانا، اور منوانا چاہا. حضور کی زندگی میں لوگ مانتے بھی رہے،اپنی جگہ پہ بھی رہے سب ٹھیک ہی چل رہا تھا. الله نے اب آخری نبی کو واپس بلا لیا ،کہ مشن پورا ہوا. اپ کے جانے کے بعد حالات بدلنے لگے. اور لوگ خود کے طریقہ پہ، القران، سنت و حدیث کا مطلب نکالنے لگے.اب ، یہ هونے لگا اور ہو رہا ہے کہ جو مطلب نکالتے  ہیں اس پہ اکڑ جاتے ہیں اور اکڑے ہی رہتے ہیں
 ان ہی معاملات کی ایک کڑی ہے سورہ البقرہ کی آیت ٣٠ . اس آیت کو بھی انسان نے کیا، ملائکہ اور جن بھی نہ سمجھ سکے. باقی سب نے تو الله سے آڈا نہیں لگایا مگر، انسان کی گدی میں الله کی بات بھی جب الٹی اٹک جاتی ہے تو وہ ٹھیک نہیں کر پاتا اور اس میں ہی ڈوبتا چلا جاتا ہے. انسان خود کو خلیفہ جو سمجھا تو اس کو خیال ہوا کہ الله اب فارغ ہوا سارا کام مجھ کو سونپ کے یعنی کے {الله معاف کرے} میں خدا ہوا. وہ بدیع السموات ہے، پالنے والا ہے. یوم الدین کا مالک ہے. کائنات اس واحد، احد نے خلق کی اور اکیلا ہی چلا رہا ہے. نہ ہی اس کو کسی کی حاجت ہے نہ اس کے بغیر کسی کی  کوئی حاجت پوری کر سکتا ہے. وہ  ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا.
خلیفہ کا مطلب ہے صاحب اختیار و ارادہ ہونا. الله  تعا لی نے انسان کو با اختیار بنایا کہ جو کچھ اس کو دیا گیا ہے جب چاہے جتنا چاہے اسے استعمال کرے. ایسا نہیں کہ اس کو معلوم نہیں ہے خود کی اوقات، مگر باز کہاں آتا ہے یہ، اختیار استعمال کرنے سے خود کا. اس کو معلوم ہے وہ الله کا بندہ ہے جتنا بھی بلند ہو جاے وہ بندہ ہی رہے گا اسکو خدا کا دیدار نصیب نہیں ہو گا جسکا وہ وثوق سے اظہار کرتا ہے. ہاں اس کے دل ہی حالت اطمنان میں ہو سکتی ہے اگر وہ بندہ کی حالت برقرار رکھے
 وہ  خود کے مقام سے، عہدے سے کبھی برخاست نہیں ہوتا . کائنات کا نظام اس کے پاس ہے. اس کا کوئی ہمسر نہیں. وہ خود کا کام کسی کو کیسے دے گا. نہ اس سا کوئی تھا، ہے، نہ ہو گا. اس کو یہ معلوم بھی ہے، ہم کو بھی معلوم ہے. پھر خلیفہ کا کیا مطلب کسی کو خیال نہیں آیا کہ جانے؟ خلیفہ سے رب کی مراد تھی جو پیغام انسان کو الله دے کر بھیج  رہا ہے من و عن اس کو لے کر چلے. اور لے کر چلنے والے بناے. نہ ہی وہ لے کر چلا نہ چلنے والا بنا بس ہر ایک خود کو کھڑا خلیفہ کہتا ہے پھر القران کھولتا ہے. یہ اوپر جا کہ کیا جواب دے گا اور اپنے پیچھے چلائی کتنے افراد کا بھی حساب دے گا. اگر بادل  نہ خواستہ یہ بھی کہہ لو کہ یہ خود کو خدا کے مقام پر جان رہا ہے کہ {میں نے اس کا کام سنبھال لیا ہے} تو بن تو بندہ بھی نہیں رہا. پہلے خود کو الله کا بندہ مانے، اس کو حساب دینا ہو گا مانے پھر اپنا مقام طے کرنے کی سوچے تو خود سے اعلی جواب آے گا.

**************************************************************************


دبئی ، ٣٠ مئ ٢٠١٠

غیب کا علم
غیب کا علم الله تعالی کے پاس ہی ہے،ہم جانتے مانتے پہچانتے ہیں. یقین تو رکھتے ہیں مگر قیاس آرائی سے پرھیز نہیں کرتے.کبھی تو خود ہی باتیں بناتے رہتے ہیں تکا لگ بھی جاتا ہے تو ہم غیب میں خود کو جھانکنے والا ماننے لگ جاتے ہیں.مانگتے اس سے ہی ہیں مگر خود کا کمال سمجھنے لگتے ہیں. کائنات اس واحد، احد کی تخلیق ہے. اس نے غیب میں رہتے سب خلق کیا اور غیب میں رہنے کا فیصلہ کیا. ہم اس کو دیکھنے والے یا براہ راست ہم کلام هونے والے کیسے ہوسکتے ہیں. اور وہ بھی اس کے فیصلے کے برخلاف.
قرآن کہتا ہے کہ فرشتے ہر وقت اس کی عبادت میں اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح میں مصروف رہتے تھے. اس کی حاضری اور حضوری میں رہتے تھے. ان پہ بھی الله تعالی پردے میں ہی تھا. اور ہے بھلے ہماری نسبت کم پردوں میں ہے. الفاظ اس کی تصویر کشی نہیں کر پائیں گے. یہ گمان یوں ہی رہنے دیا جاۓ کہ کیا ہے، مگر وہ سب کائنات اور تمام خلق کے لئے پردے میں ہے. اس کی نظر ہماری ہر حرکت پہ ہے. ہم اسکی قدرت ہر شے میں دیکھتے ہیں اور اس کی قدرت پر ایمان رکھتے ہیں. اس کی قدرت کا دبدبہ ہم پر ہر لمحہ نمایاں رہتا ہے. نیند میں جاتے اور بے خودی سے   باہر آتے.
نبی اور پیغمبر جو الله کی طرف سے وقت کے انسان کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کی راہنمائی کہ لئے تعینات کئے اور ان کی وساطت سے خود کا نام اور پیغام عوام تک پہنچایا، ان کو بھی خود کی کسی قسم کی وجودی جھلک نہیں دکھائی بلکہ پردے میں ہی رکھا. یا یوں کہو کہ ان کو بھی نہیں معلوم کہ الله کے وجود کی کیا حقیقت ہے. کسی کو کوئی حاجت بھی نہیں ہوئی اور شبہ یا تجسس بھی نہیں. حکم کو قبول کرنا، ماننا عمل کرنا اور پہنچا دینا ان کا کام تھا. اور سب سے پہلے تھا اس کے ہونے اور ہم سے غیب میں رہنے پر ایمان. جب ان کو یہ نصیب نہیں ہوا نہ کہ فرشتوں کو .جبریل الله کا کلام لے کر نبیوں اور پیغمبروں کو پہنچاتے رہے مگر دیدار سے محروم رہے. تو ہم کیسے الله کو ایک بار بھی جیسا کے وہ ہے دیکھ سکتے ہیں. ہاں گمان جیسا بھی بنا لیں وہ پکڑتا نہیں.
اور کچھ نہیں تو الله کو سوال کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں. کہاں ہے. کیسا ہے . نظر نہ آنے کا مطلب وغیرہ. وہ مالک  ہے حیسا چاہے رہے. جو چاہے اصول بناے. ہم کو آخر کیا بیچینی ہے. کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے. کوئی سوال ہے نہیں. کتاب موجود ہے. آخری نبی کی سنت موجود ہے. احادیث موجود ہیں. کتنی ہی افکار کے تراجم اور بحثیں بھی موجود ہیں. الله نے عقل سمجھ دی ہے، جگہ جگہ نشانیاں پھیلا رکھی ہیں کے دیکھو اور جانو مانو پہچانو. وہ غیب میں رہتے اتنا حاضر ہے کہ خود سے خود کے قریب.

**********************************************************************


٢٣ مئی ٢٠١٠
برتنے کا حق

الله تعا لی نے یہ دنیا میرے لئے بنائی تھی، میرے رہنے کے لئے تا قیامت . سب سامان سجا کہ، بنا کہ، لگا کہ، پھر اس کو برتنے والا خلق کیا. خالق کی بھی کیا شان ہے تو خالق کی کیا ہو گی. مجھے وجود دینے سے بھی پہلے کی بات ہے جب میں نفس کہ مقام پہ تھا. وہاں کا ایک مرتبہ کا ذکر ہے. الله نے کہا کہ خود کا خالہ بنانے والا ہوں. چند خواص وہاں موجود تھے جن سے ذکر ہوا. مگر مقربین تھے. ملائکہ و جن. ملائکہ نے کہا کہ کیا ہم تیری حمد کا حق ادا نہیں کر پاتے. تو خون خرابہ کرنے والا بنانے کو ہے. اللہ پاک نے فرمایا کہ تم کچھ نہیں جانتے. یہ ہے میرا مقام. یقینا اس کو مجھ سے اچھی توقعات ہیں. دراں حالانکہ جیسا اس نے مجھے گوندھا  ہے. اس ہی کا تو نتیجہ سوچ کرکہ رہا ہے کہ تم نہیں جانتے

 مقام کہ یہ معنی نہیں ہیں کہ میں اس مقام پہ فائز ہوں. بلکہ بات کچھ یوں ہے کہ الله  تعالی نے مجھ میں یہ مقام گوندھ دیا ہے.  اور اگر میں اس کی کوشش کروں تو اس مقام پہ آ سکتا ہوں حس پہ فائز وہ مجھے دیکھنا چاہتا ہے. وہ مالک ہے خالق ہے، مجھے اتنا نواز کے  ، ہر قابل بنا کہ یہ تو حکم دے ہی سکتا ہے کہ جو تم میں رکھا گیا ہے استعمال میں لانا ہے. کچھ زیادہ نہیں مانگا. یہاں بھی میرا ہی فائدہ ہے. ہر گوندھی گئی صلاحیت اور صالحیت  کو بروےکارلاؤں تو. میرا ہی حوصلہ بلند ہو گا، میرے وجود کو ہی تقویت ملے گی. الله نے ہر راہ میرے لئے ہی مجھے دکھائی ہے. میں سمجھنے لگا ہوں کہ اس خالق کا کوئی فائدہ ہے. تب ہی نالائق کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر پاتا. مجھےمعلوم ہی نہیں، الله کو کوئی سروکار نہیں میں خود کے ساتھ انصاف کروں یہ ناانصافی. اسکو تو یوم الدین پہ سب معاملہ سمیٹنا ہے.

ایک تو ہم کو خود کے ظاہر و باطن کو کام میں لانا ہے. دوسرا جو کائنات الله نے میرے ہی لئے سجائی ہے اس سے بھی مجھ ہی کو فائدہ لینا ہے. استعمال میں لانا ہے جائز طریقہ سے برباد نہیں کرنا، جائز  و ناجائز کی تمیز مجھ میں گوندھ دی گئی ہے. ایسا کوئی سوال نہیں کہ جو میرے لئے جائز ہے دوسرے کے لئے ناجائز ہو. ہم سب انسان تھوڑا بہت امتیاز سے اک دوجے سے الگ ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ایک میرے

لئے حلال ہو اور کسی کے لئے نہ ہو. یہ الله کا نظام نہیں ہے. اس نے کل تخلیق کے لئے دن بنایا معاش، کام کاج،کو. سو یہ ہی کرنا ٹھیک ہو گا. اس طریقہ سے ہی دنیا کا، دنیا کو، دینوی فائدہ بھی ہی. الله نے چاند سورج کو میرے لئے ایسا ہی کام پر تعینات کیا ہی میرے فائدے کو. خود کا ٹائم ٹیبل الگ بنا لیا تو فائدہ نہ ہوگا. سورج ہی نہ دیکھا تو خود کا نقصان. رات گھومتے رہے سو نہییں پاۓ تو خود کا نقصان. الله کا نظام تو اس کہ حکم کہ تابہ  ہے  میری خواہشات اور مرضی کے نہیں کیوں کہ میری مرضی کی  کوئی منطق نہیں ہوتی . ضد ہوتی ہی خود سے، لوگوں سے، قدرت کے نظام سے

دنیا اسکی، میں اس کی خلق اور بندہ، کائنات اس کی نظام اس کا قائم کردہ، یوم الدین کا وہ مالک. تو اس کی ہی چلے گی. میں بھلے نکتے  نکالتا رہوں اور معافی کا طلبگار رہوں. وہ عادل ہے منصف ہے. رحیم ہے شفیق ہے. حق پر فیصلہ کرے گا. کل تخلیق کے ساتھ حق کا فیصلہ کرے گا. بنا حق کہ معافی نہیں ہو گی نہ ہی سزا. اس نے میزان قائم کر دی ہوئی ہے تو ابہام کہاں کہ کس موجودگی کو کیسے استعمال کیا جاے. خود کا حق، الله کا حق. بندوں کا حق، سب موجود اشیا کو کیسے، کیوں اور کب، کس طریقہ کار پہ برتا جاے. استعمال کے طریقہ کی کتاب بھی بھیجی ہوئی ہے میرے بعد سے تاکہ کوئی مشکل نہ ہو. خوب تر نظام کی خوب تر کتاب ہے.


*****************************************************

 

٢٢ مئی ٢٠١٠

دنیا
دنیا، کیا دل لبھانے والا نام دیا ہے الله پاک نے میری آزمائش کو، خود ہی بنایا، خود ہی دل میں بٹھایا، خود ہی قدغن لگائی کہ حدود ہیں، ذرا بھی معاہدہ بھولا تو میں نافرمان ٹھہرا. ٹھیک ہی تو ہے. وہ مالک ہے، وہی خالق ہے، میرا بھی میرے معاہدہ کا بھی. میں نے یہاں پدھارنے سے پہلے ہی اس کو رب ماننے کے ادراک کا اظہار کیا تھا. یعنی میں جانتا مانتا اور پہچانتا ہوں کہ وہ میری دنیا کا اور میرا مالک اور خالق ہے. مجھ پہ یہ بھی عیاں ہے کہ وہ مجھے دنیا میں عیاشی کے لئے نہیں بلکہ آزمائش کے لئے بھیج رہا ہے.
اتنا چیں بجبیں ہونے کی ضرورت نہیں ہے. خود کو کبھی وقت دو تو سب قسمیں وعدے یاد آ جائیں گے. سوال ہے کہ کیسے یاد آئیں گے؟ جب مجھ سے عہد لیا گیا تھا، تب مجھے وجودی پیدائش ابھی نہیں دی گئی تھی. یعنی دنیا جو میرے لئے متمکن ہونے کی جگہ تشکیل پا چکی تھی، مجھے وہاں نہ بھیجا گیا تھا. سب بات الله کے پاس ہوئی تھی ملائکہ اور جن موجود تھے. یہ سب اخبار ہم کو القران بیان کرتا ہے. جب ہم دنیا میں کھبے رہیں گے اور جاننے کے لئے الکتاب کا رخ نہیں کریں گے تو کچھ معلوم نہیں ہو گا. ابھی بھی، کبھی بھی.
القران بتاتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش ہے، ایک بات. دوسرے یہ کہ، یہ ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے. تیسرے یہ کہ، یہ دل لگانے کی بھی جگہ نہیں ہے. یہ سب کے بعد تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ یہ دنیا کیا تماشا ہے. ہر جان جب اس دنیا میں بھیجی جاتی ہے تو ہر لمحہ اک دوراہے پہ لا کھڑی کر دی جاتی ہے، نہ ہی دائیں جانب قدم اٹھانے کا سمجھ میں آتا ہے نہ بائیں جانب. کبھی میں صحیح سمت اختیار کر پاتا ہوں اور کبھی میرا غلط سمت اٹھا قدم مجھے بھٹکنے پہ مجبور کر دیتا ہے اور میں دھیان سیدھا نہ کر پاوں تو اس میں دھنستا ہی چلا جاتا ہوں، غلط سمت ایک دلدل کی مانند ہے جہاں ہے واپسی کا راستہ بہت کشٹ طلب ہوتا ہے. 
ہم خود کے سامنے جیسے نئی جان کا آنا دیکھتے ہیں ویسے ہی جانا بھی دیکھتے ہیں. اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جو بھی الله نے دنیا میں نوازا ہے اس کا حساب مانگے گا. ذہن میں رکھیں یہ حساب الله نے لینا ہے. اب دنیا میں آ جائیں، ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں، پڑھائی کے زمانہ میں یا کسی پریکٹیکل میں جب تک اکتسابات بتا پڑھا نہ دیے جائیں، امتحان نہیں مانگا جاتا. سارا کورس مکمل کرا کے یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ اشخاص امتحان کے قابل بنا دیے گئے ہیں. سو پرچہ دیا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے.
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ، ہمیں وجود دینے سے پہلے ہم سے الله تعالی نے ایک بھرپورمعاہدہ لیا تھا کہ وہ ہی ہمارا رب ہے. یعنی کہ ہم بندہ ہوئے. الله القران میں بارہا بیان فرماتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش گاہ ہے. اگر ہم دونوں واقعات کو بیک وقت نگاہ میں رکھیں تو سب روز روشن کی طرح ہے. دنیا بھی آخرت بھی، آزمائش بھی. پرچہ ہے یہ دنیا. نتیجہ ہے آخرت، حساب ہو گا. ابہام کہیں نہیں پایا جاتا اگرآپ خود کو بندہ کے مقام پر رکھ کر حالات حاضرہ کا جائزہ لیں.
جائزہ لے ہی لیں تو وہیں تھکن سے نڈھال ہو کے بیٹھ کے خلاؤں میں نہیں اداس آنکھوں سے گھورنا وہ مغفرت کا در کھولے کھڑا ہے جب بھی رجوع کرو. کرو تو. ڈھلے بیراں دا اجے وی کج نئیں گیا" دھیان میں رہے ہر دم اب اس فانی گرد و نواح کی اوقات، اس دہر میں جی کو لگانا کیا. سارا نصاب الکتاب میں درج ہے جس جس کا امتحاں ہونا ہے. اگر تیاری کہے کے مطابق کر لو دل سے کوشش کر کے تو کم و بیش نتیجہ اچھا ہی نکلے گا رب کا وعدہ ہے    

**************************************************

    

٢٠ مئی ٢٠١٠

نظام

 نظام الله کا ہے، کم و بیش سب انسان ہی مانتے ہیں. یہاں اس نظام سے مراد لیا جاتا ہے، ہوا ، پانی، چاند ،سورج ، دن ،رات. ٹھیک ہے یہ تو ہے ہی، انسان بھی اس کے نظام کا حصہ ہے. حیوان، چرند، پرند، مٹی، گھاس بھی اسی کا نظام ہے. وقت، کی رفتار،دن، پہر، ہفتہ، مہینہ، سال، بھی اسی کا نظام ہے. دین، ایمان، اخلاق، تعلقات اس کا نظام ہے. میرا اندر، باہر،، ظاہر، باطن، سوچ بچار اسکا نظام ہے. دل میں خیال آنا، دماغ میں مفروضہ بنانا اسکا ہی لاگو کیا نظام ہے. دین دنیا کا ٹائم ٹیبل ہماری سمجھ میں آجاۓ کہ سب کچھ الله کے نظام کا ہی حصہ ہے.    

قصہ مختصر اگر واقعی آپ یقین رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہے تو پھر آ جائیں میدان میں. اگر یا سب نظام اسکا ہے تو وہ ہی اس کا چلانے والا ہوا اور وہ ہی مالک، خالق. ہم ہوئے بندے، کارندے. اور یہ بھی معلوم ہو کہ اس سب کو آخرکار اختتام پذیر ہو جانا ہے. ہمیں انسان کا وجود دے کر اور انسانیات دے کر جو یہاں تعینات کیا ہے، اس کا حساب مانگے گا یوم خاتمہ. یہ یوم خاتمہ اس رنگ برنگ گرد و  نواح کا ہو گا اور  پھر خود کے حضور وہ تازہ محفل سجائے گا. ہم سب کو باری باری بلائے گا اور جواب مانگے گا اس کام کا جو سونپ کر دنیا میں بھیجا تھا.

  تو یہ سوال ہے کہ ہم خود کو تھاں پہ کیوں نہیں رکھتے؟ نہ ہی خود کے وجود کے دھیان کی کوئی سمجھ بوجھ ہے نہ سامنے والے کی. میری حد کہاں ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے کی کہاں شروع  ہو جاتی ہے اس سے کسی کو کوئی سروکار ہی نہیں ہے. میں تیز گاڑی چلاوں چونکہ میری گاڑی ہے اور میرا دل چاہ رہا ہے، ایک، دو زخمی بھی ہو گئے تو کونسی خلق کم پڑ جاۓ گی. مجھے نیند نہیں آ رہی  میں جتنا اونچا ٹی وی چلاؤں، ریڈیو جتنا زور سے بجاوں، گھر پہ یا کمرے میں جتنی بھی روشنی رکھوں،کسی کو کیا. میری خود کی زندگی ہے جیسے چاہوں گزاروں.

 یہاں اپ کو پتہ ہو کہ یہ زندگی آپ کی ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس کی امانت ہے جس نے یہ شخص، یہ وجود، یہ وقت بنایا ہے. جو آپ کا پالنہار ہے. جو خاموش ہے آپ کی سرکش سوچ پہ، وہ اس مردود کا بھی خالق ہے جو اس وقت آپ کو دوست رکھے یہ نادانی کے سبق پڑھا رہا ہے. مالک وہ ہے جس نے ترازو بنائی اور اس کا نام 'حسن' رکھا، یعنی انصاف، عدل. اور اس ترازو میں جو چاہا خلق کیا اور کرتا جا رہا ہے. اس نے نظام اسی ترازو پہ رکھ  کہ بنایا سنوارا ہے. کیا مجال کہ کوئی ذرا بھی اس کے ترازو سے نہ گزرا ہو.

انسان کو ہی لے لو، کمال کی خلق ہے مالک کی،کوئی کمی نہیں چھوڑی اس مصور نے، ہر رنگ ڈھنگ ڈال کر ہر جان  سے الگ ہی جان بنا ڈالی. اور اس سے مطالبہ بھی الگ سا ہی کیا کہ، میرے سارے کئے کو دیکھو، استعمال میں لو، فائدہ اٹھاؤ.  مگر ہر فائدہ اٹھاتے میری تعریف، میرا شکر ادا کرو. یہاں تک کہ صرف دید کا لطف اٹھاتے بھی کہو سبحان تیری قدرت، سب بنا دیا فقط  میرے لئے، کام میں لگا دیا صبح شام. کہیں کھانے کا سامان کہیں پینے کا، کہیں سر ڈھانپنے کا تو کہیں بدن ڈھانپنے، سجانے، سنوارنے کا. کہیں مہکتی ہوا، کہیں نرم گھاس، کہیں روشن چاند کہیں چمکتا سورج،سب کا سب میرے لئے چوبیس گھنٹے. دیں کام کرنے کو، رات آرام کرنے کو. اتنا ڈھیر ہے عنایات کا کن میں گن نہ پاؤں گا. بس یقین ہے کہ سب میری ہے میرے لئے ہی بنایا ہے.

اس نے مجھے بنانے سے پہلے اور بنانے کے بعد میرے لئے کیا کیا انتظام کیا کس کس کو بلکہ سب کچھ کو میرے ہی لئے کام پہ لگا دیا. میں نے کیا کیا، اس ناظم کے لئے؟ جبکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے ذمہ بھی کچھ کام تھا، کیا تھا، یاد تو ہے، دل و دماغ میں سب سے آگے موجود ہے. مگر میں نے نظرانداز کرنا ہی، مناسب اور حق سمجھا. اس کا دیا بھر بھر کہ اڑایا. عیش کے بعد تھک کہ آرام سے میٹھی نیند سو گیا. میٹھی نید بھی اس رحمان کا انعام ہے. میں نے سب کیا،  اس کے پیدا کردہ نظام میں عیش، خود کا حق سمجھا،خوب مزا کیا، ہر شے کی خوب فائدہ اٹھایا جائز، ناجائز .مگر اس دینے والے کا حق کہیں ادا نہ کیا.             "اور تم اس کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے"                            سورت الرحمان، القران.

 *****************************************************************

            

١٩ مئی ٢٠١٠

 وہ تو دیکھ ہی رہا ہے، یہ حدیث کے ٹکڑے کا ترجمہ ہے

حدیث  کچھ یوں ہے کہ نماز ایسے پڑھو جیسے تم الله کو دیکھ رہے ہو وگرنہ ایسے پڑھو جیسے وہ تم کو دیکھ رہا ہے، وہ تو دیکھ ہی رہا ہی.، اس کا دیکھنا بھی کمال ہے، میرا نہ دیکھنا بھی دیکھتا ہے. یہاں تو بات ہو رہی ہے نماز کی، حاضری کی حضوری کی. کہا کہ جیسے وہ سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے، موجود ہے. ہمیں تو یقین کامل ہے کہ وہ ہر لمحہ ہر سمت سے، ہمارے ہرعضو کی ہر حرکت، ہر سوچ کو دیکھ ، سن رہا ہے. ہم چونکہ روز مرہ، دنیاوی زندگی میں اس قدر محو و مصروف ہو چکے ہیں کہ اس کا موجود ہونا، ہم کو ہر لمحہ دیکھنا، اب یہ دھیان میں ہی نہیں رہتا، لگتا ہی نہیں کہ کسی کو جواب دینا ہے.

لحاظ کا دائرہ ہم عبور کر چکے، باطنی و ظاہری طور پر. دنیا اتنی کھب چکی ہے نظر میں کہ شرم کا دور دور تک نشان نہیں ملتا کہ خالق، مالک، رازق کا کرم ہے جو ہم  بےلگام پھر رہے ہیں اور وہ معاف کئے ہوئے ہے، درگزر کئے ہوئے ہے. ہماری کرنی ہمیں کرنے دے رہا ہے، خود کے فضل سے محروم نہیں هونے دے رہا بلکہ ، تھاما ہے اس مضبوطی سے کہ ہم  کسی نامعلوم ڈگر پہ نافرمانی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور وہ، وہ بھی دیکھا ہے، بلکہ  مددگار ثابت ہوتا ہے، اس راہ میں آسانیاں دے کر, کہ دیکھے کہاں تک نادانوں کی دوڑ ہے.

  ایسا  ضرور ہے کہ جب ہم مشکل میں ہوتے ہیں  تو بار بار اس کی ہی طرف دیکھتے ہیں  اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ دیکھ رہا ہے سن بھی رہا ہے. ہم اس ہی کی مدد کے طلب گار ہوتے ہیں. جم کہ کھڑے ہوتے  ہیں کہ اس بھنور سے، اس گرداب سے، ہم کو کوئی  نہیں نکال سکتا.  اس وقت ہمیں یہ سوال کیوں نہیں سوجھتا کہ نافرمانوں کی کوئی بات وہ نہیں سنے گا، نظر انداز کر دے گا ہماری  حاضری ہی، دھتکار دے گا، رحمت کا در مجھ پہ بند کر دے گا. خود کی نافرمانی گستاخی، بےخوفی کبھی یاد نہیں رہتی جب خود کی ضرورت ہو. اس وقت یاد رہتا ہے کہ وہ قریب ہے، وہ ہی ہے جو قریب ہے، سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے، اور مجھے اس مصیبت سے نجات  دلا  سکتا ہے. میرے ایمان ہے کہ تو ہی ہے پالنہار. نرم ،کام آنے والا.

 

وہ جو دیکھ ہی رہا ہے،یہ ہے ہمارا یقین ایمان. اب ذرا بتاتے چلیں ہمارا کیا کردار ہے، اس کو ماننے پہ کھڑےہوئے.

.
{ایسا تو نہیں کہ ہم الله کو ماننے والے نہیں ہیں، ہم توحید کے ماننے والے ہیں، الله، رسول سے پیار بھی کرتے ہیں، مگر خود کے طریقے سے.    جس میں عبادت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے. اخلاق کا مظاہرہ کیسے ہو لوگ ہی اتنے خراب ہو گئے ہیں، گالی دے کر بات نہ کرو تو سنتے ہی نہیں.   صدقہ، زکات، خیرات کی ہمارے ہاں جگہ کہاں، ہمارے خود کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے، الله کا حصّہ کہاں سے نکالیں.   سیاحت بھی تو سیکھنے سکھانے کا ہی طریقہ ہے، وقت ملے تو دوسرے ممالک کا دورہ کر لیتے ہیں، حج، عمرہ کا شوق تو ہے مگر وقت کا کیا کریں، کہاں کہاں جائیں، دیکھ کے ہی خرچ کرنا ہے.    آپ ہی بتاو یا چلتا رمضان اب گرمی میں ہی آتا جا رہا ہے، فاقه کر کہ پیاس سے مرنا تو نہیں ہے نہ، بچوں کے امتحانات ہوتے ہیں گرمی میں وہ بھلا بھوکے کیسے پڑھائی کریں، وہ ہی تو کل کو کام آنی ہے. امتحانات کہ بعد بچوں کی تھکن دور کرنے کے لئے اور خود کے آرام کے لئے چھٹیوں پہ جانا ہوتا ہے، اس لئے روزہ رکھنے کا ہمیں اور ہمارے خاندان کو کوئی وقت نہیں، مگر رمضان میں اناج کے پیسے دے دیتے ہیں، کسی کا بھلا بھی ہو جاتا ہے، لگے ہاتھوں الله کا حکم بھی پورا ہو جاتا ہے.}

ہم اللہ کو ماننےوالے ہیں القران کی بلا ناغہ تلاوت بھی کرتے ہیں بھلے سمجھے بغیر. حضور سے بہت پیار کرتے ہیں، سنت رسول کی کئی کتب اکٹھی کر رکھی ہیں، نعت بھی گنگناتے رہتے ہیں کوئی میلاد میں بلاۓ شوق سے جاتے ہیں. حضور کو پیارا نبی کہتے اور آخری نبی بھی مانتے ہیں، بس ان کی نہیں مانتے.

خود سے ہمیں آج ایک چھوٹا سا سوال پوچھنا ہے. کیا میں اس قابل ہوں کہ وہ جو دیکھ ہی رہا ہے، مجھ کو پیار کی نظر سے دیکھے؟        

********************************************************** 

   

١٨ می ٢٠١٠ 

بوند بوند کو ترس رہی ہے دھرتی،

ترس کی بات بھی سمجھ آتی ہی ترسنے کی بھی ،دھرتی کی بھی، بوندوں کی بھی ، ببتا کہاں سے شروع کروں کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات، تو یوں ہے کہ دھرتی بڑے لاڈ کا لفظ ہے اور لاڈ کون کرتا ہے ؟ لاڈ کرتا ہے پیار کرنے والا مالک، محافظ، نگران، ملکیت سے فائدہ اٹھانے والا پہریدار. دھیان تو کیا ہی جاے گا مگر دوہری وجہ سے لاڈ زیادہ ہی کیا جاتا ہے. دھرتی کو ماں بھی کہتے ہیں کہنے والے. ہم سب جس بھی دین مذہب پر کھڑے ہوں جس جگہ جس خطہ جس ملک میں رہتے ہیں اس سے پار عقیدت میں مبتلا ہو ہی جاتے ہیں. بھلے امیر یہ غریب. روزگار نہ لگا ہو تو کئی جملے زبان پر آ ہی جاتے ہیں کے اس زمین نے مجھے کیا دیا ہے. الله نہ کرے اس زمیں کو ضرورت ہو تو کون امیر اور کون غریب. ہر ایک جان لوٹانے، سر کٹانے کو تیار رہتا ہے. یہ ہوتا ہے لاڈ، پیار، ماں ماننا    

فی زمانہ ہوا یہ ہے کہ ماں بھی پیاسی ہے اور اولاد بھی، اور ماں بھی بےقصور ہے اولاد بھی. یہ سب کیسے ہوا؟ کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جب چند لٹیرے جنم لیتے ہیں اور جماندرو ہی جوان اور تگڑے ہوتے ہیں. کئی کئی شیطان خود کہ ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں، بلکے یوں کہو کہ ہر لٹیرا شیطانوں کی فوج لے کر پیدا ہوتا ہے. وہ شیطانوں کا سردار صرف یہ منصوبہ بناتا رہتا ہے کہ ماں کو کیسے نقصان پہنچاے، اس کے پیار کرنے والوں کو کیسے دھرتی ماں سے اکھاڑے دور کرے اور نقصان پہنچاے.اس کام میں مگن ہو جانے کہ بعد اس کمبخت کو کچھ نظر نہیں آتا، کہ یہ دھرتی اس کی بھی ماں ہے. ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ خود کا اپنا آپ، خود کی پیدا کی اولاد، بھائی، ماں باپ، سب داؤ پر لگ جاتا ہے. یہ تو یہ ضمیر، ایمان، اخلاق، بندہ سب سے ہی فارغ ہو جاتا ہے. یہ بھلا شطان کے علاوہ کس کی مہربانی ہو سکتی ہے. دل پہ مہر لگ جاے تو کوئی کیا کرے.

اس مہربان قوم کا اس لئے ذکر کرنا پڑا کہ اس کی ہی مہربانیوں کی وجہ سے دھرتی کے اصل پیار کرنے والے، تازہ ہوا صاف پانی، سر پر چھت سے محروم رہتے ہیں، بلکے یہ کہنا بھو حق بجانب ہو گے کہ ان کے پاؤں تلے تو اپنی زمین بھی نہیں ہوتی. نہ تعلیم کی سہولت نہ طبی سہولات مہیا، نہ ہی کوئی معیار زندگی. ان کو دین سے  دین داری سے بھی کوئی سروکار نہیں. رب کہاں ہے، کون ہے، کیا چاہ رہا ہے، مقصد حیات کیا ہو گا میرا، یہ اجڑا، لاچار، حیران و ویران کیا جانے پیدایش کا مصرف و مطلوب.

 دھرتی کا پیارا، پیار کا مارا، دکھیارا کیا جانے کہ کیا ہوتی ہے زندگی، اسکی دھرتی کی، پیار کو بھی پروان چڑھنا ہے تو ہی پیار کا مطلب سمجھ آے گا. پیار ملے گا تو میں پیار بانٹوں گا. بانٹنے کے لئے میرے دامن مے کچھ ہونا تو لازمی چاہئے نہ، تھوڑا ہی سہی. جب شیطان صفت بندے کے بھی پینے نہیں دیتے پنپنے نہیں دیتے تو میں پیاسا کھڑا جنم جنم کا، ترستی دھرتی کو کیا دوں گا؟ کہاں سے دوں گا. میں تو خود کے پلے سے وہی خرچ کرنے کی طاقت رکھتا ہوں جو میرے پلے بندھا ہے. میں پاس کو بھی جنتا ہوں پیسے هونے کا مطلب بھی. کاش کہ میرے اختیار کی بات ہوتی! ان ہتھیاروں سے کوئی مجھ کو چھڑاے، میری پیاس بھجاۓ، مجے پیاسا مانے تو پانی دے تو بھلے بوند بوند ہی، میں جا کے ماں کو سیراب کروں گا اس کی ہر گلی کو شاداب ہر گھر کو آباد کروں گا.

اس دھرتی کو گل و گلزار کروں گا.

مجھے اس مٹی کی ہر داراڈ، ہر شکن نظر آتی ہے، اس کی پیاس میرا گلہ میری زبان ہی نہیں، میرا دماغ بھی خشک کرتی ہے. میرا جگر کاٹتی ہے. میرا دل روتا ہے آنکھ  روتی  ہے، مگر بوند وہاں سے بھی نہیں ٹپکتی، میری آنکھ بھی ٹپکنے کو ترستی ہے. کوئی قطرہ آنکھ سے ٹپکتا ہی، کسی شیطان کو نظر آے، کسی کا دل پسیچ جاے میرے لئے مری ماں کے لئے. کی کو لاج آے کہ یہ ماں، ہم سب کی ماں ہے میں اکیلا اولاد نہیں، اکیلا برباد بھی نہیں. میں تو آگے سرخرو ہو ہی جاوں گا. مالک معاف فرمائے گا. اس کو سب معلوم ہے، پر تیرا کیا ہو گا. یہاں دنیاں والوں کی آہیں وہاں الله کی آگ.

سوال بس بوندوں کا ہے ہم  بوند بوند جمع کر کے دریا خود ہی بنا لیں گے، کوئی لوٹی مایا واپس تو دے.

 ****************************************
 

 

١٧ می ٢٠١٠

زندگی کا سفر

القران میں الله نے بتا دیا ہے. کیا جائز ہے اور کیا ناجائز. آج ١٥٠٠ سال بعد بھی میرا خود سے،لوگوں سے سوال ہے کہ میرا طرز زندگی کیسا ہو؟ کس کو دیکھوں؟ کیا کروں، کیا اپناوں، کس کو چھوڑ دوں؟ کیسے سرخرو ہو جاؤں اس فانی دنیا میں، اور آخرت میں جواب دہ نہ رہوں؟ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور چلتا پھرتا القران تھے، سو القران کے احکامات جو سمجھ میں نہیں آ پاتے ادا کیسے کرنے ہیں، اس کے لئے ہم کو سنت رسول سے استفادہ کرنا ہے. یعنی حضور نے ارکان دین کیسے ادا کئے. بہت مرتبہ ادائی کی تو سنت رسول سے سمجھ میں آ جاتی ہے، مگر تشنگی رہ جاتی ہے کہ  فلاں بات کی وجہ کیا ہوئی، کیا یہ حکم سب پہ ہمہ وقت ایسے ہی لاگو ہو گا  اور تاقیامت ایسا ہی رہے گا، یا مخصوص مدت کے لئے تھا؟ کسی ایک شخص کے لئے اس موقع کی مناسبت سے کچھ فرما دیا تھا یا ہرخاص وعام اس حکم کا مخاطب ہے؟ اس سب کے لئے حدیث کو سمجھنا پڑھنا لازمی ہے.  آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا کہ راہ ہدایت کے لئے کن کتب سے منسوب ہونا ہے.  مگر یہاں ایک نہایت توجہ طلب بات ہے.اب تک آپکو فکر لاحق ہو چکا ہو گا.                                                                                                                             

وہ یہ کہ القرآن کا کونسا ترجمہ ہو اور کونسی تفسیر؟ القران کے حوالہ سے تو اگر اپ کو عربی زبان نہیں آتی تو سب سے آسان اور مستند ترجمہ فی الوقت کافی ہو گا، تفسیر کے لئے ذرا رک جائیں.

سنت رسول پڑھنے میں دھیان کرنا ہوگا کہ، مرتب کرنے میں کس لکھنے والے نے حقائق اکٹھے کرنے میں وقت لگایا اور بیان کرنے میں حد درجہ انصاف کیا ہے. جلن میں، محبت میں، عقیدت میں حقائق کو آگے پیچھے تو نہیں کر دیا.        

اب آتی ہے حدیث کی باری، ہمارے ہاں لا تعداد محدثین کے مجموعے دستیاب ہیں، ان میں سے کس کو چنا جاے اور کیوں؟ یہ بھی کٹھن مرحلہ ہے. یہاں عقل عام کے مطابق ہمیں وہ نسخہ منتخب کرنا ہوگا جو حضور کے قریب ترین زمانہ میں اکٹھا کیا گیا ہو. اس کے کئی فوائد ہیں، ایک تو اس میں غلطی کا امکان کم ہی ملے گا. دوجے یہ نسخہ چھوٹا ہوگا، میرے گمان کے مطابق چیدہ چیدہ، پیچیدہ اور اہم اقوال ہی ملیں گے. یہ مرحلہ آپ سےعبور ہو جاۓ تو مفصل اورمشہور نسخہ کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے، مگر جب چھوٹا نسخہ دل میں اترجاۓ تو.     

کتب اکٹھا کرنا اور ورق گردانی کا طریقہ کار تو آ ہی جاتا ہے آسان ہے. مگر آیات کا موقع محل  خود سے کیسے معلوم پڑے گا. کس روشنی میں سمجھنا ہے کہ کونسی حدیث کیسے متصل کرنی ہے اس آیت سے، سنت سے کیسے عیاں ہو کہ کیسے ادائی ہو اس عمل کی. ان بہت سے سوالات کے جواب خود پڑھ کے ہم کسی حتمی نتیجہ کو نہیں پہنچ سکتے. کسی صاحب عمل و علم کو تلاش کرنا ہے. تلاش کےعمل میں سب سے ضروری مشورہ یہاں یہ  ہے کہ معروف نام  کو ترجیح نہیں دینا، وجہ تعریف کچھ بھی ہو سکتی ہے. خود پاس بیٹھ کر مطمئن ہونا ہے کہ اس شخص کو میں بطور ہادی چنوں؟یہ سوال خود سے کرنا ہے کسی اور کے مشورے کے بغیر، کیونکہ یہ زندگی کا بہت ہی اہم مرحلہ ہے. آیندہ کی ساری زندگی آپکو ان صاحب یا صاحبہ سے مشاورت کرنی ہے، سو یہاں جلدبازی نقصان دہ ثابت ہونے کا بھرپور خدشہ ہے.

آ پ کو آتے وقت میں نت نئے اساتزہ کے پاس نہیں جانا ، ایسا ہوا تو بہت پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے.بھلے بات ایک ہی ہو ہر بتانے والے کا انداز الگ ہوتا ہے، دل و دماغ گڑبڑا سکتا ہے، ٹک کے ایک کے پاس ہی بیٹھنا مناسب ہے.  ہاں، اس دینی، دنیوی، آخرت رخی  زندگی میں، اگر ایسا محسوس ہو کہ استاذ کے ہاں ابھی کچھ حل طلب مقامات موجود ہیں تو کنارا کرنا بہتر ثابت ہوگا. اب نئے استاذ کی ضرورت ہے. یہ بھی ہو سکتا ہے نہ ہی ہو. اس کی امید بھی کی جا سکتی ہے کہ آپ خود ہی باقی ماندہ سفر ہدایت طے کرنے میں کامیابی حاصل کر لیں. یہ میں نے اس لئے کہا کہ آپ نے موجودہ استاذ کی غلطی کی نشان دہی خود سے کی ہے. ان کوغلط جگہ کھڑا پایا، خواہ وہ دین میں غلطی پہ تھے، دنیا میں، یا ان کو آخرت کے بارہ میں کچھ بےپروا پایا. ظاہر ہوا کہ آپ راہ ہدایت پر گامزن ہیں. منزل قریب ہے

 *********************************************

       

١٦ می ٢٠١٠

زندگی کی شام

جس زندگی کو صبح نصیب ہوتی ہے اس کی شام لازمی ہے الله تعالی کا یہ ہی نظام ہے. عروج آتا ہے آتا جاتا ہے، رکتا ہے چند روز پھر الٹا دوڑنے لگتا ہے،میرے خلاف، دوسری سمت اور میں آوازیں ہی دیتا رہ جاتا ہوں، جاتا وقت نہیں سنتا میری، تیری، پیار کرنے والوں کی، تعریف کرنے والوں کی، رب نے کہ دیا، اب جو آتا ہے جاتا ہے وقت مقرر پہ. میں خود کی آنکھوں کے سامنے کسی کو آتا کسی کو جاتا دیکھتا ہوں. میرے سامنے میرے پیارے، میرے بزرگ، عقل والے، جائیداد والے، نام والے، وثوق والے سب چلے گے. یعنی جانا اٹل ہے. تو مجھے میرا جانا کیوں سامنے نظر نہیں آتا؟

ہر آنے والے کو جانا ہے، یہ ہمارا ایمان ہے. تو یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ جانا زندگی کا اختتام نہیں ہے.وہاں جا کہ یہاں کے کئے کا ثمر ہم کو ملنا ہے. یوم الدین پہ ایمان رکھنے والا کو کیا کرنا چاہئے؟ اسے اس زندگی کو باثمر بنانے غور کرنا ہے. اس پہ ہی منحصر ہے اسکی کل کی آخرت. تو اب صرف آج کی فکر کرنی ہے، آگے بڑھنے کی، اس کی قربت کو حاصل کرنے کی. جو گزر گیا اس پہ استغفار بس. اک نئی صبح کی شروعات کرنی ہے، گزرے وقت پہ ہر وقت ندامت اگر کوتاہیاں ہوئی ہوں. یقینی بات ہے کہ ہرانسان کچھ نہ کچھ ہلکے بھاری گناہوں کا  مرتکب ہوتا ہی  ہے جانے انجانے. اس لمحہ شرمندگی، یا لمحہ احساس ہم سب کو زندگی کی ڈگر میں تبدیلی لانا ہو گی. کام آہستگی سے ہی شروع کرنا ہے تاکہ نیا کام ازبر بھی رہے اور مشکل بھی نہ ہو، نہ ہی تنگی.

آپ کو جب بھی دل کی گہرائی سے محسوس ہوا ہو کہ میں نے جس روش پہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا وہ سراسر غلط تھا، تو جان لو کہ نی صبح کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے. سفر یہاں سے شروع کرنا ہے کہ کچھ احکامات کا مجھ کو معلوم نہیں تھا. کچھ کو میں نے نظرانداز کیا کہ کون دیکھ رہا ہے. کچھ کو یوں جھٹک دیا کہ بہت وقت پڑا ہے. جانے سے کچھ وقت پہلے سب سنبھال لیں گے اتنی جلدی بھی کیا ہے. اب جو احساس ہوا کہ جانے کا سندیس دستک دے کر، اجازت مانگ کر نہیں آتا. تو سمجھو آیا کہ آیا. جانا بھی ہے، کا دھیان بچپن میں نہیں آتا کہ معلوم ہی نہیں پڑتا  کہ کہیں سے آے بھی ہیں. حقیقت ہے، بچہ کو زندگی کے سفر کا کیا معلوم.

 جوان ہوتے اگر معلوم نہ پڑے تو نادانی ہے. آس پاس، ارد گرد، ہم جاتے لوگوں کو دیکھ بھی رہے ہیں، پھر بھی ناداں ہیں. جوانی میں نادانی، بےراہ روی، ہو جاتی ہے دراں حالانکہ ہونا نہیں چاہئے. مگر مزید بڑھتی عمر میں بھی ہم انجان ہی بنے رہیں جیساکہ ہم نے کسی کو جوانی میں یا بڑھاپا میں جاتے دیکھا ہی نہ ہو، یہ کیسا اندھیر ہے خود کے ساتھ. احکامات کا درس بچپن میں نہیں ملا، گھر میں نہیں ملا ، بڑوں نے نہیں دیا، تو کیا دل کبھی کھوج کو کیا ہی نہیں کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ کس کام کو بھیجا گیا ہوں میں؟ کیا مالی، دھوبی، ماسٹر، صنعتکار، قلم کار بنانے کی فکٹری لگائی ہے الله نے انسان بنا کہ. خود کو میں نے یہ تو بتایا کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہے، مصور بننا ہے. مجھ سیب پسند ہے. مجھے ٹھنڈا پانی پسند ہے. مجھے سبزہ پسند ہے. تو خود کو یہ کیوں نہیں کہ پایا کے میں وہ بندہ بننا چاہوں جو الله کو درکار ہے.       

صراط مستقیم کو دوآم، اس سے پہلے کہ ہو زندگی کی شام، وقت ہو تمام، ہر آتی جاتی سانس الله کے نام 

*********************************************************************                                                                  


١٥ می ٢٠١٠
بدلاو،
اللہ کہتا ہے، میں دنوں کو پھیرتا رہتا ہوں " زخرف، ٣٢  ".   یہ بھی کہتا ہے، شکل، عقل، مزاج، دولت، عزت، میں سب کے درجات ہیں، تم سے اوپر، اس سے اوپر، اس سے اوپر، تم سے نیچے، اس سے نیچے، اس سے نیچے، "ال عمران ،١٤٠" سو جو القران پڑھتا ہے اس کو ہمیشہ یقین کے دھانے پہ رہنا چاہئے کہ اگر وہ وقت نہیں رہا تو یہ بھی نہیں رہے گا، اسے ہی توکل کہتے ہیں. جب القران نے کہ دیا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، تو وقت کا بدلاؤ جب آتا ہے تو جان ہی کیوں نکل جاتی ہے. ہر وقت تیار رہو کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے. حالانکہ ہم اوپر جانے کے ہر رستے کی توقع ہر وقت رکھتے  ہیں  مگر نچلے رستے کی طرف کا سوچتے ہی دل و دماغ ڈوبنے لگتا ہے. تو جب ہمارا عروج ہو رہا ہوتا ہے تو تب ہم کیوں کہتے ہیں کہ میری کمائی ہے. سب الله کی طرف سے ہی ہے، کیا عروج کیا زوال, یہ القران کہتا ہے. تو بھلے میں القران پڑھنے والا نہیں بھی ہوں تو بھی میں وقت کے پھیر سےواقف ہوں اپنے سامنے اجالا لمبا ہوتے اور پھر، اندھیرے  کی مدت دراز ہوتے میں دیکھتا ہوں پھر بھی ککھ سمجھ نہیں پاتا.یہ سب الله کے وعدہ کے مطابق ہی ہے. ایسے ہی میں نے تاریخ میں پڑھا بادشاہوں کے تخت الٹتے چھنتے. دوسری قوموں کا قبضہ ہوتا  تہس نہس مچتا . یہ سب  وقت کا  پھیر ہی ہے جیسا الله فرماتا ہے.
ہم خود کی آنکھوں کے سامنے ساتھ کے لوگوں کو تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے دیکھتے ہیں کہ کیا تھے کیا ہو گے کیسے ہو گے. سمجھ ہی نہیں پڑتا کہ ان کا کونسا گر چل گیا. یہ سب الله کا نظام کائنات ہے کہ کس کو کہاں سے اتارنا ہے اور کس وقت کہاں سے اٹھا کر کہاں بیٹھا دینا ہے، کیا بنانا  ہے،یہ ہمارے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں، ںہ  کہ حسد کا. ہمارا کام ہے خود کے لئے محنت کرنا اور باقی سب الله پہ چھوڑ دینا، وہ ہی وقت کو پھیرتا پھراتا ہے. نیچے کی طرف جاتے حالات سےمایوس، بےسہارہ، بے اسرا،رد کردہ نہیں محسوس کرنا بلکےکوشش میں لگے رہنا ہے اور دعا گو بھی رہنا ہے کہ میرے الله مجھ پر رہم فرما اور میرے کردہ، ناکردہ گںاہ معاف فرما ، تو معاف فرمانے والا نظرانداز کرنے والا ہے اور رحمان و رحیم ہے. دنوں کو پھیرنا اس کی سنت ہے، مگر کیسے، کب، کتنا، کیوں؟ اس کی وہ ہی جانے. جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے؟ اس بحث میں وقت برباد کر کے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلنے والا ہاں کوشش، محنت  اور دعا  کو وہ دیکھنے سننے والا ہے ضرور . سچی لگن کو وہ کبھی بےاجر نہیں کرتا، ایسا ضرور ہے کچھ کی دنیا میں سنوائی ہو جاتی ہے کچھ کی نہیں ہوتی کچھ کی جلد ہو جاتی ہے کچھ کی دیر میں، چند کی بظاھر دنیا میں نہیں ہوتی. یا یوں  کہ لیں کہ اس طریقہ سے نہیں ہوتی جسا کہ وہ  چاہتے ہیں ، تو جانو کہ  اس کا اپنا طریقہ کار ہے، وہ کچھ افراد کا اجر آخرت کے لئے اٹھا رکھتا ہے. ہم اس کے ہی ماننے والے ہیں ، ہم کو تو معلوم ہونا ہی چاہئے کہ وہ منصف،عادل ہے.
مجھے وقت کے بدلاؤ کا غم ہے غصہ بھی ہے،غصہ ہوتا ہے دوسرے پہ کہ اس کو کیسے مل گیا یہ اس نے کیسے پا لیا، دوسرا ہمیشہ کم محنت کم عبادت کرتا ہی محسوس ہوتا ہے،اور زیادہ پاتا، دراں حالانکہ ایسا بلکل نہیں ہے، ہم کو ہمارے کئے کا پھل ہی ملتا ہے . ہم ناداں ہیں الله سے ہی سوال کر ڈالتے ہیں کہ ایسا کیوں اور ویسا کیوں؟ وہ ہی ہے جو نظرانداز کرتا ہے بد تہذیبی، جلد بازی، ناامیدی. سمجھنے سمجھانے کی بات یہ ہے کہ خود کے جو کرنے کا کام ہے وہ کرو،خود کے جو اختیار میں ہے ہے اس کو جانو، جس نتیجہ پہ زور نہیں چل سکتا گناہ کے ارتقاب کا بھی اندیشہ ہے ان خانوں کو الله کے حوالے ہی رہنے دو. وہ مجھ سے کہیں بہتر جانتا پہچانتا ہے کہ مجھے کیا چاہئے   اور کیا دینا میرے لئے بہتر ہو گا. تو خود کے بارہ میں فکر کرنے والا میں کون ہوتا ہوں. وہ ہے ںا . 
 

******************************************************************


١٤ مئی ٢٠١٠
حسن       
الله جمیل و یحب الجمال 
وہ حسین ہے حسن کو پسند فرماتا ہے، "حدیث" آخر حسن کیا ہے؟ کس شے کا نام ہے؟ کیا کسی جگہ یا شخص کا نام ہے؟ رب حسین ہے سے کیا مراد ہے ؟ وہ حسن کو پسند کرتا ہے اس سے ہم نے کیا سمجھا؟ بات تو ہم سن لیتے ہیں، یاد کر لیتے ہیں، دہراتے بھی ہیں بارہا، مگر بات ہے کیا؟  کبھی ادھر دھیان نہیں دے پاتے. حسن کے لفظ سے ہم نے کیا سمجھا کیا جانا! سب خالق کی خلق ہے، وہ ہر شے کا بنانے والا جاننے والا ہے، تو کیا حسن کے علاوہ بھی اس نے کچھ تخلیق کیا ہے؟ یہ ایسا ہی سوال ہے جیسا کہ، اس نے روشنی پیدا کی تو کیا اندھیرا بھی اس نے پیدا کیا؟ تو اس نے اندھیر نہیں پیدا کیا، اندھیرا روشنی کی غیرموجودگی ہے . پہلے تو دیکھو کہ اس کی تخلیق ہے توازن، تناسب، تواتر، روانی اور وہ  ان سب کو خوبصورتی، حسن کہتا ہے. یہی اسکا خود کا حسین ہونا ہے.سو بس کمآل کا توازن ہی ہے. اس کی ہر موجودگی ہر صفت، اس کا ہر ہونا کمال کا توازن ہے، یہی ہے جس کو وہ خود کہتا ہے وہ پسند کرتا ہے، اس سے پہلے وہ کہتا ہے وہ حسین ہے. تو دھیان کرو وہ کیا ہے؟ وہ موجود ہے، پوری طرح موجود،اس سا کوئی موجود نہیں، وہ ہے سب پہ پوری طرح نظر رکھے، وہ ہے ہر طرح مدد کو موجود، وہ ہے ہر طرح ہر وقت سنتا، اس کا وجود ہے پوری طرح ہم کو تھامتا. اس کا یہ بھرپور ہونا ہم کو اور کہیں دیکھنے ہی نہیں دیتا. خالق کا تخلیق کردہ حسن ہی ہمیں پکڑے ہوئے ہے اس کائنات میں. یہ دل لبھانے کو نظارے ہیں دل لگانے کو نہیں. یہ  پر کشش گرد و نواح آزمائش ہے، آزمائش بن نہ جاۓ! 
اس کے احکامات کے مطابق ہوائیں اپنی سمت نہیں چھوڑتیں. اس نے کہا ہوجا اور وہ ہوتا چلا جا رہا ہے، برابر تناسب سے. دریا کو ایک رخ پہ اس نے سنوار کے ڈال دیا وہ موج میں رواں ہے اسی انداز کا. چاند کو نرمی کا سورج کو گرمی کا حکم دے دیا سو وہ شان سے دھیرے دھیرے آتے جاتے ہیں اس مدار میں جو طے کیا ہے. حسین کائنات کو مکمل حسن ہی تخلیق کر سکتا ہے. پھولوں کے رنگ پتوں کے ڈھنگ شاخوں کے سنگ اس کا کام ہے. ہر خلق کی اپنی ادا اپنا جمال ہے سب اس کا کمال ہے. نہ کچھوا بلی میں آ ملتا ہے، نہ ہاتھی بھالو میں. نہ پرندے تیرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ مچھلیاں اڑنے کی، یہ حسن نہیں تو اور کیا ہے؟ القرآن کہتا ہے دو دریا ساتھ ساتھ چلتے ہیں ایک میٹھا پانی کا ایک کڑوا
 پانی کا نہ ملتے ہی ہیں نہ الگ ہوتے ہیں، نہ آپس میں گڈمڈ ہوتے ہیں. اور وجود کا حسن کیا ہوگا. عقل کے رونگٹے ہر قدم پہ کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کیا بات ہے!حسن اور کس لہر کا نام ہے! چلتے جاؤ دانتوں میں کہیں انگلی دباؤ اور کہیں پھٹتی آنکھیں اور کھلا منہ بند کرنا بھول جاؤ، کہیں پلکیں جھپکنا، سنسان جنگل کا حسن،کبھی گھمبیر خاموشی کبھی دلگیر تاریکی، سمندر کی گہرائی کی رنگینی دیکھ کہ محسوس کرو تو. کیسے کیسے پتھر رب نے میرے لئے چھپا رکھے ہیں. کہتا ہے نشانیاں ہیں آگاہی والوں کو.
جس نے اتنا حسن بکھیرا ہے جنگل کی گلیوں میں، سمندر کی گہرائیوں میں، اس کے خود کے حسن کا اندازہ کس کے بس کی بات ہے، سہرا کو ہی دیکھو منڈوا کی سکرین لگتی ہے کبھی کوئی منظر کبھی کوئی، بے رنگ، بیابان، ہو کا عالم، مگر ہر لمحہ وہاں ایسے ہی نیا ہے جیسے میری ہر آتی سانس اور ہر جاتی، ریت کے بے وقت جلال کا خدشہ نہ ہو تو بندہ پہروں یہ نظارہ دیکھتا نہ تھکے. کبھی تو تند ہوا وقت کا ہر نیا پرانا نقش ادھیڑ کے ساتھ لی جاتی ہے، اور تاریخ کے کئی پنے یہیں کہیں تیزی سے دبا دیتی ہے.  کسی گھنے سایا دار پیڑ تلے بیٹھ آسمان کو دیکھو تو، ایک آتا بادل ایک جاتا کسی خوشیوں بھری کہانی کا کردار لگتا  ہے  کبھی کھلکھلا کے ہنس دیتا ہے تو پیچھے چھپا سورج جھٹ چہرہ دیکھا جاتا ہے. غصّہ کریں تو یہی بادل چمک کڑک کے ساتھ زور کا غصہ کرتے ہیں اور کہیں کہیں ان کے ننھے ساتھی گھبرا کے  پھوار برسانے لگتے ہیں. ایسا نظارہ اپنے حسن و جمال کی مثال آپ ہی ہے. یہ نظارے اس حسین کا انتخاب ہیں جو  خود ہی ذات میں خود حسن ہے. ستاروں کی ٹولیاں ہی دیکھ لو،اس پریشان ہال گزران میں مکان کی چھت پہ جا رکو تو محسوس ہوتا ہے کہ کالی نیلی حد نظر کی وسعت بانہوں میں سمیٹ رہی ہے مگر سادہ نہیں جھلملا کہ، قدرت کی اس ادا پہ نہال کیوں نہ ہو جاؤ، سب حسن حسین کا بکھیرا  ہوا ہے.
اس بکھرے حسن کی ایک زبردست قسم میں بھی ہوں جسے انسان کہا جاتا ہے. یہ  رب تعالیٰ کی حسین ترین خلق ہے باعتبار آگہی، ہمارے، جاننے ماننے کی حد تک، جن و انس کو الله نے آگہی سے نوازا ہے . جن کی قوم سے ہم کچھ زیادہ واقف نہیں. انسان کو الله نے ظاہری باطنی حسن سے نوازا. ظاہری حسن بھی توازن کا ہی نام ہے، جوکہ نہ زیادہ، بنو سنورو ، نہ ہی زیادہ مچھرو کہ سارا زمانہ تم کو ہی دیکھے،کچھ برا بھلا کہیں کچھ کھچے چلے آئیں. بس مناسب تیاری ظاہری وجود کی. چیتھڑے پہننے کو بھی نہیں کہا، اعتدال کہا . دین کی خوبصورتی یہ ہے کہ کہیں تجاوز کو نہیں کہتا، نہ اوپر کو نہ ہی نیچے. اعتدال اور استقامت یہ ہی دو سبق دئے ہیں. اندر کی خوبصورتی ہے خود کو فطرت پہ قائم رہنے دینا، نہ کہ کھینچتے ہی گئے زیادہ اور زیادہ کی دوڑ میں حرام پر اتر آئے اور نہ ہی سب دان کر کہ ہاتھ پھیلا کررہے . "القرآن"، 'کس نے تم پر زینتیں حرام کی ہیں یہ مومنوں کے لئے ہیں اور  آخرت میں تو ان ہی کے لئےہیں'. اعتدال ہی حسن ہے، الله نے ہمیں حسین ہونے کی ہر ادا ڈال کر دنیا میں بھیجا ہے، جاننا ہے کہ حسن کیا ہے؟ یہ ہی آزمائش ہے، یہی حسن ہے

******************************************************


٩  مئی ٠٢٠١
 رزق 
وقت نے رزق کی اصطلاح کو محدود مقام دے دیا ہے، یعنی لفظ رزق، بس صرف روٹی میں قید ہو کر ره گیا ہے. معلوم نہیں کیوں! رزق کا مطلب ہے الله  کی دین. الله نے جو بھی سامان زندگی مجھے مہیا کیا وہ رزق ہی ہے. تو الله کی دین کیا روٹی ہی ہے؟ ہم خود سے سوال کیوں نہیں کرتے؟ باقی سب، بینائی، سماعت، حسیات کیا ہیں؟ ہمارا صحت مند ہونا، صاحب فکر ہونا، استغفار جپنا، لکھنا پڑھنا، روز صبح تازہ دم بسترسے نکلنا اور چل پڑنا اپنی اپنی منزل کی جانب یہ سب رزق ہی توہے، ہم صرف ایک ہی پیٹ کو جانتے مانتے اور پہچانتے ہیں جو ہمارے بدن کا حصہ ہے، جس میں بھوک ستاتی ہے، شائد اس لئے کہ وہ ساتھ لگا نظر آتا ہے. دل، دماغ،بھی تو ساتھ لگا ہے گو، دیکھا تو نہیں ہے مگر ان کا بھی اب ہم کافی سن ہی چکے ہیں اور ان کو بھی اب ساتھ لگا ہی جانتے مانتے ہیں، ان کی بھوک کا پتہ  ہم کیوں نہیں پاتے؟ دراں حالانکہ ہم  انکو، خود کو کشمکش میں، گھبراھٹ میں، بھوکا محسوس کرتے ہیں بالکل بھوکا پیٹ کی طرح. ہاں لفظوں میں ادا نہیں کر پاتے کہ کیا ہو رہا ہے، غور کریں تو ان کی بھوک، ان کا خالی ہونا، خوراک مانگنا، پیٹ کی بھوک سے زیادہ سنگین لگے.
 القرآن کو دیکھیں اور سمجھیں تو معلوم پڑے کہ ہم سارے بدن کے ہر ہرعضو کی بھوک لے کر ہی پیدا ہوئے ہیں، اور تلاش کی بھوک بھی. ہمیں جس شدت سے تلاش ہوتی ہے کسی عضو کے لئے  خوراک کی، الله اسی شدت سے اس کے ملنے اور مستفید ہونے کے مواقع موجود کر دیتا ہے. جب ہم ہی خود کی بھوک کو  تلاش نہ کریں تو کوئی کچھ نہیں کرے گا بھلے وہ خالق رزاق ہی ہو. سب مال الله کا ہے،  اس نے جو بھی دیا ہے بھلے مسکرانے کی ہی قوت کیوں نہ ہو، اس کا حساب ہو گا آخرت میں، کہ کیسے استعمال کیا،کیا کہ نہ کیا، یا بند رزق کی بوری واپس لے کے آگئے کوئی فائدہ نہ ہی اٹھایا. خود اعتمادی کی یہاں بہت ضرورت ہے اور خود کی اوقات جاننے اور بروقت استعمال میں لانے کی، کہ میں کونسی ظاہری و باطنی خوبیوں و صلاحیتوں سے نوازا گیا ہوں،  تاکہ استعمال  میں لا کر بڑے امتحان سے بچوں. خود کے لئے اتنا تو کر جاؤں.
 پہلا مرحلہ ہے کہ خود کے ساتھ وقت بتایا جاے تاکہ خود کو معلوم ہو کہ میں روٹی کے علاوہ اور کس کس رزق سے نوازا گیا ہوں. یہ رب کو جاننے کا عمل ہے، خود کو، نعمتوں کو.
دوسرا مرحلہ ہے پہچان، پہچان کے معنی ہوئے کہ موجود شے کو نبھانا، عطا کو برویکار لانا،
تیسرا اور کٹھن مرحلہ ہے عمل. جب میں رزق کا عطا کا نعمتوں کو عمل میں لاتا ہوں تو وہ ہے شکرگزاری. یہ بھی ایسا رزق ہے جو شاز ہی کسی چاہنے والے کو نصیب ہوتا ہے اور یہ چاہنے کی معراج ہے. جس ںے کامل شکرگزاری پا لی الله اس سے راضی ہوا، باوجہہ اس کے کہ، وہ الله سے راضی ہوا.

***************************************************************


٠٧ می ٢٠١٠
خصلت انسان

کچھ ہی مدت پہلے الله تعالی نے خود کی تخلیق میں ایک اور تخلیق کا اضافہ کیا جسے مالک نے انسان کہا. اس کو بنا سنوار کے، جس جگہ اس نے بھیجا، اسے دنیا کہا، اس کا مالک بنا دیا. مالک بنانےسے پہلے اس میں سب اونچ نیچ گوندھ دی تاکہ اس کو معلوم پڑے کہ ملک الله کا ہے،اور یہ کے، وہ بھی الله کا ہے، سو مالک بنانے کی حدود کو دل کے اندر ہی نہیں، نظر کے سامنے  بھی رکھنا ہے. اب یوں ہےکہ، الله کا  یہ تخلیق کردہ انسان بھول  گیا  کہ وہ کوئی پیغام لےکرآیا ہے، اوپر جا کے پوچھا جاے گا کہ دنیا میں کیا  معاملہ ہوا، زندگی کیسے بسر کی، زمین کا حق دیا ور زمین والوں کا؟خود کا حق پہچان میں رکھا یا خود کو خدا ہی سمجھ بیٹھے؟خود کو ہر پیدا ہوا شخص {القرآن کے غلط معنیٰ بنا بنا کر} خود کو الله کا خلیفہ جاننے، ماننے لگا مگر کام تو بندہ ہونے کا بھی نہ کر سکا. ایسا نہیں ہے کہ ہم کو خودسر ہوتے معلوم نہیں ہو پاتا کہ ہم ٹھیک نہیں کر رہے،ہم بس اپنی دھن میں الله کوبھلا کے، جو، جو کر رہے ہوتے ہیں، کرتے ہی چلے جاتے ہیں آخرت کے نتیجہ سے بےخبر آنکھ موںدھے، جیسے کہ آخرکار سب ویسا ہی ہو جاۓ گا جیسا ہم چاہ رہے ہیں. مگر دل سب جانتا ہے اور بار بار دستک دیتا ہے کہ مت کرو،ہم ہیں کہ جھٹک کے آگے چل دیتے ہیں. دیکھیں تو کیا چیز اسے روکتی ہے کہ من مانی کرتا ہے. جب کوئی بھی خود کا توازن خراب کرتا ہے، تو ہی بگاڑ آتا ہے، یا تو یہ دیکھ کے، کہ سامنے والا کمزور ہے،یا اپنا لوہا منوانے کے لئے ایسے ہی اکڑا پھرتا ہے. کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ مال الله کا ہے اور کھبی یہ کے، اقتدار الله نے دیا ہے،  فرعون کا کیا حشر نشر نہیں یاد؟ مگر اس سب کے پیچھے ایک ذہن کام  کر رہا ہوتا ہے کہ کوئی کیا کر لے گا،وہ بھی شائد یہ ہی سوچتا ہو گا؟ کوئی کون؟ یہاں ہم جانے، انجانے، بنے راہیں پھر بھی مانیں، کے وہ خالق مالک سے بےڈر ہو رہا ہے. مالک نے کہا کہ دوسرا تمہارا بھائی ہے،اس کا مطلب ہے کہ ہم "دوسرا" کو بھی بھائی نہیں مان رہے،خود کو بھی مالک کا بندہ نہیں جان رہے. میں یہ نہیں جان رہا کہ گھٹیا حرکات کا جو پہلا شکار ہے وہ میں خود ہی ہوں. میرے گھٹیا ارادے پہلے میری دنیا ور آخرت خراب کرتے ہیں، بعد میں دوسرے کی بات آتی ہے. اصلا انسان خودغرض،گھٹیا نہیں بنایا گیا،بہت سی خصوصیات  اور رویےّ جو اسے مثبت کاموں کے لئے دئے گے ہیں وہ ان کو غلط استعمال کرنے لگتا ہے، یہ سب منفی پہلو اسے شیطان سجھاتا ہے،جو انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ہے، یہ سب کر کے ہر شخص خود کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے. مگر خود کو ترقی کی منزل پر گامزن سمجھنے لگتا ہے. بیوقوف کہیں کا. جب کسی گھرانے میں بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے ہر طرح کا انتظام کیا جاتا ہے،سواےکردار کشی کے،اٹھنے بیٹھنے کے آداب تو سکھاے ہی جاتے ہیں،جاذب نظر آنے کے بھی،اخلاقیات پر بھی کسی درجہ زور دیا جاتا ہے مگر دل و ذہن میں آئ بات کو کہاں سے اٹھانا ہے اور کہاں تک لے کے جانا ہے یا کسی بات کو کیسے رد کرنا ہے، یہ کبھی اخلاقیات کا حصہ نہ ہی بن سکا تب ہی یہ دن آ جاتا ہے کہ ایک بھلا چنگا شخص جانے انجانے میں الله کا ماننے والا ہونے کی بجاے ابلیس کے پیچھے چلنے والا ہو جاتا ہے، یہ سارا نہ گھر والوں کا ہی قصور ہے نہ ہی اس کا نہ ہی ساتھ والوں کا مگر کہ تھورا تھوڑا  سب کا ہی،لیکن اب دیکھو تو ہر ایک اپنی جگہ پی گنہگار ہوا کھڑا ہے.اب گزرے وقت کو بھولنے کا لمحہ ہے وگرنہ یونہی یا لمحہ بھی پچھتاوے کے اوقات کا حصہ ہو جاۓ گا. اس طرف نگاہ کرو کہ الله نے کیسا انسان ہونے کو کہا ہے؟میں نے خود کی شخصیت،انسانیت کو جس دھانے پہ لا کھڑا کیا ہے کیا وہ راہ جنت کو جاتی ہے؟ اب باقی کا سفر میرا خود کا ہے خود کے ساتھ، کوئی الزام تراشی نہیں کوئی پچھتاوا نہیں،جب احساس ہو چکا اب کوئی وقت کو برباد نہیں کرنا،بس درستی کی طرف جانا ہے دل و دماغ کو چوکنا رکھتے ہوئے. کھال آ گیا کسی کا حق نہیں دیا،معلوم ہی نہیں تھا کہ دینا چاہئے،دینا دلانا مذاق مے ہی اڑا دیا. اکر کے نہیں چلنا چاہئے،پیر پٹختا ہی چلتا رہا. بیتا لمحہ لوٹایا نہیں جا سکتا مگر آنے والا وقت نرم گزارا جا سکتا ہے دھیرے قدم اٹھا کے، پھونک پھونک کے،ڈر کے،رب کو یاد رکھ کے،حساب ہو گا یوم الدین کو.                

************************************************************************* 

 

 


٦ مئی ٢٠١٠
وسائل اور سائل
 یوں بھی ہو سکتا ہے کہ جو مال اپ کے پاس ہو، اس سے آپ کو رغبت ہی نہ ہو، یا اپ سوچتے ہوں کہ میں ضرور ہی ایک نیک انسان ہوں جب ہی تو مجھے اس قدر نوازا گیا ہے، یا یہ خیال ہو کہ جو میرے پاس ہے وہ میرا ہی ہے، یا اگر مجھ کو ضرورت نہیں بھی ہے تو اڑاؤں، لٹاؤں، عیاشی کروں، کسی کو کیا یہ میرا مال ہے، یا میں کسی کو کیوں دوں یہ میرے پاس ہے، بس میرا ہی حق ہے، تو اپ کی ان میں سے ہر ایک سوچ غلط ہے.
سب سے پہلے تو یہ جان لو کہ جو مال اپ کے پاس ہے وہ الله کا ہے اپ کا نہیں ہے، بلکہ اپ کے پاس الله کی امانت ہے. اور وہ بتا چکا ہے کہ اسکو کب، کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے.ضرورتمند کا اپ کی طرف آنا، یا لوگوں کا لوگوں کو اپ کی طرف بھیجنا اس بات کی دلیل ہے کہ اپ کو خالق نے چند اور افراد کے مال کا رکھوالا بھی بنایا ہے،مال تو دینے والے ہی کا ہے،جسے جیسے چاہے نوازے، مگر یہ نوازنا، اڑانے لٹانے کے لئے نہیں ہے، معلوم رہے.اب آپکو معلوم ہوا کے آپکو صاحب وسائل کیوں بنایا گیا؟ معلوم تو ہو گیا اگلا مرحلہ ہے کے اب کیا کرنا چاہئے؟
کہاں  سے، اور کیسے کرنا ہے؟
سب سے پہلے تو دل کو وسیع، دماغ کو کشادہ، وجود کو حوصلہ مند بنا ںا ہے اور ثابت قدم رکھنا ہے. شیطان کے حوالے سے، جو تنگی پیدا کرنے کے لئے ہر قدم پر نگاہیں گاڑا کھڑا ہے کہ کب اور کیسے ڈگمگانے میں مدد گار ثابت ہو، مردود ہےںا، کبھی کہتا ہے سب تیرا ہی ہے، اور کبھی، تجھ کو پرائ کیا پڑی، تو نے سب کا ٹھیکہ لیا ہے کیا، وہ مالک ہے جس کو چاہے گا دے گا، تجھے کیا فکر،تجھے اڑانے کے لئے ہی ملا ہے. اس راندہ درگاہ کی بلکل نہیں سننی، ہماری دنیا و آخرت کا دشمن ہے شرانگیز، برباد ہے بربادی ہی چاہتا ہے، بندوں کی آزمائش کو کھلا پھرتا ہے نامراد، خود کو تو دھکے پڑے ہی تھے ہم کو بھی بےوسیلہ کرنا چاہتا ہے.  اس کو چھوڑو خود سے سوال کرو  الله کا بندہ بن کے، الله کو آخرت میں جواب دینے والا بن کے، کہ وسائل کا ہونا، کا کیا مطلب ہے؟ وسائل والا هونا، کا کیا مطلب ہے؟ مجھےبہت سے لوگوں سے بہتر بنایا ہے کیا مجھ سے زیادہ ہی خوش ہے یا میری کچھ وافرذمہ داریاں  ہیں ؟ آپکو معلوم ہو کہ الله نے آپکو دنیا میں برتری دے کر چند افراد پر، آپکو زیادہ ہی باندھ دیا ہے، بڑی آزمائش میں ڈالا ہے، سنجیدگی سے اقدام کرو، اوپر جا کے مشکل حساب دینا ہے،خود کا، خود کے استعمال کا، لوگوں کے حقوق کا، ان وسائل اور ان کو حقدار تک پہنچانےکا، اپ کے دل کو، عقل کو، خوش ہونے کی بجاے فکر مند ہونے کی شکل دھارنی ہوگی.
اب یہ وسائل جو آج اپ کی تجوری کی زینت ہیں، یہ سب ایسے ہی ہیں جیسے کے دنیا میں بکھرے وسائل،
ہاں مگر کچھ تو اب کمانے پڑتے ہیں قدرتی وسائل بھی، جیسے کہ اپ بےدھڑک کسی کے باغ سے پھل یا سبزی نہیں گھر لےجا سکتے اور چند وہ جوسب کے لئے ہیں، جیسا کہ جو جب چاہے جیسا سانس لے، جیسا قدرت کےنظاروں سے لطف اندوز ہو، تو یہ سمجھوکہ تم کو الله نے کیا درجہ دیا ہے، وسائل کا مالک بنا کے؟ جیسا کہ واسائل کمانے پڑتے ہیں ہم نے کہا، تو اپ کے پاس جو پیسہ ہے وہ اپ صرف ضرر مند کو ہی دیں گے. اور جیسا کہ قدرتی نظاروں پر ہوا پر سب کا حق ہے جیسے چاہے فائدہ اٹھاے، ایسے ہے آپ کا اچھا اخلاق، اچھی سوچ، مدد کا جذبہ، پیار بھری نظر، وافر وقت،دل میں دعا پر ہر چھوٹے بڑے، اچھے برے، نیک بد سب کا حق ہے. اس کا اجر ہے،کمای خود کرنی ہے،مقام خود کو دینا ہے اچھائی کا،آگے والا جو بھی ہو جیسا بھی ہو. 
قدرتی وسائل الگ تو ہیں مگر، وسائل ہی ہیں جو آپ کو بھی دئے ہیں. اپ کو وسائل پہ کنڈلی ڈال کر نہیں بیٹھنا بلکہ بانٹنے والا بننا ہے. کیونکہ آپ پہ کھل چکا ہے، کہ آپ چند اشیا کے پہرا دار بناےگئےہیں، ںا کہ مالک، وارث.سمجھ یہ آئی ہے کہ، بے وسیلہ زیادہ آسانی میں ہے با وسیلہ کی بجاے، اس کا تو حق ہے کہ، مجھ سے جو ہو سکے اس کے لئے کروں اللہ کو جواب جو دینا ہے کہ بے وسیلہ کو با وسیلہ کیا جب وہ میرے پاس آیا

*********************************************************************


٠٣ می ٢٠١٠

رب تعالیٰ کا آخری نمائندہ*
انسان،
الله اور دنیا و آخرت  اور اس کی کائنات کو ماننے والا بنا کر بھیجا گیا ہے جیسا  کہ  خالق اس کو چاہتا ہے.
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الله کے انسان نے خود کوہدایت سے بالکل ہی عاری کر لیا، انسان نے خود کو ایسا خراب کیا کہ الله تعالیٰ کو آخر ان میں  سے ہی، ان میں پیغمبر بھیجنا پڑے  تاکہ وہ نئے سرے سے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں، سو رب تعالیٰ پیغمبر بھیجنے لگا ،کچھ افراد نےتو ہدایت کی راه پا لی، کچھ ٹھٹہ کرتے رہے، کچھ کچھ اسی کشمکش میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہ گئے، نہ جڑ پائے نہ دور جا پائے، اسی میں چند  ایمان پہ مرے، چند کفر پہ اور کئی تو پیغمبر ہی کو مار ڈالتے اور پیغام بھی ڈبا  ڈالتے اور عذاب کو پہنچنے والے بن جاتے۔
اب چیدہ چیدہ لوگ وحدانیت پر ایمان رکھنے والے تو رہ گے مگر بغیر ہدایت نامہ کے  نہ کوئی راه دکھانے والا رہا، کرتے کرتے وہ دن  بھی آ گیا کہ دنیا شائد اصل پیغام سے، اصل اخلاق سے، اصل سے یعنی الله اور انسانیت اور ایمان سے خالی ہونے کی جانب بڑھنے لگی، اب الله نے آخری مرتبہ اور تا قیامت خود کا پیغام بھیجا اور خود کا آخری نمائندہ بھی تعینات کیا .
آج کا مسلمان اس بات کا شکرگزار ہے، احسان مند ہے کہ وہ جو بھی ہے جس مقام پہ ہے وہ ان آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وجھ سے ہے، سوصرف زبان سے کہہ دینا کہ ہم شکرگزار ہیں،اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ تعریف ہوتی ہے اگر اس کا کیا ،کہا  کی  پیروی کی جاے اور احسن طریقہ سے، بھلے بہت خوبی سے پیروی نہ بھی ہو پاۓ مگر خود سے کوشش پوری کی ہو، دل و جان سے .
یہاں ہم حضور پاک کا ذکر کر رہے ہیں تو، ان کی پیروی ہی ان کی تعریف ہوئی ان کے نقش پا پہ زندگی کو ڈھالنا، ساتھ میں ان کے لئے درود پڑھنا، وہ بھی دل سے،دھیان میں  رکھتے ہوئے کہ یہ میں اس لئے کر رہا ہوں کہ میں خود کے مسلمان هونے پرشکرگزار ہوں.
آپ کے لئے دعا گو ہوں دل کی گہرائی سے.
درود بھی سمجھ کر بھیجنا، کا کام اور کلام ہے،آنکھ کے سامنے حضور کی زندگی رکھ کے زبان کو حرکت دینا ہے،تو ادائیگی ہوئی،درود کا حق ادا ہوا،مگر صرف درود سے کام نہیں چلانا، درود بھی حضور کو ماننا کا حصہ ہے، جب آپ الله کے احکامات مانتے، ادا کرتے وقت حضور کے اسوہ اور احادیث کا شعور رکھیں.
حضورکا فرمان ہے کہ  "ادائیگی مناسب ہو مگر اس میں ہمیشگی شرط ہے".یہ بہت ہی حسین بات ہے، اگر دھیان میں رہے تو.اب جو آپ حیات رسول سامنے رکھے ہوے ہیں تو اس کی پیروی کیسے ہونی چاہئے؟ آسان ہے کہ دھیرے دھیرے حضور کی زندگی سے گزریں جب جو زندگی کا مقام خود کی زندگی کا حصہ بن جاۓ بھلے کسی بھی سطح پر تو آگے چلیں اگلے نکتہ پر،گزرا کو سنوارتے جائیں،اگلا پہ نظر ڈالتے جائیں،
یہاں ہم بتاتے چلیں کہ جب کہیں بھی ذرا دل غیر حاضر ہوا اور حضور کی زندگی کا علم صرف علم رہ گیا تو کچھ نہ حاصل ہو گا۔
ذہن تو حروف کا جائزہ لے گا، دل احوال کا پتہ دے گا.
سو یوں معلوم ہو گا اور ہوتا جاے گا کے کب کب، کیا کیا کرنا ہے کیسا کرنا ہے.
آپ کو دیکھ کر ہی معلوم ہو گا کہ نماز کا زندگی میں  کیا مقام ہے، قرآن کے بغیر زندگی نامکمل ہی نہیں ناممکن ہے اور نامعقول، آخرت کے بغیر، سانس لے کر کیا کرنا ہے .آپ کو مان،جان،پہچان،کر ہی معلوم ہو گا کہ سبق کہاں سے لینا ہے ،آپ کہاں سے لیتے تھے،کیسے لیتے تھے لوگوں کو کیسے دیتے تھے، آپ کرتے کیا تھے؟
جیسا کہ حضرت عایشہ نے کہا کہ "آپ چلتا پھرتا قرآن تھے" ،تو گویا جو قرآن آپ پر نازل ہوا وہ آپ خود نمونہ بنتے بھی تھے اور زبانی بھی لوگوں کو بیان کرتے تھے.
اس وقت کے لوگوں کو یہ آسانی تھی کے آپ ان میں موجود تھے، کر کے دکھا رہے تھے، قرآن نازل ہو رہا تھا جو حکم آتا ساتھ کے ساتھ، بتاتے، بیان فرماتے، کر کے دکھاتے،زندگی کا حصہ بنا کے بتاتے اور لوگ آپ کو دیکھ  کر سیکھ رہے تھے،آگے بھی سکھا رہے تھے. ہمارے پاس اب آپ تو نہیں ہیں مگر آپ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے پاس قلم بند ہے، ہماری نیت سیدھی ہو تو قرآن ،سیرت اور حدیث کو سامنے رکھ کر زندگی کا ٹائم ٹیبل بنایا جا سکتا ہے.بیان میں شائد بہت پڑھائی سکھلائی معلوم ہو رہی ہے مگر نہیں ہے.اب دیکھیں قرآن تو روز ہی پڑھنا ہے ،چونکہ سمجھ کر پڑھنا ہے اس لئے کم کم ہی پڑھنا ہو گا ۔سیرت کو زندگی کا حصّہ بنانا ہے، اس لئے کہ یہ کرنے کا کام ہے، سوچنے، سمجھنے کا کام ہے، سو روز پڑھنا نہیں غور کرنا ہے۔
حدیث کی ضرورت ہو گی جب قرآن جو اجمال میں ہم کو ملا ہے،مطلب، اکثر مقامات کو کھولنے کی ضرورت ہے ،توحدیث کی ضرورت ہو گی۔
حضور نے کہا ہمیشگی،سو کم کم دھیرے دھیرے سب کچھ کو زندگی بنانا ہے، زندگی کا ایک حصہ نہیں.

******************************************************************


٣٠ اپریل ٢٠١٠
القرآن کہتا ہے کے ہدایت ہے متقین کے لئے ، متقی کون ہے؟ کیا مسلمان ہی متقی ہو سکتا ہے؟
 متقی کا لفظ ہم نے قرآن سے ہی لیا ہے، شک نہیں۔
مگر ہم اس کو وہاں سے اٹھا کے سمجھنا چاہ رہے ہیں، اس وقت۔
 اب ہم قرآن کے حوالے سے نہیں بلکہ انسان کے حوالے سے اس کو دیکھیں گے، انسان کی بناوٹ کے حوالے سے،انسان کی پہچان، خلوص،شدت احساس کے حوالے سے۔
ایک وہ شخص ہے جو بھلے بدھ مت  کا ماننے والا ہے اور اسی دین میں ٣٥ برس کا ہو چلا ہے مگر ہر لمحہ خود کو، گم، تنہا،اور تشنہ پاتا ہے،
مگرصحیح  کیا ہے وہاں تک جا نہیں پا رہا ، پریشان ہے کہ کیا کرے؟ ،شائد کمزور ہے، کسی  ہچکچاہٹ کا شکار ہے ، ڈرتا ہے، گھر والوں سے، دنیا والوں سے، کہ کیا کہیں گے اس عمرمیں کس سمت چل پڑا۔
کھوج میں ہے،تلاش میں ہے۔
دھیان ہے کے ہٹتا ہی نہیں، کمی تو ہے! مگر کیا ہے، کیا کرے، کہاں جاۓ، کہ جگہ بھی صحیح پاۓ!
اس کا سفر، ہدایت کی طرف ہے کہ نہیں؟ تلاش! یہ تشنگی باطنی ہے تو یہ یقینا راه ہدایت کو پا ہی لے گا.
اس کو بر وقت  راہ تو نہیں ملی اب تک ، مگر تلاش میں رہنا  اگرچہ تقویٰ نہ ہو،تو بھی یہ تقوی سے باہر کی حالت نہیں  ہے.
یہ الله کا بندہ تلاش حق میں  ہے سو یہ انجانی محبت اور خوف دونوں میں مبتلا بھی ہے اور آخرت میں یقین بھی رکھتا ہے،بلکہ کہنا چاہئے شعوررکھتا ہے، تب ہی تو مارا مارا پھرتا  ہے کے کیا کرے، کہاں جاۓ؟  
اس  سے بڑھ کر رب کی جانب راغب کون ہو گا؟
اس  کو جب حق مل جاے گا تو یہ صرف مسلم  ہی نہیں مومن ہو گا،ان شاء اللہ .
اگر یہ انسان  کچھ  کچھ تو جاننے کے مقام پہ ہے، اور کچھ خود  کے دین پر ہے، جو شرک بھی ہو سکتا ہے۔ زندگی کویہ سمجھ نہیں پاتا، خود کو کم عقل جان کے یا  کسی مجبوری میں یا کسی سرکشی میں مگر ایک خلش اسے ستاۓ رکھتی ہے نہ ادھر کا ہونے دیتی ہے نہ ادھر کا ۔
یہ حقیقت میں سرکش نہیں ہے ،الجھا ہے، یہ کمزور ہے ،ایسے لوگ دھکا سٹارٹ ہوتے ییں اور اندر سے ڈھیلے شرمیلے۔
یہ خالق کو کسی درجے مانتے بھی ہیں ڈر بھی، محبت بھی رکھتے ہیں۔
پورےفرمان بردار بھی نہیں ہیں اور ںافرمان بھی نہیں ہیں۔
ہدایت ان لوگوں کے لئے اصلا ہے۔ 
یہ آخرکار جان ہی جائیں گے ،کتاب کی طرف بھی آ جائیں گے کتاب والے کی طرف بھی۔
 اس متقی ہونے کے لئے مسلمان ہونا لازم نہیں ہے،
 ایک عام انسان دین تک نہیں پہنچ پایا. بھلے آج ترقی ہو گئی ہے بےبہا، پھر بھی سمجھ بوجھ،شدت احساس کی بھی حدود ہیں.
وہ  بےنیاز ہے، دلوں کے حال جنتا ہے اور ہر شے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے،یہ بہت آسانی ہوئی ہے۔ ڈر، خوف ،محبت،ظاہر،باطن جب الله کی راه میں ایک ہو جاۓ تو اب دیکھیں کہ القران ہدایت اور متقی کس کو کہ رہا ہے ؟
ہم یہاں تخلیق انسان کی بات بھی کر ہی لیتے ہیں جس سے یہ نکتہ آسانی سے سمجھ میں آ جاۓ گا۔
الله پاک نے انسان کو حسین ترین تخلیق نہیں کیا ہے کیا؟"کیا"، میں نے  کیوں کہا؟کچھ زیادہ جائز نہیں  لگتا،اگر سمجھا جاۓتو .
تو یوں ہے کہ الله تعالی کی یہ واحد تخلیق ہے جس کو اس نے ہر طرح کے توازن سے نوازا۔
نوازنے کا کام اس نے ایسے نہیں کیا کہ بنا دیا پھر اس میں  ڈالنا شروع کیا بلکہ جو مٹی یا مادہ بنانے کا سامان تھا وہ گوندھتے وقت جو اکھٹا کیا وہ یہ ہے.
شعور 
مالک کا شعور اور خود کا ،اس مالک سے تعلق کا شعور
اخلاق
عقل
حیاء
محبت 
حدود کی پہچان
ارادے کی قوت اور طاقت
اختیار 
یہ سب گوندھ کے مجھے بنایا سنوارا ،
جب رب مجھے بنا رہا تھا تو میں انسان تھا نہ کہ مسلم یا ہندو، کافر یا مومن ،بلکہ جاننے، ماننے، پہچاننے والی با اختیار مخلوق.
 یہ سب حقیقت ہے میرے ہونے کی۔
 باقی سب تو ٹھیک ہی ہے، فائدہ میں نے اٹھایا خود کے بااختیار ہونے کا۔
الله پاک نے جب بھلائی اور برائی کی تمیز مجھ میں گوندھ دی ہے تو میں اب یہ اختیار رکھتا ہوں کے جو چاہے خود کا حشر کروں وہ تو روز محشر ہی اصل میں پکڑے گا .
ہاں ایسا ضرور ہے کہ جب چاہو رجوع کرو وہ معاف فرماتا ہے.
اوپر دیے ضابطۂ حیات کا بخوبی پتہ ہو تو منزل دور کہاں؟  

**************************************************************